اک تازہ حکایت ہے




اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے
اک شخص کو دیکھا تھا
تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا
اپنوں کی طرح ہم نے
اک شخص کو سمجھا تھا
پھو لوں کی طرح ہم نے
کچھ تم سے ملتا تھا
باتوں میں ،شباہت میں
ہاں تم سا ہی لگتا تھا
شوخی میں شرارت میں
دکھتا بھی تمہی سا تھا
دستور محبت میں
وہ شخص ، ہمیں اک دن
غیروں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا
پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھہ نہ آیا وہ
ہم نے تو بہت ڈھونڈا
تم کس لیے چونکے ہو
کب ذکر تمھارا ہے؟
کب تم سے تقاضا ہے؟
کب تم سے شکایت ہے؟
اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے



 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں