کبھی لب پہ آکے مچل گئی کبھی حد سے بات گزر گئی

کبھی لب پہ آ کے مچل گئی کبھی حد سے بات گزر گئی
میں نہ کہہ سکا وہ نہ سن سکے یونہیساری رات گزر گئ
ملا دوستوں کا ہجوم بھی ۔۔۔۔ ملی عیش کی بھی فضا مگر
وہ گھڑی تھی حاصلِ زندگی جو تمہارے ساتھ گزر گئی
چُھپا چاند تارے بھی سو گئےبجھے حسرتوں کے چراغ بھی
ترے انتظار میں بے وفا ۔۔ مری یہ بھی رات گزر گئی
وہ جو شامِ وعدہ نہ آ سکے تو لباسِ اشک میں آنکھ سے
مری آرزو ۔۔۔ مریحسرتوں کی حسیںبرات گزر گئی
مجھے دردؔ ۔۔ نیند نہ آ سکی ۔۔ مجھے دردؔ ۔۔ چین نہ مل سکا
مرے خواب میں بھی نہ آئے وہ اسیدُھن میں رات گزر گئ
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں