انسانی دماغ کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف

انسانی دماغ کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) انسان کے بچے کی نشوونما دیگر جانوروں کے بچوں کی نسبت بہت سست فرار ہوتی ہے اور سائنسدانوں نے یہ معلوم کرلیا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے دماغ انتہائی تیزی سے بڑھ رہے ہوتے ہیں اور جسمانی توانائی کا ایک بڑا حصہ ان کی نشوونما میں استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے باقی جسم کی نشوونما سست ہوجاتی ہے۔ پانچ سالہ بچے کا دماغ بڑی عمر کے شخص کے دماغ کی نسبت پانچ گنا زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے۔ یہ توانائی گلوکوز کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔ انسانی دماغ دیگر جانوروں کے دماغ کی نسبت کئی گناہ زیادہ کام کرتا ہے اور اس کی ذہانت اور معلومات ذخیرہ کرنے کی بے پناہ صلاحیت کی وجہ سے اس کا سائز بھی تیزی سے بڑھتا ہے اور یہ توانائی بھی زیادہ استعمال کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چار سال ک ی عمر میں دماغ کا توانائی کا استعمال عروج پر پہنچ جاتا ہے اور یہ شرح باقی جسم کی نسبت 66 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ تحقیق ”پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز“ نامی سائنسی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں