عورت ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے




 عورت ایثارومحبت کا لازوال شاہکار ہے

عورت ماں بھی ہے، بیوی بھی، بہن اور بیٹی بھی ہے۔ اپنے ہر کردار میں اس کے جذبات و احساسات ایسے ایسے انوکھے رنگ دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔

کہتے ہیں عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے، یہ سب الزام نسوانی احترام اور فطرت کے بنائے ہوئے قوانین کی نفی کرتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے۔ وہ عہدوفا کی سچی اور کردار کی بےداغ ہوتی ہے۔ لیکن کیا آج معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہے۔


مرد عورت کو کمزور سمجھتا ہے اور پھر ہر دور میں ناپاک خواہشات کے حامل لوگ عورت سے زیادتی کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صیحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی۔ اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا مسلمانوں نے اسے ملحوظ خاطر نہ رکھا، کہیں تو انہوں نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قید کر دیا اور پردے کو اس قدر سخت کر دیا کہ اس کے لئے سانس تک لینا مشکل ہو گیا اور کہیں اتنی چھوٹ دے دی کہ اس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس کھو دیا اور گھر کی چاردیواری پھلانگ کر شرافت و عزت کی تمام سرحدیں پار کر گئی۔



اسلام نے عورت کو جو رتبہ دیا دوسری قوموں نے اس سے متاثر ہو کر اس کی تقلید میں آزادی نسواں کے نام پر اس قدر آگے بڑھیں کہ عورت ہر میدان میں مرد کی ہمسر بن گئی۔ دوسری طرف مغربی معاشرے کے رنگ ڈھنگ کو اکثر مسلمانوں نے ترقی کی علامت سمجھ لیا، جس سے مسلم معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا، ایک وہ جس میں عورت مجبوری و بے بسی کی تصویر ہے اور دوسرا حصہ وہ جس میں عورت مکمل خود مختار ہے۔ یوں اسلام کا حقیقی نظریہ نظروں سے اوجھل ہو گیا جو متوازن اور قابل عمل ہے۔



کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے معاشرے کی عورت اتنی مجبور اور بے بس کیوں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ آج عورت کی عزت کیوں محفوظ نہیں رہی، علاج کے نام پر مسیحا، انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر ، حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بے آبرو کے دیتے ہیں۔ آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چاردیواری تک عورت کی عزت کہیں بھی محفوظ نہیں رہی۔ خدا جانے مرد کی انفرادی غیرت سو گئی یا اجتماعی غیرت موت کے گھاٹ اتر گئی۔



آخر اس معاشرے کے مرد کا ذہن اتنا چھوٹا کیوں ہے کہ وہ عورت کو اتنا حقیر سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ نچلے طبقے کا عورت سے رویہ دیکھ کر شرم سے نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے آج بھی بہت سے خاندان بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلواتے کہ اس نے پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے، سینا پرونا، کھانا پکانا اور جھاڑو دینا سیکھ جائے تاکہ دوسرے گھر میں جا کر کچھ فائدہ ہو۔ ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سینا پرونا اور کھانا پکانا گو کہ زندگی کے لئے لازمی سہی مگر زندگی کو بناتی سنوارتی تو تعلیم ہے۔ تعلیم ہی انسان کو انسان کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ تعلیم ہی انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ بیٹیاں اس لئے بھی ماں، باپ کو بوجھ لگتی ہیں کہ ان کو کچھ دینا پڑتا ہے، یہ والدین کا سہارا نہیں بن سکتی، اسی خوش فہمی میں والدین بیٹوں کو سر چڑھا لیتے ہیں کہ یہ ان کے بڑھاپے کا سہارہ بنیں گے لیکن اکثر لڑکے بعد میں والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں۔



ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے عورت کو اس کا صیحیح مقام دے دیا ہے لیکن یہ ہم سب کی بہت بڑی بھول ہے۔ عورت باپ کے گھر میں ہو تو شادی تک پابندیوں میں گھری رہتی ہے اور شادی کے بعد سسرال والوں کی پابندیاں جھیلنی پڑتی ہیں، جہیز کم ملنے یا نہ ملنے پر ان کی جلی کٹی باتوں پر ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کبھی سسرال والوں کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو اس کا شوہر طاقت استعمال کر کے اسے مارپیٹ سکتا ہے اور طلاق جیسا گھناؤنا لفظ سنا کر اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ عورت کیا کیا باتیں اور کون کون سے ظلم برداشت نہیں کرتی، اس کے باوجود وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے گھر کو بناتی سنوارتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے لیکن بدلے میں اسے کیا ملتا ہے ذلت اور رسوائی کا تمغہ۔



عورت کے چار فورس ہیں۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی، ان چاروں رشتوں میں وہ پیار و محبت کی سچی تصویر ہے۔ عورت محبت کی دیوی ہے، کیونکہ اس کا ضمیر محبت سے اٹھا ہے۔ وہ جب محبت کرتی ہے تو ٹوٹ کر کرتی ہے اور اس میں کسی کو ذرہ برابر بھی شریک نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کے سامنے تن جائے تو ٹوٹ سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ عورت زمین پر رینگنے والا کیڑا نہیں، عورت احساسات سے عاری نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔

عورت کیا ہے

  


  عورت کیا ہے؟

    (شبنم رومانی)

    عورت کیا ہے؟ زلفِ صنوبر! ------- کب تک زلف نہ جھولا جھولے گی ساون کی جھڑیوں میں؟
    عورت کیا ہے؟ بوئے گل تر! ------- کب تک قید رہے گی بوئے گل نازک پنکھڑیوں میں؟
    عورت کیا ہے؟ ساز کی دھڑکن! ---- کب تک دھڑکن بند رہے گی ساز کی سیمیں تاروں میں؟
    عورت کیا ہے؟پیار کی جوگن!----- کب تک پیار کی جوگن یوں رُسوا ہوگی بازاروں میں؟
    عورت کیا ہے؟ مے کیا پیالہ! ------ کب تک اس کی تلخی کو تفریحاََ چکھا جائے گا؟
    عورت کیا ہے؟ دیپ اُجالا! ------ کب تک آخر اس کو تاریکی میں رکھا جائے گا؟
    عورت کیا ہے؟ دامن گلچیں! ---- کب تک گل چیں کے دامن کی سوئی آگ نہ جاگے گی؟
    عورت کیا ہے؟ تن پرچھائیں! ---- کب تک یہ پرچھائیں تن کے پیچھے پیچھے بھاگے گی؟
    عورت کیا ہے؟ نیند کی داعی! --- کب تک نیند بھری آنکھوں میں‌ آنسو مرچیں جھونکیں گے؟
    عورت کیا ہے؟سندر راہی! ------ کب تک رہزن اس راہی کے دل میں‌ خنجر بھونکیں گے؟
    عورت کیا ہے؟جنسِ محبت! ----- کب تک جنسِ محبت کو یوں گاہک دیکھیں بھالیں گے؟
    عورت کیا ہے؟ روپ کی دولت! --- کب تک روپ کے ڈاکو اس دولت پر ڈاکے ڈالیں گے؟
    عورت کیا ہے؟رُت البیلی! ----- لیکن اس البیلی رُت کے من کا اُجالا کوئی نہیں!
    عورت کیا ہے؟ایک پہیلی! ---- لیکن یہ رنگین پہیلی بوجھنے والا کوئی نہیں!
    عورت کیا ہے؟ اک کم عقلی! ----- لیکن اب کم عقلی اور دانش میں ٹھنتی جاتی ہے!
    عورت کیا ہے؟ ایک کمزوری! ------ لیکن اب یہ کمزوری اک طاقت بنتی جاتی ہے!
    عورت کے دل کو پہچانو! --------- شبنم! جیسے دل میں انگاروں کی دنیا سوتی ہے!
    عورت کو مجبور نہ جانو! ------- ہر مجبوری کی اے یارو! آئینہ اک حد ہوتی ہے!​
    

بے ضرر مخلوق عورت



✔ بے ضرر مخلوق...... عورت

ڈاکٹر عائض القرنی کہتے ہیں چند راتیں پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بستر پر، نیند آ جانے سے پہلے، اپنے پہلو میں سوئی، اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کرتا رہا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا:
*_کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آ کر سوئی پڑی ہے، اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور بس اس لئیے کہ یہ اس کیلئے اس کے دین کا حکم ہے،_*

*_سبحان اللہ۔۔۔۔_*

کہتے ہیں، پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا:
_کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ ،، جو بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں.._

_بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،،انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی.._

_کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا.._

_کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے.._

_کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں.._

_کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا.._

_کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی.._

_کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی.._

🌾  *_اپنی ماں اور اپنی بیوی دونوں کو بےپناہ عزت دو ،، اسلئے کہ ایک تمھے دنیا میں لائی ،،اور دوسری ساری دنیا چھوڑ کر تمہارے پاس آئی.~*~

ہم آزاد نگری کے غلام شہری ہیں کالم نگار عبیدالرحمان عقیل ندویؔ



★ہم آزاد نگری کے غلام شہری ہیں ★
بروز بدھ ۲۹ جولائی ۲۰۱۵ء
 بمقام لکھنؤ
عبیدارحمان عقیل ندویؔ
یہ غلاموں کا شہر ہے ........بکریوں کا نگر ہے ........یہاں کھالوں کی نہیں بالوں کی بھی قیمت لگائی جاتی ہے ........یہاں انسان نہیں حیوان پالے جاتے ہیں .........بندگی نہیں درندگی سکھائی جاتی ہے .......عیاشی کو فروغ دیا جاتا ہے ........سہاگن کے سہاگ لوٹے جاتے ہیں ........نوشیزاؤں کے ذریعہ چوکھٹ کو زینت بخشی جاتی ہے ........بے سہاروں کو غلامی کی بیڑیوں میں جکڑا جاتا ہے .......ظلم وسفاکیت کو فروغ دیا جاتا ہے .......اور امن سلامتی کےصرف بھجن گائے جاتے ہیں ...........!  



بقیہ مضمون کیلئے انتظار کریں.

سیرت النبیﷺ صلح کی بات چیت

سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم ۔

صلح کی بات چیت

پہلے ابن ابی الحُقَیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بات چیت کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ! اور جب یہ جواب ملا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اس شرط پر صلح کرلی کہ قلعے میں جو فوج ہے اس کی جان بخشی کر دی جائے گی اور ان کے بال بچے انہیں کے پاس رہیں گے ( یعنی انہیں لونڈی اور غلام نہیں بنایا جائے گا ) بلکہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر خیبر کی سر زمین سے نکل جائیں گے اور اپنے اموال ، باغات ، زمینیں ، سونے ، چاندی ، گھوڑے ، زرہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں گے ، صرف اتنا کپڑا لے جائیں گے جتنا ایک انسان کی پشت اٹھا سکے ( لیکن سنن ابو داؤد میں یہ صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر معاہدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے یہود کو اجازت ہوگی کہ خیبر سے جلاوطن ہوتے ہوئے اپنی سواریوں پر جتنا مال لاد سکیں لے جائیں ( دیکھیے ابوداؤد باب ما جاء فی حکم ارض خیبر 2/76) ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور اگر تم لوگوں نے مجھ سے کچھ چھپایا تو پھر اللہ اور اس کے رسول بریٔ الذمہ ہوں گے " ۔ یہود نے یہ شرط منظور کر لی اور مصالحت ہو گئی ( زاد المعاد 2/136) اس مصالحت کے بعد تینوں قلعے مسلمانوں کے حوالے کر دیے گئے اور اس طرح خیبر کی فتح مکمل ہو گئی ۔

ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کی بد عہدی اور ان کا قتل

اس معاہدے کے علی الرغم ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں نے بہت سا مال غائب کر دیا ۔ ایک کھال غائب کردی جس میں حُیَی بن اّخطَب کے زیورات تھے ۔ اسے حُیَی بن اّخطَب مدینہ سے بنو نضیر کی جلا وطنی کے وقت اپنے ہمراہ لایا تھا ۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کنانہ بن ابی الحقیق لایا گیا ۔ اس کے پاس بنو نضیر کا خزانہ تھا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے خزانے کی جگہ کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر بتایا کہ میں کنانہ کو روزانہ اس ویرانے کا چکر لگاتے ہوئے دیکھتا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنانہ سے فرمایا : " یہ بتاؤ کہ اگر یہ خزانہ ہم نے تمہارے پاس سے بر آمد کرلیا تو پھر تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے ناں ؟ " اس نے کہا ، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویرانہ کھودنے کا حکم دیا اور اس سے کچھ خزانہ برآمد ہوا ۔ پھر باقی ماندہ خزانہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے پھر ادائیگی سے انکار کر دیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا اور فرمایا : اسے سزا دو ، یہاں تک کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کا سب ہمیں حاصل ہو جائے ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر چقماق کی ٹھوکریں ماریں یہاں تک کہ اس کی جان پر بن آئی ۔ پھر اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا ۔ اور انہوں نے محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے اس کی گردن مار دی ( محمود رضی اللہ عنہ سایہ حاصل کرنے کے لیے قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے کہ اس شخص نے ان پر چکی کا پاٹ گرا کر انہیں قتل کر دیا تھا ۔)
ابنِ قیّم کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کرا دیا تھا اور ان دونوں کے خلاف مال چھپانے کی گواہی کنانہ کے چچیرے بھائی نے دی تھی ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُیَی بن اَخطب کی صاحبزادی حضرت صفیہ کو قیدیوں میں شامل کرلیا ۔ وہ کنانہ بن ابی الحقیق کی بیوی تھیں اور ابھی دلہن تھیں ۔ ان کی حال ہی میں رخصتی ہوئی تھی ۔



اموالِ غنیمت کی تقسیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خیبر سے جلاوطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اور معاہدہ میں یہی طے بھی ہوا تھا ۔ مگر یہود نے کہا : " اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں اسی سر زمیں میں رہنے دیجیئے ۔ ہم ا سکی دیکھ ریکھ کریں گے ۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے زیادہ اس کی معلومات ہیں "۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے پاس اتنے غلام نہ تھے جو اس زمین کی دیکھ ریکھ اور جوتنے بونے کا کام کرسکتے اور نہ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی فرصت تھی کہ یہ کام سر انجام دے سکتے ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اس شرط پر یہود کے حوالے کر دی کہ ساری کھیتی اور تمام پھلوں کی پیداوار کا آدھا یہود کو دیا جائے گا اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی ہوگی اس پر برقرار رکھیں گے ( اور جب چاہیں گے جلاوطن کر دیں گے ) اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگایا کرتے تھے ۔
خیبر کی تقسیم ا س طرح کی گئی کہ اسے 36 حصوں میں بانٹ دیا گیا ۔ ہر حصہ ایک سو حصوں کا جامع تھا ۔ اس طرح کل تین ہزار چھ سو(3600) حصے ہوئے ۔ اس میں سے نصف یعنی اٹھارہ سو حصے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے تھے ۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صرف ایک ہی حصہ تھا ۔ باقی یعنی اٹھارہ سو حصوں پر مشتمل دوسرا نصف ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات و حوادث کے لیے الگ کر لیا تھا ۔ اٹھارہ سو حصوں پر خیبر کی تقسیم اس لیے کی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل حدیبیہ کے لیے ایک عطیہ تھا ، جو موجود تھے ان کے لیے بھی اور جو موجود نہ تھے ان کے لیے بھی ، اور اہل حدیبیہ کی تعداد چودہ سو تھی ۔ جو خیبر آتے ہوئے اپنے ساتھ دو سو گھوڑے لائے تھے ۔ چونکہ سوار کے علاوہ خود گھوڑے کو بھی حصہ ملتا ہے اور گھوڑے کا حصہ ڈبل یعنی دو فوجیوں کے برابر ہوتا ہے اس لیے خیبر کو اٹھارہ سو حصوں پر تقسیم کیا گیا تو دو سو شہسواروں کو تین تین حصے کے حساب سے چھ سو ملے تھے اور بارہ سو پیدل فوج کو ایک ایک حصے کے حساب سے بارہ سو حصے ملے ( زاد المعاد 2/137، 136 مع توضیح ) ۔
خیبر کے اموال غنیمت کی کثرت کا اندازہ صحیح بخاری میں مروی ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : " ہم لوگ آسودہ نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے خیبر فتح کیا " ۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا ، اب ہمیں پیٹ بھر کر کھجور ملے گی (صحیح البخاری 3/609)۔ نیز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کر دیے جو انصار نے امداد کے طور پر انہیں دے رکھے تھے کیونکہ اب ان کے لیے خیبر میں مال اور کھجور کے درخت ہو چکے تھے ( زاد المعاد 2/148 صحیح مسلم 2/96)۔

مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیح محبت ہے

مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیحِ محبت ہے
جو آئے تیسرا دانا یہ تسبیح ٹوٹ جاتی ہے

مقرر وقت ہوتا ہے محبت کی نمازوں کا
ادا جن کی نکل جائے قضا بھی چھوٹ جاتی ہے

محبت کی نمازوں میں امامت ایک کو سونپو
اسے تکنے، اُسے تکنے سے نیت ٹوٹ جاتی ہے

محبت دل کا سجدہ ہے جو ہے توحید پر قائم
نظر کے شرک والوں سے محبت روٹھ جاتی ہے

رونق جہاں مراسلہ نگار وسعت اللہ خان صاحب بی بی سی اردو کے جرنلزم ہیں

    رونق ِجہاں پاکستان


وسعت اللہ خان************************************

اب تو میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان نہ ہوتا تو کرہِ ارض پر سوائے خالی پن ، بوریت ، اور اداسی کے بھلا کیا ہوتا۔تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔۔۔۔۔کہاں ملے گا ’جہاں ہے اور جیسا ہے ‘ کی بنیاد پر ایسا ملک جہاں کامیڈی، ٹریجڈی اور ٹریجڈی کامیڈی ہوجاتی ہو ۔اقلیت عقلیت پر غالب ہو۔یہاں طرح طرح کی انفرادی و اجتماعی کشش کا سامان کب وافر نہ تھا ۔مہمان نواز ایسے کہ بھلے کوئی سر پے بم پھوڑ کے بھی چلاجائے تب بھی پاسِ میزبانی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔قوتِ برداشت ایسی کہ کوئی طاقتور دائیں گال پر تھپڑ ماردے تو بایاں بھی بڑھا دیتے ہیں۔ فراست ایسی کہ بیالیس برس پہلے اکثریت اقلیت سے جان چھڑا کر بھاگ لی۔

مروت ایسی کہ کوئی کمزور حق مانگ لے تو اس کی قبر پر ’حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا‘ لکھوا دیتے ہیں۔ انا ایسی کہ گھر کے جھگڑوں کا تصفیہ کروانے کے لیے دساور سے مقدس ثالث منگوائے جاتے ہیں اور دماغ ایسے کہ امامت ِ عالمِ اسلامی کا وارث کسی اور کو نہیں گردانتے۔

فراغ دلی ایسی کہ ایک ہی کھوپڑی میں روشن خیالی اور عقل چوس کہنہ نظریات ساتھ ساتھ سوتے ہیں ۔آزادی اس قدر کہ ٹیکس، محصول ، واجبات ، بل ، قرضہ ، تنخواہ اور بنیادی حقوق دیں نہ دیں ۔چاہے تو صفائی کریں دل چاہے تو صفایا کردیں۔چاہیں تو دوہرے راستے کو ون وے کردیں نہ چاہیں تو ون وے بھی بند کردیں۔چاہیں تو ٹائر گاڑی میں لگائیں یا پھر چوک میں جلائیں۔ڈگری امتحان دے کر لیں یا امتحان لینے والے کی ڈگری نکلوا دیں۔

فیصلہ جرگے سے کرائیں کہ سرکاری و نجی شرعی عدالت سے کہ اینگلوسیکسن کورٹ سے کہ خصوصی ٹریبونل سے ۔جیسی آپ کی گنجائش ، قسمت اور اوقات۔۔۔۔پھر بھی منصفوں کی آدھی توانائی فیصلے سنانے میں اور باقی آدھی ان پر عمل کرانے کی کوشش میں صرف ہوجاتی ہے۔نوبت بہ ایں جا رسید کہ ان دنوں منصف طلبِ انصاف کے لئے سوئٹزر لینڈ اور عوام برطانوی نظامِ انصاف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

شاید یہ واحد ملک ہے جہاں حکمرانوں کو ہر ہفتے کہنا پڑتا ہے کہ وہ عدلیہ کا دل سے احترام کرتے ہیں۔جہاں ماتحت فوجی قیادت کو ہر تیسرے مہینے حکومت کی بالادستی کی قسم کھانا پڑتی ہے۔جہاں فول پروف سیکورٹی کا مطلب ہے کہ ہر فول اپنی سیکورٹی کا خود ذمہ دار ہے۔جہاں واردات کے بعد سیکورٹی بڑھا دی جاتی ہے۔جہاں پہلے سے ریڈ الرٹ سیکورٹی دستوں کو دوبارہ الرٹ ہونے کا حکم جاری ہوتا رہتاہے۔

اگرچہ یونیسکو نے پاکستان کو رسمی طور پر عالمی ورثہ قرار نہیں دیا مگر عملاً یہ عالمی ورثہ ہی تو ہے۔جس مفرور کو کہیں پناہ نہ ملے پاکستان اس کے لئے جہاں پناہ ہے۔رہی بات عالمی برادری کی تو کچھ ممالک صرف سفارتی صاحب سلامت رکھنا پسند کرتے ہیں۔کچھ کو محض تجارتی تعلقات کے نام پر اپنی اشیا و مشاورت بیچنے سے دلچسپی ہے۔کچھ اسے پاکستان لمیٹڈ کمپنی کے طور سے دیکھتے ہیں اور نہ صرف اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں بلکہ مارکیٹ میں لانے کے بجائے آپس میں ہی شئیرز خریدتے بیچتے رہتے ہیں۔

اس کمپنی کے چھیاسٹھ برس کے سٹاکس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم یہ ہوگا کہ انچاس فیصد شئیرز مقامی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں۔باقی اکیاون فیصد میں سے چالیس فیصد اینگلو سعودی امریکن کنسورشیم کی ملکیت ہیں اور گیارہ فیصد شیرز چین ، ایران اور عالمی مالیاتی اداروں نے خرید رکھے ہیں۔منافع کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہونی چاہئیے ۔ چونکہ ایسا نہیں ہے اس لئے منافع میں خسارے کا جھگڑا شکلیں بدل بدل کر کراچی تا چترال سامنے آتا رہتا ہے۔بظاہر ہر شیئر ہولڈر اسے نقصان کی سرمایہ کاری کہتا ہے ۔تب بھی اپنے شیئرز کسی اور پارٹی کو بیچنے پر آمادہ نہیں۔حالانکہ عوام نے کئی دفعہ بولی میں شرکت کی کوشش بھی کی ہے۔۔۔۔۔۔

جناح صاحب مغفور نے فرمایا تھا کام کام اور صرف کام ۔یہی تو ہو رہا ہے ۔کام لگایا جا رہا ہے ، کام اتارا جا رہا ہے ، کام تمام کیا جا رہا ہے۔

اردوغان کی جیت پر مغربی میڈیا کی بوکھلاہٹ (تحریر اسامہ طیب ندوی)



 اردوغان کی جیت پر مغربی میڈیا کی بوکھلاہٹ
تحریر: اسامہ طیب ندوی

ترک عوام نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے جس طرح ریفرینڈم میں صدارتی جمہوریت کے لئے ہاں کردی ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے، صدر رجب طیب اردگان کی یہ جیت نہ صرف ترکی کے لئے بلکہ عالم اسلام کے لئے بھی خوش آئند ثابت ہوگی، لیکن جس وقت ترک عوام سڑکوں پر نکل کر اس جیت کا جشن منارہی تھی اس وقت مغربی میڈیا بغض و عداوت اور تنگ نظری کی حدیں پار کررہا تھا، اردغان کی اس جیت کی رپورٹنگ مغربی میڈیا نے اس طرح کی گویا ترکی میں اب جمہوریت کا خاتمہ ہوگیا ہو، اور وہاں آمریت قائم ہوگئی ہو، ملاحظہ کیجیے چند مشہور نیوز ایجنسیز اور اخباروں کی شہ سرخیاں:
Erdogan: Turkey's pugnacious president
BBC
17_04_2017

Erdogan wins vote for expanded power.
BBC
17.04.2017

Is Turkey on the road to autocracy ?
The Guardian
17.04.2017

The three largest cities__Istanbul, Ankara , and Izmir voted against the changes.
The Guardian
17.04.2017

Erdogan wins for expanded power.
Erdogan's disputed referendum win.
Erdogan wins narrow referendum victory.
Reuters
17.04.2017

Erdogan's referendum victory will make Turkey prey for the country's many enemies.
The independent
17.04.2017

اور ایک امریکی اخبار نے تنگ نظری اور بغض کی حدوں کو پار کرتے ہوئے لکھا:
RIP Turkey. 1921-2017
Recep Tayyip Erdogan didn't just win his constitutionl referendum ,he permanently closed a chapter of his country's modern history.
Foreign policy Washington
17.04.2017

ان سب خبروں کو پڑھنے کے بعد صاف طور پر یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو جمہوریت کا ڈھنڈوارا پوری دنیا میں پیٹتے رہتے ہیں انہیں ترک عوام کا یہ جمہوری فیصلہ پسند نہیں ہے, انہیں ترکی میں وہی جمہوریت چاہیے جو مصر میں سیسی کو خاک و خون میں لت پت لاشوں کے ساتھ مغرب نے عنایت کی ہے.
اسی طرح اردغان کو ایسا مہیب اور ڈکٹیٹر بنا کر پیش کررہے ہیں گویا واقعی وہ ڈکٹیٹر ہوں اور عوام پر یہ فیصلہ انہوں نے زبردستی نافذ کردیا ہو.
رجب طیب اردوغان کی اس مخالفت کی جہاں کئی وجوہات ہوسکتی ہیں وہاں مجھے دو بنیادی وجہ ایسی نظر آتی ہیں جو یورپ اور امریکہ سے ہضم نہیں ہورہی ہیں.
پہلی وجہ ہے رجب طیب اردگان کی پالیسیوں کی وجہ سے ترکی کا معاشی اور اقتصادی میدان میں خود کفیل ہونا، ترکی نے ورلڈ بینک کے سارے قرض ادا کرکے ورلڈ بینک کو دعوت دی ہے کہ اب ورلڈ بینک ترکی سے قرض لے سکتا ہے. اسی طرح اقتصادی ترقی میں ترکی نے یورپین یونین اور OECD ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس میں امریکہ،  انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، بیلجیم، اسرائیل اور کناڈا جیسے ممالک شامل ہیں، ترکی کی اقتصادی ترقی 2.9 فیصد ہے جبکہ یورپین یونین کی اقتصادی ترقی 1.5اور OECD ممالک کی 1.9 فیصد ہے.
اور دوسری وجہ ہے ترکی کا ذرائع ابلاغ(میڈیا)  کے میدان میں خود مختار ہونا، ترکی کی اپنی نیوز ایجنسیز ہیں، وہ بی بی سی اور سی این این کی طرح ریوٹرز (Reuters)سے نیوز نہیں خریدتا.
اسی لئے یورپ اردغان کو آمر بول کر عالمی برادری میں اکیلا کرنے کی ناکام کوششیں کرتا رہتا ہے، لیکن اردغان کی حکیمانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں ان کی تدبیریں الٹی پڑجاتی ہیں.
اللہ ترکی کے اس مجدد کو سلامت رکھے.

سنا بہت تھا لیکن ایک شخص کو دیکھا ہے

سنا بہت تھا مگر ایک شخص کو دیکھا ہے
پہلی قسط
آج جو میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ عالی شان بنگلہ ،اونچی عمارت ، گاڑیوں کی ڈھیر،زمین و جائیداد کی ریل پیل ،سبز ہرے باغات  جس میں رنگ برنگے پھول ،پھولوں پر چہچہاتے پرندے  اور یہ دلکش منظر جہاں آنے والے اجنبی کی بھی طبیعت لگ جائے چنانچہ ایک دن میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ نعمتیں اسے ہی کیوں اور کسی کو کیوں نہیں؟
تو دل میں ایک تڑپ ہوئی چلو چل کے دیکھتے ہیں
کہیں بات سمجھ آجائے چنانچہ ایک دن کی بات ہے جب مجھے سفر پہ جانا تھا لیکن کسی وجہ سے نہ جاسکا اور اتفاقاً اس شخص کے پاس سے گزر ہوا جس کے متعلق ہمیشہ سوچ میں پڑا رہتا لیکن زہے قسمت کے انہوں نے ایک ہلکی سی آواز دی اور مجھے اپنے پاس بلا بیٹھایا اور فرمایا کہ بیٹا تم میرا ایک کام کرسکتے ہو ؟
تو پھر کیا تھا بس میں نے بھی ہاں بھردی ! اور انہوں نے اپنے ساتھ لے لیا سفر بھی شروع ہوگیا یہاں تک کہ ہم دونوں کی عمر کا فاصلہ بھی طویل تھا لیکن چند ہی لمحات نے ایک دوسرے کو ہم عمر اور ہم خیال بنادیا یہاں تک فاصلہ چھٹتے رہے دوریا دور ہوتی رہیں اور میں نے  اپنا سوال پوچھ ہی لیا وہی کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ نعمتیں وراثت میں دی ہیں یا پھر خود کی مشقتوں اور محنتوں کا ثمرہ ہے؟
جب اس شخص نے یہ سوال سنا تو جیسے لگا کہ زمین اسکے پیروں سے کھسک گئی اور آنکھوں سے آنسوں چھلک اٹھے، آواز لڑکھڑائی اور دبی دبی سسکیاں بھری آواز میں بولے بیٹا تم نے یہ کیا پوچھ لیا ہے؟

(دوسری قسط اگلے شمارہ میں )
 

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

دید اپنے کی تھی اسے خواہش
آپ کو ہر طرح بنا دیکھا

صورتِ گُل میں کھل کھلا کے ہنسا
شکل بلبل میں چہچہا دیکھا

شمع ہو کر کے اور پروانہ
آپ کو آپ میں جلا دیکھا

کر کے دعویٰ کہیں انالحق کا
بر سرِ دار وہ کھنچا دیکھا

تھا وہ برتر شما و ما سے نیاز
پھر وہی اب شما و ما دیکھا

کہیں ہے بادشاہ تخت نشیں
کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا

کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا

کہیں وہ در لباسِ معشوقاں
بر سرِ ناز اور ادا دیکھا

کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریاں و دل جلا دیکھا

(نیاز بریلوی*)

ایک اعلان اپنے پیارے احباب کے نام

ایک اعلان اپنے پیارے احباب کے نام

مجھے امید کہ آپ احباب خیرو عافیت ہے ہوں گے ۔۔۔۔مختصراعرض یہ کہ اگر آپ جناب میں سے کوئی بھی اپنا مضمون ،ویڈیوز اور آڈیوز وغیرہ ارسال کرنا چاہتے ہیں تو بالکل ہم آپ کیلئے پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔آپ ہمارے ای میل پر ضرور ارسال کریں لیکن یاد رہے کہ آپ کی ایک تصویر بھی متصل مضمون ہو اور یہ میری سعات مندی ہوگی کہ آپ کی کاوش کو ہم دوسروں تک پہونچائیں۔

منجانب ایڈمن عقیل ندوی 

آج اس خوبصورت اشعار کے ساتھ حاضر ہوں

آج اس خوبصورت اشعار کے ساتھ حاضر ہوں


 اگر ہو سکے تو کرو خود میں کشش پیدا

ہر کسی کو حسرت سے دیکھا نہیں کرتے

ہر شخص نہیں ہوتا ہر شخص کے قابل

ہر شخص کو اپنے لیے پرکھا نہیں کرتے


عبید الرحمان عقیل ندوی
 

سہارا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
★سہارا ★

بے چینیوں کی منزل بے تابیوں کی راہیں
کیا ڈھونڈتا ہے اے دل آرام کے سہارے
حیرت سے دیکھتا ہوں مجروح عشرتوں کو
اک صبح ہورہی ہے اک شام کے سہارے

 

یقینا ً آج سے میری ہر صبح  ایک شام کے سہارے شروع ہوتی ہے جب سے میرے ہر سہارے ٹوٹے لیکن صرف اسی کی ذات ہے جس کے سہارے جیئے جارہا ہوں ورنہ کیا مجال کے بکھرے ہوئے موتی کو چنتا اور ٹوٹے خواب کی تعبیر ڈھونڈتا ۔


عبید الرّحمان عقیل ندوی 

سبحان من رزقه هذا الصوت - تلاوة رائعة من سورة مريم

نشيد رائع ــ قصة منع الأذان . . في دولة الخلافة

أروع نشيد إسلامي في العالم

نشيد/أغنية : "محمد نبينا" مجموعة بنات ينشدن بصوت عذب جميل جداً

امینہ سلطانی کی آواز میں خوبصورت یا بنی سلام علیک

نوشیزہ کی خوبصورت آواز میں


حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کا خطاب مکہ مکرمہ میں

اس نوجوان نے تو کمال کردیا...قاضی مطیع اللہ سعیدی مدظلہ العالیہ

حضرت مولانا ولی رحمانی حفظہ اللہ کا خطاب

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

یا رسول اللہ

سلام اس پر کے جس نے بے کسوں دستگیری کی

عید گاہ ڈومریا رانی گنج

                              ﷺ 
  1. سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
  2. سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
  3. سلام اس پرکہ اسرار محبت جس نے سکھلائے
  4. سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
  5. سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
  6. سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
  7. سلام اس پر کہ دشمن کو حیات جاوداں دے دی
  8. سلام اس پر، ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی
  9. سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں
  10. سلام اس پر، ہوا مجروح جو بازار طائف میں
  11. سلام اس پر، وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے
  12. سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے
  13. سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
  14. سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا
  15. سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا
  16. سلام اس پر، جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا
  17. سلام اس پر، جو امت کے لئے راتوں کو روتا تھا
  18. سلام اس پر، جو فرش خاک پر جاڑے میں سوتا تھا
  19. سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے
  20. سلام اس پر کہ جس کی ذات فخر آدمیت ہے
  21. سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی
  22. سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی
  23. سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہ دی
  24. سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
  25. سلام اس پر، شکستیں جس نے دیں باطل کی فوجوں کو
  26. سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
  27. سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا
  28. سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا
  29. سلام اس پر کہ جس کا نام لیکر اس کے شیدائی
  30. الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت، اوج دارائی
  31. سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
  32. بڑھادیتے ہیں ٹکڑا، سرفروشی کے فسانے میں
  33. سلام اس ذات پر، جس کے پریشاں حال دیوانے
  34. سناسکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے
  35. درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی
  36. درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی
  37. درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں
  38. درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں
  39. درود اس پر، جسے شمع شبستان ازل کہئے
  40. درود اس ذات پر، فخرِ بنی آدم جسے کہئے​



(مولانا ماہر القادری)​





ندا فاضلی

1938-2016ممبئی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل، مقبول عام شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار اور نثر نگار، اپنی غزل ’
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو
جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا
کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں
چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا
یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں
زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا
چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے
خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا 


یہ میکدہ سبھی کا ہے


یہ میکدہ سبھی کا ہے ۔۔۔۔۔!

   کالم نگار............................عبیدالرحمان عقیل ندوی
 مکرمی......!
        مفلسی......غربت.......تنگدستی.......اورفاقہ کشی جب کسی انسان کی دہلیز پر دستک دیتی ہے تو حالات کی زنجیر میں بندھا ہوا انسان کبھی حیوانیت کو گلے لگاتا ہے تو کبھی بارگاہ ِایزدی میں گنہگار بن جاتا ہے ۔ چنانچہ ایسے حالات ہمارے ملک ہندوستان میں زیادہ نہیں کہا جائے تو کچھ کم بھی نہیں ہیں ۔ جس کی تازہ مثالیں آئے دن اخبارات کی شہہ سرخیوں بنی رہتی ہیں لیکن اس کا ذمہ دار کسے ٹہرائیں ......؟ تو خیال آتا ہے کہ کہیں وہ خود تو نہیں جن کے سرپر غربت و مفلسی کی مصیبت آن پڑتی ہے مگر ایسا نہیں بلکہ ان تمام وجوہات کی زمہ دار خود حکومت وقت ہے اور اس مرض کا علاج ان کے پاس موجود ہے کیونکہ یہاں کی صدارت ....وزارت.....اور حکومت صرف اس لئے بنتی اور بنائی جاتی ہیں کہ وہ اپنا کالا دھن سویزرلینڈ میں جمع کراسکے ...... عربوں کی مارشٹیز میں سیروسیاحت کرسکیں ...... چلیں تو قالین پر ..... سوئیں تو صرف ایئر کنڈیشن روم میں...... اڑیں فضاؤں میں ...... پئیں صرف ونرل واٹر ........ لیکن افسوس صد افسوس کہ وہ حکومت و اقتدار کے نشے میں اس قدر مدہوش ہیں کہ غربت سے بد حال لوگوں پر ان کی نظر ہی نہیں پڑتی ہے ۔
            اس وقت ہندوستان کےشہروں.....گلیوں
..........کوچوں.....شاہراہوںاور پلیٹ فارموں پر آپ کو ایسے افراد مل جائیں گے جن کے پاس کھانے کو روٹی کا ٹکڑا نہیں ......پیاس بجھانے کو پانی کا قطرہ نہیں.....تن ڈھکنے کو کپڑا نہیں ......سر چھپانے کو جھونپڑا نہیں ہے یہ حال ہے یہاں کی غربت سے لاچار قوم کا ۔
   " غریبِ شہر ترستا ہے ایک نوالے کو
     امیر ِشہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں "
       حد تو یہ کہ ایک طرف حکومت کی عیاشیاں ہیں تو دوسرے جانب فاقہ کش مزدوروں کی بدحالیاں ہیں۔
ایسے نازک حالات میں اس ملک سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ تمام سیاسی تنظیمیں اپنے ہی چراغ سے اپنا آشیانہ جلا دینا چاہتے ہیں ۔ 
             ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“   ع
          اتنا ہی نہیں بلکہ تو مسلم میں ہندو .....میں ہندو تو مسلم کی نعرہ بازیوں سے پوری آزاد جمہوریت کی بخیا ادھیڑ دینا چاہتے ہیں اور دوسرے جانب سوشل میڈیاز پر شعلہ بیانیوں کے ذریعہ جمہوریت کے آئین کو تار تار کردینا چاہتے ہیں۔
" کب تک اہل ِستم عشق ستم کرتے رہیں گے "
          خدا را اس سے پہلے کہ کہ بھوگ ....افلاس اس ملک کو کھاجائے .....لہجے بے آواز ہوجائیں .....سر سنگیت سب بے کار ہوجائے ......خدا را اس باپ کا سہارا بن جائیے جس کے بیٹے نے مفلسی کی وجہ سے خود کشی کی .....اس خاتون کے آنسوں پوچھ ڈالیئے جس کی جوان بیٹی غربت سے مجبور باپ کے گھر سے جہیز نہ لاسکی اور اسکے سسرال والوں نے اسے نظر آتش کردیا ......خدا را ان معصوم بچوں کے سر پر دست شفقت رکھیئے جس کا باپ ناحق ظلم  کا نشانہ بنایا گیا ۔
          آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے اندر غربت و مفلسی کو دور کیا جاتا اور آپس کے مذہبی اختلافات کو بالائے تاق رکھ کر امن و امان پھیلایا جاتا اور جمہوریت کے تمام مذہبی قوانین و روایات پر عمل کرنے کی مکمل  آزادی دی جاتی اور میرا ہندوستان ہے یا تیرا ہندوستان کی نعرہ بازیوں کو بند کیا جاتا اور یہ ذمہ داری یہاں کے ہر انسان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ ہندوستان نہ میرا ہے نہ تیرا ہے بلکہ ہم سبھی  کا ہے۔



یہ میکدہ سبھی کا ہے قدم قدم   بہم  چلیں 
ہمارے ساتھ تم چلو تمہارے ساتھ ہم  چلیں
نہ ہم سے دور تم چلو  نہ تم سے دور ہم چلیں
یہ دوستی کا وقت ہے ملا کے سب قدم چلیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
                         عبیدالرحمان عقیل ندویؔ





التجا

التجا

عامر عثمانی
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دو
یہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیں
یہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیں
رستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیں
اوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں
لیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دو
جو آگ دبی ہے سینے میں ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دو
جاری ہیں وطن کی راہوں میں ہر سمت لہو کے فوارے
دکھ درد کی چوٹیں کھا کھا کر لرزاں ہیں دلوں کے گہوارے
انگشت بہ لب ہیں شمس و قمر حیران و پریشاں ہیں تارے
ہیں باد سحر کے جھونکے بھی طوفان مسلسل کے دھارے
اب فرصت ناؤ نوش کہاں اب یاد نہ آؤ رہنے دو
طوفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناؤ رہنے دو
مانا کہ محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھی
یہ امن و سکوں سے دور فضا پیغام سکوں بھی لائی تھی
وہ دور بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھی
خوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھی
لیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
جس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ ہٹاؤ رہنے دو
اب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کریں
اب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سوتوں کو ہشیار کریں
دنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کریں
جو قوم و وطن کے قدموں پر قربانی دیں ایثار کریں
روداد محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دو
جادو نہ جگاؤ رہنے دو فتنے نہ اٹھاؤ رہنے دو
میں زہر حقیقت کی تلخی خوابوں میں چھپاؤں گا کب تک
غربت کے دہکتے شعلوں سے دامن کو بچاؤں گا کب تک
آشوب جہاں کی دیوی سے یوں آنکھ چراؤں گا کب تک
جس فرض کو پورا کرنا ہے وہ فرض بھلاؤں گا کب تک
اب تاب نہیں نظارے کی جلوے نہ دکھاؤ رہنے دو
خورشید محبت کے رخ سے پردے نہ اٹھاؤ رہنے دو
ممکن ہے زمانہ رخ بدلے یہ دور ہلاکت مٹ جائے
یہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ عہد ضلالت مٹ جائے
دولت کے فریبی بندوں کا یہ کبر اور نخوت مٹ جائے
برباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائے
اس وقت بہ نام عہد وفا میں خود بھی تمہیں یاد آؤں گا

 منہ موڑ کے ساری دنیا سے الفت کا سبق دہراؤں گا

خواب جو بکھر گئے عامر عثمانی

خواب جو بکھر گئے

عامر عثمانی


۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ ؁ء کو پونا کے مشاعرے میں یہ نظم پڑھنے کے دس منٹ بعد مولانا اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔


جنہیں سحر نگل گئی، وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی، شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہے
برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ہے
وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھ گئی
میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ہے
گھرا ہوا ہے ابر ماہتاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی، وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
جو رک سکے تو روک دو یہ سیل رنگ و نور کا
مری نظر کو چاہئے وہی چراغ دور کا
کھٹک رہی ہے ہر کرن نظر میں خار کی طرح
چھپا دیا ہے تابشوں نے آئنہ شعور کا
نگاہ شوق جل اٹھی حجاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ دھوپ زرد زرد سی یہ چاندنی دھواں دھواں
یہ طلعتیں بجھی بجھی، یہ داغ داغ کہکشاں
یہ سرخ سرخ پھول ہیں کہ زخم ہیں بہار کے
یہ اوس کی پھوار ہیں، کہ رو رہا ہے آسماں
دل و نظر کے موتیوں کی آب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ تلخ تلخ راحتیں، جراحتیں لیے ہوئے
یہ خونچکاں لطافتیں کثافتیں لیے ہوئے
یہ تار تار پیرہن عروسۂ بہار کا
یہ خندہ زن صداقتیں قیامتیں لیے ہوئے
زمین کی تہوں میں آفتاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
جو مرحلوں میں ساتھ تھے وہ منزلوں پہ چھٹ گئے
جو رات میں لٹے نہ تھے وہ دوپہر میں لٹ گئے
مگن تھا میں کہ پیار کے بہت سے گیت گاؤں گا
زبان گنگ ہو گئی، گلے میں گیت گھٹ گئے
کٹی ہوئی ہیں انگلیاں رباب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ کتنے پھول ٹوٹ کر بکھر گئے یہ کیا ہوا
یہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ہوا
بڑھی جو تیز روشنی چمک اٹھی روش روش
مگر لہو کے داغ بھی ابھر گئے یہ کیا ہوا
انہیں چھپاؤں کس طرح نقاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
خوشا وہ دور بے خودی کہ جستجوئے یار تھی
جو درد میں سرور تھا تو بے کلی قرار تھی
کسی نے زہر غم دیا تو مسکرا کے پی گئے
تڑپ میں بھی سکوں نہ تھا، خلش بھی سازگار تھی
حیات شوق کا وہی سراب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
خلوص بے شعور کی وہ زود اعتباریاں
وہ شوق سادہ لوح کی حسین خامکاریاں
نئی سحر کے خال و خد، نگاہ میں بسے ہوئے
خیال ہی خیال میں، وہ حاشیہ نگاریاں
جو دے گیا فریب وہ، شباب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
وہ لعل و لب کے تذکرے، وہ زلف و رخ کے زمزمے
وہ کاروبار آرزو وہ ولولے، وہ ہمہمے
دل و نظر کی جان تھا وہ دور جو گزر گیا
نہ اب کسی سے دل لگے نہ اب کہیں نظر جمے
سمند وقت جا چکا رکاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
نہ عشق با ادب رہا، نہ حسن میں حیا رہی
ہوس کی دھوم دھام ہے، نگر نگر، گلی گلی
قدم قدم کھلے ہوئے ہیں مکر و فن کے مدرسے
مگر یہ میری سادگی تو دیکھیے کہ آج بھی
وفا کی درس گاہوں کا نصاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
بہت دنوں میں راستہ حریم ناز کا ملا
مگر حریم ناز تک پہنچ گئے تو کیا ملا
مرے سفر کے ساتھیو! تمہیں سے پوچھتا ہوں میں
بتاؤ کیا صنم ملے، بتاؤ کیا خدا ملا
جواب چاہئے مجھے جواب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں

کہیں عشق سجدے میں گر گیا

کہیں عشق سجدے سے پھر گیا
 کہیں عشق درس وفا بنا
 کہیں عشق حسن وفا بنا
کہیں عشق نے سانپ سے ڈسوا دیا
کہیں عشق نے نماز کو قضا کیا
کہیں عشق سیف خدا بنا
کہیں عشق شیر خدا بنا
کہیں عشق طور پر دیدار ہے
کہیں عشق ذبح کو تیار ہے
کہیں عشق نے بہکا دیا
کہیں عشق نے شاہ مصر بنادیا
کہیں عشق آنکھوں کا نور ہے
کہیں عشق کوہ طور ہے
کہیں عشق تو ہی تو ہے
کہیں عشق اللہ ہو ہے 
  •  خوبصورت غزل ..........................................شاعر ڈاکٹر احمد فراز
  • السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

  • امید  ہے کہ سب احباب عمدہ رائے سے نوازیں گے ۔

    1. سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں
    2. سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں
    3. تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    4. سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
    5. سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں
    6. سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
    7. سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
    8. سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
    9. تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
    10. سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
    11. یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
    12. سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
    13. ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
    14. سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
    15. سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں
    16. سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
    17. سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
    18. سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
    19. سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
    20. سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
    21. سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
    22. سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں
    23. مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
    24. سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
    25. کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
    26. سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
    27. سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں
    28. سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
    29. جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
    30. بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
    31. سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
    32.   وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
    33. کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
    34. بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا
    35. سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ہیں
    36. سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
    37. مکیں‌ ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
    38. کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے
    39. کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں
    40. رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
    41. چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    42. کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
    43. اگر وہ خواب ہے تعبیر کرکے دیکھتے ہیں
    44. اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
    45. فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

    •  ===========================

مسلمانو سنو....!

بسم اللہ الرّ حمٰن الرّ حیم
⚽⚽⚽⚽⚽⚽
ایک سبق آموز حکایت
ایک گاؤں والا..... شہر میں کچھ لوگوں کو فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا،اسکو حیرت ہوئی  کہ اتنے سارے لوگ مل کر ایک فٹبال کو کیوں لاتوں سے ماررہے ہیں؟
اس نے ایک بزرگ سے پوچھا ......؟ چاچا اس گیند کی کیا غلطی ہے جو سارے مل کر اسے لاتوں سے مار رہے ہیں؟
چاچانے جواب دیا .......!.......کہ اسکی سب سے بڑی غلطی یہ ہیکہ یہ اندر سے خالی ہے اگر یہ اندر سے خالی نہ ہوتو کسی کی مجال نہیں ہوتی اسے لات مارنے کی۔
آج ہم تمام مسلمانوں کا یہی حال ہے!
ایمان بس ہماری زبان پر ہے اور اندر سے خالی ہیں اور آپس میں اتحادواتفاق  تو بالکل بھی نہیں ہے۔
 
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

بذریعہ ای میل حاصل کریں