محاوروں کا پوسٹ مارٹم

 محاوروں کا پوسٹ مارٹم 
ہماری قومی زبان اُردُو بہت ہی پیاری زبان ہے۔ یہ اپنے اندر مختلف زبانوں کے الفاظ محاورے، حکایتیں اور نصیحتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہم اپنی زندگی میں مختلف مواقع پر مختلف محاوروں کا استعمال کرتے ہیں جن سے درست صورت حال فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ذیل میں چند محاوروں کا برجستہ استعمال اور ان کا پس منظر پیش خدمت ہے۔


’’میں کمبل کو چھوڑوں کمبل مجھے نہ چھوڑے‘‘ یا ’’یہ شخص تو بالکل کمبل ہوگیا۔‘‘

اس محاورے کو اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی شخص زبردستی آپ کا وقت ضائع کرے اور پیچھا نہ چھوڑے۔ تب کہتے ہیں کہ یہ شخص توبالکل کمبل ہوگیا۔ اس محاورے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا ’’وہ دیکھو دریا میں کمبل بہ رہا ہے، میں ابھی اسے نکال کر لاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ جب وہ اس کمبل کو پکڑنے میں کامیاب ہوگیا تو دیکھا کہ وہ کمبل نہیں ریچھ ہے۔ اب ریچھ نے اس شخص کو پکڑ لیا۔

جب دریا کے کنارے کھڑے دوست نے آواز دی ’’کمبل کو چھوڑو۔ تم دریا سے باہر نکل آئو۔‘‘

اس دوست نے جواب دیا ’’میں تو کمبل کو چھوڑ دوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔‘‘

’’گربہ کشتن روزِاوّل‘‘

یہ محاورہ ہے تو فارسی زبان کا، لیکن اُردُو زبان بولنے والے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دو دوستوں کی شادی ایک ہی وقت میں ہوئی۔ کچھ عرصے بعد ایک دوست دوسرے کے گھر آیا۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کے حالات معلوم کیے۔ مہمان دوست نے کہا ’’میری تو بہت اچھی گزر رہی ہے۔ میری بیوی ہر بات مانتی اور میرا خیال رکھتی ہے، میں بہت خوش ہوں۔‘‘

دوسرے دوست کے حالات برعکس تھے۔ میزبان نے مہمان دوست سے اس کی خوشحال زندگی کا راز معلوم کیا تو مہمان دوست نے بتایا ’’شادی کے بعد پہلے ہی دن میرے کمرے میں ایک بلی گھس آئی۔ میں نے غصے میں تلوار نکالی اور بلی کو ہلاک کردیا۔ میری بیوی نے جو بلی کی ہلاکت دیکھی تو خوفزدہ ہوگئی کہ یہ شخص بہت تیز مزاج کا ہے۔ اسی دن سے وہ میری ہر بات مانتی ہے۔‘‘

میزبان دوست نے کہا ’’یہ تو کوئی مشکل کام نہیں، ایسا تو میں بھی کر سکتا ہوں۔‘‘

یہ تمام گفتگو میزبان دوست کی بیوی چھپ کر سن رہی تھی۔ جب رات کو اس کے شوہر نے وہی عمل دہرایا یعنی خود ہی کمرے میں بلی چھوڑی اور غصہ دکھا کر اسے ہلاک کردیا تاکہ بیوی پر رعب پڑسکے ۔لیکن یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ بیوی بالکل متاثر نہیں ہوئی، بلکہ شوہر سے کہنے لگی ’’گربہ کشتن روزِاوّل۔‘‘ یعنی بلی مارنی تھی تو پہلے ہی روز مارتے، اب میں تمھیں جان چکی ہوں۔ اس بلی کی ہلاکت اور تمھارے غصے کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘‘

’’کولہو کا بیل‘‘

یہ محاورہ ایسے شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس میں سمجھ بوجھ کی کمی ہو یا قوت فیصلہ نہ ہو اور وہ دن رات کام میں بھی لگا رہے۔ آج کا دور، مشینی دور ہے۔ ہر کام مشینوں کے ذریعے ہوجاتا ہے۔ مشینی دور سے پہلے دیہات میں زیادہ تر کام جانوروں سے لیا جاتا تھا۔ کھیت میں ہل چلانے، کنویں سے پانی نکالنے، تیار فصل کو منڈی تک پہنچانے اور چاول کو دھان سے علحٰدہ کرنے کے لیے بھی بیل سے کام لیا جاتا تھا۔ غرض بہت سے کاموں میں بیل کی مدد اور طاقت سے انسان فائدہ اٹھاتے تھے۔ اسی طرح بیجوں سے تیل نکالنے کا کام بھی بیل ہی انجام دیتے۔ جس جگہ تیل نکالا جاتا اُسے کولہو کہتے ہیں۔ یہ لکڑی کی چکی کی طرح ہوتا ہے۔

اس میں بیج بھرنے کے بعد ایک موٹی سی گول چکنی لکڑی کے ساتھ بیل باندھ کر چکر لگوائے جاتے ہیں۔ بیل کی مدد سے اس کا درمیانی حصہ گھومنے لگتا ہے جس کی وجہ سے بیج پس جاتے اور ان سے نکلنے والا تیل ایک نالی سے گزرتا ہوا برتن میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ بیل کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے تاکہ گول گھومنے کی وجہ سے اسے چکر نہ آئیں۔ بیل صبح سے شام تک اس کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے اور یہی اس کا کام ہے۔ بیل اپنی دانست میں میلوں کا سفر طے کرتا اور اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی محدود جگہ پر چکر لگا رہا ہے۔

’’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘‘

بلی ہر شہر، ہر گلی اور محلے میں ملتی ہے۔ اسے کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ بلی کسی بھی گھر میں موقع پا کر سامنے رکھی شے کھا لیتی ہے، لہٰذا لوگ بلی کی پسندیدہ چیزیں اس کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں۔

آج کے دور میں لوگوں کو ریفریجریٹر کی سہولت میسر ہے لیکن پہلے لوگ اشیائے خورونوش کی حفاظت کے لیے باورچی خانہ کی چھت کے درمیان ایک ڈوری، رسی یا زنجیر کی مدد سے جالی دار ٹوکری نما برتن باندھ دیا کرتے جسے چھینکا کہتے تھے۔

جو سامان بھی بلی یا بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہو، اسے ’’چھینکے‘‘ پر رکھ دیا جاتا۔ یہ چھینکا باورچی خانے کے بیچوں بیچ یعنی چاردیواری کے وسط میں ہوتا، لہٰذا بلی اس تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ البتہ بلی کے علم میں ہوتا کہ اس کی پسندیدہ شے چھینکے میں موجود ہے اورکوئی صورت نہیں کہ وہ اس تک پہنچ سکے۔ ایسے میں اگر اتفاق سے چھینکا خودبخود ٹوٹ جائے اور کھانے پینے کا سامان خودبخود بلی کے سامنے آگر ے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ چھینکا بلی کی قسمت یا نصیب سے ٹوٹا ہے یعنی ’’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔‘‘

’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور

کھانے کے اور‘‘

زمین پر بسنے والے جانوروں میں سب سے بڑا جانور ہاتھی ہے۔ جسامت کے لحاظ سے بھاری بھر کم، طاقت کے لحاظ سے بھرپور، سونڈ کے لحاظ سے الگ اور پھر بڑے سفید دانت۔ یہ دانت ہاتھی کی خوب صورتی بڑھانے کے علاوہ ہاتھی کے کسی کام نہیں آتے۔ البتہ منہ کے اندر والے دانت غذا چبانے کے کام آتے ہیں۔ یعنی منہ کے اندر والے دانت کھانے کے اور باہر والے دانت دکھانے کے۔ جب کوئی شخص اندر سے کچھ اور ہو اور ظاہر کچھ اور کرے تو ایسی صورت میں یہ محاورہ بولا جاتا ہے۔

’’بندر کا انصاف‘‘ یا ’’بندربانٹ‘‘

یہ محاورہ ایک چھوٹ سی کہانی کی وجہ سے مشہور ہے۔ بچوں کے لیے لکھی گئی اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن ایک بلی کو کسی جگہ روٹی پڑی ملی۔ اسی وقت دوسری بلی نے اسے اٹھا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ ایک کہتی ’’میں نے اسے پہلے دیکھا ہے۔‘‘ دوسری کہتی ’’میں نے اسے پہلے اٹھایا ہے۔‘‘ ابھی ان دونوں بلیوں میں لڑائی جاری تھی کہ وہاں سے ایک بندر کا گزر ہوا۔ بلیوں کو آپس میں روٹی کے لیے لڑتے دیکھ کر بندر سارا ماجرا سمجھ گیا۔ پھر بھی نزدیک آ کر بلیوں سے پوچھا کہ وہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ بلیوں نے ساری صورت حال بندر کو بتا دی اور فیصلہ بندر پر چھور دیا۔

بندر نے کہا ’’روٹی دونوں بلیوں کو آدھی آدھی ملے گی۔‘‘بلیاں اس فیصلے پر راضی ہوگئیں۔ بندر نے روٹی کے دوٹکڑے کیے، لیکن جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا اور دوسرا ذرا چھوٹا توڑا۔ پھر ترازو میں تول کر بلیوں سے کہا ’’یہ ٹکڑے تو برابر نہیں، لہٰذا بڑے ٹکڑے میں سے میں تھوڑی سی کھا لیتا ہوں تاکہ دونوں ٹکڑے برابر ہو جائیں اور تم دونوں میں برابر تقسیم ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر بندر نے بڑے ٹکڑے کو کھانا شروع کردیا اور کچھ زیادہ ہی کھا گیا۔

پھر دونوں ٹکڑوں کو ناپ تول کر دیکھا اور کہا ’’اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہوگیا، لہٰذا اسے کھا کر پہلا ٹکڑا برابر کرنا ہوگا۔‘‘ لہٰذا بندر نے دوسرا ٹکڑا اٹھا کر اسے کھانا شروع کردیا اور پھر زیادہ کھا گیا۔

پھر دونوں ٹکڑوں کو تول کر اندازہ کیا اور بولا ’’اب وہ ٹکڑا بڑا ہوگیا ہے، لہٰذا پھر اس کو کھا کر برابر کرنا پڑے گا۔‘‘ یوں بندر ٹکڑے برابر کرنے کے بہانے پوری روٹی کھا گیا اور دونوں بلیاں بندر کی شکل ہی دیکھتی رہ گئیں۔

بلیاں اگر آپس میں نہ لڑتیں تو بندر فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ یہ تھا ’’بندر کا انصاف‘‘ یا ’’بندر بانٹ۔‘‘

جب کوئی شخص فیصلہ یا انصاف کرنے کے دوران اپنے فائدے کا خیال رکھے یا زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس موقع پر کہتے ہیں کہ ’’یہ ہے بندر کا انصاف!‘‘
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں