قاضی کا انصاف

قاضی کا انصاف
ایک روز یمن کے قاضی صاحب ننگے پاؤں اور بے قاعدہ لباس میں تیزی سے قدم اٹھاتے چلے جارہے تھے ۔ ایک دوست بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔

شین میم الف:
ایک روز یمن کے قاضی صاحب ننگے پاؤں اور بے قاعدہ لباس میں تیزی سے قدم اٹھاتے چلے جارہے تھے ۔ ایک دوست بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ اس نے دیکھا کہ قاضی محمدبن علی خزانچی ملک ظفر کے گھر کے سامنے جا کر رک گئے ۔ اور انہوں نے دروازے پر جا کر دستک دی ۔ خزانچی کے ملازم نے جا کر قاضی صاحب کی آمد کی اطلاع اپنے آقا کودی ۔ خزانچی بھاگا آیا اور قاضی کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر کہنے لگاکہ جناب مجھے حکم دیا ہوتا میں خود حاضر ہوجاتا۔قاضی صاحب نے جواب دیا کہ ایک شخص کے بچے میرے پاس آئے ہیں ۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ آپ ان کے باپ کو قید کر رکھا ہے ۔ بچے باپ کے بغیر بری حالت میں ہیں ۔
خزانچی نے جواب دیا کہ جناب وہ شخص تو سلطان منصور کے حکم سے قید ہے ۔ سلطان کی اجازت کے بغیر میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔ قاضی صاحب نے فوراََ سلطان منصور میں قاصد دوڑیا ۔ سلطان منصور نے اس شخص کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ۔ لیکن جب تک قیدی رہا ہو کر سامنے نہ آگیا قاضی صاحب وہیں کھڑے رہے اور اسے اپنے ساتھ لے کر اس کے گھر تک چھوڑ کر واپس آگئے ۔
سلطان منصور جب مدینہ پہنچے تو اس زمانے میں محمد بن عمران قاضی کے منصب پر فائزتھے ۔ قاضی صاحب کی عدالت میں ایک اونٹ والے نے آکر سلطان کے خلاف شکایت درج کروائی اور انصاف کا طلبگار ہوا ۔ قاضی صاحب نے سلطان کے نام عدالت میں حاضری کا حکم جاری کر دیا ۔
سلطان اپنے ہمراہیوں کو باہر چھوڑ کر خود عدالت میں پیش ہوئے ۔ قاضی صاحب تعظیم لانے کیلئے اپنی جگہ سے نہیں اٹھے اور بدستوراپنے فرائض ادا کرتے رہے ۔ مقدمے کی سماعت کے بعد قاضی صاحب نے سلطان کے خلاف فیصلہ دے دیا ۔ جب فیصلہ سنایا گیا تو سلطان خوشی سے اچھل پڑے اور قاضی صاحب سے کہا کہ میں آپ کے انصاف سے بہت خوش ہوا ۔ پھر سلطان نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ قاضی صاحب کو دس ہزار درہم انعام دیا جائے ۔ یہ تھے اس زمانے کے حکمران اور قاضی جو ایک دوسرے کا بے حد احترام کیا کرتے تھے ۔ مگر آج کل کے حکمران اور قاضی صاحبان نجانے کن کے اشاروں پر ایسے فیصلے کرتے ہیں۔




دنیا کی حقیقت تحریر خدیجہ مغل

دنیا کی حقیقت
مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ۔۔۔
خدیجہ مغل:
مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر آرہا ہے وہ بھاگا جب تھک گیا تو دیکھا کہ سامنے ایک گڑھا ہے اس نے چاہا کہ گڑھے میں چھلانگ لگا کر جان بچائے لیکن گڑھے میں ایک خوفناک سانپ نظر آیا اب آگے سانپ اور پیچھے شیرکا خوف اتنے میں ایک درخت کی شاخ نظر آئی وہ درخت پر چڑھ گیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ درخت کی جڑ کو کالا چوہا کاٹ رہا ہے وہ بہت خائف ہوا کہ تھوڑی دیر میں درخت کی جڑ کٹے گی پھر گر پڑوں گا پھر شیرکا لقمہ بننے میں دیر نہیں۔اتفاق سے اسے ایک شہد کا چھتہ نظر آیا۔وہ اس شہد شیریں کو پینے میں اتنا مشغول ہوا کہ نہ ڈر رہا سانپ کا اور نہ شیر کا۔اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی وہ نیچے گر پڑا۔شیر نے اسے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور وہ سانپ کی خوارک بن گیا۔
جنگل سے مراد یہ دنیا ،شیر سے مراد یہ موت ہے جو انسان کے پیچھے لگی رہتی ہے،گڑھا قبر ہے ،چوہا دن اور رات ہیں،درخت عمر ہے اور شہد دنیا ئے فانی سے غافل ہو کر دینے والی لذت ہے۔
انسان دنیا کی لذت میں اعمال بد اور موت وغیرہ بھول جاتا ہے اور پھر اچانک موت آجاتی ہے۔
اقولِ زریں!
مسلمان بھائی بھائی ہیں ایسی بات نہ کہو جس سے تمھارے بہن بھائی کو دکھ ہو۔اچھا انسان وہ ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے۔
نماز وہ راستہ ہے جو سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے۔
ماں باپ کی قدر کرو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنو۔
بچوں سے شفقت سے پیش آؤ۔یہ پھول کسی کسی آنگن میں کھلتے ہیں۔
تین چیزیں انسان کو برباد کر دیتی ہیں
حسد۔قرض۔غرور
علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی تہہ نہیں ۔
دل ایک ایسا آئینہ ہے ۔اگر بدی سے پاک ہو تو اس میں خدا بھی نظر آجاتا ہے۔
عزت دنیا مال سے ہے اور عزت آخرت اعمال سے ہے۔
تعجب ہے اس پر جو شیطان کو دشمن جانتا ہے پر اسکی اطاعت کرتا ہے۔
معاف کردینا سب سے اچھا انتقام ہے۔
ہمیں ہر اس چیز سے محبت کرنی چاہیے جو محبت کروانے کے لائق ہو
اور ہر اس چیز سے جفرت کرنی چاہیے جو نفرت کے قابل ہو۔لیکن اس صورت میں ممکن ہے جب ہمارے پاس دونوں کا فرق دیکھنے کے لیے عقل کی دولت ہو۔
پڑوسی کو ستانے والا جہنمی ہے گرچہ تمام رات عبادت کرے اور تمام دن روزہ رکھے۔
الله تعالیٰ سے اس طرح ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ۔ورنہ وہ تو تمھیں دیکھ ہی رہا ہے۔
نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور اسکی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔
دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے پہلے اپنی خامیاں تلاش کرو۔

رمضان اور 30اغلاط عامہ

رمضان۔۔۔ اور 30  اغلاطِ عامہ

‘‘اغلاط’’ خطِ نسخ اور سرخ رنگ میں دی گئی ہیں۔ اور ان کی ‘‘تصحیح’’ نستعلیق اور سبز رنگ میں۔ واضح رہے بعض غلطیاں فرض چھوڑنے یا حرام کا ارتکاب کرنے کی قبیل سے ہیں، اور بعض غلطیاں سنت کو ترک کرنے یا مکروہ کا ارتکاب کرلینے کی قبیل سے۔

1۔ چاند نظر آنے پر بعض لوگ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ یا شور اٹھاتے ہیں۔
سنت یہ ہے کہ رمضان یا کسی بھی مہینے کا چاند دیکھے تو اللہ کی تکبیر کرے اور کہے: اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام ربی وربك الله (ترمذی)
2۔  رمضان کے اعزاز میں، رمضان شروع ہونے سے پہلے ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا
نبیﷺ نے فرمایا: لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم (رواه البخاري) ‘‘تم میں سے کوئی  رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کا روزہ نہ رکھے، سوائے وہ شخص جو اپنے معمول کے تحت یہ روزہ رکھنے والا ہو، ہاں وہ یہ روزہ رکھ لے’’۔
3۔  رات سے یا کم از کم طلوعِ فجر سے پہلے فرض روزہ کی نیت نہ کررکھنا۔
نبیﷺ نے فرمایا: من لم يبيت النية من الليل فلا صيام له (أخرجه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه) ‘‘جس نے رات سے نیت نہیں کررکھی اسکا کوئی روزہ نہیں’’۔
4۔  روزے کی نیت بولنے کی صورت میں کرنا (جیسے بعض لوگ بول کرکہتے ہیں وبصوم غدٍ)
اسکی کوئی اصل نہیں، اور یہ دین میں نیا کام ہے۔ آپؐ نے فرمایا: إنما الأعمال بالنيات
5۔  افطار کے وقت بعض لوگ اذان ہوجانے کے بعد بھی اپنی دعاء جاری رکھتے ہیں، یہاں تک کہ مؤذن اذان ختم کرلینے کے قریب ہوتا ہے۔
سورج کے غروب ہوتے ہی افطار میں عجلت کرنا سنت کی روح ہے۔ مصطفیﷺ نے فرمایا: لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر رواه البخاري ‘‘لوگ خیر پر رہیں گے جب تک کہ افطار میں عجلت کرتے رہیں’’۔
 6۔  بعض لوگ افطار کے وقت اس دعاء کو اپنا معمول بناتے ہیں: اللہم تقبل منی إنک أنت السمیع العلیم۔ یا کسی اور دعاء کو اس موقع کیلئے اپنا معمول بنانا۔
افطار کے وقت معمول اُسی دعاء کو بنایا جائے گا جو اِس موقع کیلئے نبیﷺ سے مروی ہے۔  مثلاً آپؐ سے مروی یہ کلمات: ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله رواه أبو داود والدار قطني والبيهقي ، وقال الألباني حديث حسن ‘‘پیاس گئی، رگوں کو تراوت ملی، اور ان شاء اللہ اجر پکا’’۔
7۔  اکثر لوگ (خاص طور پر گھروں میں روزہ کھولنے والے) مغرب کی نماز باجماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو دسترخوان پر کھانا چن لیتے ہیں اور پھر حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ ‘پہلے کھانا پھر نماز’!
دسترخوان کو بوقت افطار اتنا بھاری نہ کرنا چاہئے۔ نماز باجماعت کو پانا فرض ہے: فرمانِ الٰہی ہے: واركعوا مع الراكعين ‘‘جھکنے والوں کے ساتھ جھکو’’۔ نیز مصطفیﷺ کا فرمان ہے: من سمع النداء فلم يجب فلا صلاة له إلا من عذر رواه الترمذي وابن حبان، وقال الألباني: حديث صحيح ‘‘جس نے اذان سنی اور اس پر لبیک نہ کہا اس کی کوئی نماز نہیں سوائے یہ کہ عذر ہو’’۔
8۔  بعض لوگ سحری نہیں کرتے اور رات کے کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
نبیﷺ نے فرمایا: تسحروا فإن في السحور بركة رواه البخاري ومسلم والترمذي ‘‘سحری کیا کرو؛ یقیناً سحری کے اندر ایک برکت ہے’’۔ امام نوویؒ کہتے ہیں: سحری کے مستحب ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔
9۔  بعض لوگ اذانِ فجر سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے ہی سحری کھا کر فارغ ہوجاتے ہیں!
سحری کو موخر کرکے کھانا سنت ہے۔ جس کا تخمیہ یہ ہے کہ اذان فجر کو پچاس آیتوں جتنا وقت باقی ہو تو سحری کھائی جائے۔
10۔  سحری میں کھجور کے استعمال کو ترک رکھنا۔
نبیﷺ فرماتے ہیں: نعم سحور المؤمن : التمر رواه أبو داود وابن حبان والبيهقي، وقال الألباني حديث صحيح ‘‘کھجور مومن کی سحری کیلئے کیا ہی اچھی ہے’’!
11۔  افطار یا سحری میں خوب پیٹ بھر لینا۔ بعض لوگ تو کھا کھا کر بے حال ہوجاتے ہیں۔
مسلمان کے لائق یہی ہے کہ بھوک رکھ کر کھانا کھائے۔ نبیﷺ نے فرمایا:  ما ملأ آدمي وعاءً شراً من بطنه بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه .... رواه ابن حبان ‘‘پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں جسے آدمی لبالب بھر لیتا ہو۔ ابن آدم کیلئے اتنے لقمے بڑے ہیں جو اس کو کمر کو سیدھا رکھیں’’۔
12۔  بعض لوگ اذانِ فجر شروع ہوجانے کے بعد بھی کھاتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض تو اذان ختم ہوجانے کے بعد بھی کھاتے چلے جاتے ہیں۔
آدمی کو چاہئے کہ اپنا دین اور اپنا روزہ خطرے میں نہ ڈالے۔ فرمان الٰہی ہے: وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود ‘‘کھاؤ پیو تاوقتیکہ فجر کی پو پھٹ جائے’’
13۔  رمضان میں رات کے وقت لیٹ جاگتے رہنا۔ صبح فجر میں سست ہونا، یا فجر کی نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانا۔ بعض لوگ تھوڑی بہت سحری زہرمار کرکے پھر سوجاتے ہیں اور سوج چڑھے نمازِ فجر پڑھتے ہیں!
رمضان کی راتوں کا قیام، اور ذکر اور دعاء ومناجات ترک کر بیٹھنا ایک بے حد بڑی محرومی ہے۔ سحر کے وقت عبادت میں چستی آنا اس بات پر منحصر ہے کہ رات کا اول حصہ آرام کرلیا گیا ہو۔ بعض اہل علم نے ایسے شخص کے حق میں رات کو لیٹ جاگتے رہنا حرام تک کہا ہے جس کی نماز فجر باجماعت اس لیٹ جاگنے کے باعث متاثر ہوجاتی ہو۔
14۔  بعض روزہ دار جو ویسے گالی گلوچ سے پرہیز بھی کرلیتے ہیں، کسی کے گالی دینے پر البتہ اُسی لہجے میں جواب دینا شروع ہوجاتے ہیں۔
نبیﷺ کا فرمان ہے: وإذا كان صوم يوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد فليقل : إني امرؤ صائم رواه البخاري ومسلم وابن ماجه والنسائي وابن ماجه وأحمد و ابن حبان ‘‘جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو، اُسے چاہئے جھگڑا اور شورشرابہ نہ کرے۔ کوئی دوسرا بھی اُس کے ساتھ گالی گلوچ کرے تو کہے: بھئی میں روزے سے ہوں’’۔
15۔  بہت سے روزہ دار صرف کھانے پینے کا روزہ رکھتے ہیں۔ زبان کو لغو، جھوٹ اور بہتان سے بچانا ان کے لیے روزہ کا حصہ نہیں! اسی طرح لغو اور بیہودہ چیزوں کا سننا اور ٹی وی، کمپیوٹر یا موبائل پر دیکھنا موقوف نہیں ہوتا!
روزہ ہر قسم کے فضولیات سے بچنے کا نام ہے اور اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی یاد میں گزارنے سے عبارت ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه رواه البخاري ‘‘جس شخص نے قولِ زُور نہیں چھوڑا اور اس پر عمل کرنے سے نہیں رکا، تو اللہ کو حاجت نہیں ہے کہ ایسا شخص بس اپنا کھانا پینا ہی چھوڑ کر رہے’’۔
16۔  بہت سے روزہ دار رمضان میں بھی بخیل کے بخیل رہتے ہیں۔ حاجتمندوں کا ہجوم دیکھنے کے باوجود  ‘‘روزہ’’ ان سے انفاق کروانے میں ناکام رہتا ہے۔
رمضان میں گرہ کھولنا اور لٹانا خاص طور پر مرغوب ہے۔ اعمال کا بدلہ  رمضان میں کئی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔  نبیﷺ رمضان میں خاص طور پر صدقات اور انفاق کا اہتمام فرماتے۔ ابن عباسؓ کا قول ہے: كان رسول الله  أجود الناس وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل، وكان يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن ‘‘رسول اللہﷺ سب سے بڑھ کر انفاق کرنے والے تھے اور سب سے بڑھ کر وہ رمضان میں انفاق کرتے جب جبریل سے ملاقات کرتے، اور جو کہ آپؐ کو ہر رات ملتا اور آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتا’’۔
17۔  بعض لوگ کسی کو رمضان میں دن کے وقت مسواک کرتا دیکھیں تو اس پر نکیر کرتے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ یہ روزہ کے حق میں نقصان دہ ہے!
مسواک کا سنت ہونا عام ہے  اور ہر وقت کیلئے ہے۔  نبیﷺ کا فرمان ہے : لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كلصلاة رواه مالك في الموطأ والبخاري ومسلم وأبو داودوالترمذي ‘‘مجھے اپنی امت پر مشقت کردینے کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کریں’’۔
18۔  ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ سے ہونے کے باوجود گناہ کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔ فلمیں ، سینما، اور گلیوں میں چھیڑچھاڑ اور خواتین کی طرف جھانکنا سب جاری رہتا ہے!
امام ابن رجب فرماتے ہیں: جو شخص اپنا روزہ ضائع کرلے، اس کا روزہ اس کو اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے روک ہی نہ سکے،  امکان ہے کہ اس کا روزہ قبول ہی نہ ہو اور اس کے منہ پر دے مارا جائے’’۔
19۔  بعض لوگ رمضان میں تراویح باجماعت کا اہتمام نہیں کرتے، رمضان میں بھی اپنے روزمرہ معمولات اُسی طرح جاری رکھتے ہیں۔
رمضان کی راتوں کا بہترین مصرف نماز میں قرآن کی طویل طویل قراءت کرنا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: من قام رمضانإيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه رواه مالكفي الموطأ والبخاري ومسلموأبو داود والترمذي والنسائي ‘‘جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کوقیام کرے، اس کے سب گزرے گنا ہ معاف کردیے جاتے ہیں’’۔
20۔  بعض لوگ امام کے نماز ختم کرنے سے پہلے تراویح ختم کرکے نکل جاتے ہیں (خاص طور پر وتر کے وقت لوگ امام کو نماز پڑھاتا چھوڑ کر نکل جاتے ہیں)
سنت یہ ہے کہ اگر آدمی امام کے ساتھ اُس وقت تک نماز پڑھتا رہے جب تک امام نماز پڑھا رہا ہے تو اس کیلئے پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے: من قام معإمامه حتىينصرف كُتب له قيام ليلة رواه الترمذيوابن خزيمة وابن حبان ‘‘جو شخص اپنے امام کے ساتھ اُس وقت تک  قیام کرے جب تک امام نماز ختم نہ کرلے، اُس کیلئے (پوری) رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے’’۔
21۔  بعض عورتیں تراویح کیلئے مساجد میں زیب وآرائش اور پرفیوم لگا کر جاتی  ہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: أيما امرأة أصابت بخوراًفلا تشهد معنا العشاء الآخرة رواه مسلم وأبو داودوالنسائي وأحمدوالبيهقي ‘‘جو عورت خوشبو لگائے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے نہ آئے’’۔
22۔  بہت سے ائمہ رکعتوں کی تعداد پور کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ نماز میں طمانیت مفقود۔ نہ رکوع پورا اور نہ سجود۔ نہ دعاء اور نہ خشوع، اور اس کا نام قیامِ رمضان!
نبیﷺ نے فرمایا: أسوأ الناس سرقة الذييسرق من صلاته، قالوا : يا رسول الله كيفيسرقها ؟ قاللا يتمركوعها ولا سجودها‘‘چوروں میں سب سے برا  وہ  آدمی ہے  جو اپنی نماز کی چوری کرے۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ وہ کیسے نماز کی چوری کرتا ہے؟ فرمایا: اس کا رکوع اور سجود پورا نہیں کرتا’’۔
23۔  بعض ائمہ قنوت کو بہت زیادہ طویل کردیتے ہیں۔
نماز اور قنوت میں اقتصاد (میانہ روی) رکھنا چاہئے۔ نیز سنت میں وارد ہونے والی دعاؤں پر اکتفا کرنا چاہئے۔ نبیﷺ نے فرمایا: إذا صلى أحدكم للناسفليخفف فإن فيهمالضعيف والسقيم والكبير رواهالبخاري ومسلم وأبو داود وأحمد وابن حبان
‘‘جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو اُسے چاہئے کہ ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور بیمار بھی اور بڑی عمر کے لوگ بھی’’۔
24۔  بعض ائمہ دعائے قنوت میں نہایت تکلف کرتے ہیں۔ بڑی بڑی مسجع عبارتیں لے کر آتے ہیں، اور خوب تصنع سے کام لیتے ہیں۔
سادگی کے ساتھ مسنون دعاؤں پر اکتفاء کرنا بہتر ہے۔
25۔  بعض لوگ دعائے قنوت میں آواز بہت اونچی کرلیتے ہیں۔
دعاء میں آواز دھیمی رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ادعوا ربكم تضرعاً وخفية إنه لا يحب المعتدين ‘‘پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے۔ بے شک وہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا’’۔
26۔ بعض لوگ دعائے قنوت کے دوران، یا امام کے پیچھے ہوں تو اس کی دعاء پر آمین کہنے کے دوران مسلسل آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے: ما بال أقوام يرفعونأبصارهم إلى السماء في صلاتهم فاشتد قوله فيذلك حتى قاللينتهين عنذلك أو لتخطفنأبصارهم رواه النسائي، وقال الألباني حديث صحيح‘‘کچھ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں’’۔ نبیﷺ نے اس پر اس حد تک شدید بات فرمائی کہ: ‘‘یہ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں’’۔
27۔  بعض نمازی دعائے قنوت کے اختتام پر دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرتے ہیں
یہ چیز سنت سے ثابت نہیں۔ امام بیہقیؒ کہتے ہیں: ‘‘دعاء سے فراغت کے وقت چہرے پر ہاتھ پھیرنا میرے نزدیک سلف کے کسی ایک شخص سے بھی ثابت نہیں’’۔
نوٹ: دعاء کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنے کو خلافِ سنت کہنے کے متعلق یہ مصنف کی رائے ہے جو دراصل حنابلہ کے علماء کی ایک جماعت کی رائے ہے۔ دیگر فقہی گروہ اس کی اجازت دیتے ہوں تو اس پر عمل میں کوئی مضائقہ نہیں (مترجم)۔
28۔  بعض نمازی لیلۃ القدر کی دعاء میں  لفظ ‘‘عفو’’ کے بعد ‘‘کریم’’ کا اضافہ کرتے ہیں۔
دعاء کے الفاظ سنت سے یہی ملتے ہیں ‘‘اللہم إنک عفوٌ تحب العفوَ فاعف عنی’’۔ اس میں کسی لفظ کا (مستقل) اضافہ درست نہیں۔
29۔  اعتکاف ضائع کرلینا۔ اس کو اہمیت نہ دینا۔
اعتکاف رمضان کے آخری عشرے میں کیا جانے والا ایک بہترین عمل ہے۔ اس کی جتنی حفاظت ہوسکے کرنی چاہئے۔ كان رسول الله  يعتكف العشر الأواخر منرمضان رواه البخاري ومسلموأبو داود وقال الألبانيحديث صحيح ‘‘رسول اللہﷺ رمضان کی آخری د س راتیں اعتکاف کیا کرتے تھے’’۔
30۔  فطرانہ کو اس کے وقت سے موخر کر بیٹھنا
صدقۃ الفطر عید کے روز نماز سے پہلے پہلے نکال دینا ضروری ہے۔ اس سے ایک یا دو دن پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔

میں خیال ہوں کسی اور کا

یہ غزل سن کر میں نے حسبِ دستور نیٹ پر اسے تلاش کیا اور ایک حیرت بلکہ صدمہ ہوا کہ کہیں بھی یہ غزل مکمل موجود نہیں۔ تمام سائٹوں پر زیادہ سے زیادہ چھ اشعار ہی ہیں۔ لہٰذا یہ غزل جس قدر مجھے مل سکی، یعنی آٹھ شعر، میں حاضر کیے دے رہا ہوں۔ نیز مہدی حسن کی خوبصورت آواز میں بھی اس غزل کو سننے اور دیکھنے کا سامان بہم کیے دیتا ہوں۔ گو آواز استاد مہدی حسن خان صاحب کی ہے لیکن کمپوزیشن استاد رئیس خان ہی کی ہے۔

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ مرا عکس ہے پس ِ آئینہ کوئی اور ہے

میں کسی کے دست ِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرف ِ دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے، مجھے جانتا کوئی اور ہے

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتہ نہ تھا
تری داستاں کوئی اور تھی، مرا واقعہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا، پہ مری سزا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

مری روشنی ترے خدّ و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تُو قریب آ تجھے دیکھ لوں تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے

جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
(سلیم کوثر)

 ماجدؔ دیوبندی 


سامانِ تجارت۔۔۔۔۔ مرا ایمان نہیں ہے 


ہر در پہ جھکے سر۔۔۔ یہ مری شان نہیں ہے


ہرلفظ کو سینے میں۔۔۔۔۔۔ بسالو تو بنے بات


طاقوں میں سجانے کو۔۔۔ یہ قرآن نہیں ہے


اللہ.. ! مرے رزق کی برکت نہ چلی جائے 


دو روز سے گھر میں۔۔ کوئی مہمان نہیں ہے


ہم نے تو بنائے ہیں۔۔ سمندر میں بھی رستے


ہم کو یوں مٹانا۔۔۔۔۔ کوئی آسان نہیں ہے


میں تیری محبت میں۔۔۔ گرفتار ہوں لیکن


تجھ کو میں خدا سمجھوں.. یہ امکان نہیں ہے


دوچار امیدوں کے دیئے اب بھی ہیں روشن


ماضی کی حویلی ابھی۔۔۔۔۔ ویران نہیں ہے


اللہ کے احکام کی۔۔۔۔۔۔۔ تعمیل ہے لوگو


یہ فاقہ کشی۔۔۔۔۔ مقصدِ رمضان نہیں ہے
  

وہ جس کو بزرگوں کی۔۔۔ روایت نہ رہے یاد


اس شخص کی لوگو کوئی۔۔۔۔ پہچان نہیں ہے


ماجدؔ ہے مرا شعر مرے عہد کی تصویر


غالؔب کی غزل ، میرؔ کا دیوان نہیں ہے




مغیثہ فاطمہ کی ویڈیو

آج خوبصورت آواز کے ساتھ اس خوبصورت سی ننی منی بچی { مغیثہ فاطمہ } کو اپنی دعاوں سے ضرور نوازیں ۔







رمضان المبارک اصلاح کا مہینہ




حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت سے منقول ہے ،جو آپ نے شعبان کے آخری دنوں یا آخر تار یخ کو مجمع ِصحابہ ؓ میں دیا تھا۔آپ نے انہیں مخاطب کر تے ہو ئے ارشاد فر ما یا تھا:

’’لوگو! ایک زبر دست اور با بر کت مہینہ تم پر سا یہ فگن ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر اوربڑھ کر ہے۔اللہ پاک نے اس مبارک مہینہ کے دنوں میں اپنے بندوں پر روزہ فرض کیا ہے اورراتوں میں قیام یعنی تروایح کو نفل اورزائد عمل قرار دیا ہے ۔اور اس ماہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اگر کوئی کار ِخیر کر ے تو اس کو اتنا ثواب ملتا ہے جتنا دوسرے دنوں میں فرض کام کر نے پر ملتا ہے ،اور فرض کا ثواب دوسر ے دنوں کے ستر فر ضوں کے برابر ملتا ہے،اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے،اور یہ مہینہ غمخواری کا ہے،اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق منجا نب اللہ بڑھا دیا جاتا ہے، مزید یہ کہ اگر کسی شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کر ادیا تو اس کواس روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر اس کے روزہ کا ثواب بھی دیا جا تاہے،اور یہ عمل افطار کرا نے والے کی مغفرت ِ ذنوب کا سبب بن جاتا ہے،اس پر صحا بہ کرام ؓنے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ہم میں سے ہرشخص اس کی استطا عت نہیں رکھتا کہ رو زہ دار کو کھا نا کھلا دے ، آپؐ نے فر ما یا: جس اجرکی میں خبر دے رہا ہو ں وہ اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ لسّی یا ایک کھجور بلکہ پانی کے ایک گھونٹ پر بھی عطا فر ما دیں گے، اس کے لئے کوئی بڑے اہتمام اور خاص مصارف کی بھی حاجت نہیں ، البتہ جس نے کسی روزہ دار کو خوب سیر کرکے کھلایا تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائیں گے،جس کے بعد جنت میں داخلہ تک پھراس کو پیا س نہیں ستائے گی، یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت درمیا نی مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے گلو خلا صی کا ہے، جس شخص نے اس ماہ میں اپنے خادموں کا بو جھ ہلکا کر دیا اللہ پاک اس کی مغفرت اور جہنم سے نجا ت کا فیصلہ فرمادیتے ہیں ۔
(البیہقی کذا فی مشکوٰۃ)

رمضان شریف کی آمد پر نبی رحمت ﷺ کے مذکورہ خطبہ سے چند اہم خصوصیات اس موسم بہار کی واضح ہوتی ہیں :

(۱)اس مہینہ کا عظیم اور بابر کت ہونا ۔

(۲)اس میں ایسی رات کا پا یا جا نا جو شب ِقدر کہلاتی ہے اورجو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔

(۳)روزوں کا اس میں فرض کیا جانا ۔

(۴)اس کی راتوں میں ایک زائد خصوصی نماز یعنی تروایح کا دیا جا نا۔

(۵)نفل کا موں کے اجر کو فرض کے اجر تک اور فرضوں کے اجر کو ستر فرضوں کے اجر تک بڑھایا جا نا۔

(۶)ایسے اعمال دئے جانا جن میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے اوراس صبر کے ذریعہ جنت کا موعود ہونا ۔

(۷)اس میں ایک دوسرے خصوصاً غربا ء وفقراء کی ہمدردی وغمخواری کے جذبہ کا عام کیا جا نا۔

(۸)مسلما نوں کی روزی کا بڑھایا جا نا۔

(۹)دوسرے روزے داروں کو افطار کرانے پر ان کے ثوابوں میں کمی کئے بغیر افطار کرا نے والے کوبھی اتنا ثواب دیا جانا ۔

(۱۰)اس کے ابتدائی ،در میا نی اور آخری حصوں کو علی الترتیب باعث ِرحمت ، باعث مغفرت اور جہنم سے نجات کا وسیلہ قراردیا جا نا۔

(۱۱)اپنے خادموں اور چاکروں کے کاموں اور ذمہ داریوں میں تخفیف یعنی کمی کر نے پرمغفرت کا وعدہ فر ما نا وغیرہ۔

یہ صرف وہ فضائل وخصائص ہیں جو ایک حدیث کی روشنی میں ہمارے سامنے آرہے ہیں ، ان کے علاوہ بیسیوں اور حدیثیں فضائل ِ رمضان اور اس کی خصائص کے بیان پر مشتمل موجودو مشہور ہیں، ان سب کو سامنے رکھنے اور ان میں غور کر نے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ پاک نے اس ماہ کو تر قی ِباطن وتز کیۂ نفس کا موسم ِبہار بنا دیا ہے،خود قرآن مجید میں روزہ کا حکم دینے کے بعد اس کی علت لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ بیان فرمائی گئی ہے۔

اسی لئے آنحضرت ﷺ اور صحا بہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت پہلے سے رمضان کی تیاری فرماتے تھے، اور جب یہ موسم ِبہار شروع ہوجا تا توپوری یکسو ئی وتو جہ کے ساتھ اس کے بر کا ت و ثمرات کو حاصل کر نے میں منہمک ومشغول ہو جا تے تھے،خصوصاً عشرۂ اخیر ہ میں تو بالکلیہ مسجد کے ہورہتے اور بقول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نبی کریم ﷺ کمر کس لیتے ،راتوں کو عبادت سے معمور رکھتے اور گھر والوں کو بھی جگا تے اور اس میں لگا تے تھے۔

بعدکے ادوار میں بھی عاشقانِ سنت وحاملانِ شریعت اسی طرح اس مبارک مہینہ کا حق ادا کرنے کی کو شش کر تے رہے،اہل اللہ اور اکا بر کے حالات ان واقعات سے بھر پورہیں جو ان کے اشغال واعمال ِرمضان سے تعلق رکھتے ہیں ،اندازہ کے لئے حضرت شیخ نو راللہ مرقدہٗ کا رسالہ ’’اکابر کا رمضان ‘‘ دیکھ لینا کا فی ہے ۔

ہمیں اللہ پاک معاف فرماویں کہ ان کے احوال کو پڑھنے کے بعد جب اپنے حالات پر نظر پڑتی ہے تو ’’فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلوٰۃَ وَاتَّبَعُوْا الشَّھَوَاتِ‘‘ کا نقشہ نظر آتا ہے ، یعنی اللہ پاک نے انبیاء وصلحاء ِسابقین کے ذکر کے بعد جوفرمایا ،پھر’’ان کے بعد ایسے نا خلف وجو دمیں آئے جو نماز وں کو ضائع کر دیتے اور شہوات وخواہشات کی پیر وی کرتے تھے‘‘یہی حال بعینہٖ ہمارانظر آرہا ہے ۔

رمضان المبارک کے شروع ہو تے ہی ہم میں سے اکثر لو گ چند دن بڑا جوش وخروش دکھا کر پہلے ہفتہ ہی میں حسب ِحال بحال ہو جا تے ہیں اور اپنی غافلانہ روش اختیار کر جاتے ہیں ، اگر کچھ سر گر میاں نظر آبھی جا تی ہیں تو بس فیشن اور نقالی کی، مثلا ًرسمی شبینے، رسمی جلسے ،یوم الفرقان ،یو م القرآن وغیر ہ اور افطار پارٹیاں ،جن میں نمازوں کا ضیاع ، خواہشات کا اتباع ، اور دین کا مذاق غالب رہتا ہے، کیونکہ ان میں حصہ لینے وا لے بیشتروہ لو گ ہو تے ہیں جو ذوق ِعبادت سے یکسر محروم اور مزاجِ نبوت سے قطعاً ناآشنا ہوتے ہیں ، نئی نسل تو شامت ِاعمال سے بس انہی حرکات کو بر کا ت ِرمضان کے حصول کا وسیلہ تصور کی ہوئی ہے،افسوس ! ’’أَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْئُ عَمَلِہٖ فَرَائٰ ہُ حَسَناً ‘‘کیا وہ شخص حق پر ہوسکتا ہے جس کے لئے اس کے اعمالِ بد خوشنما بنا دئے گئے ہو ں اور وہ انہیں بظا ہر اچھا سمجھتاہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ’’زُیِّنَ لَھُمُ الشَّیْطاَنُ اَعْمَالَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ‘‘ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے مزین کردئے، اس طرح انہیں راہِ حق سے روک دیا ۔

الغرض ان تلخ حقائق کا بُر اما نے بغیر اپنے طرزِ عمل کا غور ودیا نت سے جائزہ لیجئے اور سونچئے کہ کیا نبی کریم ﷺ ،صحابہ کر امؓ اور اولیائے امت کی قدردانی ٔ رمضان اور ہمارے زمانہ کی ان حرکات واعمال میں کسی قسم کی کو ئی منا سبت ہے ؟ اگر نہیں اور بلاشبہ نہیں تو پھر خداکے واسطے خوش فہمیوں کے اس خول سے باہر نکل آئیے اور صحیح معنوں میں مسنون طرز پر رمضان المبارک کو وصول کر نے اور اس کی برکات کے مستحق بننے کے مزاج کو عام کیجئے، منکر اتِ رمضان سے اپنے کو جدااور علی الا علان علاحدہ کرلیجئے، تا کہ اس موسم ِبہار کا خصوصی تحفہ’’ تر قی باطن اور تز کیۂ نفس ‘‘ ہمیں حاصل ہو سکے اور ہم عند اللہ ’’روزہ دار‘‘ شمار ہوں ’’بھو کے پیا سے ‘‘شمار نہ ہوں ۔

اللہ ہمیں تو فیق عطافرما ویں ۔آمین

معمولات ِ رمضان

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں اور آسمانی رحمتوں کے نزول کی برکت سے ہر کسی کو دینی اعمال کی طرف رجحان ہوجاتاہے، مختلف لوگ مختلف اعمال کرتے رہتے ہیں ، بعض ضروری کام چھوٹ جاتے ہیں اور غیر ضروری ہوتے رہتے ہیں ، اس لئے معتبر احادیث کی روشنی میں چند اہم اعمال کی طرف ذیل میں توجہ دلائی جارہی ہے ، ان کے اہتمام سے انشاء اﷲ رمضان المبارک کی برکات سے محرومی نہ ہوگی ، اور اس کی ناقدری کے وبال سے بھی حفاظت رہے گی۔

٭قرآن مجید کی بکثرت تلاوت٭فرائض کے ساتھ نوافل کا بھی اہتمام٭حاجت مند مسلمانوں سے ہمدردی وغم خواری ٭صبر وتحمل کا مظاہرہ ، چڑچڑے پن سے احتراز٭لڑائی جھگڑوں اور بحث ومباحثہ سے اجتناب٭جھوٹ اور غیبت سے زبان کی حفاظت٭نوکروں اور ماتحتوں کے کاموں میں کمی کرنا یا اُن کا ہاتھ بٹانا٭شب ِ قدر کی تلاش کے واسطے آخری دس روز اعتکاف کی کوشش ٭ بصورت ِ دیگر عشرۂ اخیرہ کی راتوں میں حسب ِ طاقت وسہولت مختلف عبادات اور دعا کا اہتمام ٭دعاؤں کا اہتمام بالخصوص افطار کے وقت ٭روزہ اور تراویح کی پابندی٭عشرۂ اخیرہ میں اور دنوں سے زیادہ اعمال کا اہتمام کرنا چاہئے ۔

زبان معطر ہے دل منور ،اورنگ آباد نعت مقابلہ میں دوم انعام حاصل کرنے والی طالبہ مہک نایاب

زبان معطر ہے دل منور
-------------------------------------------------------
اورنگ آباد نعت مقابلہ میں دوم انعام حاصل کرنے والی طالبہ
مہک نایاب




کبھی لب پہ آکے مچل گئی کبھی حد سے بات گزر گئی

کبھی لب پہ آ کے مچل گئی کبھی حد سے بات گزر گئی
میں نہ کہہ سکا وہ نہ سن سکے یونہیساری رات گزر گئ
ملا دوستوں کا ہجوم بھی ۔۔۔۔ ملی عیش کی بھی فضا مگر
وہ گھڑی تھی حاصلِ زندگی جو تمہارے ساتھ گزر گئی
چُھپا چاند تارے بھی سو گئےبجھے حسرتوں کے چراغ بھی
ترے انتظار میں بے وفا ۔۔ مری یہ بھی رات گزر گئی
وہ جو شامِ وعدہ نہ آ سکے تو لباسِ اشک میں آنکھ سے
مری آرزو ۔۔۔ مریحسرتوں کی حسیںبرات گزر گئی
مجھے دردؔ ۔۔ نیند نہ آ سکی ۔۔ مجھے دردؔ ۔۔ چین نہ مل سکا
مرے خواب میں بھی نہ آئے وہ اسیدُھن میں رات گزر گئ

تہذیب کا جن تحریر سلیم احمد



تہذیب کا جن

سلیم احمد
مترجم: نعمان نقوی
جس طرح پرانے زمانے کے بعض لوگوں پر جن آتے تھے اسی طرح ہمارے زمانے کے اکثر لوگوں پر الفاظ آتے ہیں۔ بالکل جنوں ہی کی طرح وہ ہمارے سروں پر مسلط ہو جاتے ہیں اور ان کے اثر میں ہم نہ جانے کیا کچھ کہتے رہتے ہیں جس کی ہمیں کچھ خبر نہیں ہوتی۔ تہذیب کا لفظ بھی اسی قسم کا ایک جن ہے جو ہمارے سروں پر مسلط ہوگیا ہے۔ اس لفظ کے پہلے معمول سر سید تھے۔ پھر جوں جوں علی گڑھ کی تعلیم اور ریل کی پٹریاں دور دور پھیلتی گئیں، یہ لفظ بھی عام ہوتا گیا۔ اب تو یہ عالم ہے کہ جسے دیکھیے آنکھیں لال کیئے جھوم جھوم کر "تہذیب تہذیب" کہتا نظر آتا ہے۔تہذیب نہ کہے گا تو ثقافت کہے گا۔ ثقافت نہ کہے گا تو کلچر کہے گا۔ میرے لیے تو یہ سب آسیبوں کے نام ہیں۔ کون کیا ہے، میری تو سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک بات البتہ مجھے معلوم ہے، جب کوئی لفظ ہمارے ذہنوں پر اس طرح سوار ہو جائےکہ ہم اس کے معنی کو سمجھے بغیر جا و بےجا طور پر اسے استعمال کرنے لگیں تو وہ لفظ نہیں رہتا نفسیاتی علامت بن جاتا ہے۔ تہذیب اور اسی قسم کے دوسرے تمام الفاظ ہماری اس نفسیات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ان الفاظ اور ان کے متعلقات کے بارے میں ہمارے اندر کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ ایک گڑبڑ تو اسی سے ظاہر ہے کہ تہذیب یا ثقافت یا کلچر کا دورہ سب سے زیادہ انھی لوگوں کو پڑتا ہے، جو کسی نہ کسی طرح اپنی روایت سے کٹ گئے ہیں۔ دور کیوں جایئے، ان لوگوں کے لباس، زبان اور رہن سہن پر ایک نظر ڈال لیجئے جواس قسم کی بحثوں میں  بحثیت طبقہ پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی پرورش مغربی انداز میں ہوئی اور اپنی اصلی زندگی میں اپنی تہذیب سے الگ ہو کر مغربی رنگ میں رنگ گئے ہیں۔ اس کا مطلب کہیں یہ تو نہیں ہے کہ اپنی تہذیب، ثقافت، کلچر کا اتنا چرچا کرنا بھی خود مغربیت ہی کا نتیجہ ہے؟ خیر وجہ بہرحال کچھ ہو، یہ جن ہمارے سروں پر سوار ہو گیا ہے، تو آیئے اس سے کچھ بات چیت کرنے کی کوشش کریں۔
جنوں سے بات چیت کرنے سے پہلے کچھ وظیفہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہماری آیت الکرسی۔ اس وقت رینے گینوں کا یہ خیال ہےکہ تہذیب کا لفظ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر میں دو اور لفظوں کے ساتھ پھیلنا شروع ہوا۔ ان میں ایک لفظ "ترقی" تھا دوسرا "مادیت"۔ باپ، بیٹا، روح القدس کی تثلیت کی طرح تہذیب، ترقی اور مادیت کی تثلیت بھی تین میں ایک اور ایک میں تین کے فارمولے پر قائم تھی۔ مغرب میں اس تثلیت کے معنی یہ تھے کہ تہذیب اگر کوئی ہے تو وہ مغربی تہذیب ہے جواب تک کی انسانی ترقی کا حاصل ہے اور دوسری تہذیبوں سے اس بنا پر مختلف ہے کہ خالص سائنس کی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔ یہی وہ تہذیب تھی جسے پھیلانے کے لیے اہلِ مغرب بندوقیں اور توپیں  لے کر ساری دنیا میں دوڑ پڑے۔ چنا نچہ برصغیرمیں سر سید اور ان کے معاصرین، تہذیب کا لفظ مغربی تہذیب ہی کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اقبال کے یہاں بھی اس لفظ کے یہی معنی ہیں:

نہ ابلئہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہذیب کا کمال، شرافت کا ہے زوال

سر سید اور اقبال میں فرق یہ ہے کہ سر سید اہل مغرب کےاس دعوے کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ مغربی تہذیب ہی اصل تہذیب ہے۔ اس لیے سر سید کو برصغیر  کی قومیں غیر مہذب نظر آنے لگتی ہیں، اور وہ انہیں بالخصوص مسلمانوں کو مغربی بنانے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ سر سید کے نزدیک مغربی ہونا مہذ ب اور ترقی یافتہ ہونے کی علامات ہے اس حد تک کہ انھیں انگریزوں کے کتے بھی ہندوؤں اور مسلمانوں سے بہتر معلوم ہوتے ہیں۔ رہی مادیت تو سر سید اس کے ابتدائی سبق "عقلیت" کو قبول کر لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر اقبال مغرب کے ردِعمل  کی دوسری منزل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یعنی وہ مغربی تہذیب کے مقابلے پر اسلامی تہذیب کو اس دعوے کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ مغربی تہذیب در اصل خود مسلمانوں کے اثر سے پیدا ہوئی ہے۔ مغرب کی سائینس، جو ان کی ترقی کا سبب ہے، خود مسلمانوں ہی کی ایجاد تھی، اور اگر وہ "خرافات" اور "روایات" میں مبتلا ہو کر  سو نہ جاتے تو مغرب کی طرح خود ترقی کی اس منزل پر پہنچ جاتے۔ مادیت کو البتہ اقبال شدت کے ساتھ رد کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔مادیت کو بھی اور عقلیت پرستی کو بھی۔ مگر اقبال پر تھیوسوفی کا جو اثر پڑا ہے اس کا ذرا گہرا مطالعہ ہمیں بتا سکتا ہے کہ اقبال کا یہ ردِعمل مغربیت ہی کی ایک شکل ہے۔ سر سید نے مسلمانوں کو مغربی بنانے کی جو مہم شروع کی تھی، اقبال اس کی اگلی منزل ہیں۔ اقبال پر نتشے اور برگساں کا جو اثر ہے ہمیں اسے بھی اسی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو میرا یہ خیال خلافِ واقعہ معلوم ہو، کیوں کہ اقبال شدت سے مغرب کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیےکہ مغرب کا ردِ عمل بھی مغربیت کی ہی ایک شکل ہے۔ مثلاََ قوم پرستی کی تحریک مغربی استعمار کے خلاف تحریک آزادی بنتی ہے مگر قوم پرستی خود مغربیت ہی کا ایک شاخسانہ ہے۔ اقبال کی مغربیت یہ ہے کہ وہ مغرب کی سائینس کو قبول کرلیتے ہیں جس کی بنیاد مادیت ہے۔ البتہ وہ اسلامی اخلاق قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ بہت زیادہ گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو اخلاق، وجدان اور جزبے پر اتنا زور جو اقبال کے ہاں نظر آتا ہے، وہ بھی خالص مغربی تصورات کا نتیجہ ہے۔ بہ ظاہر یہ متضاد بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ نئی مشرقیت (یااسلامیت) جو ہمیں اقبال اور ان کے ساتھ دوسرے بہت سے لوگوں میں ملتی ہے، خود مغربیت ہی کی ایک قسم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قوم پرستی کی تحریک کی طرح، مغرب کے تمام اثرات اپنی روح کو برقرار رکھتے ہوئے مظاہر میں مغرب کی ضد پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح مغرب کی ظاہراً مخالفت بھی مغربیت سے پیدا ہوتی ہے۔ ہم برصغیر میں پچھلے سو برس میں پیدا ہونے والے سیاسی، اخلاقی اور تہذیبی اثرات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آجائے گی کہ مغرب کے خلاف یہ تمام ردِ عمل مغربی اثرات کا پیدا کیا ہوا تھا۔ اقبال مغربیت کی جس دوسری منزل کی نشان دہی کرتے ہیں، وہاں پہنچ کر تہذیب کا جن مشرقی زبان بولنے لگتا ہے، یعنی مغربی روح مشرقی پیکر میں حلول کر جاتی ہے اور وہ چیز جو اپنی اصل کے اعتبار سے قطعی"بیرونی" اور "اجنبی" تھی، ہمارے اندر سرایت کر کےیہ دھوکا دینے لگتی ہے کہ وہ ہماری اپنی ہے۔ اقبال کی نواسلامیت اور نو مشرقیت مغرب کے اسی عمل تناسخ سے  پیدا ہوئی ہے۔ 
اقبال کی زندگی ہی میں مغربیت کا اثر اپنی تیسری منزل میں داخل ہوجاتا ہے۔ ترقی پسند تحریک اسی منزل پر پیدا ہوتی ہے۔ اب تہذیب، ترقی اور مادیت سر سید کی عقلیت اور اقبال کی وجدانیت سے گزر کر اپنے سیدھے سادے روپ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ تحریک اس بات کی علامت ہے کہ اب مغرب کا اثر ہمارے اندر گہرا اثر کر گیا ہے کہ ہم اپنی مکمل نفی کرنے کے باوجود اس دھوکے میں مبتلا رہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو "ترقی" دے رہے ہیں۔ یہ تحریک اپنی روح کے اعتبار سےخالص مغربی ہونے کے باوجود ہمیں یہ فریب دیتی ہے کہ ہم اپنی روایت سے نیا رشتہ جوڑ رہے ہیں اور اپنے ماضی کے بہترین عناصر کے امین ہیں۔ سر سید کے یہاں تہذیب  اور ترقی کے معنی مغربی معاشرت اور مغربی تعلیم کے تھے۔ اقبال کے یہاں تہذیب و ترقی کے معنی اسلامی اخلاق کو برقرار رکھتےھوئےسائنس کو قبول کر لینا ہے۔ ترقی پسندوں کے یہاں تہذیب وترقی کے معنی اپنے تمدن کے سب سے رسمی اور ظاہری حصے کو قائم رکھتے ہوئے مادیت کو مان لینا ہے۔ مغربی اثر کی ان تینوں منزلوں کو نظر میں رکھا جائے تو سر سید کے رد و قبول کی وہ تمام صورتیں جو شبلی، اکبر، اقبال اور ترقی پسندوں کے یہاں ملتی ہیں۔ ان کے معنی روشن ہونے لگتے ہیں، اور پتہ چلتا ہے کہ مغرب کی روح کس طرح چولے بدل بدل کر ہمیں دھوکا دیتی رہی ہے کہ ہم ترقی کی منزلوں میں مغرب کا ساتھ دینے کے باوجود مشرقیت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ 
آنندا کمار سوامی  نے لکھا ہے کہ مغربی تہذیب نے ہر اس تہذیب کو جو اس سے مختلف تھی اور صدیوں سے اپنے نام پر قائم تھی، اپنے زہریلے اثر سے اسی طرح ہلاک کردیا ہے جس طرح قابیل نے ہابیل کو ہلاک کیا تھا۔ لیکن وہ قابیل ہی کی طرح اس خون ناحق کو چھپانا بھی چاہتی ہے، اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہےکہ مقتول کی ممی بنا کر اسے تماشاگاہوں میں چلتا پھرتا دکھایا جائے تاکہ کسی کو یہ احساس ہی نہ ہونے پائے کہ وہ قتل ہو چکا ہے۔ چنا نچہ جوں جوں مغربی اثر ہماری تہذیبی روح کو فنا کر رہا ہے اور مغربیت ہمارے اوپر مسلط ہوتی جارہی ہے۔ ہم نیشنل سینٹروں اور کلچرل تماشوں میں اپنی تہذیبوں کے خارجی مظاہر کی کٹھ پتلیاں نچاتے نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنی جس تہذیب کو اپنی زندگی میں رد کر چکے ہیں اسے کھیل تماشا اور نمائش کے طور پر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنی تہذیب سے محبت نہیں، اس سے ایک ایسا سفاکانہ مزاق ہے جو ہماری قاتلانہ زہنیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ چنا نچہ تہذیب، ثقافت اور کلچر کا شور بڑھتا جاتا ہے کہ ہم اپنی تہذیب، ثقافت اور کلچر سےاتنے  ہی دور جاچکے ہیں۔۔۔۔۔لیجیے ہماری ایک آیت الکرسی سے تہذیب کے جن نے اتنی باتیں بتادیں، اب آگے کا وظیفہ پھر کبھی۔  
[۱] سلیم احمد بیسویں صدی کے دیگر نصف حصہ کے سرکرده تنقید نگار اور شاعر تھے۔  وه خود نہایت جید تنقیدی اسلوب و فکر کے مالک تھے، اور بیسویں صدی میں اردو کے اہمترین جدت پسند تنقید نگار، محمد حسن عسکری، کے منفرد شاعرانہ اور تنقیدی طرزِ فکر کے وارث تھے، جنہوں نے اردو ادبیات میں کلیدی مابعدِنوَآدادیاتی سوالات اُٹھائے۔

یوم وفات کے موقع پر خصوصی مضمون تحریر عارف عزیز بھوپال


یومِ وفات کے موقع پر خصوصی مضمون ..............عارف عزیز(بھوپال)

* حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (علی میاںؒ ) کا شمار دنیا کی بلند پایہ علمی شخصیتوں میں ہوتا ہے، وہ بیک وقت مفکر، مدبر، مصلح، قائد، زمانہ شناس ، ادیب اور نباضِ وقت ، خطیب تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں فہم وفراست اور حکمت وبصیرت کے بڑے حصہ سے نوازا تھا۔ اس لئے دور حاضر کے تقاضے اور نفسیات کے مطابق وہ دین وشریعت پیش کرنے کا کام اپنے قلم اور زبان سے لیا کرتے تھے، دنیا کے جس گوشے میں جاتے وہاں دل کی گہرائیوں سے اسلام کا پیغام لوگوں کو سناتے،

خاص طور سے عالم عرب اور اسلامی ملکوں میں لوگوں کو یاد دلاتے کہ تمہارے گھر سے دیئے گئے پیغام کی بدولت ہندوستان میں ہمارے آباء واجداد اسلام لائے اور آج ہم جب اسلام لانے کی قیمت ادا کررہے ہیں تو تم محوِ خواب ہو، حضرت نے عرب ممالک میں پاکستان کے اس پروپیگنڈہ کا بھی رد کیا کہ ہندوستان میں اب مسلمان نہیں رہ گئے، جو تھے وہ پہلے پاکستان منتقل ہوگئے یا بعد میں مار دیئے گئے۔ انہوں نے ہندوستان کی اسلامی تاریخ سے اپنی تحریر وتقریر کے ذریعہ عربوں کو اس خوبی سے متعارف کرایا کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا یہ کام نہیں کرسکا۔ وہ ہمارے عہد کے واحد ہندوستانی تھے جو عربوں کو ان کی زبان اور ان کے لہجہ میں بغیر کسی مرعوبیت کے مخاطب کرتے تھے اور ایسی فصیح عربی بولتے و لکھتے تھے کہ اہل عرب بھی اس کے سحر میں کھو جاتے، اس میں تنقید واحتساب کی دعوت کے ساتھ طاقت و توانائی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھاتے، ان کے دکھ درد میں شریک رہتے، ان کے غم پر آنسو بہاتے اور بارگاہ الٰہی میں دعائیں بھی کرتے، عرب قومیت کا گمراہ کن نعرہ ہو یا فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ اس کے خلاف زبان وقلم سے جہاد چھیڑ کر حضرت نے واضح الفاظ میں عربوں کو متنبہ فرمایا کہ’’ اسلامی صلاحیت اور دینی حمیت کا مطلوبہ معیار پورا کئے بغیر وہ قیادت کے مستحق نہیں ہوسکتے، عربوں کو جو بھی عزت نصیب ہوئی وہ اسلام اور محمد عربی ﷺ کا فیض ہے ، یہ مایا اگر عربوں سے چھن جائے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا‘‘ اسی طرح فلسطین کے مسئلہ کو انہوں نے عربوں کا نہیں اپنا مسئلہ سمجھا، اس پر تقاریر کیں اور کتاب لکھی، مسئلہ فلسطین کے اسباب وعوامل بیان کئے اور حل کیلئے راہ دکھائی، بارہا اپنی تحریر وتقریر میں فرمایا کہ عربوں کے اس زوال وپستی کی بنیادی وجہ ان کے یقین کی کمزوری، شک وشبہ کا نفوذ اور احساسِ کمتری ہے۔ کویت اور سعودی عرب کی یہ تقریریں ’’عالم عربی کے المیہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں، جن میں نہایت بے باکی اور دلسوزی کے ساتھ عربوں کی اخلاقی کمزوری، دینی قدروں کی زبوں حالی، فکری انارکی، ابن الوقتی اور جھوٹے معیار کے آگے سپر اندازی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے پاکستان پر اسلامی تہذیب کے تحفظ اور صحیح عقیدہ کی ضرورت واضح کی اور وہاں کے حکمرانوں کو اسلامی حکومت کے آداب و اطوار سمجھائے۔
حضرت مولانا علی میاں کی شخصیت نہ صرف دانائی ودور اندیشی سے عبارت تھی بلکہ حق پرستی وجرأت کا بھی اعلیٰ مظہر تھی، انہوں نے حق گوئی سے گریز کرکے تلخ حقائق کے اظہار پر مصلحت اندیشی کا غلاف کبھی نہیں چڑھایا بلکہ باطل کے خلاف کھل کر آواز بلند کی افغانستان تشریف لے گئے تو مغربی ثقافت کی ’’برکات‘‘ اور مستشرقین کے افکار ونظریات سے دامن بچانے کی ضرورت واضح کی، ایران گئے تو شیعہ و سنیوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا مشورہ دیا۔ہندوستان میں بھی شیعہ و سنیوں کے مسلکی اختلافات کو امت کے رستے ہوئے ناسور سے تعبیر کیا اور اس کے تدارک میں پیش پیش وفکر مند رہے۔
حضرت نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے جو خطبے دیئے، ان میں مسلمانان ہند کے لئے جہاں پرسنل لا کو ناگزیر بتایا، وہیں اسے مسلمانوں کی عزت وآبرو کیلئے اہم قرار دیا اور اس کی حفاظت کو اسلامی تہذیب وتشخص کے تحفظ سے تعبیر فرمایا۔ حضرت کے خطبات وتقاریر مختلف عنوانات کے تحت کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں، جن میں سے ایک اہم مجموعہ ’’پاجا سراغ زندگی‘‘ ہے ان تقریروں میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلباء کو وہ یہ پیام دیتے ہیں کہ ’’شاخِ ملت انہی کے دم سے ہری ہوسکتی ہے‘‘۔ امریکہ کے سفر پر گئے تو وہاں کی یونیورسٹیوں اور مجلسوں میں جو تقاریریں کیں ’’مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں‘‘ اور ’’نئی دنیا‘‘ کے نام سے وہ منظر عام پر آگئی ہیں، ان تقاریروں میں حضرت نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ ’’امریکہ میں مشینوں کی بہار تو دیکھی، لیکن آدمیت اور روح کا زوال پایا‘‘۔ وہاں کے مسلمانوں کو تعلق باللہ، اپنے کام میں اخلاص اور انابت کی روح پیدا کرنے پر زور دیا، یہی پیغام وہ ہر جگہ ہر ملک اور ہر شہر میں دیتے رہے، جو نیا نہیں تھا لیکن کچھ ایسے ایمانی ولولے، قلبی درد اور داعیانہ انداز میں اس کا اعادہ کرتے کہ سننے والوں کے قلوب گرما جاتے، اسی طرح یوروپ، برطانیہ، سوئزرلینڈ اور اسپین کی یونیورسٹیوں اور علمی مجلسوں میں تخاطب کے دوران یہ پیام دیا کہ ’’وہاں کے مسلمان مغربی تہذیب و تمدن کے گرویدہ نہ ہوں کیونکہ اس کا ظاہر روشن اور باطن تاریک ہے، مسلمان اس سرزمین پر اسلام کے داعی بن کر رہیں، اسلام کی ابدیت پر مکمل اعتماد رکھیں اور مشرق ومغرب کے درمیان نئی نہر سوئز تعمیر کرنے کے لئے کام کریں۔‘‘
حضرت نے ملی مسائل کے حل کے لئے بھی جو بن پڑا اس سے دریغ نہیں کیا ’’دینی تعلیمی کونسل‘‘ ہو، ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ یا ’’پیام انسانیت‘‘ کا پلیٹ فارم سب کا استعمال مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے کیا، بالخصوص ’’پیام انسانیت‘‘ کے ذریعہ جہاں برادران وطن کو ایک مہذب انسان اور ذمہ دار شہری بننے، اپنے اندر وسعت نظر اور وسعت قلبی پیدا کرنے کا درس دیا، وہیں مسلمانوں کوتلقین کی کہ وہ ہندوستان کو اپنا ملک سمجھیں، اس کی رنگا رنگ تہذیب کے ماننے والوں کے ساتھ شرافت وانسانیت کا سلوک کریں، مل جل کر رہیں، ہندو اور مسلمانوں کو ایک ہی کشتی کا سوار تصور کرکے باہم معاملہ کریں، اس تحریک کا مسلمانوں کو اچھا پھل یہ ملا کہ اکثریت کے حلقوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہوئی اور گرم فضا کو معتدل بنانے میں مدد ملی، حضرت نے ہندوستان کی خوابیدہ ملت کو جگانے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ شہر شہر ، قریہ قریہ اپنی تقریروں کے وسیلہ سے یہ بتایا کہ دنیا پر خودغرضی اور بداخلاقی کا مانسون چھایا ہوا ہے، اسے چادروں سے نہیں روکا جاسکتا لیکن انسانیت کا درد محسوس کرکے اور اپنے ملک کو نمونہ کا ملک بناکر اس صورت حال پر ضرو ر قابو پایا جاسکتا ، ان تقریروں کے مجموعے ’’پیام انسانیت‘‘ ’’تحفہ انسانیت‘‘ اور ’’تحفہ دکن‘‘ کے نام سے طبع ہوئے اور انسانیت کا یہ پیغام زندگی کے آخری مرحلہ تک وہ لوگوں تک پہونچاتے رہے۔
حضرت سرگرم سیاست سے دور رہے لیکن وطن کی محبت اس کی بھلائی اور ترقی کی فکر نے انہیں ہمیشہ بے چین رکھا، ’’پیام انسانیت‘‘ تحریک بھی گویا ایک نسخہ کیمیا تھی جس کے ذریعہ وہ قوم اور ملت کو مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا درس دیتے تھے۔ اس کی بنیاد اگرچہ ایک تقریر کے ذریعہ ۱۹۵۴ء میں رکھی گئی لیکن عملی طو ر پر اس تحریک کا آغاز ۱۹۷۴ء سے ہوا اور زندگی کے آخری مرحلہ تک حضرت کا اس سے والہانہ لگاؤ جاری رہا۔ ملت اس تحریک کی معنویت کو سمجھے اور اس کے پیغام پر توجہ دے تو آج بھی تعصب وتنگ نظری کی دیواریں منہدم ہوسکتی ہیں اور بحیثیت انسان مسلمانوں کے لئے دوسروں کا درد وتکلیف سمجھنا آسان ہوجائے گا، اس موضوع پر حضرت مولانا علی میاں نے جو تقریریں فرمائیں ’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘ کہ مصداق نہایت موثر ہیں، ان تقاریر میں ان کے دل کا درد اور فکر کی روشنی جلوہ گر نظر آتی ہے۔
حضرت کا عوام سے خطاب ہو یا طلباء سے گفتگو، اہل علم سے درد دل کہہ رہے ہوں یا حاکم وامراء کو نصیحت فرما رہے ہوں سب کو وعظ ونصائح کے بجائے آئینہ دکھانے پر وہ یقین رکھتے تھے اور سننے والے اس آئینہ میں اپنی صورت وسیرت کی کمزوریوں ، اپنے دل ودماغ کی کوتاہیوں کا مشاہدہ کرتے جاتے تھے، اس بالواسطہ ترسیل سے حضرت نے وہ کام لیا جو زورِ خطابت اور جوش بیان سے نہیں ہوسکتا تھا، اسی طریقہ نے عوام الناس سے اہل علم تک سب کو متاثر کرکے ان کا گرویدہ بنادیا تھا۔ ان تقریروں کو پڑھنے سے ایک منضبط تحریر کی خوبی نظر آتی ہے، جو دماغ سے زیادہ دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، قرآنی آیات واحادیث کی روشنی میں بزرگوں کی سیرت وسوانح کے حوالہ سے حضرت جو فرماتے وہ سامع کے دل میں اترجاتا اور زبانِ حال سے وہ پکار اٹھتا ؂
دیکھنا تقریر کی لذت جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

اک تازہ حکایت ہے




اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے
اک شخص کو دیکھا تھا
تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا
اپنوں کی طرح ہم نے
اک شخص کو سمجھا تھا
پھو لوں کی طرح ہم نے
کچھ تم سے ملتا تھا
باتوں میں ،شباہت میں
ہاں تم سا ہی لگتا تھا
شوخی میں شرارت میں
دکھتا بھی تمہی سا تھا
دستور محبت میں
وہ شخص ، ہمیں اک دن
غیروں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا
پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھہ نہ آیا وہ
ہم نے تو بہت ڈھونڈا
تم کس لیے چونکے ہو
کب ذکر تمھارا ہے؟
کب تم سے تقاضا ہے؟
کب تم سے شکایت ہے؟
اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے



 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں