یہ میکدہ سبھی کا ہے


یہ میکدہ سبھی کا ہے ۔۔۔۔۔!

   کالم نگار............................عبیدالرحمان عقیل ندوی

 مکرمی......!
        مفلسی......غربت.......تنگدستی.......اورفاقہ کشی جب کسی انسان کی دہلیز پر دستک دیتی ہے تو حالات کی زنجیر میں بندھا ہوا انسان کبھی حیوانیت کو گلے لگاتا ہے تو کبھی بارگاہ ِایزدی میں گنہگار بن جاتا ہے ۔ چنانچہ ایسے حالات ہمارے ملک ہندوستان میں زیادہ نہیں کہا جائے تو کچھ کم بھی نہیں ہیں ۔ جس کی تازہ مثالیں آئے دن اخبارات کی شہہ سرخیوں بنی رہتی ہیں لیکن اس کا ذمہ دار کسے ٹہرائیں ......؟ تو خیال آتا ہے کہ کہیں وہ خود تو نہیں جن کے سرپر غربت و مفلسی کی مصیبت آن پڑتی ہے مگر ایسا نہیں بلکہ ان تمام وجوہات کی زمہ دار خود حکومت وقت ہے اور اس مرض کا علاج ان کے پاس موجود ہے کیونکہ یہاں کی صدارت ....وزارت.....اور حکومت صرف اس لئے بنتی اور بنائی جاتی ہیں کہ وہ اپنا کالا دھن سویزرلینڈ میں جمع کراسکے ...... عربوں کی مارشٹیز میں سیروسیاحت کرسکیں ...... چلیں تو قالین پر ..... سوئیں تو صرف ایئر کنڈیشن روم میں...... اڑیں فضاؤں میں ...... پئیں صرف ونرل واٹر ........ لیکن افسوس صد افسوس کہ وہ حکومت و اقتدار کے نشے میں اس قدر مدہوش ہیں کہ غربت سے بد حال لوگوں پر ان کی نظر ہی نہیں پڑتی ہے ۔
            اس وقت ہندوستان کےشہروں.....گلیوں
..........کوچوں.....شاہراہوںاور پلیٹ فارموں پر آپ کو ایسے افراد مل جائیں گے جن کے پاس کھانے کو روٹی کا ٹکڑا نہیں ......پیاس بجھانے کو پانی کا قطرہ نہیں.....تن ڈھکنے کو کپڑا نہیں ......سر چھپانے کو جھونپڑا نہیں ہے یہ حال ہے یہاں کی غربت سے لاچار قوم کا ۔
   " غریبِ شہر ترستا ہے ایک نوالے کو
     امیر ِشہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں "
       حد تو یہ کہ ایک طرف حکومت کی عیاشیاں ہیں تو دوسرے جانب فاقہ کش مزدوروں کی بدحالیاں ہیں۔
ایسے نازک حالات میں اس ملک سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ تمام سیاسی تنظیمیں اپنے ہی چراغ سے اپنا آشیانہ جلا دینا چاہتے ہیں ۔ 
             ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“   ع
          اتنا ہی نہیں بلکہ تو مسلم میں ہندو .....میں ہندو تو مسلم کی نعرہ بازیوں سے پوری آزاد جمہوریت کی بخیا ادھیڑ دینا چاہتے ہیں اور دوسرے جانب سوشل میڈیاز پر شعلہ بیانیوں کے ذریعہ جمہوریت کے آئین کو تار تار کردینا چاہتے ہیں۔
" کب تک اہل ِستم عشق ستم کرتے رہیں گے "
          خدا را اس سے پہلے کہ کہ بھوگ ....افلاس اس ملک کو کھاجائے .....لہجے بے آواز ہوجائیں .....سر سنگیت سب بے کار ہوجائے ......خدا را اس باپ کا سہارا بن جائیے جس کے بیٹے نے مفلسی کی وجہ سے خود کشی کی .....اس خاتون کے آنسوں پوچھ ڈالیئے جس کی جوان بیٹی غربت سے مجبور باپ کے گھر سے جہیز نہ لاسکی اور اسکے سسرال والوں نے اسے نظر آتش کردیا ......خدا را ان معصوم بچوں کے سر پر دست شفقت رکھیئے جس کا باپ ناحق ظلم  کا نشانہ بنایا گیا ۔
          آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے اندر غربت و مفلسی کو دور کیا جاتا اور آپس کے مذہبی اختلافات کو بالائے تاق رکھ کر امن و امان پھیلایا جاتا اور جمہوریت کے تمام مذہبی قوانین و روایات پر عمل کرنے کی مکمل  آزادی دی جاتی اور میرا ہندوستان ہے یا تیرا ہندوستان کی نعرہ بازیوں کو بند کیا جاتا اور یہ ذمہ داری یہاں کے ہر انسان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ ہندوستان نہ میرا ہے نہ تیرا ہے بلکہ ہم سبھی  کا ہے۔





یہ میکدہ سبھی کا ہے قدم قدم   بہم  چلیں 

ہمارے ساتھ تم چلو تمہارے ساتھ ہم  چلیں
نہ ہم سے دور تم چلو  نہ تم سے دور ہم چلیں
یہ دوستی کا وقت ہے ملا کے سب قدم چلیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
                         عبیدالرحمان عقیل ندویؔ





 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں