سیرت النبیﷺ صلح کی بات چیت

سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم ۔

صلح کی بات چیت

پہلے ابن ابی الحُقَیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بات چیت کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ! اور جب یہ جواب ملا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اس شرط پر صلح کرلی کہ قلعے میں جو فوج ہے اس کی جان بخشی کر دی جائے گی اور ان کے بال بچے انہیں کے پاس رہیں گے ( یعنی انہیں لونڈی اور غلام نہیں بنایا جائے گا ) بلکہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر خیبر کی سر زمین سے نکل جائیں گے اور اپنے اموال ، باغات ، زمینیں ، سونے ، چاندی ، گھوڑے ، زرہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں گے ، صرف اتنا کپڑا لے جائیں گے جتنا ایک انسان کی پشت اٹھا سکے ( لیکن سنن ابو داؤد میں یہ صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر معاہدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے یہود کو اجازت ہوگی کہ خیبر سے جلاوطن ہوتے ہوئے اپنی سواریوں پر جتنا مال لاد سکیں لے جائیں ( دیکھیے ابوداؤد باب ما جاء فی حکم ارض خیبر 2/76) ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور اگر تم لوگوں نے مجھ سے کچھ چھپایا تو پھر اللہ اور اس کے رسول بریٔ الذمہ ہوں گے " ۔ یہود نے یہ شرط منظور کر لی اور مصالحت ہو گئی ( زاد المعاد 2/136) اس مصالحت کے بعد تینوں قلعے مسلمانوں کے حوالے کر دیے گئے اور اس طرح خیبر کی فتح مکمل ہو گئی ۔

ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کی بد عہدی اور ان کا قتل

اس معاہدے کے علی الرغم ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں نے بہت سا مال غائب کر دیا ۔ ایک کھال غائب کردی جس میں حُیَی بن اّخطَب کے زیورات تھے ۔ اسے حُیَی بن اّخطَب مدینہ سے بنو نضیر کی جلا وطنی کے وقت اپنے ہمراہ لایا تھا ۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کنانہ بن ابی الحقیق لایا گیا ۔ اس کے پاس بنو نضیر کا خزانہ تھا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے خزانے کی جگہ کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر بتایا کہ میں کنانہ کو روزانہ اس ویرانے کا چکر لگاتے ہوئے دیکھتا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنانہ سے فرمایا : " یہ بتاؤ کہ اگر یہ خزانہ ہم نے تمہارے پاس سے بر آمد کرلیا تو پھر تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے ناں ؟ " اس نے کہا ، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویرانہ کھودنے کا حکم دیا اور اس سے کچھ خزانہ برآمد ہوا ۔ پھر باقی ماندہ خزانہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے پھر ادائیگی سے انکار کر دیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا اور فرمایا : اسے سزا دو ، یہاں تک کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کا سب ہمیں حاصل ہو جائے ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر چقماق کی ٹھوکریں ماریں یہاں تک کہ اس کی جان پر بن آئی ۔ پھر اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا ۔ اور انہوں نے محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے اس کی گردن مار دی ( محمود رضی اللہ عنہ سایہ حاصل کرنے کے لیے قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے کہ اس شخص نے ان پر چکی کا پاٹ گرا کر انہیں قتل کر دیا تھا ۔)
ابنِ قیّم کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کرا دیا تھا اور ان دونوں کے خلاف مال چھپانے کی گواہی کنانہ کے چچیرے بھائی نے دی تھی ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُیَی بن اَخطب کی صاحبزادی حضرت صفیہ کو قیدیوں میں شامل کرلیا ۔ وہ کنانہ بن ابی الحقیق کی بیوی تھیں اور ابھی دلہن تھیں ۔ ان کی حال ہی میں رخصتی ہوئی تھی ۔



اموالِ غنیمت کی تقسیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خیبر سے جلاوطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اور معاہدہ میں یہی طے بھی ہوا تھا ۔ مگر یہود نے کہا : " اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں اسی سر زمیں میں رہنے دیجیئے ۔ ہم ا سکی دیکھ ریکھ کریں گے ۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے زیادہ اس کی معلومات ہیں "۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے پاس اتنے غلام نہ تھے جو اس زمین کی دیکھ ریکھ اور جوتنے بونے کا کام کرسکتے اور نہ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی فرصت تھی کہ یہ کام سر انجام دے سکتے ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اس شرط پر یہود کے حوالے کر دی کہ ساری کھیتی اور تمام پھلوں کی پیداوار کا آدھا یہود کو دیا جائے گا اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی ہوگی اس پر برقرار رکھیں گے ( اور جب چاہیں گے جلاوطن کر دیں گے ) اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگایا کرتے تھے ۔
خیبر کی تقسیم ا س طرح کی گئی کہ اسے 36 حصوں میں بانٹ دیا گیا ۔ ہر حصہ ایک سو حصوں کا جامع تھا ۔ اس طرح کل تین ہزار چھ سو(3600) حصے ہوئے ۔ اس میں سے نصف یعنی اٹھارہ سو حصے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے تھے ۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صرف ایک ہی حصہ تھا ۔ باقی یعنی اٹھارہ سو حصوں پر مشتمل دوسرا نصف ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات و حوادث کے لیے الگ کر لیا تھا ۔ اٹھارہ سو حصوں پر خیبر کی تقسیم اس لیے کی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل حدیبیہ کے لیے ایک عطیہ تھا ، جو موجود تھے ان کے لیے بھی اور جو موجود نہ تھے ان کے لیے بھی ، اور اہل حدیبیہ کی تعداد چودہ سو تھی ۔ جو خیبر آتے ہوئے اپنے ساتھ دو سو گھوڑے لائے تھے ۔ چونکہ سوار کے علاوہ خود گھوڑے کو بھی حصہ ملتا ہے اور گھوڑے کا حصہ ڈبل یعنی دو فوجیوں کے برابر ہوتا ہے اس لیے خیبر کو اٹھارہ سو حصوں پر تقسیم کیا گیا تو دو سو شہسواروں کو تین تین حصے کے حساب سے چھ سو ملے تھے اور بارہ سو پیدل فوج کو ایک ایک حصے کے حساب سے بارہ سو حصے ملے ( زاد المعاد 2/137، 136 مع توضیح ) ۔
خیبر کے اموال غنیمت کی کثرت کا اندازہ صحیح بخاری میں مروی ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : " ہم لوگ آسودہ نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے خیبر فتح کیا " ۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا ، اب ہمیں پیٹ بھر کر کھجور ملے گی (صحیح البخاری 3/609)۔ نیز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کر دیے جو انصار نے امداد کے طور پر انہیں دے رکھے تھے کیونکہ اب ان کے لیے خیبر میں مال اور کھجور کے درخت ہو چکے تھے ( زاد المعاد 2/148 صحیح مسلم 2/96)۔
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں