اے خدا تیرے بنا زندگی موت ہے

اے خدا تیرے بنا زندگی موت ہے

      اے خدا، تیرے بنا زندگی موت سے بھی بد تر ہے۔ تیرے بنا چاند کی روشنی تیرگی، سورج کی کرنیں بے نور، تاروں کی چھاؤں معدوم ، آسمان کی وسعت ایک تنگ گلی اور نیلگوں آسماں ایک سیاہ چادرہے۔ 

        تیرے بغیر پرندوں کی چہچہاہٹ ایک بے ہنگم شور، پھولوں کی مہک بے کیف بو ، قوس قزح لایعنی لکیریں، باد نسیم صحرا کے تھپیڑے، پتوں کی سرسراہٹ بے معنی آواز، ساحل کی موجیں بے بلا وجہ کا زیرو بم اور بارش کے قطرہ نامعقول نمی ہے۔

       تیرےبغیر زیست بس سانسوں کا آنا جانا ، دل محض گوشت کا لوتھڑا ، عقل عیاری کی آماجگاہ، نگاہیں ابلیس کی پناہ گاہ اور بدن کے زندہ لاش ہے۔تیرے بنا ہر حسن غلاظتوں کا ڈھیر، ہر رشتہ لایعنی تعلق، ہر انسان شیطان  کا پرتو اور ہر محفل اجڑا ہوا دیار ہے۔

      تیرے بنا بنا نماز ریاکاری ، زکوٰۃ سانپوں کا ڈنک، حج محض ایک یاترا اور روزہ احمقوں کا فاقہ ہے۔تیرے بنا تبلیغ محض مارکیٹنگ ، تقریر نقلی پھولوں کا گلدستہ ، مذہبی پیشوائیت پنڈت کی دوکان، جہاد اک فساد، اذان ایک رسمی اعلان ، جمعہ ایک لایعنی اجتماع اور عید ابلیس کی بزم ہے۔تیرے بنا حیا ایک تکلف، تفریح ایک بے ہودہ عمل، غناء ایک بے ہنگم شور اور سماج ایک جم غفیر ہے۔ تیرے بغیر کمانا ایک حرام عمل، رقم کی لین دین استحصال کا ذریعہ، فلاح کا کام محض دکھاوا، تعلیم جہل کی بنیاد ، کھانا اور پینا جانوروں کا فعل اور جنسی تعلق حیوانی شہوت ہے۔

       میں یہ چاہتا ہوں کہ تو ہو اور کچھ نہ ہو۔ تو نہیں تو کچھ بھی نہیں تو ہے تو سب کچھ ہے۔تو ہے تو گلوں میں رنگ ہے، باد نوبہار ہے۔ ترنم ہزار ہے، بہار پر بہار ہے، ہوا بھی خوشگوار ہے۔ تو ہے تو نماز اک معراج، زکوٰۃ مال کی پاکی، روزہ تقوی کا ذریعہ اور حج تزکیہ کا ذریعہ ہے۔

       میں چاہتا ہوں کہ تو میرے شب و روز میں آ،میرے تکلم میں سما، میرے بچھونے کو سجا، میرے سجدوں کو بسا، مجھ کو راتوں میں اٹھااور اور کچھ پاس ذرا اور پھر دور نہ جا۔


                          از پروفیسر محمد عقیل








 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں