عربی شاعر اردو شاعری کے ساتھ آپ کے سامنے ۔۔۔۔۔ذرا سن تو لیں

اشعار تو بہت سنے ہوں گے شاعر بہت دیکھے ہوں گے لیکن ایسے اشعار جسے روانی کے ساتھ اور عرب شاعر ہو پھر وہ عربی اشعار کے ساتھ اردو شاعری بھی کرتا ہو شاید پہلی مرتبہ ایسا شخص آپ کے سامنے ہے ۔عمر بن سالم العیدروس








رمضان المبارک رحمت مغفرت اور نجات کا مہینہ

      رمضان المبارک رحمت مغفرت اور نجات کا مہینہ

         خالقِ کائنات نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں۔نوری یعنی فرشتے،ناری یعنی جن،اور خاکی یعنی انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تخلیق اس طرح ممکن ہوئی کہ جسم کو مٹی سے بنایا گیا اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی۔جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا گیا کہ تمام تر اناج غلّہ پھل اور پھول زمین سے اُگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا۔ہم سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیاء سے پورا کرتے رہتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی میسّر آتا ہے جو رمضان المبارک ہے۔

           جس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔اے لوگو ! جو ایمان لائےجو،تم پر روزے فرض کردئیے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کئے گئے تھے۔اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (مگر نہ رکھیں ) تو وہ فدیہ دیں۔ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے ،اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے ،تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں یہی اچھا ہے کہ روزہ رکھو۔
                                                                 (سورۃ البقرۃ )
             رمضان المبارک کی فضیلت وبرکت کا تذکرہ کیا جائے تو شائد سینکڑوں بلکہ ہزاروں اوراق سیاہ ہوجائیں اور فضائل و برکات کا سلسلہ ختم نہ ہو۔یہاں چند باتوں کا ذکر جن کی وجہ سے رمضان المبارک کا مہینہ اس قدر بابرکت ہوگیا۔سب سے اہم اور خاص بات تو یہ ہے کہ اس ماہِ مقدس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور اس کے ذریعے انسانیت کو ہدایت ملی اور انسان کا ہدایت یافتہ ہونا ہی دراصل روح کی تندرستی ہے۔اور آخرت کی کامیابی ایک کامیاب روح سے منسلک ہے۔اس مہینے کو تربیت کا مہینہ بھی کہتے ہیں۔
                  اس 30 روزہ تربیتی کیمپ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا ان کے مقامی وقت کے اعتبار سے نظام الااوقات متعین کردیا جاتا ہے اور سب ایک ہی آواز پر سحری کا خاتمہ کرکے نماز پڑھنے کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔اور سورج غروب ہوتے ہی ایک آواز پر افطار کرتے ہیں۔                        
         صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ وقت کی پابندی اور ٹائم مینجمنٹ کا مہینہ ہے جس میں انسان خصوصاً مسلمانوں کو یہ سیکھنے کا موقع میسّر آتا ہے کہ وہ اپنے وقت کا استعمال کیسے کریں اور سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں اپنا وقت کس طرح گزاریں۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں صبر کی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ بقیہ گیارہ مہینوں میں کس طرح صبر کیا جائے۔
            رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہذاٰ اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس مہینے کے پورے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ،سختی نہیں کرنا چاہتا۔اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔
            رمضان المبارک رحمت کا مہینہ بھی ہے پورے سال مسلمان ارادی اور غیر ارادی طور پر گناہوں کا انبار جمع کرتے ہیں تو جب رمضان میں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے تو ساری امّت عشرہء رحمت سے فیضیاب ہوتی ہے ہم سب کو چاہیئے کہ اللہ پاک سے گناہوں سے توبہ اور رحمت طلب کریں‌کہ وہ تمام لوگوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔آمین۔
          اس ماہِ مقدس کا دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جس میں ربِ کائنات سے مغفرت مانگنی چاہیئے کہ وہ سب کی مغفرت فرمائے اور گناہوں کو معاف کرے۔
           تیسرا اور آخری عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے جس میں نجات مانگنے والوں کو آتشِ دوزخ سے نجات دے دی جاتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا روزہ جہنم سے ایک ڈھال ہے لہذاٰ روزہ دار کو چاہیئے کہ وہ نہ تو فحش کلامی کرے اور نہ ہی جاہلوں جیسا کام ،اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔
         روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے ،اللہ کا ارشاد ہے کہ روزہدار اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہش میرے لئے چھوڑتا ہے لہذاٰ روزہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے۔                                                    (صحیح بخاری ) 
          ایک اور حدیث کے مطابق رمضان المبارک میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا،جب ماہِ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
                                                              (صحیح بخاری۔)
             اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رمضان میں جب شیاطین کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے تو پھر اس روئے زمین پر اللہ کی نافرمانی کیوں ہوتی ہے ؟؟؟
         تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولادِ آدم کو گمراہ کرنے والی کئی قوتیں متحرک ہیں ،صرف ایک قوت کو بےبس کردیا جاتا ہے۔
          اس ماہِ مبارک کے ان گنت فضائل ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ قیامت کے دن روزہ دار جنت کے ایک دروازے ریان سے داخل ہونگے جس میں کوئی دوسرا داخل نہیں ہوسکے گا۔آواز دی جائے گی کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ اُٹھ کھڑے ہوں گے اُن کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا اور روزے داروں کے داخلے کے بعد اسے بند کردیا جائے گا۔ریان کے معنی سیرابی کے ہیں،چونکہ روزہ دار دنیا میں اللہ کے لئے بھوک و پیاس برداشت کرتے تھے اس لئے اُنہیں بڑے اعزاز و احترام کے ساتھ سیرابی کے اس دروازے سے گزارہ جائے گا اور گزرتے وقت ایک ایسا مشروب پلایا جائے گا کہ پھر کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔
         کچھ لوگ محض نیند کی خاطر رات کو کھا پی کر سو جاتے ہیں اور سحری سے گریز کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ،سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ سحری ضرور کی جائے خواہ پانی کا ایک گھونٹ پی کر یا کجھور اور منقے کے چند دانے کھا کر ہی کیوں‌نہ ہو،اس سے روزہ رکھنے میں‌قوت پیدا ہوتی ہے۔شدید گرمی اور سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔ایک حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلّم ایک مرتبہ سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ایک شخص کے گرد ہجوم دیکھا جو اُس پر سایہ کئے ہوئے تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے پوچھا یہ کون ہے ؟ جواب دیا گیا کہ یہ روزہ دار ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ،سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔یہ حدیث اُن لوگوں کے لئے دلیل ہے جو دورانِ سفر افطار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں حالانکہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر سفر میں روزہ رکھنے سے تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لئے افطار افضل ہے۔افطار میں جلدی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور ایک حدیث پاک میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے کہا ہے کہ ،لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلّم نے افطار میں تاخیر کے عمل کو خیر و برکت سے خالی قرار دیا ہے۔
        رمضان المبارک کی فضیلت و برکات کے حوالے سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔یہ بابرکت مہینہ ہر سال دھوم دھام سے آتا ہے اور درودیوار اذان اور قرآن کی آوازوں سے گونجنے لگتے ہیں۔کثرت کے ساتھ قرآن پڑھا جاتا ہے نمازوں کی ادائیگی ہوتی ہے،عبادات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور لیلتہ القدر کی تلاش میں ہر مسلمان کی خواہش بن جاتی ہے۔مگر افسوس کے رمضان المبارک کے رخصت ہوتے ہی نیکیوں کے کام بھی ختم ہوجاتے ہیں یہاں تک کے بہت سے لوگ چاند رات کو بازار میں مصروف رہنے کے بعد عید کی نماز بھی نہیں پڑھتے ۔ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مسلمانوں کا اصل امتحان رمضان المبارک میں نہیں بلکہ اس کے بعد ہوتا ہے کیونکہ اس مہینے میں تو اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور رمضان المبارک کے بعد اللہ دیکھتا ہے کہ میرے بندوں نے 30 روزہ تربیت سے کیا کچھ سیکھا اور اسے اپنی زندگی کا حصّہ بناتے ہوئے کیسا عمل کیا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان کے دنوں میں صبر کی عادت اور نیکیوں کی تربیت مضبوطی کے ساتھ کی جائے تا کہ سال کے بقیہ 11 مہینوں میں بھی وہی طریقہء زندگی ہو جو کہ اللہ تبارک تعالیٰ کو پسند ہے اور جو آسانی چاہتا ہے سختی نہیں کرتا۔
سارے سال جسم کی توانائی اور صحت کے لئے فکر مند رہنے والے صرف ایک مہینے میں روح کی غذا کے لئے کیا اہتمام کرتے ہیں یہ ان کے اپنے اوپر منحصر ہے۔
             ایک حدیث پاک صلی اللہ علیہ وسلّم میں ارشاد ہے کہ،اے لوگو ! اتنی ہی عبادت کرو جو قابلِ برداشت ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا یہاں تک کے تم خود عبادت کرنے سے اُکتا جاؤ گے۔ 





قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلا

*قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلا*

✏ فضیل احمد ناصری

*ایک شاگرد سے ملاقات*

گزشتہ دنوں ممبئی میں اپنے ایک شاگرد سے ملاقات ہوئی، یہ مولوی فرقان تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور مرکزالمعارف ممبئی سے سند یافتہ- یہ دارالعلوم عزیزیہ میرا روڈ میں میرے پاس متعدد کتابیں پڑھ چکے تھے، میں کبھی کبھی "گلزارِ دبستاں "کا جملہ "ملاّ فرقان خود را خراب کرد "ان پر چسپاں کرتا، تو مسکراتے اور مزہ لیتے- سکڑا ہوا چہرہ، چھوارے سا بدن، داڑھی کے عنوان سے چند بال ٹھوڑی سے لٹکے ہوے- پہلے کی طرح اب بھی چھوئی موئی ہی تھے، مجھے دیکھ کر کھل اٹھے، آؤ بھگت اور سلام و نیاز- ایک عرصے کے بعد انہیں دیکھا تو میری خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا، علیک سلیک کے بعد حال احوال کا تبادلہ ہوا تو پتہ چلا کہ ممبئی کی کسی ایمبیسی میں مترجم کا کام کر رہے ہیں- میں نے تنخواہ معلوم کی تو انہوں نے بتایا: تیس ہزار روپے - مجھے بڑی مسرت ہوئی، اکہرے جسم اور بے گوشت چہرے کے باوجود اطمینان کی چمک ان کی پیشانی پر نمایاں تھی- میں نے پوچھا کہ بیٹے! تم تو اچھی صلاحیت کے مالک تھے، کتب فہمی تمہاری مثالی تھی، حاضر باشی میں بھی اساتذہ میں تمہارے چرچے تھے، اتنی اچھی استعداد اور خدمت ایمبیسی میں؟

*وحشت ہے مجھے قلتِ تنخواہ سے یارو!*

کہنے لگا: مدارسِ اسلامیہ میں ہمارے لیے گنجائش ہی کہاں ہیں؟ خدمات زیادہ، مگر تنخواہ اس قدر کم کہ ہم جیسے غریبوں کا گزر بسر ہی ممکن نہیں- مجھے سمجھ سے پرے ہے کہ مدارس والے تنخواہیں کیوں نہیں بڑھاتے؟ ابھی تک وہی فرسودہ فکر اور وہی پٹا پٹایا نظام - اب تو ہر چیز بدل گئی، مدارس کا زاویۂ فکر بھی تبدیل ہونا چاہیے-

*مساجد بھی مدارس کے شانہ بشانہ*

اربابِ مدارس کی دیکھا دیکھی مساجد نے بھی اپنا قبلہ اب تک درست نہیں کیا، وہی پرانی روش اور وہی کج ادائیاں- تنخواہیں بے حد قلیل، ائمہ کا اکرام ندارد- آزار، جھڑکیاں اور قید و بند ان کا مقدر- مسجدیں بڑی خوب صورت، تاج محل کو ٹکر دیتی ہوئی، حسن و دل کشی میں لازوال، مگر ائمہ کی یافت وہی مختصر، اونٹ کے منہ میں زیرے جیسی- بے چارے ائمہ اپنی علمیت بھی ضائع کریں، تقریریں بھی ٹرسٹیوں کے مطابق ہوں، زندانی کیفیت میں شب وروز بھی گزاریں، معاشی بہتری کے لیے دوسری راہیں بھی مسدود، بایں ہمہ تنخواہ کا وہ معیار کہ:

آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

کی مصداق- بھلا بتائیے، ایسے میں امامت کی ہمت کون کرے اور جرأتِ رندانہ کہاں سے لاے؟ 

*مدارس مجاھدہ گاہ ہیں، معیشت گاہ نہیں*

میں اپنے عزیز کی اس تقریر پر دنگ تھا، میں نے کہا: بیٹے! تم تو جانتے ہی ہو کہ دنیا کو مؤمن کا "قیدخانہ "کہا گیا ہے، بعض احادیث میں اس پر "مسافر خانے "کا بھی اطلاق ہوا ہے، قید خانہ ہو یا مسافر خانہ، دل لگانے کی جگہ نہ یہ ہے، نہ وہ- امتِ مسلمہ "امتِ مجاھدہ "بھی ہے، مدارسِ اسلامیہ اور مساجد اساتذہ اور ائمہ کو یہی مجاھدے سکھاتے ہیں، قلیل تنخواہوں کے پیچھے ان کا یہی نقطۂ نظر کار فرما ہے، عہدِ نبوی سے لے کر قریب کے ماضئ مرحوم تک کے اکابر محض اشاعتِ اسلام کے لیے دینی اداروں سے وابستہ رہے، دنیا ان کے پیچھے ناک رگڑتی ہوئی آئی، مگر انہوں نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، لہذا قلتِ تنخواہ کا عذر "عذرِ لنگ "سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا-

*مجاھدے کی نوعیتیں بدل گئیں تو تنخواہوں کی نوعیتیں تبدیل کیوں نہ ہوں؟*

کہنے لگا: اب تو سب کچھ بدل چکا، ماضی کی زمین اور کل کا آسمان اپنا وجود کھو بیٹھا ہے، تبدیلی کی لہر نے جن جہانوں کو زیر و زبر کیا ہے، مدارس بھی اس سے اچھوتے نہیں رہے، مثلاً دیکھیے! پچھے ادوار میں طلبہ کی پٹائی کا بڑا ماحول تھا، اساتذہ ہر وقت عصا بدست اور "کف در فضا " رہتے، تنبیہ کے لیے دست و عصا کا استعمال ایک عام سی بات تھی، والدین کا ذہن بھی یہی تھا کہ تہدید و ضربت طلبہ کی استعداد کو جگاتی اور فنکاری کو ابھارتی ہے، اسی لیے داخلے کے وقت بچوں کے ذمے دار کہتے کہ ہڈی ہماری ہے اور کھال آپ کی- لیکن اب مار دھاڑ بالکل بند ہے، طلبہ جسمانی آزار سے مکمل محفوظ ہیں، اساتذہ کو سخت تاکید ہے کہ حرب و ضرب نہیں چلے گی، گوشِ شنوا نہ رکھنے والے مدرّسین کو فوراً سے پیش تر "باب الخروج "تک دکھا دیا جاتا ہے- دوسری مثال بھی لے لیجیے! پچھلے زمانے میں طلبہ کی صلاحیت سازی کے لیے مختلف علوم و فنون کی اہم کتابیں پڑھائی جاتی تھیں، اب وہ کتابیں "طاقِ نسیاں "کی یادگار بن چکی ہیں، ان کتابوں کے اخراج کی وجہ یہی بیان کی گئی کہ طلبہ کی برق طبعی پہلے جیسی نہیں رہی، یہ کمزور ہو گئے ہیں، اساتذہ بھی عدمِ مہارت کے سبب ان کتابوں کی تدریس کی اہلیت کھو بیٹھے - آج صدرا اور شمس بازغہ کا نام کتنوں کو معلوم ہے؟ اگر معلوم بھی ہو تو ان کی فنی وابستگی کون بتا سکتا ہے؟ جب اتنی تبدیلیاں نصابِ تعلیم وغیرہ میں واقع ہو گئیں اور اساتذہ و طلبہ کو مجاھدے سے بچا لیا گیا تو تنخواہ بے چاری نے کیا قصور کیا ہے کہ یہ "بَونی " بڑھتی ہی نہیں، اس کا نصاب آسانیاں پیدا کرنے سے آج بھی قاصر ہے، اب بھی چار ہزار، پانچ ہزار اور چھ ہزار روپے کو "معقول تنخواہ "نام زد کیا جا رہا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟

*جدید باصلاحیت فضلا اسی لیے بھاگ رہے ہیں*

سلسلۂ کلام میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنخواہ کے تئیں مدارس اور مساجد کے قدامت پسندانہ رجحان نے نوجوان فضلا کو پریشان کر رکھا ہے، کم زور اور متوسط استعداد کے حاملین نانِ شعیر پر ہی قناعت کر لیتے ہیں، کیوں کہ ان کا دائرۂ فکر و عمل آگے بڑھنے نہیں دیتا، وہ اپنی بے مائیگی، گھریلو پریشانی، تنگ دست پس منظر اور ناگفتہ بہ افلاس کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، ان کے پاس قناعت پسندی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کہ باصلاحیت فضلا ان مقامات کی خدمت سے گریزاں رہتے ہیں اور کثیرالمشاہرہ ادارے کی طرف رجوع ان کا ہدف ہوتا ہے- باتوں کا سلسلہ یہیں تک چلا تھا کہ ہمارے راستے جدا ہوگئے، سلامِ وداع کے بعد وہ اپنی منزل کی جانب، میں اپنے مستقر کی طرف-

*فضلاے مدارس حکومتی اداروں کی پناہ میں*

 اپنی منزل کی طرف میں جوں جوں بڑھ رہا تھا، عزیز مکرم کے خیالات ذہن میں گردش کر رہے تھے، دیر تک میں اسی سوچ میں غرق رہا کہ ممتاز صلاحیتیں اگر اسی طرح مدارس اور مساجد سے بھاگتی رہیں اور امت کی قیادت مفقودالاستعداد علما کے حصے میں آنے لگی تو اس قوم کا کیا ہوگا؟

دیکھا یہ گیا ہے کہ ممتاز ترین فضلاے ندوہ بالعموم خلیجی ممالک میں سرکاری محمکوں کے کلرک ہوتے ہیں، ان کی یافت زوردار اور مرفہ الحالی اپنے جوبن پر ہوتی ہے، اقتصاد کی یہ کیفیت ان کے لیے کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو، لیکن مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحب اس رجحان سے نالاں رہتے اور فرماتے کہ ندوہ نے تعلیمی سلسلہ حکومتی اداروں کو کلرک دینے کے لیے جاری نہیں کیا تھا، اس کا مقصد دنیا بھر میں اسلام کی اشاعت ہے، فضلا کی موجودہ صورتِ حال میرے لیے مایوس کن ہے- یہ بات حضرت علی ندوی کی فضلاے ندوہ سے متعلق ہے، مگر اس باب میں وہ بھی تنہا نہیں رہے، تازہ ترین حقائق یہ ہیں کہ فضلاے دارالعلوم بھی حکومتی اداروں سے مربوط رہنے میں اپنی سلامتی باور کرتے ہیں، فراغت پاتے ہی ذی استعداد فضلا کا رخ یونیورسٹیوں کی جانب ہو جاتا ہے، قال اللہ اور قال الرسول کے زمزموں سے دارالحدیثوں کو معمور کر دینے والے طلبہ علوم عصریہ کی طرف ایسے لپکتے ہیں گویا ان کے دامن زر و گوہر سے ہنوز خالی ہوں-

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عصری دانش گاہیں خوبیوں سمیت اپنے ساتھ بڑی خرابیاں بھی لاتی ہیں، ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر تازہ کر لیجیے:

گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ

چناں چہ مشاھدہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں داخلہ ہوتے ہی سب سے پہلا حملہ ان کے حلیہ پر ہی ہوتا ہے، مشرقیت ختم ہو جاتی ہے اور مغربیت ان کے انگ انگ سے مترشح - ستم بالاے ستم یہ کہ علماے اسلام اور ان کے مراکز ان کی نگاہوں میں نہیں جچتے ، خوش عیشی اور تن آسانی انہیں اسلام بیزار بنا دیتی ہے- یہ دینی علوم کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے؟ 

*بورڈ کے مدارس میں علما کی بھیڑ*

 سرکار سے ناوابستہ دینی اداروں میں تنخواہوں کی خرگوش روی کا ایک مذموم اثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بورڈ کے مدارس پر فضلاے مدارس دیوانہ وار گرنے لگے ہیں، قرض لے لے کر اور بھاری بھرکم رشوت دے دے کر یہ لوگ ان سے مربوط ہو رہے ہیں، جاہل اور غیرمستند فضلا اپنی مثالی رشوت کے بل پر بڑے بڑے عہدوں پر بھی براجمان ہیں، اساتذۂ حکومت کا خیال ہے کہ یہاں کی تدریس سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے،  ہر طرح منفعت بخش ، اخراج کا خوف دل میں نہیں رہتا، تنخواہ معقول ترین اور دل خواہ ہوتی ہے، اس کے بڑھنے کی رفتار بھی برق آسا- یہاں بلا وجہ کی محکومی بھی نہیں، حریفوں کا دباؤ بھی نہیں، اور آزادی کی آزادی بھی ہے- 

*عزل تو مکروہ ہے*

بورڈ کے ایک مدرس سے میری ملاقات ہوئی، کہنے لگے: مولانا! آپ حضرات مدرسہ بورڈ کو نگاہِ حقارت سے دیکھتے ہیں اور ہماری کمائی کو مکروہ گردانتے ہیں، ایسا کیوں؟ میں نے کہا کہ بورڈ کے مدارس میں تعلیم صفر ہوتی ہے اور آمدنی محنت سے زائد، کہنے لگے کہ ایک لطیفہ یاد آیا، اجازت ہو تو سناؤں! میں نے کہا: جی ضرور، کہنے لگے کہ ایک شخص زنا میں ملوث ہوا، نتیجتاً عورت حاملہ ہوگئی، لوگوں نے زانی کا پتہ پوچھا تو ناچاروناچار عورت کو بتانا پڑا، زانی پکڑا گیا اور اسے سزا ملی، کسی دوست نے اس سے پوچھا کہ نفس کی شرارت سے اگر تو نے زنا کر ہی لیا تو "عزل "سے کام لے لیتا تا کہ عورت کو علوق ہی نہ ہو اور تو بچ جاتا! کہنے لگا کہ عزل کیسے کرتا؟ عزل تو مکروہ ہے- ٹھیک یہی حال ہمارے بعض علما کا ہے، الٹی سیدھی رسیدیں چھپا کر چندہ کرتے ہیں، فرضی مدارس کے عنوان سے مال کی فراہمی ہوتی ہے، دین کے نام پر اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں، اساتذہ کی ضروریات کا خیال بالکل نہیں رکھتے مگر جب ان سے کہا جاے کہ مدرسہ بورڈ سے منسلک ہو جائیے! تو بے تکلف کہتے ہیں کہ بورڈ کی تنخواہ مکروہ ہے- ایں چہ بوالعجبی ست؟

*لہذا مدارس والے بھی تنخواہ کا معیار بلند کریں*

کوئی مانے یا نہ مانے، وقت بہت کچھ بدل چکا، مادیت ہر جگہ اپنے پاؤں پسار چکی ہے، گرانی در گرانی سے حالات دگرگوں ہیں - وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس اور مساجد والے بھی اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہوں کا معیار بلند ترین کریں - پچھلے دور میں اخراجات کم تھے،اس لیے چل جاتا تھا، اب بڑھ گئے ہیں، ہر استاذ اور امام اپنے بچوں کو عصری علوم دلانا چاہتے ہیں، عصری علوم کی گرانی کون نہیں جانتا، داخلے کی فیس اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ ہوش اڑ جائیں، پھر کتابوں کی خرید، ان کے ماسوا دیگر اخراجات- سالانہ حساب لگائیے تو ابتدائی جماعتوں میں ہی ایک بچے پر ساٹھ ہزار خرچ ہو جاتے ہیں، اگر علما و ائمہ کی تنخواہیں وہی چھ ہزار ہوں اور ساٹھ ہزار بچے کی پڑھائی میں چلے گئے تو گھر کے دیگر اخراجات کی سبیل کیا ہوگی؟ اس پہلو پر کون غور کرے گا؟ لہذا مدارس اور مساجد پر لازم ہے کہ اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہیں بڑھائیں، الحمدللہ ہمارے دیوبند میں تنخواہیں معقول ہیں، دارالعلوم دیوبند سمیت تقریباً تمام ہی بڑے ادارے اپنے اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، مگر بیشتر ملک کے دیگر مدارس میں تنخواہ کے تئیں پرانی روایتیں اب بھی برقرار ہیں، وہاں اب بھی وہی چار، پانچ اور چھ ہزار کو بیس ہزار کا مساوی سمجھا جاتا ہے اور برکت برکت کی رٹ لگا کر اساتذہ کی دل شکنی کی جاتی ہے، کام خوب لیتے ہیں اور تنخواہ وہی گئی گزری اور پژمردہ- آج کے ماحول میں تنخواہ کی شروعات پندرہ ہزار سے ہونی چاہیے، پھر درجہ بدرجہ مزید اور مزیدتر - اس سے نیچے کی تنخواہ کو تنخواہ کہنا علم دین کی توہین ہے- مشہور محدث سفیان ثوری فرماتے ہیں: اگر علما کے پاس دولت نہ ہو تو دنیا دار لوگ علما کو رومال بنالیتے ہیں، جسے استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے-

*مدارس کا نظام اللہ چلاتا ہے*

جو شے زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ زیادہ بڑھتی ہے، تنخواہیں بڑھائیں گے تو مدرسے کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تنخواہ کس بنیاد پر بڑھائی جاے، ادارے کا سالانہ بجٹ اس کی اجازت نہیں دیتا، ان کی فکر کا قبلہ درست نہیں ہے- قوم دینے کو تیار ہے، آپ تنخواہیں بڑھائیے،پھر دیکھیے: خوش دل اساتذہ اپنی خدمات کس طرح پیش کرتے ہیں! دارالعلوم کے رابطۂ مدارس اجلاس میں بار بار اس موضوع کو اساتذۂ دارالعلوم نے اٹھایا، مگر اس موضوع پر سنجیدہ نظر شاید ڈالنا نہیں چاہتے- اللہ جانے کیوں؟

آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے


آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے(قرارداد)

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
جی ہاں صاحبِ صدر! آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے کہ اسکے پاس مشامِ تیز بھی ہے، گفتارِ دلبرانہ بھی اور کردارِ قاہرانہ بھی۔۔۔۔، کیونکہ میرا اور اقبال کا ایمان یہی کہتا ہے کہ’’کم کوش ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی‘‘ اور وہ لوگ جن کو آہِ سحر بھی نصیب ہو، اور سوزِ جگر بھی، وہ زندگی کے میدان میں کبھی نہیں ہارتے۔ مانا کہ مصائب کڑے ہیں ،مانا کہ اسباب تھوڑے ہیں۔ مانا کہ آج دھرتی ماں مقروض ٹھہری۔ ارے مانا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک یہاں چھا گئے۔ ارے ما نا کہ ترقی کی رفتار کم ہے ۔ ارے ما نا کہ یہاں بھوک بھی ہے اور افلاس بھی۔ ارے مانا کہ یہاں بم بھی پھٹتے ہیں ۔ ارے مانا کہ شمشیر و سناں آخر ہو گئی اور طاؤس و رباب اوّل ٹھہرے ۔ ارے سب مانا۔ لیکن میرے غازی علم دین نے ایسے ہی حالات میں جنم لیا تھا۔ میرا جناح پونجا پھولوں کی سیج سے نہیں اگا تھا۔ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘ کا نعرہ لگانے والے آسائشوں کے پالے ہوئے نہیں تھے۔
صاحبِ صدر!
گوہر اور جوہر حالات کی بھٹی میں جل کر کند ن ہوئے ۔ارے نسل تو اس وقت بھی عیاش تھی، قوم تو اس وقت بھی کمزور تھی، بھوک اور افلاس تو تب بھی تھی، لوگ تو تب بھی مرتے تھے۔ لیکن اقبال کے شاہین نے ،اس مشکل کی گھڑی میں گھروں میں روٹیاں نہیں بانٹیں ،بلکہ ایک فکری انقلاب بر پا کیا ،کہ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس ذوقِ یقیں کا، جو پیدا ہو جائے تو غلامی کی زنجیریں کٹ جا یا کرتی ہیں۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس سوچ کا جوآدمی کو ہزار سجدوں سے نجات بخشتی ہے۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس تصور کا، جو نوجواں کو اتنا عظیم کرتی ہے کہ منزل خود انہیں پکار ا کرتی ہے۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس جذبے کا ،کہ جہاں صلہءِ شہید ، تب و تابِ جا ودانہ ہوا کرتا ہے۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس اڑان کا، جہاں عشق کی ایک جست سبھی قصے تمام کرتی ہے۔ اقبال کا شاہین۔۔۔جو خاکی تو ہے ’’خاک سے پیوند نہیں رکھتا‘‘۔ جو ’’زہر ہلاہل کو قند نہیں کہتا‘‘ اور جو رہے ۔۔۔۔آتشِ نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش ‘‘ اور۔۔۔’’ جہاں ہے جس کے لئے وہ نہیں جہاں کے لئے‘‘ اور اقبال کا شاہین تو نام ہے اس قوت کا کہ:
دونیم جس کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ جس کی ہیبت سے رائی
ارے
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد الٰہی
اور
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
جنابِ صدر!
مرد حالات کے تھپیڑوں سے ڈر کر چوڑیاں نہیں پہن لیتے ۔ بھوک کے ڈر سے مردار نہیں کھاتے کہ’’شاہین کاجہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور۔۔۔۔سر چھپانے کے ڈر سے اپنا منہ مٹی میں نہیں ٹھو نستے ۔کہ ’’شاہیں کے لئے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی‘‘دوسروں کے سر سے کلاہ نہیں اتارتے کہ’’شاہین حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں ہو تا‘‘۔ارے اقبال کا شاہین تو وہ ہے جو جھپٹنے اور پلٹنے کا گُر جانتا ہو، جو جینے کیلئے مرنے کا ہنر جانتا ہو۔
اور آج میرے دیس کا ہر نوجوان اتنا بلند حوصلہ ہے کہ دشمن کی ہر گولی کا جواب ایک غوری سے دے سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نوجوان اور نگزیب حفی کی صورت اہلیانِ یورپ کی 210ملین روپے کی انعامی رقم واپس کر سکتا ہے ۔ برطانیہ کی سکونت کو ٹھوکر مار سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نو جوان ’’ڈھولا کے ڈھول‘‘ سے پلٹ کر سہارا فاؤنڈیشن کی بنیاد یں رکھ سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نوجوان اتنا ’’مال و مال‘‘ ہو گیا ہے ،کہ صغریٰ شفیع ہسپتا ل کی بنیادیں اپنے لہو سے سینچ سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نوجوان گیند بلے کو چھوڑ کر سسکتی ،بلکتی انسانیت کیلئے کوئی شوکت خانم بنا نے کی سعی رکھتا ہے اور آج میرے دیس کا نوجوان دنیا کی سب سے زیادہ ایمبو لینسوں پر مشتمل ٹرسٹ اپنے ہی خون پسینے کی کمائی سے چلا سکتا ہے۔ ارے مانا! کہ ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر شہید ہونے والے پرانے ہو گئے۔ ارے مانا کہ غداروں کو مارنے کے لئے اپنے ہی طیارے زمین میں گھسا نے والے پرانے ہو گئے۔ارے سب مانا ۔۔۔۔۔۔مگر ربّ احد کی قسم:آج بھی میرے دیس کا ہرنوجوان اپنے وطن کی ناموس کے لئے اپنے لہوکی آخری بوند تک بہا سکتا ہے۔ ارے ہم سب کچھ سہی۔ ۔۔لوٹے بھی سہی، لٹیرے بھی سہی ، لیکن’’کتابِ مقدس‘‘ کی قسم جب آج بھی کوئی ہماری غیرت کو للکارتا ہے تو ایک ہی رات میں 9چوکیاں فتح ہو جایا کرتی ہیں۔ آج بھی کوئی ایک پر تھوی بنا تا ہے تو دو غوری میدان میں آتے ہیں۔ کوئی ایک دھماکہ کر تا ہے تو جواب پانچ سے ملتا ہے۔ارے ہم آج بھی زندہ ہیں، کیونکہ ہماری سوچ زندہ ہے اور جس کی سوچ زندہ ہو، وہی اقبال کاشاہین ہے ،اور آج میرے دیس کا ہر نوجوان اقبال کا شاہین ہے۔اور میرا ایمان کہتا ہے، کہ
ہمارا قافلہ جب عزم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑ نے دے
مجھے یقین ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

رب کونین میرے دل کی دعائیں سن لے

رب کونین میرے دل کی دعائیں سن لے










رمضان : نیکیوں کا موسم بہار

رمضان : نیکیوں کا موسم بہار

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الثانی کے گزرنے اور رجب المرجب کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان المبارک کی تیاری شروع فرماتے اوردعا کرتے ’’کہ اے اللہ رجب و شعبان میں برکت دے اوررمضان المبارک تک ہمیں پہونچا دے ( اللھم بارک لی فی رجب وشعبان و بلّغْنی رمضان ) اس کے ساتھ ر جب ہی سے روزانہ کے معمولات میں اضافہ ہوجاتا، شعبان آتا تو کثرت سے روزے رکھتے، اورایسی کثرت ہوتی کہ حضر ت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ گمان ہوتا کہ رمضان المبارک کے روزوں سے ملا دیں گے، اسی پس منظر میں یہ بھی فرمایا کرتے کہ شعبان میرا مہینہ ہے، یعنی روزے اللہ نے اس مہینہ میں فرض نہیں کئے لیکن مجھے وہ عمل پسند ہے جو اللہ کی طرف سے رمضان میں فرض ہے، شعبان کی پندرہ شب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے، اس رات میں خود اللہ رب العزت کی طرف سے رمضان کے آنے کے قبل ایسے انعامات اور فیوض و برکات کا اعلان ہوتا کہ بندے میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رمضان کی آمد آمد ہے ۔اس رات اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول سورج غروب ہونے کے بعد سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ منادی آواز لگاتا رہتا ہے کہ کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے میں بخش دوں، ہے کوئی رزق طلب کرنے والا جس پر رزق کے دروازے کھول دوں، پھر رمضان میں جو مغفرت کا اعلان عام ہوتا ہے اس سے قبل ہی بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر پندرہ شعبان کی شب میں گنہگاروں کی مغفرت کردی جاتی ہے، اتنی کثرت سے مغفرت ہی کی وجہ سے اسے لیلۃ البراءۃ کہا جاتا ہے۔
مفسرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اللہ نے اس رات میں قرآن کریم کے نزول کا فیصلہ کیا، جس کی تنفیذ شب قدر میں ہوئی؛ گویا جس طرح موسم بہار کی آمد سے قبل آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ باد بہاری چلنے والی ہے اور صبح کی سفیدی روشن دن کے آنے کی خبر دیتا ہے، اس طرح اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے آنے سے قبل ہی اس کے فیوض و برکات کے ایک حصہ کا آغاز شعبان سے کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیاریوں میں مشغول رہتے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے سامنے رمضان المبارک کی عظمت و اہمیت بیان فرماتے۔ پھر جب شعبان کے آخری ایام آتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استقبال رمضان پر تقریر فرماتے اور لوگوں کو خیر کے کاموں کی طرف ابھارتے۔
اس موقع سے آپ کی تقریر جو حضرت سلمان فارسیؓ کے حوالے سے احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگو !ایک باعظمت مہینہ آپہونچاہے یہ ماہ رمضان ہے۔ اس ماہ میں جو شخص کوئی نیک کام کریگا اس کا ثواب فرض کے برابراور فرض اداکریگا تو اس کا ثواب ستر فرض کے برابر ملے گا، جو روزہ دار کو افطار کرائے گا وہ جہنم سے خلاصی پائے گا ۔اوراسے روزہ دار کے بقدر ثواب ملے گا، جب کہ روز ہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔اوریہ ثواب محض ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرانے پر بھی ملے گا۔اور اگر کسی نے روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلا دیا تو حوضِ کوثر سے ایسی سیرابی ہوگی کہ جنت میں داخلے تک پیاس نہیں لگے گی اورجنت بھوک پیاس کی جگہ نہیں ہے ، فرمایا : اس ماہ کا پہلا حصہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا دوزخ سے آزادی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ میں اپنی خاص رحمت سے ایسا انتظام کرتے ہیں کہ شیطان بندوں کو گمراہ نہ کرسکے، اور برائی پر آمادہ کرنے سے باز آجائے اس لئے جنات اور سرکش شیاطین کو پابندِ سلاسل کردیا جاتاہے۔ جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے پورے ماہ کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور منادی خدا کی طرف سے آواز لگاتا ہے کہ خیر کے طالب آگے بڑھو اور شر کی طرف مائل لوگو رک جائو، باز آؤ، اتنے اہتمام کے باوجود اگر کوئی مسلمان اس ماہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور جنت کے حصول کے سامان نہیں کرتا تو بدبختی اور شقاوت کی انتہا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے لئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بدعا کہ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کروالے اس پر آمین کہا ہے، ایک حضرت جبرئیل کی بددعا، اور دوسرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آمین کہنا، ایسے لوگوں پر لعنت ہی لعنت کا کھلا اعلان ہے۔
یہ تمام انعامات اور فیوض و برکات اس ماہ میں نزول قرآن کی وجہ سے ہیں ، اس لیے اس ماہ مبارک کا حق یہ ہے کہ تلاوت قرآن کی کثرت کی جائے، تراویح میں قرآن سننے سنانے کا اہتمام کیاجائے، تہجد میں رات گذاری کی جائے اور ہرلمحہ کو قیمتی سمجھ کر ذکر، اذکار اور وظائف میں مشغول رہا جائے، روزہ کا ایسا اہتمام کیاجائے جو شریعت کو مطلوب ہے، اور جس سے تقوی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جو روزہ کا اصل مقصد ہے ، روزہ صرف کھانے پینے اور شہوانی خواہشات سے پرہیز تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ آنکھ، دل، دماغ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں، اور سبھی اعضا و جوارح کا روزہ رکھا جائے، آنکھ غلط چیزوں کو نہ دیکھے ، دل گناہوں کی طرف مائل نہ ہو، دماغ خدا کے احکام کے خلاف نہ سوچے، کان غلط نہ سنے، زبا ن غیبت، چغل خوری، جھوٹ، طعن و تشنع گالی گلوج سے محفوظ رہے، اور اعضا و جوارح خدا کی مرضیات پر لگ جائیں، ایسا روزہ دراصل روزہ ہے، بندہ جب ایسا روزہ رکھتا ہے تو اللہ خود اس کا ہوجاتا ہے، اور اللہ دلوں کے احوال جانتاہے، اس لیے اجر و ثواب کا ضابطہ ایک دس کا یہاں نہیں چلتا ، بلکہ جس نے اللہ کے لئے روزہ رکھا ہے ، اللہ ہی اس کا بدلہ دیں گے پھر چونکہ یہ غم گساری کا بھی مہینہ ہے اس لیے جہاں کہیں بھی رہے جس کام میں لگا ہوا ہے۔ اس میں اس کو ملحوظ رکھے، حسب استطاعت غربا کے خورد و نوش اور محتاجوں کی ضروریات کی کفالت کا بھی نظم کرے کہ یہ بھی روزہ کے مقاصد میں سے ایک ہے ہم لوگ جنہیں اللہ تعالی نے خورد و نوش کی سہولتیں دے رکھی ہیں اور بھوک پیاس کی تکلیف کا احساس پورے سال نہیں ہوتا، بلکہ شادی اور دیگر تقریبات میں کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کرتے ہیں، انہیں روزہ میں جب بھوک پیاس لگے تو ان کے اندریہ احساس جاگناچاہئے کہ سماج کے دبے کچلے لوگ جن کے گھر چولہا بڑی مشکل سے جلتا ہے۔ اور کئی بار فاقہ میں رات گذر جاتی ہے، کس قدر پریشانیاں محسوس کرتے ہوں گے، اس وجہ سے اکابر نے اس بات پر زور دیا کہ افطار اور کھانے میں تلافی مافات کی غرض سے اتنا نہ کھالے کہ روزہ رکھنے سے جو شہوانی قوت میں تھوڑی کمی آئی تھی وہ جاتی رہے اور سحری میں اس قدر نہ کھالے کہ دن بھر بھوک پیاس کا احساس ہی نہ ہو۔ اس ماہ میں مدارس کے اساتذہ اور اکابر علماء، ادارے تنظیموں اور مدارس کی فراہمی مالیات کے لئے کوشاں اور متفکر ہوتے ہیں۔ ان کا اکرام کیاجائے، اور محسوس کیا جائے کہ وہ امراء پر احسان کرتے ہیں کہ ان کی زکوۃ بروقت مناسب جگہ پہنچ جاتی ہے، اس لئے جھڑک کر اور بار بار انہیں دوڑا کر اپنے عمل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اس سے علماء کی بے وقعتی بھی ہوتی ہے اور ثواب بھی ضائع ہوتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ پورے ایمانی قوت سے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو وافر حصہ عطا فرمائے اور اسے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنادے ۔ آمین۔

دنیا کی حقیقت تحریر خدیجہ مغل - لفظ بولتے ہیں

قاضی کا انصاف

قاضی کا انصاف
ایک روز یمن کے قاضی صاحب ننگے پاؤں اور بے قاعدہ لباس میں تیزی سے قدم اٹھاتے چلے جارہے تھے ۔ ایک دوست بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔

شین میم الف:
ایک روز یمن کے قاضی صاحب ننگے پاؤں اور بے قاعدہ لباس میں تیزی سے قدم اٹھاتے چلے جارہے تھے ۔ ایک دوست بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ اس نے دیکھا کہ قاضی محمدبن علی خزانچی ملک ظفر کے گھر کے سامنے جا کر رک گئے ۔ اور انہوں نے دروازے پر جا کر دستک دی ۔ خزانچی کے ملازم نے جا کر قاضی صاحب کی آمد کی اطلاع اپنے آقا کودی ۔ خزانچی بھاگا آیا اور قاضی کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر کہنے لگاکہ جناب مجھے حکم دیا ہوتا میں خود حاضر ہوجاتا۔قاضی صاحب نے جواب دیا کہ ایک شخص کے بچے میرے پاس آئے ہیں ۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ آپ ان کے باپ کو قید کر رکھا ہے ۔ بچے باپ کے بغیر بری حالت میں ہیں ۔
خزانچی نے جواب دیا کہ جناب وہ شخص تو سلطان منصور کے حکم سے قید ہے ۔ سلطان کی اجازت کے بغیر میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔ قاضی صاحب نے فوراََ سلطان منصور میں قاصد دوڑیا ۔ سلطان منصور نے اس شخص کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ۔ لیکن جب تک قیدی رہا ہو کر سامنے نہ آگیا قاضی صاحب وہیں کھڑے رہے اور اسے اپنے ساتھ لے کر اس کے گھر تک چھوڑ کر واپس آگئے ۔
سلطان منصور جب مدینہ پہنچے تو اس زمانے میں محمد بن عمران قاضی کے منصب پر فائزتھے ۔ قاضی صاحب کی عدالت میں ایک اونٹ والے نے آکر سلطان کے خلاف شکایت درج کروائی اور انصاف کا طلبگار ہوا ۔ قاضی صاحب نے سلطان کے نام عدالت میں حاضری کا حکم جاری کر دیا ۔
سلطان اپنے ہمراہیوں کو باہر چھوڑ کر خود عدالت میں پیش ہوئے ۔ قاضی صاحب تعظیم لانے کیلئے اپنی جگہ سے نہیں اٹھے اور بدستوراپنے فرائض ادا کرتے رہے ۔ مقدمے کی سماعت کے بعد قاضی صاحب نے سلطان کے خلاف فیصلہ دے دیا ۔ جب فیصلہ سنایا گیا تو سلطان خوشی سے اچھل پڑے اور قاضی صاحب سے کہا کہ میں آپ کے انصاف سے بہت خوش ہوا ۔ پھر سلطان نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ قاضی صاحب کو دس ہزار درہم انعام دیا جائے ۔ یہ تھے اس زمانے کے حکمران اور قاضی جو ایک دوسرے کا بے حد احترام کیا کرتے تھے ۔ مگر آج کل کے حکمران اور قاضی صاحبان نجانے کن کے اشاروں پر ایسے فیصلے کرتے ہیں۔




دنیا کی حقیقت تحریر خدیجہ مغل

دنیا کی حقیقت
مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ۔۔۔
خدیجہ مغل:
مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر آرہا ہے وہ بھاگا جب تھک گیا تو دیکھا کہ سامنے ایک گڑھا ہے اس نے چاہا کہ گڑھے میں چھلانگ لگا کر جان بچائے لیکن گڑھے میں ایک خوفناک سانپ نظر آیا اب آگے سانپ اور پیچھے شیرکا خوف اتنے میں ایک درخت کی شاخ نظر آئی وہ درخت پر چڑھ گیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ درخت کی جڑ کو کالا چوہا کاٹ رہا ہے وہ بہت خائف ہوا کہ تھوڑی دیر میں درخت کی جڑ کٹے گی پھر گر پڑوں گا پھر شیرکا لقمہ بننے میں دیر نہیں۔اتفاق سے اسے ایک شہد کا چھتہ نظر آیا۔وہ اس شہد شیریں کو پینے میں اتنا مشغول ہوا کہ نہ ڈر رہا سانپ کا اور نہ شیر کا۔اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی وہ نیچے گر پڑا۔شیر نے اسے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور وہ سانپ کی خوارک بن گیا۔
جنگل سے مراد یہ دنیا ،شیر سے مراد یہ موت ہے جو انسان کے پیچھے لگی رہتی ہے،گڑھا قبر ہے ،چوہا دن اور رات ہیں،درخت عمر ہے اور شہد دنیا ئے فانی سے غافل ہو کر دینے والی لذت ہے۔
انسان دنیا کی لذت میں اعمال بد اور موت وغیرہ بھول جاتا ہے اور پھر اچانک موت آجاتی ہے۔
اقولِ زریں!
مسلمان بھائی بھائی ہیں ایسی بات نہ کہو جس سے تمھارے بہن بھائی کو دکھ ہو۔اچھا انسان وہ ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے۔
نماز وہ راستہ ہے جو سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے۔
ماں باپ کی قدر کرو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنو۔
بچوں سے شفقت سے پیش آؤ۔یہ پھول کسی کسی آنگن میں کھلتے ہیں۔
تین چیزیں انسان کو برباد کر دیتی ہیں
حسد۔قرض۔غرور
علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی تہہ نہیں ۔
دل ایک ایسا آئینہ ہے ۔اگر بدی سے پاک ہو تو اس میں خدا بھی نظر آجاتا ہے۔
عزت دنیا مال سے ہے اور عزت آخرت اعمال سے ہے۔
تعجب ہے اس پر جو شیطان کو دشمن جانتا ہے پر اسکی اطاعت کرتا ہے۔
معاف کردینا سب سے اچھا انتقام ہے۔
ہمیں ہر اس چیز سے محبت کرنی چاہیے جو محبت کروانے کے لائق ہو
اور ہر اس چیز سے جفرت کرنی چاہیے جو نفرت کے قابل ہو۔لیکن اس صورت میں ممکن ہے جب ہمارے پاس دونوں کا فرق دیکھنے کے لیے عقل کی دولت ہو۔
پڑوسی کو ستانے والا جہنمی ہے گرچہ تمام رات عبادت کرے اور تمام دن روزہ رکھے۔
الله تعالیٰ سے اس طرح ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ۔ورنہ وہ تو تمھیں دیکھ ہی رہا ہے۔
نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور اسکی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔
دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے پہلے اپنی خامیاں تلاش کرو۔

رمضان اور 30اغلاط عامہ

رمضان۔۔۔ اور 30  اغلاطِ عامہ

‘‘اغلاط’’ خطِ نسخ اور سرخ رنگ میں دی گئی ہیں۔ اور ان کی ‘‘تصحیح’’ نستعلیق اور سبز رنگ میں۔ واضح رہے بعض غلطیاں فرض چھوڑنے یا حرام کا ارتکاب کرنے کی قبیل سے ہیں، اور بعض غلطیاں سنت کو ترک کرنے یا مکروہ کا ارتکاب کرلینے کی قبیل سے۔

1۔ چاند نظر آنے پر بعض لوگ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ یا شور اٹھاتے ہیں۔
سنت یہ ہے کہ رمضان یا کسی بھی مہینے کا چاند دیکھے تو اللہ کی تکبیر کرے اور کہے: اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام ربی وربك الله (ترمذی)
2۔  رمضان کے اعزاز میں، رمضان شروع ہونے سے پہلے ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا
نبیﷺ نے فرمایا: لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم (رواه البخاري) ‘‘تم میں سے کوئی  رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کا روزہ نہ رکھے، سوائے وہ شخص جو اپنے معمول کے تحت یہ روزہ رکھنے والا ہو، ہاں وہ یہ روزہ رکھ لے’’۔
3۔  رات سے یا کم از کم طلوعِ فجر سے پہلے فرض روزہ کی نیت نہ کررکھنا۔
نبیﷺ نے فرمایا: من لم يبيت النية من الليل فلا صيام له (أخرجه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه) ‘‘جس نے رات سے نیت نہیں کررکھی اسکا کوئی روزہ نہیں’’۔
4۔  روزے کی نیت بولنے کی صورت میں کرنا (جیسے بعض لوگ بول کرکہتے ہیں وبصوم غدٍ)
اسکی کوئی اصل نہیں، اور یہ دین میں نیا کام ہے۔ آپؐ نے فرمایا: إنما الأعمال بالنيات
5۔  افطار کے وقت بعض لوگ اذان ہوجانے کے بعد بھی اپنی دعاء جاری رکھتے ہیں، یہاں تک کہ مؤذن اذان ختم کرلینے کے قریب ہوتا ہے۔
سورج کے غروب ہوتے ہی افطار میں عجلت کرنا سنت کی روح ہے۔ مصطفیﷺ نے فرمایا: لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر رواه البخاري ‘‘لوگ خیر پر رہیں گے جب تک کہ افطار میں عجلت کرتے رہیں’’۔
 6۔  بعض لوگ افطار کے وقت اس دعاء کو اپنا معمول بناتے ہیں: اللہم تقبل منی إنک أنت السمیع العلیم۔ یا کسی اور دعاء کو اس موقع کیلئے اپنا معمول بنانا۔
افطار کے وقت معمول اُسی دعاء کو بنایا جائے گا جو اِس موقع کیلئے نبیﷺ سے مروی ہے۔  مثلاً آپؐ سے مروی یہ کلمات: ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله رواه أبو داود والدار قطني والبيهقي ، وقال الألباني حديث حسن ‘‘پیاس گئی، رگوں کو تراوت ملی، اور ان شاء اللہ اجر پکا’’۔
7۔  اکثر لوگ (خاص طور پر گھروں میں روزہ کھولنے والے) مغرب کی نماز باجماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو دسترخوان پر کھانا چن لیتے ہیں اور پھر حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ ‘پہلے کھانا پھر نماز’!
دسترخوان کو بوقت افطار اتنا بھاری نہ کرنا چاہئے۔ نماز باجماعت کو پانا فرض ہے: فرمانِ الٰہی ہے: واركعوا مع الراكعين ‘‘جھکنے والوں کے ساتھ جھکو’’۔ نیز مصطفیﷺ کا فرمان ہے: من سمع النداء فلم يجب فلا صلاة له إلا من عذر رواه الترمذي وابن حبان، وقال الألباني: حديث صحيح ‘‘جس نے اذان سنی اور اس پر لبیک نہ کہا اس کی کوئی نماز نہیں سوائے یہ کہ عذر ہو’’۔
8۔  بعض لوگ سحری نہیں کرتے اور رات کے کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
نبیﷺ نے فرمایا: تسحروا فإن في السحور بركة رواه البخاري ومسلم والترمذي ‘‘سحری کیا کرو؛ یقیناً سحری کے اندر ایک برکت ہے’’۔ امام نوویؒ کہتے ہیں: سحری کے مستحب ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔
9۔  بعض لوگ اذانِ فجر سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے ہی سحری کھا کر فارغ ہوجاتے ہیں!
سحری کو موخر کرکے کھانا سنت ہے۔ جس کا تخمیہ یہ ہے کہ اذان فجر کو پچاس آیتوں جتنا وقت باقی ہو تو سحری کھائی جائے۔
10۔  سحری میں کھجور کے استعمال کو ترک رکھنا۔
نبیﷺ فرماتے ہیں: نعم سحور المؤمن : التمر رواه أبو داود وابن حبان والبيهقي، وقال الألباني حديث صحيح ‘‘کھجور مومن کی سحری کیلئے کیا ہی اچھی ہے’’!
11۔  افطار یا سحری میں خوب پیٹ بھر لینا۔ بعض لوگ تو کھا کھا کر بے حال ہوجاتے ہیں۔
مسلمان کے لائق یہی ہے کہ بھوک رکھ کر کھانا کھائے۔ نبیﷺ نے فرمایا:  ما ملأ آدمي وعاءً شراً من بطنه بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه .... رواه ابن حبان ‘‘پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں جسے آدمی لبالب بھر لیتا ہو۔ ابن آدم کیلئے اتنے لقمے بڑے ہیں جو اس کو کمر کو سیدھا رکھیں’’۔
12۔  بعض لوگ اذانِ فجر شروع ہوجانے کے بعد بھی کھاتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض تو اذان ختم ہوجانے کے بعد بھی کھاتے چلے جاتے ہیں۔
آدمی کو چاہئے کہ اپنا دین اور اپنا روزہ خطرے میں نہ ڈالے۔ فرمان الٰہی ہے: وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود ‘‘کھاؤ پیو تاوقتیکہ فجر کی پو پھٹ جائے’’
13۔  رمضان میں رات کے وقت لیٹ جاگتے رہنا۔ صبح فجر میں سست ہونا، یا فجر کی نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانا۔ بعض لوگ تھوڑی بہت سحری زہرمار کرکے پھر سوجاتے ہیں اور سوج چڑھے نمازِ فجر پڑھتے ہیں!
رمضان کی راتوں کا قیام، اور ذکر اور دعاء ومناجات ترک کر بیٹھنا ایک بے حد بڑی محرومی ہے۔ سحر کے وقت عبادت میں چستی آنا اس بات پر منحصر ہے کہ رات کا اول حصہ آرام کرلیا گیا ہو۔ بعض اہل علم نے ایسے شخص کے حق میں رات کو لیٹ جاگتے رہنا حرام تک کہا ہے جس کی نماز فجر باجماعت اس لیٹ جاگنے کے باعث متاثر ہوجاتی ہو۔
14۔  بعض روزہ دار جو ویسے گالی گلوچ سے پرہیز بھی کرلیتے ہیں، کسی کے گالی دینے پر البتہ اُسی لہجے میں جواب دینا شروع ہوجاتے ہیں۔
نبیﷺ کا فرمان ہے: وإذا كان صوم يوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد فليقل : إني امرؤ صائم رواه البخاري ومسلم وابن ماجه والنسائي وابن ماجه وأحمد و ابن حبان ‘‘جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو، اُسے چاہئے جھگڑا اور شورشرابہ نہ کرے۔ کوئی دوسرا بھی اُس کے ساتھ گالی گلوچ کرے تو کہے: بھئی میں روزے سے ہوں’’۔
15۔  بہت سے روزہ دار صرف کھانے پینے کا روزہ رکھتے ہیں۔ زبان کو لغو، جھوٹ اور بہتان سے بچانا ان کے لیے روزہ کا حصہ نہیں! اسی طرح لغو اور بیہودہ چیزوں کا سننا اور ٹی وی، کمپیوٹر یا موبائل پر دیکھنا موقوف نہیں ہوتا!
روزہ ہر قسم کے فضولیات سے بچنے کا نام ہے اور اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی یاد میں گزارنے سے عبارت ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه رواه البخاري ‘‘جس شخص نے قولِ زُور نہیں چھوڑا اور اس پر عمل کرنے سے نہیں رکا، تو اللہ کو حاجت نہیں ہے کہ ایسا شخص بس اپنا کھانا پینا ہی چھوڑ کر رہے’’۔
16۔  بہت سے روزہ دار رمضان میں بھی بخیل کے بخیل رہتے ہیں۔ حاجتمندوں کا ہجوم دیکھنے کے باوجود  ‘‘روزہ’’ ان سے انفاق کروانے میں ناکام رہتا ہے۔
رمضان میں گرہ کھولنا اور لٹانا خاص طور پر مرغوب ہے۔ اعمال کا بدلہ  رمضان میں کئی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔  نبیﷺ رمضان میں خاص طور پر صدقات اور انفاق کا اہتمام فرماتے۔ ابن عباسؓ کا قول ہے: كان رسول الله  أجود الناس وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل، وكان يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن ‘‘رسول اللہﷺ سب سے بڑھ کر انفاق کرنے والے تھے اور سب سے بڑھ کر وہ رمضان میں انفاق کرتے جب جبریل سے ملاقات کرتے، اور جو کہ آپؐ کو ہر رات ملتا اور آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتا’’۔
17۔  بعض لوگ کسی کو رمضان میں دن کے وقت مسواک کرتا دیکھیں تو اس پر نکیر کرتے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ یہ روزہ کے حق میں نقصان دہ ہے!
مسواک کا سنت ہونا عام ہے  اور ہر وقت کیلئے ہے۔  نبیﷺ کا فرمان ہے : لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كلصلاة رواه مالك في الموطأ والبخاري ومسلم وأبو داودوالترمذي ‘‘مجھے اپنی امت پر مشقت کردینے کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کریں’’۔
18۔  ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ سے ہونے کے باوجود گناہ کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔ فلمیں ، سینما، اور گلیوں میں چھیڑچھاڑ اور خواتین کی طرف جھانکنا سب جاری رہتا ہے!
امام ابن رجب فرماتے ہیں: جو شخص اپنا روزہ ضائع کرلے، اس کا روزہ اس کو اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے روک ہی نہ سکے،  امکان ہے کہ اس کا روزہ قبول ہی نہ ہو اور اس کے منہ پر دے مارا جائے’’۔
19۔  بعض لوگ رمضان میں تراویح باجماعت کا اہتمام نہیں کرتے، رمضان میں بھی اپنے روزمرہ معمولات اُسی طرح جاری رکھتے ہیں۔
رمضان کی راتوں کا بہترین مصرف نماز میں قرآن کی طویل طویل قراءت کرنا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: من قام رمضانإيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه رواه مالكفي الموطأ والبخاري ومسلموأبو داود والترمذي والنسائي ‘‘جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کوقیام کرے، اس کے سب گزرے گنا ہ معاف کردیے جاتے ہیں’’۔
20۔  بعض لوگ امام کے نماز ختم کرنے سے پہلے تراویح ختم کرکے نکل جاتے ہیں (خاص طور پر وتر کے وقت لوگ امام کو نماز پڑھاتا چھوڑ کر نکل جاتے ہیں)
سنت یہ ہے کہ اگر آدمی امام کے ساتھ اُس وقت تک نماز پڑھتا رہے جب تک امام نماز پڑھا رہا ہے تو اس کیلئے پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے: من قام معإمامه حتىينصرف كُتب له قيام ليلة رواه الترمذيوابن خزيمة وابن حبان ‘‘جو شخص اپنے امام کے ساتھ اُس وقت تک  قیام کرے جب تک امام نماز ختم نہ کرلے، اُس کیلئے (پوری) رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے’’۔
21۔  بعض عورتیں تراویح کیلئے مساجد میں زیب وآرائش اور پرفیوم لگا کر جاتی  ہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: أيما امرأة أصابت بخوراًفلا تشهد معنا العشاء الآخرة رواه مسلم وأبو داودوالنسائي وأحمدوالبيهقي ‘‘جو عورت خوشبو لگائے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے نہ آئے’’۔
22۔  بہت سے ائمہ رکعتوں کی تعداد پور کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ نماز میں طمانیت مفقود۔ نہ رکوع پورا اور نہ سجود۔ نہ دعاء اور نہ خشوع، اور اس کا نام قیامِ رمضان!
نبیﷺ نے فرمایا: أسوأ الناس سرقة الذييسرق من صلاته، قالوا : يا رسول الله كيفيسرقها ؟ قاللا يتمركوعها ولا سجودها‘‘چوروں میں سب سے برا  وہ  آدمی ہے  جو اپنی نماز کی چوری کرے۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ وہ کیسے نماز کی چوری کرتا ہے؟ فرمایا: اس کا رکوع اور سجود پورا نہیں کرتا’’۔
23۔  بعض ائمہ قنوت کو بہت زیادہ طویل کردیتے ہیں۔
نماز اور قنوت میں اقتصاد (میانہ روی) رکھنا چاہئے۔ نیز سنت میں وارد ہونے والی دعاؤں پر اکتفا کرنا چاہئے۔ نبیﷺ نے فرمایا: إذا صلى أحدكم للناسفليخفف فإن فيهمالضعيف والسقيم والكبير رواهالبخاري ومسلم وأبو داود وأحمد وابن حبان
‘‘جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو اُسے چاہئے کہ ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور بیمار بھی اور بڑی عمر کے لوگ بھی’’۔
24۔  بعض ائمہ دعائے قنوت میں نہایت تکلف کرتے ہیں۔ بڑی بڑی مسجع عبارتیں لے کر آتے ہیں، اور خوب تصنع سے کام لیتے ہیں۔
سادگی کے ساتھ مسنون دعاؤں پر اکتفاء کرنا بہتر ہے۔
25۔  بعض لوگ دعائے قنوت میں آواز بہت اونچی کرلیتے ہیں۔
دعاء میں آواز دھیمی رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ادعوا ربكم تضرعاً وخفية إنه لا يحب المعتدين ‘‘پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے۔ بے شک وہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا’’۔
26۔ بعض لوگ دعائے قنوت کے دوران، یا امام کے پیچھے ہوں تو اس کی دعاء پر آمین کہنے کے دوران مسلسل آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے: ما بال أقوام يرفعونأبصارهم إلى السماء في صلاتهم فاشتد قوله فيذلك حتى قاللينتهين عنذلك أو لتخطفنأبصارهم رواه النسائي، وقال الألباني حديث صحيح‘‘کچھ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں’’۔ نبیﷺ نے اس پر اس حد تک شدید بات فرمائی کہ: ‘‘یہ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں’’۔
27۔  بعض نمازی دعائے قنوت کے اختتام پر دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرتے ہیں
یہ چیز سنت سے ثابت نہیں۔ امام بیہقیؒ کہتے ہیں: ‘‘دعاء سے فراغت کے وقت چہرے پر ہاتھ پھیرنا میرے نزدیک سلف کے کسی ایک شخص سے بھی ثابت نہیں’’۔
نوٹ: دعاء کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنے کو خلافِ سنت کہنے کے متعلق یہ مصنف کی رائے ہے جو دراصل حنابلہ کے علماء کی ایک جماعت کی رائے ہے۔ دیگر فقہی گروہ اس کی اجازت دیتے ہوں تو اس پر عمل میں کوئی مضائقہ نہیں (مترجم)۔
28۔  بعض نمازی لیلۃ القدر کی دعاء میں  لفظ ‘‘عفو’’ کے بعد ‘‘کریم’’ کا اضافہ کرتے ہیں۔
دعاء کے الفاظ سنت سے یہی ملتے ہیں ‘‘اللہم إنک عفوٌ تحب العفوَ فاعف عنی’’۔ اس میں کسی لفظ کا (مستقل) اضافہ درست نہیں۔
29۔  اعتکاف ضائع کرلینا۔ اس کو اہمیت نہ دینا۔
اعتکاف رمضان کے آخری عشرے میں کیا جانے والا ایک بہترین عمل ہے۔ اس کی جتنی حفاظت ہوسکے کرنی چاہئے۔ كان رسول الله  يعتكف العشر الأواخر منرمضان رواه البخاري ومسلموأبو داود وقال الألبانيحديث صحيح ‘‘رسول اللہﷺ رمضان کی آخری د س راتیں اعتکاف کیا کرتے تھے’’۔
30۔  فطرانہ کو اس کے وقت سے موخر کر بیٹھنا
صدقۃ الفطر عید کے روز نماز سے پہلے پہلے نکال دینا ضروری ہے۔ اس سے ایک یا دو دن پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔

میں خیال ہوں کسی اور کا

یہ غزل سن کر میں نے حسبِ دستور نیٹ پر اسے تلاش کیا اور ایک حیرت بلکہ صدمہ ہوا کہ کہیں بھی یہ غزل مکمل موجود نہیں۔ تمام سائٹوں پر زیادہ سے زیادہ چھ اشعار ہی ہیں۔ لہٰذا یہ غزل جس قدر مجھے مل سکی، یعنی آٹھ شعر، میں حاضر کیے دے رہا ہوں۔ نیز مہدی حسن کی خوبصورت آواز میں بھی اس غزل کو سننے اور دیکھنے کا سامان بہم کیے دیتا ہوں۔ گو آواز استاد مہدی حسن خان صاحب کی ہے لیکن کمپوزیشن استاد رئیس خان ہی کی ہے۔

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ مرا عکس ہے پس ِ آئینہ کوئی اور ہے

میں کسی کے دست ِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرف ِ دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے، مجھے جانتا کوئی اور ہے

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتہ نہ تھا
تری داستاں کوئی اور تھی، مرا واقعہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا، پہ مری سزا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

مری روشنی ترے خدّ و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تُو قریب آ تجھے دیکھ لوں تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے

جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
(سلیم کوثر)

اے خدا تیرے بنا زندگی موت ہے

اے خدا تیرے بنا زندگی موت ہے

      اے خدا، تیرے بنا زندگی موت سے بھی بد تر ہے۔ تیرے بنا چاند کی روشنی تیرگی، سورج کی کرنیں بے نور، تاروں کی چھاؤں معدوم ، آسمان کی وسعت ایک تنگ گلی اور نیلگوں آسماں ایک سیاہ چادرہے۔ 

        تیرے بغیر پرندوں کی چہچہاہٹ ایک بے ہنگم شور، پھولوں کی مہک بے کیف بو ، قوس قزح لایعنی لکیریں، باد نسیم صحرا کے تھپیڑے، پتوں کی سرسراہٹ بے معنی آواز، ساحل کی موجیں بے بلا وجہ کا زیرو بم اور بارش کے قطرہ نامعقول نمی ہے۔

       تیرےبغیر زیست بس سانسوں کا آنا جانا ، دل محض گوشت کا لوتھڑا ، عقل عیاری کی آماجگاہ، نگاہیں ابلیس کی پناہ گاہ اور بدن کے زندہ لاش ہے۔تیرے بنا ہر حسن غلاظتوں کا ڈھیر، ہر رشتہ لایعنی تعلق، ہر انسان شیطان  کا پرتو اور ہر محفل اجڑا ہوا دیار ہے۔

      تیرے بنا بنا نماز ریاکاری ، زکوٰۃ سانپوں کا ڈنک، حج محض ایک یاترا اور روزہ احمقوں کا فاقہ ہے۔تیرے بنا تبلیغ محض مارکیٹنگ ، تقریر نقلی پھولوں کا گلدستہ ، مذہبی پیشوائیت پنڈت کی دوکان، جہاد اک فساد، اذان ایک رسمی اعلان ، جمعہ ایک لایعنی اجتماع اور عید ابلیس کی بزم ہے۔تیرے بنا حیا ایک تکلف، تفریح ایک بے ہودہ عمل، غناء ایک بے ہنگم شور اور سماج ایک جم غفیر ہے۔ تیرے بغیر کمانا ایک حرام عمل، رقم کی لین دین استحصال کا ذریعہ، فلاح کا کام محض دکھاوا، تعلیم جہل کی بنیاد ، کھانا اور پینا جانوروں کا فعل اور جنسی تعلق حیوانی شہوت ہے۔

       میں یہ چاہتا ہوں کہ تو ہو اور کچھ نہ ہو۔ تو نہیں تو کچھ بھی نہیں تو ہے تو سب کچھ ہے۔تو ہے تو گلوں میں رنگ ہے، باد نوبہار ہے۔ ترنم ہزار ہے، بہار پر بہار ہے، ہوا بھی خوشگوار ہے۔ تو ہے تو نماز اک معراج، زکوٰۃ مال کی پاکی، روزہ تقوی کا ذریعہ اور حج تزکیہ کا ذریعہ ہے۔

       میں چاہتا ہوں کہ تو میرے شب و روز میں آ،میرے تکلم میں سما، میرے بچھونے کو سجا، میرے سجدوں کو بسا، مجھ کو راتوں میں اٹھااور اور کچھ پاس ذرا اور پھر دور نہ جا۔


                          از پروفیسر محمد عقیل








 ماجدؔ دیوبندی 


سامانِ تجارت۔۔۔۔۔ مرا ایمان نہیں ہے 


ہر در پہ جھکے سر۔۔۔ یہ مری شان نہیں ہے


ہرلفظ کو سینے میں۔۔۔۔۔۔ بسالو تو بنے بات


طاقوں میں سجانے کو۔۔۔ یہ قرآن نہیں ہے


اللہ.. ! مرے رزق کی برکت نہ چلی جائے 


دو روز سے گھر میں۔۔ کوئی مہمان نہیں ہے


ہم نے تو بنائے ہیں۔۔ سمندر میں بھی رستے


ہم کو یوں مٹانا۔۔۔۔۔ کوئی آسان نہیں ہے


میں تیری محبت میں۔۔۔ گرفتار ہوں لیکن


تجھ کو میں خدا سمجھوں.. یہ امکان نہیں ہے


دوچار امیدوں کے دیئے اب بھی ہیں روشن


ماضی کی حویلی ابھی۔۔۔۔۔ ویران نہیں ہے


اللہ کے احکام کی۔۔۔۔۔۔۔ تعمیل ہے لوگو


یہ فاقہ کشی۔۔۔۔۔ مقصدِ رمضان نہیں ہے
  

وہ جس کو بزرگوں کی۔۔۔ روایت نہ رہے یاد


اس شخص کی لوگو کوئی۔۔۔۔ پہچان نہیں ہے


ماجدؔ ہے مرا شعر مرے عہد کی تصویر


غالؔب کی غزل ، میرؔ کا دیوان نہیں ہے




مغیثہ فاطمہ کی ویڈیو

آج خوبصورت آواز کے ساتھ اس خوبصورت سی ننی منی بچی { مغیثہ فاطمہ } کو اپنی دعاوں سے ضرور نوازیں ۔







رمضان المبارک اصلاح کا مہینہ




حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت سے منقول ہے ،جو آپ نے شعبان کے آخری دنوں یا آخر تار یخ کو مجمع ِصحابہ ؓ میں دیا تھا۔آپ نے انہیں مخاطب کر تے ہو ئے ارشاد فر ما یا تھا:

’’لوگو! ایک زبر دست اور با بر کت مہینہ تم پر سا یہ فگن ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر اوربڑھ کر ہے۔اللہ پاک نے اس مبارک مہینہ کے دنوں میں اپنے بندوں پر روزہ فرض کیا ہے اورراتوں میں قیام یعنی تروایح کو نفل اورزائد عمل قرار دیا ہے ۔اور اس ماہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اگر کوئی کار ِخیر کر ے تو اس کو اتنا ثواب ملتا ہے جتنا دوسرے دنوں میں فرض کام کر نے پر ملتا ہے ،اور فرض کا ثواب دوسر ے دنوں کے ستر فر ضوں کے برابر ملتا ہے،اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے،اور یہ مہینہ غمخواری کا ہے،اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق منجا نب اللہ بڑھا دیا جاتا ہے، مزید یہ کہ اگر کسی شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کر ادیا تو اس کواس روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر اس کے روزہ کا ثواب بھی دیا جا تاہے،اور یہ عمل افطار کرا نے والے کی مغفرت ِ ذنوب کا سبب بن جاتا ہے،اس پر صحا بہ کرام ؓنے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ہم میں سے ہرشخص اس کی استطا عت نہیں رکھتا کہ رو زہ دار کو کھا نا کھلا دے ، آپؐ نے فر ما یا: جس اجرکی میں خبر دے رہا ہو ں وہ اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ لسّی یا ایک کھجور بلکہ پانی کے ایک گھونٹ پر بھی عطا فر ما دیں گے، اس کے لئے کوئی بڑے اہتمام اور خاص مصارف کی بھی حاجت نہیں ، البتہ جس نے کسی روزہ دار کو خوب سیر کرکے کھلایا تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائیں گے،جس کے بعد جنت میں داخلہ تک پھراس کو پیا س نہیں ستائے گی، یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت درمیا نی مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے گلو خلا صی کا ہے، جس شخص نے اس ماہ میں اپنے خادموں کا بو جھ ہلکا کر دیا اللہ پاک اس کی مغفرت اور جہنم سے نجا ت کا فیصلہ فرمادیتے ہیں ۔
(البیہقی کذا فی مشکوٰۃ)

رمضان شریف کی آمد پر نبی رحمت ﷺ کے مذکورہ خطبہ سے چند اہم خصوصیات اس موسم بہار کی واضح ہوتی ہیں :

(۱)اس مہینہ کا عظیم اور بابر کت ہونا ۔

(۲)اس میں ایسی رات کا پا یا جا نا جو شب ِقدر کہلاتی ہے اورجو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔

(۳)روزوں کا اس میں فرض کیا جانا ۔

(۴)اس کی راتوں میں ایک زائد خصوصی نماز یعنی تروایح کا دیا جا نا۔

(۵)نفل کا موں کے اجر کو فرض کے اجر تک اور فرضوں کے اجر کو ستر فرضوں کے اجر تک بڑھایا جا نا۔

(۶)ایسے اعمال دئے جانا جن میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے اوراس صبر کے ذریعہ جنت کا موعود ہونا ۔

(۷)اس میں ایک دوسرے خصوصاً غربا ء وفقراء کی ہمدردی وغمخواری کے جذبہ کا عام کیا جا نا۔

(۸)مسلما نوں کی روزی کا بڑھایا جا نا۔

(۹)دوسرے روزے داروں کو افطار کرانے پر ان کے ثوابوں میں کمی کئے بغیر افطار کرا نے والے کوبھی اتنا ثواب دیا جانا ۔

(۱۰)اس کے ابتدائی ،در میا نی اور آخری حصوں کو علی الترتیب باعث ِرحمت ، باعث مغفرت اور جہنم سے نجات کا وسیلہ قراردیا جا نا۔

(۱۱)اپنے خادموں اور چاکروں کے کاموں اور ذمہ داریوں میں تخفیف یعنی کمی کر نے پرمغفرت کا وعدہ فر ما نا وغیرہ۔

یہ صرف وہ فضائل وخصائص ہیں جو ایک حدیث کی روشنی میں ہمارے سامنے آرہے ہیں ، ان کے علاوہ بیسیوں اور حدیثیں فضائل ِ رمضان اور اس کی خصائص کے بیان پر مشتمل موجودو مشہور ہیں، ان سب کو سامنے رکھنے اور ان میں غور کر نے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ پاک نے اس ماہ کو تر قی ِباطن وتز کیۂ نفس کا موسم ِبہار بنا دیا ہے،خود قرآن مجید میں روزہ کا حکم دینے کے بعد اس کی علت لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ بیان فرمائی گئی ہے۔

اسی لئے آنحضرت ﷺ اور صحا بہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت پہلے سے رمضان کی تیاری فرماتے تھے، اور جب یہ موسم ِبہار شروع ہوجا تا توپوری یکسو ئی وتو جہ کے ساتھ اس کے بر کا ت و ثمرات کو حاصل کر نے میں منہمک ومشغول ہو جا تے تھے،خصوصاً عشرۂ اخیر ہ میں تو بالکلیہ مسجد کے ہورہتے اور بقول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نبی کریم ﷺ کمر کس لیتے ،راتوں کو عبادت سے معمور رکھتے اور گھر والوں کو بھی جگا تے اور اس میں لگا تے تھے۔

بعدکے ادوار میں بھی عاشقانِ سنت وحاملانِ شریعت اسی طرح اس مبارک مہینہ کا حق ادا کرنے کی کو شش کر تے رہے،اہل اللہ اور اکا بر کے حالات ان واقعات سے بھر پورہیں جو ان کے اشغال واعمال ِرمضان سے تعلق رکھتے ہیں ،اندازہ کے لئے حضرت شیخ نو راللہ مرقدہٗ کا رسالہ ’’اکابر کا رمضان ‘‘ دیکھ لینا کا فی ہے ۔

ہمیں اللہ پاک معاف فرماویں کہ ان کے احوال کو پڑھنے کے بعد جب اپنے حالات پر نظر پڑتی ہے تو ’’فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلوٰۃَ وَاتَّبَعُوْا الشَّھَوَاتِ‘‘ کا نقشہ نظر آتا ہے ، یعنی اللہ پاک نے انبیاء وصلحاء ِسابقین کے ذکر کے بعد جوفرمایا ،پھر’’ان کے بعد ایسے نا خلف وجو دمیں آئے جو نماز وں کو ضائع کر دیتے اور شہوات وخواہشات کی پیر وی کرتے تھے‘‘یہی حال بعینہٖ ہمارانظر آرہا ہے ۔

رمضان المبارک کے شروع ہو تے ہی ہم میں سے اکثر لو گ چند دن بڑا جوش وخروش دکھا کر پہلے ہفتہ ہی میں حسب ِحال بحال ہو جا تے ہیں اور اپنی غافلانہ روش اختیار کر جاتے ہیں ، اگر کچھ سر گر میاں نظر آبھی جا تی ہیں تو بس فیشن اور نقالی کی، مثلا ًرسمی شبینے، رسمی جلسے ،یوم الفرقان ،یو م القرآن وغیر ہ اور افطار پارٹیاں ،جن میں نمازوں کا ضیاع ، خواہشات کا اتباع ، اور دین کا مذاق غالب رہتا ہے، کیونکہ ان میں حصہ لینے وا لے بیشتروہ لو گ ہو تے ہیں جو ذوق ِعبادت سے یکسر محروم اور مزاجِ نبوت سے قطعاً ناآشنا ہوتے ہیں ، نئی نسل تو شامت ِاعمال سے بس انہی حرکات کو بر کا ت ِرمضان کے حصول کا وسیلہ تصور کی ہوئی ہے،افسوس ! ’’أَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْئُ عَمَلِہٖ فَرَائٰ ہُ حَسَناً ‘‘کیا وہ شخص حق پر ہوسکتا ہے جس کے لئے اس کے اعمالِ بد خوشنما بنا دئے گئے ہو ں اور وہ انہیں بظا ہر اچھا سمجھتاہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ’’زُیِّنَ لَھُمُ الشَّیْطاَنُ اَعْمَالَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ‘‘ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے مزین کردئے، اس طرح انہیں راہِ حق سے روک دیا ۔

الغرض ان تلخ حقائق کا بُر اما نے بغیر اپنے طرزِ عمل کا غور ودیا نت سے جائزہ لیجئے اور سونچئے کہ کیا نبی کریم ﷺ ،صحابہ کر امؓ اور اولیائے امت کی قدردانی ٔ رمضان اور ہمارے زمانہ کی ان حرکات واعمال میں کسی قسم کی کو ئی منا سبت ہے ؟ اگر نہیں اور بلاشبہ نہیں تو پھر خداکے واسطے خوش فہمیوں کے اس خول سے باہر نکل آئیے اور صحیح معنوں میں مسنون طرز پر رمضان المبارک کو وصول کر نے اور اس کی برکات کے مستحق بننے کے مزاج کو عام کیجئے، منکر اتِ رمضان سے اپنے کو جدااور علی الا علان علاحدہ کرلیجئے، تا کہ اس موسم ِبہار کا خصوصی تحفہ’’ تر قی باطن اور تز کیۂ نفس ‘‘ ہمیں حاصل ہو سکے اور ہم عند اللہ ’’روزہ دار‘‘ شمار ہوں ’’بھو کے پیا سے ‘‘شمار نہ ہوں ۔

اللہ ہمیں تو فیق عطافرما ویں ۔آمین

معمولات ِ رمضان

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں اور آسمانی رحمتوں کے نزول کی برکت سے ہر کسی کو دینی اعمال کی طرف رجحان ہوجاتاہے، مختلف لوگ مختلف اعمال کرتے رہتے ہیں ، بعض ضروری کام چھوٹ جاتے ہیں اور غیر ضروری ہوتے رہتے ہیں ، اس لئے معتبر احادیث کی روشنی میں چند اہم اعمال کی طرف ذیل میں توجہ دلائی جارہی ہے ، ان کے اہتمام سے انشاء اﷲ رمضان المبارک کی برکات سے محرومی نہ ہوگی ، اور اس کی ناقدری کے وبال سے بھی حفاظت رہے گی۔

٭قرآن مجید کی بکثرت تلاوت٭فرائض کے ساتھ نوافل کا بھی اہتمام٭حاجت مند مسلمانوں سے ہمدردی وغم خواری ٭صبر وتحمل کا مظاہرہ ، چڑچڑے پن سے احتراز٭لڑائی جھگڑوں اور بحث ومباحثہ سے اجتناب٭جھوٹ اور غیبت سے زبان کی حفاظت٭نوکروں اور ماتحتوں کے کاموں میں کمی کرنا یا اُن کا ہاتھ بٹانا٭شب ِ قدر کی تلاش کے واسطے آخری دس روز اعتکاف کی کوشش ٭ بصورت ِ دیگر عشرۂ اخیرہ کی راتوں میں حسب ِ طاقت وسہولت مختلف عبادات اور دعا کا اہتمام ٭دعاؤں کا اہتمام بالخصوص افطار کے وقت ٭روزہ اور تراویح کی پابندی٭عشرۂ اخیرہ میں اور دنوں سے زیادہ اعمال کا اہتمام کرنا چاہئے ۔
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

بذریعہ ای میل حاصل کریں