بے اعتمادی کا زہر

بے اعتمادی کا زہر  

اجتماعی  زندگی میں باہمی اعتماد اور جذبۂ خیر خواہی آبِ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ بالادستی قائم کرنے کی لامحدود خواہش بگاڑ کی عجب عجب صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اِن دنوں بے اعتمادی کے ایک ہولناک عذاب سے گزر رہا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کے باوجود شدید ترین ذہنی اور اخلاقی افلاس کا شکار ہے۔

پاکستان جب معرض وجود میں آیا تھا ٗ تو ہم پوری اُمتِ مسلمہ کو ایک عظیم طاقت بنانے اور عالمی قیادت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے اور اسلام کی عدل و مساوات اور حریتِ فکر پر مبنی تعلیمات کی برکات سے پوری دنیا کو فیض یاب کرنے کا عزم رکھتے تھے ٗ لیکن ہماری سیاسی ٗ علمی اور سماجی قیادتیں بلند نصب العین کے لیے کام کرنے کے بجائے علاقائی ٗ گروہی اور ذاتی مفادات کی جنگ میں اُلجھ کے رہ گئیں اور تعلیم و تربیت کا وہ نظام قائم نہ کر سکیں جو اچھے انسان ٗ خودنگر شہری اور بلند نگاہ تہذیب و تمدن کے امام تیار کرتا ہے۔

ہم جوں جوں اسلام کے عالمگیر تصورات اور بلند پایہ علمی اور اخلاقی اقدار سے دور ہوتے گئے ٗ ہمارے اندر لسانی ٗ علاقائی‘نسلی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں نے ڈیرے ڈال دیے اور ہمارا ملی شیرازہ بکھرتا چلا گیا۔ آج ہمارے ملک میں جمہوریت رائج ہے ٗ انتخابات بھی ہوتے رہتے ہیں ٗ مگر اصل حکمرانی زور آوروں کی چلی آ رہی ہے۔ دانش بھی ایک طاقت ہے ٗ مگر دانش وروں کا ایک راہ گم کردہ گروہ اِسے اپنی عظمت قائم کرنے اور بانیانِ پاکستان کی ذات اور شخصیت میں طرح طرح کے کیڑے نکالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ دولت اِن دنوں غالباً بہت بڑی طاقت شمار ہوتی ہے جو بڑی بڑی شخصیتوں کے علاوہ اداروں کو بھی خرید لیتی ہے۔

اِسی طرح بندوق بھی ایک زمانے سے فیصلہ کن طاقت کی حیثیت سے جانی پہچانی جا رہی ہے ٗ لیکن آج کی دنیا میں الیکٹرانک میڈیا نے اپنی بالادستی بڑی حد تک قائم کر لی ہے جس کے سامنے حکومتیں بھی بعض اوقات سرنگوں دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان میں فوج کا اثرونفوذ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے ٗ کیونکہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہماری سلامتی کے لیے بہت بڑاخطرہ بنا رہا ہے۔ اُس نے فوجی طاقت سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور وہ پاکستان کو اپنا تابع مہمل بنانے کے لیے طرح طرح کی سازشیں کرتا آیا ہے۔

اپنی خود مختاری کے تحفظ کی خاطر ہماری سیاسی قیادتوں کو امریکہ سے معاہدے کرنا پڑے جن سے ہماری فوجی طاقت میں اضافہ ہوا۔بدقسمتی سے جنرل ایوب خاں ٗ جنرل یحییٰ خاں ٗ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف سیاسی حکومتوں کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے اور یوں سیاست دانوں اور فوجی قیادتوں کے مابین بداعتمادی پرورش پاتی رہی ٗ تاہم جنرل اشفاق پرویزکیانی جنہوں نے چھ سال فوج کی سپہ سالاری کی ٗ اُنہوں نے اعتماد کے رشتے جوڑنے کی مخلصانہ کوشش کی ٗ مگر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے سیاسی جماعتوں کے علاوہ میڈیا ٗ عدلیہ اور سوسائٹی کے خلاف انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے جو آپریشن کیے ٗ اُن کے مہلک نتائج زندگی کے ہر شعبے میں شدت سے آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور بداعتمادی کا زہر اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔

فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور مالاکنڈ ڈویژن کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں ریاست کی رِٹ ازسرِنو بحال کی ہے جبکہ بلوچستان کی تعلیمی ٗ سماجی اور اقتصادی ترقی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے اِس صوبے کو قومی دھارے میں لانے کے لیے بڑی کاوشیں کی ہیں۔ اِس کے باوجود سول اور فوجی اداروں میں اعتماد کی کمی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے حکومت کے اہم ارکان اور فوج کے درمیان تناؤ اورنڈر صحافی جناب حامد میر پر قاتلانہ حملے کے فوراً بعد میڈیا اور ملٹری میں جو آویزش زور پکڑتی جا رہی ہے ٗ وہ اِسی بد اعتمادی کا شاخسانہ ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ حامد میر اﷲ تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہو رہے ہیں ٗ مگر اُن کے حملہ آور اپنے اِس مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ فوجی اداروں کے حوالے سے میڈیا تقسیم ہو گیا ہے اور فوج اور حکومت کے درمیان فاصلے ایک بار پھر منظرعام پر آ گئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید کا یہ بیان اِس تقسیم کو ایک فکری لب و لہجہ فراہم کرتا ہے کہ ہم غلیل کے بجائے دلیل کے ساتھ ہیں۔ یہ بھی ایک عجب اتفاق ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم نواز شریف‘ جناب حامد میر کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچے ٗ تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز میں چند گھنٹے گزارے اور قومی سلامتی میں اِس ادارے کے کلیدی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ قومی حلقے اِس نازک صورتِ حال پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں اور جیو چینل پر چلنے والی اِن خبروں سے اُن کو شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے جن میں آئی ایس آئی کے ڈی جی کو حملے کا ذمے دار قرار دیا جاتا رہا۔

اپنے ہی ملک میں اپنی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی پر مسلسل چاند ماری اِس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹیز اپنے فرائض ادا کرنے میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی ہیں جبکہ وزارتِ دفاع آئی ایس آئی پر الزامات کی بارش کے دوران مہر بلب رہی۔ اِس ہیجان انگیز صورتِ حال نے آئی ایس آئی کو پیمرا کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا جس سے طاقت ور میڈیا اور فوج کے درمیان کھلی جنگ شروع ہو جانے کا امکان پیدا ہو چلاہے کیونکہ میڈیا کے اندر مادرپدر آزاد ہونے کا رجحان جڑیں پکڑتا جا رہا ہے جس کی حکمت کے ساتھ روک تھام ازبس ضروری ہے۔ دنیا کے سبھی مہذب ممالک میں آزادیٔ صحافت کا تصور ایک بامعنی احساسِ ذمے داری سے وابستہ ہے اور قومی مفاد کے حوالے سے داخلی طور پر ایک خود احتسابی نظام ہر جگہ کام کر رہا ہے۔

بلاشبہ ہر تنظیم اور ادارے میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے اور اِسے اپنے اپنے ضابطۂ اخلاق کا پابند رہنا چاہیے ٗ مگر دہشت گردی کے عفریت کو شکست دینے کے لیے ہمیں اپنے سیکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑا ہونا اور حکومت کو اُن کا دفاع کرنا ہو گا۔ آج وقت کا اہم ترین تقاضا یہی ہے کہ مختلف اداروں کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط کیے جائیں ٗ پیمرا کو مستحکم بنیادیں فراہم کی جائیں اور میڈیا کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اِسی طرح سول اور عسکری تعلقات کے واضح خدوخال متعین کرنے میںتاخیر کوئی بھی گُل کھِلا سکتی ہے۔ تمام ادارے اپنے اپنے وقار کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پوری دیانت داری سے آئین کی بالادستی کو اوّلین اہمیت دیں۔

آج کے ترقی یافتہ عہد میں فوج عوام کی حمایت اور اعتماد کے بغیر اپنی آئینی ذمے داریاں صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتی ٗ اِس لیے اِس کا میڈیا میں امیج بہت اچھا نظر آنا چاہیے۔ سیاسی اور فوجی قیادت کے مابین ایک پائیدار ادارتی نظام بے حد ضروری ہے جس کے ذریعے حقیقی ہم آہنگی فروغ پا سکے اور بالادستی قائم کرنے کا فتور پوری طرح زائل ہو جائے۔ اسی یک جہتی اور ہم آہنگی سے پاکستان شاہراۂ ترقی پر گامزن ہو سکے گا اور اپنی تخلیق کے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔ شاندار مواقع اس کا گھر درست ہونے کے منتظر ہیں۔

 
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں