سنا بہت تھا لیکن ایک شخص کو دیکھا ہے

سنا بہت تھا مگر ایک شخص کو دیکھا ہے
پہلی قسط
آج جو میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ عالی شان بنگلہ ،اونچی عمارت ، گاڑیوں کی ڈھیر،زمین و جائیداد کی ریل پیل ،سبز ہرے باغات  جس میں رنگ برنگے پھول ،پھولوں پر چہچہاتے پرندے  اور یہ دلکش منظر جہاں آنے والے اجنبی کی بھی طبیعت لگ جائے چنانچہ ایک دن میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ نعمتیں اسے ہی کیوں اور کسی کو کیوں نہیں؟
تو دل میں ایک تڑپ ہوئی چلو چل کے دیکھتے ہیں
کہیں بات سمجھ آجائے چنانچہ ایک دن کی بات ہے جب مجھے سفر پہ جانا تھا لیکن کسی وجہ سے نہ جاسکا اور اتفاقاً اس شخص کے پاس سے گزر ہوا جس کے متعلق ہمیشہ سوچ میں پڑا رہتا لیکن زہے قسمت کے انہوں نے ایک ہلکی سی آواز دی اور مجھے اپنے پاس بلا بیٹھایا اور فرمایا کہ بیٹا تم میرا ایک کام کرسکتے ہو ؟
تو پھر کیا تھا بس میں نے بھی ہاں بھردی ! اور انہوں نے اپنے ساتھ لے لیا سفر بھی شروع ہوگیا یہاں تک کہ ہم دونوں کی عمر کا فاصلہ بھی طویل تھا لیکن چند ہی لمحات نے ایک دوسرے کو ہم عمر اور ہم خیال بنادیا یہاں تک فاصلہ چھٹتے رہے دوریا دور ہوتی رہیں اور میں نے  اپنا سوال پوچھ ہی لیا وہی کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ نعمتیں وراثت میں دی ہیں یا پھر خود کی مشقتوں اور محنتوں کا ثمرہ ہے؟
جب اس شخص نے یہ سوال سنا تو جیسے لگا کہ زمین اسکے پیروں سے کھسک گئی اور آنکھوں سے آنسوں چھلک اٹھے، آواز لڑکھڑائی اور دبی دبی سسکیاں بھری آواز میں بولے بیٹا تم نے یہ کیا پوچھ لیا ہے؟

(دوسری قسط اگلے شمارہ میں )
 

 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں