اردوغان کی جیت پر مغربی میڈیا کی بوکھلاہٹ (تحریر اسامہ طیب ندوی)



 اردوغان کی جیت پر مغربی میڈیا کی بوکھلاہٹ
تحریر: اسامہ طیب ندوی

ترک عوام نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے جس طرح ریفرینڈم میں صدارتی جمہوریت کے لئے ہاں کردی ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے، صدر رجب طیب اردگان کی یہ جیت نہ صرف ترکی کے لئے بلکہ عالم اسلام کے لئے بھی خوش آئند ثابت ہوگی، لیکن جس وقت ترک عوام سڑکوں پر نکل کر اس جیت کا جشن منارہی تھی اس وقت مغربی میڈیا بغض و عداوت اور تنگ نظری کی حدیں پار کررہا تھا، اردغان کی اس جیت کی رپورٹنگ مغربی میڈیا نے اس طرح کی گویا ترکی میں اب جمہوریت کا خاتمہ ہوگیا ہو، اور وہاں آمریت قائم ہوگئی ہو، ملاحظہ کیجیے چند مشہور نیوز ایجنسیز اور اخباروں کی شہ سرخیاں:
Erdogan: Turkey's pugnacious president
BBC
17_04_2017

Erdogan wins vote for expanded power.
BBC
17.04.2017

Is Turkey on the road to autocracy ?
The Guardian
17.04.2017

The three largest cities__Istanbul, Ankara , and Izmir voted against the changes.
The Guardian
17.04.2017

Erdogan wins for expanded power.
Erdogan's disputed referendum win.
Erdogan wins narrow referendum victory.
Reuters
17.04.2017

Erdogan's referendum victory will make Turkey prey for the country's many enemies.
The independent
17.04.2017

اور ایک امریکی اخبار نے تنگ نظری اور بغض کی حدوں کو پار کرتے ہوئے لکھا:
RIP Turkey. 1921-2017
Recep Tayyip Erdogan didn't just win his constitutionl referendum ,he permanently closed a chapter of his country's modern history.
Foreign policy Washington
17.04.2017

ان سب خبروں کو پڑھنے کے بعد صاف طور پر یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو جمہوریت کا ڈھنڈوارا پوری دنیا میں پیٹتے رہتے ہیں انہیں ترک عوام کا یہ جمہوری فیصلہ پسند نہیں ہے, انہیں ترکی میں وہی جمہوریت چاہیے جو مصر میں سیسی کو خاک و خون میں لت پت لاشوں کے ساتھ مغرب نے عنایت کی ہے.
اسی طرح اردغان کو ایسا مہیب اور ڈکٹیٹر بنا کر پیش کررہے ہیں گویا واقعی وہ ڈکٹیٹر ہوں اور عوام پر یہ فیصلہ انہوں نے زبردستی نافذ کردیا ہو.
رجب طیب اردوغان کی اس مخالفت کی جہاں کئی وجوہات ہوسکتی ہیں وہاں مجھے دو بنیادی وجہ ایسی نظر آتی ہیں جو یورپ اور امریکہ سے ہضم نہیں ہورہی ہیں.
پہلی وجہ ہے رجب طیب اردگان کی پالیسیوں کی وجہ سے ترکی کا معاشی اور اقتصادی میدان میں خود کفیل ہونا، ترکی نے ورلڈ بینک کے سارے قرض ادا کرکے ورلڈ بینک کو دعوت دی ہے کہ اب ورلڈ بینک ترکی سے قرض لے سکتا ہے. اسی طرح اقتصادی ترقی میں ترکی نے یورپین یونین اور OECD ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس میں امریکہ،  انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، بیلجیم، اسرائیل اور کناڈا جیسے ممالک شامل ہیں، ترکی کی اقتصادی ترقی 2.9 فیصد ہے جبکہ یورپین یونین کی اقتصادی ترقی 1.5اور OECD ممالک کی 1.9 فیصد ہے.
اور دوسری وجہ ہے ترکی کا ذرائع ابلاغ(میڈیا)  کے میدان میں خود مختار ہونا، ترکی کی اپنی نیوز ایجنسیز ہیں، وہ بی بی سی اور سی این این کی طرح ریوٹرز (Reuters)سے نیوز نہیں خریدتا.
اسی لئے یورپ اردغان کو آمر بول کر عالمی برادری میں اکیلا کرنے کی ناکام کوششیں کرتا رہتا ہے، لیکن اردغان کی حکیمانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں ان کی تدبیریں الٹی پڑجاتی ہیں.
اللہ ترکی کے اس مجدد کو سلامت رکھے.

:تبصرہ

Akram Shaikh کہا...

بہت ہی عمدہ

U.R.A Nadwi کہا...

بہت ہی بہتر محترم اسامہ ندوی صاحب

Akram Shaikh کہا...

کیا بات ہے زبردست

 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں