ہندوستان عدم رواداری اور سرکار

  ہندوستان ،عدمِ رواداری ،اور سرکار
      ہندوستان میں کچھ دنوں قبل "ایوارڈ واپسی "کا ایک سلسلہ چلا ہوا تھا ، جس میں "ادیب ،قلم کار ، سائنٹس، ویگیانک، گایک، فلمکار ، فوجی" سب اپنے اپنے ایوارڈ واپس کررہے تھے ،اسلیئے کہ ملک میں "عدمِ رواداری " (Intolerance ) کا ماحول پیدا ہورہا ہے،
     اسی دوارن بہار انتخاب چل رہا تھا ،سرکار نے یہ کہ کر پلہ جھاڑ دیا کہ یہ "کانگریس" کی سازش ہے،
بہرکیف ،عدمِ رواداری کا ذکر کرتے ہوئے سرکار کے منتری کی چپیٹ میں آئے دو فلم کار "شاہ رخ خان اور عامر خان " جب ان سے ایک انٹریو میں پوچھا گیا کہ کیا حقیقت میں دیش میں "عدمِ رواداری " (Intolerance ) کا ماحول ہے ،انہوں نے حالات کو سامنے رکھ کر کہا کہ جب دیش کی بڑی بڑی ہستیاں اپنے اپنے ایوارڈ واپس کررہی ہیں ،تو یقیناً یہ کہا جاسکتا ہے کہ "عدمِ رواداری " کا ماحول ہے ،
  انکے بیان کو لیکر سرکار کے وہ منتری جو ہمیشہ اپنے بیانوں سے سرخیوں میں رہتے ہیں ،انہوں نے "شاہ رخ خان اور عامر" خان کو پاکستان جانے کی صلاح دے دی ،
ادیبوں کے احتجاج پر "بی جے پی سرکار " چراغ پا دکھائ دی ، احتجاج کرنے والے اور ایوارڈ واپس کرنے والوں کو "کانگریس " کا درباری بتا دیا گیا ، بالی ؤڈ سے احتجاج کی آواز بلند ہوئ تو پورے ملک میں انکے خلاف مہم چھیڑ دی گئی ، کیونکہ وہ مسلمان ہیں ،
حالانکہ "گرہ منتری راج ناتھ سنگھ " نے پارلیمینٹ  میں عامر خان کے بیان پر اپنے مؤقف کا اظہار کرکے یہ ثابت کردیا کہ "بی جے پی سرکار " میں ماننے اور برداشت کرنے کی صلا حیت ہے ہی نہیں ،
    اگر اسی طرح "بی جے پی سرکار " خود پر تنقید کرنے والے کو کانگریس درباری سمجھتی رہی ،اور وہ اپنے اوپر اٹھنے والے ہر سوال کو پی جے پی دشمنی سمجھتی رہی ، تو ایسی سوچ پارٹی کی ترقی اور ملک میں اسکے اقتدار کی بقا کے لیئے خطرہ ہے .
    
حارث عالم ارریاوی
Email:mdharis0786@gmail.com
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں