عربی شاعر اردو شاعری کے ساتھ آپ کے سامنے ۔۔۔۔۔ذرا سن تو لیں

اشعار تو بہت سنے ہوں گے شاعر بہت دیکھے ہوں گے لیکن ایسے اشعار جسے روانی کے ساتھ اور عرب شاعر ہو پھر وہ عربی اشعار کے ساتھ اردو شاعری بھی کرتا ہو شاید پہلی مرتبہ ایسا شخص آپ کے سامنے ہے ۔عمر بن سالم العیدروس








رمضان المبارک رحمت مغفرت اور نجات کا مہینہ

      رمضان المبارک رحمت مغفرت اور نجات کا مہینہ

         خالقِ کائنات نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں۔نوری یعنی فرشتے،ناری یعنی جن،اور خاکی یعنی انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تخلیق اس طرح ممکن ہوئی کہ جسم کو مٹی سے بنایا گیا اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی۔جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا گیا کہ تمام تر اناج غلّہ پھل اور پھول زمین سے اُگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا۔ہم سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیاء سے پورا کرتے رہتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی میسّر آتا ہے جو رمضان المبارک ہے۔

           جس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔اے لوگو ! جو ایمان لائےجو،تم پر روزے فرض کردئیے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کئے گئے تھے۔اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (مگر نہ رکھیں ) تو وہ فدیہ دیں۔ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے ،اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے ،تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں یہی اچھا ہے کہ روزہ رکھو۔
                                                                 (سورۃ البقرۃ )
             رمضان المبارک کی فضیلت وبرکت کا تذکرہ کیا جائے تو شائد سینکڑوں بلکہ ہزاروں اوراق سیاہ ہوجائیں اور فضائل و برکات کا سلسلہ ختم نہ ہو۔یہاں چند باتوں کا ذکر جن کی وجہ سے رمضان المبارک کا مہینہ اس قدر بابرکت ہوگیا۔سب سے اہم اور خاص بات تو یہ ہے کہ اس ماہِ مقدس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور اس کے ذریعے انسانیت کو ہدایت ملی اور انسان کا ہدایت یافتہ ہونا ہی دراصل روح کی تندرستی ہے۔اور آخرت کی کامیابی ایک کامیاب روح سے منسلک ہے۔اس مہینے کو تربیت کا مہینہ بھی کہتے ہیں۔
                  اس 30 روزہ تربیتی کیمپ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا ان کے مقامی وقت کے اعتبار سے نظام الااوقات متعین کردیا جاتا ہے اور سب ایک ہی آواز پر سحری کا خاتمہ کرکے نماز پڑھنے کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔اور سورج غروب ہوتے ہی ایک آواز پر افطار کرتے ہیں۔                        
         صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ وقت کی پابندی اور ٹائم مینجمنٹ کا مہینہ ہے جس میں انسان خصوصاً مسلمانوں کو یہ سیکھنے کا موقع میسّر آتا ہے کہ وہ اپنے وقت کا استعمال کیسے کریں اور سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں اپنا وقت کس طرح گزاریں۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں صبر کی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ بقیہ گیارہ مہینوں میں کس طرح صبر کیا جائے۔
            رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہذاٰ اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس مہینے کے پورے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ،سختی نہیں کرنا چاہتا۔اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔
            رمضان المبارک رحمت کا مہینہ بھی ہے پورے سال مسلمان ارادی اور غیر ارادی طور پر گناہوں کا انبار جمع کرتے ہیں تو جب رمضان میں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے تو ساری امّت عشرہء رحمت سے فیضیاب ہوتی ہے ہم سب کو چاہیئے کہ اللہ پاک سے گناہوں سے توبہ اور رحمت طلب کریں‌کہ وہ تمام لوگوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔آمین۔
          اس ماہِ مقدس کا دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جس میں ربِ کائنات سے مغفرت مانگنی چاہیئے کہ وہ سب کی مغفرت فرمائے اور گناہوں کو معاف کرے۔
           تیسرا اور آخری عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے جس میں نجات مانگنے والوں کو آتشِ دوزخ سے نجات دے دی جاتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا روزہ جہنم سے ایک ڈھال ہے لہذاٰ روزہ دار کو چاہیئے کہ وہ نہ تو فحش کلامی کرے اور نہ ہی جاہلوں جیسا کام ،اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔
         روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے ،اللہ کا ارشاد ہے کہ روزہدار اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہش میرے لئے چھوڑتا ہے لہذاٰ روزہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے۔                                                    (صحیح بخاری ) 
          ایک اور حدیث کے مطابق رمضان المبارک میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا،جب ماہِ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
                                                              (صحیح بخاری۔)
             اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رمضان میں جب شیاطین کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے تو پھر اس روئے زمین پر اللہ کی نافرمانی کیوں ہوتی ہے ؟؟؟
         تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولادِ آدم کو گمراہ کرنے والی کئی قوتیں متحرک ہیں ،صرف ایک قوت کو بےبس کردیا جاتا ہے۔
          اس ماہِ مبارک کے ان گنت فضائل ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ قیامت کے دن روزہ دار جنت کے ایک دروازے ریان سے داخل ہونگے جس میں کوئی دوسرا داخل نہیں ہوسکے گا۔آواز دی جائے گی کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ اُٹھ کھڑے ہوں گے اُن کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا اور روزے داروں کے داخلے کے بعد اسے بند کردیا جائے گا۔ریان کے معنی سیرابی کے ہیں،چونکہ روزہ دار دنیا میں اللہ کے لئے بھوک و پیاس برداشت کرتے تھے اس لئے اُنہیں بڑے اعزاز و احترام کے ساتھ سیرابی کے اس دروازے سے گزارہ جائے گا اور گزرتے وقت ایک ایسا مشروب پلایا جائے گا کہ پھر کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔
         کچھ لوگ محض نیند کی خاطر رات کو کھا پی کر سو جاتے ہیں اور سحری سے گریز کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ،سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ سحری ضرور کی جائے خواہ پانی کا ایک گھونٹ پی کر یا کجھور اور منقے کے چند دانے کھا کر ہی کیوں‌نہ ہو،اس سے روزہ رکھنے میں‌قوت پیدا ہوتی ہے۔شدید گرمی اور سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔ایک حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلّم ایک مرتبہ سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ایک شخص کے گرد ہجوم دیکھا جو اُس پر سایہ کئے ہوئے تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے پوچھا یہ کون ہے ؟ جواب دیا گیا کہ یہ روزہ دار ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ،سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔یہ حدیث اُن لوگوں کے لئے دلیل ہے جو دورانِ سفر افطار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں حالانکہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر سفر میں روزہ رکھنے سے تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لئے افطار افضل ہے۔افطار میں جلدی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور ایک حدیث پاک میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے کہا ہے کہ ،لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلّم نے افطار میں تاخیر کے عمل کو خیر و برکت سے خالی قرار دیا ہے۔
        رمضان المبارک کی فضیلت و برکات کے حوالے سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔یہ بابرکت مہینہ ہر سال دھوم دھام سے آتا ہے اور درودیوار اذان اور قرآن کی آوازوں سے گونجنے لگتے ہیں۔کثرت کے ساتھ قرآن پڑھا جاتا ہے نمازوں کی ادائیگی ہوتی ہے،عبادات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور لیلتہ القدر کی تلاش میں ہر مسلمان کی خواہش بن جاتی ہے۔مگر افسوس کے رمضان المبارک کے رخصت ہوتے ہی نیکیوں کے کام بھی ختم ہوجاتے ہیں یہاں تک کے بہت سے لوگ چاند رات کو بازار میں مصروف رہنے کے بعد عید کی نماز بھی نہیں پڑھتے ۔ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مسلمانوں کا اصل امتحان رمضان المبارک میں نہیں بلکہ اس کے بعد ہوتا ہے کیونکہ اس مہینے میں تو اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور رمضان المبارک کے بعد اللہ دیکھتا ہے کہ میرے بندوں نے 30 روزہ تربیت سے کیا کچھ سیکھا اور اسے اپنی زندگی کا حصّہ بناتے ہوئے کیسا عمل کیا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان کے دنوں میں صبر کی عادت اور نیکیوں کی تربیت مضبوطی کے ساتھ کی جائے تا کہ سال کے بقیہ 11 مہینوں میں بھی وہی طریقہء زندگی ہو جو کہ اللہ تبارک تعالیٰ کو پسند ہے اور جو آسانی چاہتا ہے سختی نہیں کرتا۔
سارے سال جسم کی توانائی اور صحت کے لئے فکر مند رہنے والے صرف ایک مہینے میں روح کی غذا کے لئے کیا اہتمام کرتے ہیں یہ ان کے اپنے اوپر منحصر ہے۔
             ایک حدیث پاک صلی اللہ علیہ وسلّم میں ارشاد ہے کہ،اے لوگو ! اتنی ہی عبادت کرو جو قابلِ برداشت ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا یہاں تک کے تم خود عبادت کرنے سے اُکتا جاؤ گے۔ 





قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلا

*قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلا*

✏ فضیل احمد ناصری

*ایک شاگرد سے ملاقات*

گزشتہ دنوں ممبئی میں اپنے ایک شاگرد سے ملاقات ہوئی، یہ مولوی فرقان تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور مرکزالمعارف ممبئی سے سند یافتہ- یہ دارالعلوم عزیزیہ میرا روڈ میں میرے پاس متعدد کتابیں پڑھ چکے تھے، میں کبھی کبھی "گلزارِ دبستاں "کا جملہ "ملاّ فرقان خود را خراب کرد "ان پر چسپاں کرتا، تو مسکراتے اور مزہ لیتے- سکڑا ہوا چہرہ، چھوارے سا بدن، داڑھی کے عنوان سے چند بال ٹھوڑی سے لٹکے ہوے- پہلے کی طرح اب بھی چھوئی موئی ہی تھے، مجھے دیکھ کر کھل اٹھے، آؤ بھگت اور سلام و نیاز- ایک عرصے کے بعد انہیں دیکھا تو میری خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا، علیک سلیک کے بعد حال احوال کا تبادلہ ہوا تو پتہ چلا کہ ممبئی کی کسی ایمبیسی میں مترجم کا کام کر رہے ہیں- میں نے تنخواہ معلوم کی تو انہوں نے بتایا: تیس ہزار روپے - مجھے بڑی مسرت ہوئی، اکہرے جسم اور بے گوشت چہرے کے باوجود اطمینان کی چمک ان کی پیشانی پر نمایاں تھی- میں نے پوچھا کہ بیٹے! تم تو اچھی صلاحیت کے مالک تھے، کتب فہمی تمہاری مثالی تھی، حاضر باشی میں بھی اساتذہ میں تمہارے چرچے تھے، اتنی اچھی استعداد اور خدمت ایمبیسی میں؟

*وحشت ہے مجھے قلتِ تنخواہ سے یارو!*

کہنے لگا: مدارسِ اسلامیہ میں ہمارے لیے گنجائش ہی کہاں ہیں؟ خدمات زیادہ، مگر تنخواہ اس قدر کم کہ ہم جیسے غریبوں کا گزر بسر ہی ممکن نہیں- مجھے سمجھ سے پرے ہے کہ مدارس والے تنخواہیں کیوں نہیں بڑھاتے؟ ابھی تک وہی فرسودہ فکر اور وہی پٹا پٹایا نظام - اب تو ہر چیز بدل گئی، مدارس کا زاویۂ فکر بھی تبدیل ہونا چاہیے-

*مساجد بھی مدارس کے شانہ بشانہ*

اربابِ مدارس کی دیکھا دیکھی مساجد نے بھی اپنا قبلہ اب تک درست نہیں کیا، وہی پرانی روش اور وہی کج ادائیاں- تنخواہیں بے حد قلیل، ائمہ کا اکرام ندارد- آزار، جھڑکیاں اور قید و بند ان کا مقدر- مسجدیں بڑی خوب صورت، تاج محل کو ٹکر دیتی ہوئی، حسن و دل کشی میں لازوال، مگر ائمہ کی یافت وہی مختصر، اونٹ کے منہ میں زیرے جیسی- بے چارے ائمہ اپنی علمیت بھی ضائع کریں، تقریریں بھی ٹرسٹیوں کے مطابق ہوں، زندانی کیفیت میں شب وروز بھی گزاریں، معاشی بہتری کے لیے دوسری راہیں بھی مسدود، بایں ہمہ تنخواہ کا وہ معیار کہ:

آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

کی مصداق- بھلا بتائیے، ایسے میں امامت کی ہمت کون کرے اور جرأتِ رندانہ کہاں سے لاے؟ 

*مدارس مجاھدہ گاہ ہیں، معیشت گاہ نہیں*

میں اپنے عزیز کی اس تقریر پر دنگ تھا، میں نے کہا: بیٹے! تم تو جانتے ہی ہو کہ دنیا کو مؤمن کا "قیدخانہ "کہا گیا ہے، بعض احادیث میں اس پر "مسافر خانے "کا بھی اطلاق ہوا ہے، قید خانہ ہو یا مسافر خانہ، دل لگانے کی جگہ نہ یہ ہے، نہ وہ- امتِ مسلمہ "امتِ مجاھدہ "بھی ہے، مدارسِ اسلامیہ اور مساجد اساتذہ اور ائمہ کو یہی مجاھدے سکھاتے ہیں، قلیل تنخواہوں کے پیچھے ان کا یہی نقطۂ نظر کار فرما ہے، عہدِ نبوی سے لے کر قریب کے ماضئ مرحوم تک کے اکابر محض اشاعتِ اسلام کے لیے دینی اداروں سے وابستہ رہے، دنیا ان کے پیچھے ناک رگڑتی ہوئی آئی، مگر انہوں نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، لہذا قلتِ تنخواہ کا عذر "عذرِ لنگ "سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا-

*مجاھدے کی نوعیتیں بدل گئیں تو تنخواہوں کی نوعیتیں تبدیل کیوں نہ ہوں؟*

کہنے لگا: اب تو سب کچھ بدل چکا، ماضی کی زمین اور کل کا آسمان اپنا وجود کھو بیٹھا ہے، تبدیلی کی لہر نے جن جہانوں کو زیر و زبر کیا ہے، مدارس بھی اس سے اچھوتے نہیں رہے، مثلاً دیکھیے! پچھے ادوار میں طلبہ کی پٹائی کا بڑا ماحول تھا، اساتذہ ہر وقت عصا بدست اور "کف در فضا " رہتے، تنبیہ کے لیے دست و عصا کا استعمال ایک عام سی بات تھی، والدین کا ذہن بھی یہی تھا کہ تہدید و ضربت طلبہ کی استعداد کو جگاتی اور فنکاری کو ابھارتی ہے، اسی لیے داخلے کے وقت بچوں کے ذمے دار کہتے کہ ہڈی ہماری ہے اور کھال آپ کی- لیکن اب مار دھاڑ بالکل بند ہے، طلبہ جسمانی آزار سے مکمل محفوظ ہیں، اساتذہ کو سخت تاکید ہے کہ حرب و ضرب نہیں چلے گی، گوشِ شنوا نہ رکھنے والے مدرّسین کو فوراً سے پیش تر "باب الخروج "تک دکھا دیا جاتا ہے- دوسری مثال بھی لے لیجیے! پچھلے زمانے میں طلبہ کی صلاحیت سازی کے لیے مختلف علوم و فنون کی اہم کتابیں پڑھائی جاتی تھیں، اب وہ کتابیں "طاقِ نسیاں "کی یادگار بن چکی ہیں، ان کتابوں کے اخراج کی وجہ یہی بیان کی گئی کہ طلبہ کی برق طبعی پہلے جیسی نہیں رہی، یہ کمزور ہو گئے ہیں، اساتذہ بھی عدمِ مہارت کے سبب ان کتابوں کی تدریس کی اہلیت کھو بیٹھے - آج صدرا اور شمس بازغہ کا نام کتنوں کو معلوم ہے؟ اگر معلوم بھی ہو تو ان کی فنی وابستگی کون بتا سکتا ہے؟ جب اتنی تبدیلیاں نصابِ تعلیم وغیرہ میں واقع ہو گئیں اور اساتذہ و طلبہ کو مجاھدے سے بچا لیا گیا تو تنخواہ بے چاری نے کیا قصور کیا ہے کہ یہ "بَونی " بڑھتی ہی نہیں، اس کا نصاب آسانیاں پیدا کرنے سے آج بھی قاصر ہے، اب بھی چار ہزار، پانچ ہزار اور چھ ہزار روپے کو "معقول تنخواہ "نام زد کیا جا رہا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟

*جدید باصلاحیت فضلا اسی لیے بھاگ رہے ہیں*

سلسلۂ کلام میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنخواہ کے تئیں مدارس اور مساجد کے قدامت پسندانہ رجحان نے نوجوان فضلا کو پریشان کر رکھا ہے، کم زور اور متوسط استعداد کے حاملین نانِ شعیر پر ہی قناعت کر لیتے ہیں، کیوں کہ ان کا دائرۂ فکر و عمل آگے بڑھنے نہیں دیتا، وہ اپنی بے مائیگی، گھریلو پریشانی، تنگ دست پس منظر اور ناگفتہ بہ افلاس کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، ان کے پاس قناعت پسندی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کہ باصلاحیت فضلا ان مقامات کی خدمت سے گریزاں رہتے ہیں اور کثیرالمشاہرہ ادارے کی طرف رجوع ان کا ہدف ہوتا ہے- باتوں کا سلسلہ یہیں تک چلا تھا کہ ہمارے راستے جدا ہوگئے، سلامِ وداع کے بعد وہ اپنی منزل کی جانب، میں اپنے مستقر کی طرف-

*فضلاے مدارس حکومتی اداروں کی پناہ میں*

 اپنی منزل کی طرف میں جوں جوں بڑھ رہا تھا، عزیز مکرم کے خیالات ذہن میں گردش کر رہے تھے، دیر تک میں اسی سوچ میں غرق رہا کہ ممتاز صلاحیتیں اگر اسی طرح مدارس اور مساجد سے بھاگتی رہیں اور امت کی قیادت مفقودالاستعداد علما کے حصے میں آنے لگی تو اس قوم کا کیا ہوگا؟

دیکھا یہ گیا ہے کہ ممتاز ترین فضلاے ندوہ بالعموم خلیجی ممالک میں سرکاری محمکوں کے کلرک ہوتے ہیں، ان کی یافت زوردار اور مرفہ الحالی اپنے جوبن پر ہوتی ہے، اقتصاد کی یہ کیفیت ان کے لیے کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو، لیکن مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحب اس رجحان سے نالاں رہتے اور فرماتے کہ ندوہ نے تعلیمی سلسلہ حکومتی اداروں کو کلرک دینے کے لیے جاری نہیں کیا تھا، اس کا مقصد دنیا بھر میں اسلام کی اشاعت ہے، فضلا کی موجودہ صورتِ حال میرے لیے مایوس کن ہے- یہ بات حضرت علی ندوی کی فضلاے ندوہ سے متعلق ہے، مگر اس باب میں وہ بھی تنہا نہیں رہے، تازہ ترین حقائق یہ ہیں کہ فضلاے دارالعلوم بھی حکومتی اداروں سے مربوط رہنے میں اپنی سلامتی باور کرتے ہیں، فراغت پاتے ہی ذی استعداد فضلا کا رخ یونیورسٹیوں کی جانب ہو جاتا ہے، قال اللہ اور قال الرسول کے زمزموں سے دارالحدیثوں کو معمور کر دینے والے طلبہ علوم عصریہ کی طرف ایسے لپکتے ہیں گویا ان کے دامن زر و گوہر سے ہنوز خالی ہوں-

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عصری دانش گاہیں خوبیوں سمیت اپنے ساتھ بڑی خرابیاں بھی لاتی ہیں، ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر تازہ کر لیجیے:

گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ

چناں چہ مشاھدہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں داخلہ ہوتے ہی سب سے پہلا حملہ ان کے حلیہ پر ہی ہوتا ہے، مشرقیت ختم ہو جاتی ہے اور مغربیت ان کے انگ انگ سے مترشح - ستم بالاے ستم یہ کہ علماے اسلام اور ان کے مراکز ان کی نگاہوں میں نہیں جچتے ، خوش عیشی اور تن آسانی انہیں اسلام بیزار بنا دیتی ہے- یہ دینی علوم کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے؟ 

*بورڈ کے مدارس میں علما کی بھیڑ*

 سرکار سے ناوابستہ دینی اداروں میں تنخواہوں کی خرگوش روی کا ایک مذموم اثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بورڈ کے مدارس پر فضلاے مدارس دیوانہ وار گرنے لگے ہیں، قرض لے لے کر اور بھاری بھرکم رشوت دے دے کر یہ لوگ ان سے مربوط ہو رہے ہیں، جاہل اور غیرمستند فضلا اپنی مثالی رشوت کے بل پر بڑے بڑے عہدوں پر بھی براجمان ہیں، اساتذۂ حکومت کا خیال ہے کہ یہاں کی تدریس سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے،  ہر طرح منفعت بخش ، اخراج کا خوف دل میں نہیں رہتا، تنخواہ معقول ترین اور دل خواہ ہوتی ہے، اس کے بڑھنے کی رفتار بھی برق آسا- یہاں بلا وجہ کی محکومی بھی نہیں، حریفوں کا دباؤ بھی نہیں، اور آزادی کی آزادی بھی ہے- 

*عزل تو مکروہ ہے*

بورڈ کے ایک مدرس سے میری ملاقات ہوئی، کہنے لگے: مولانا! آپ حضرات مدرسہ بورڈ کو نگاہِ حقارت سے دیکھتے ہیں اور ہماری کمائی کو مکروہ گردانتے ہیں، ایسا کیوں؟ میں نے کہا کہ بورڈ کے مدارس میں تعلیم صفر ہوتی ہے اور آمدنی محنت سے زائد، کہنے لگے کہ ایک لطیفہ یاد آیا، اجازت ہو تو سناؤں! میں نے کہا: جی ضرور، کہنے لگے کہ ایک شخص زنا میں ملوث ہوا، نتیجتاً عورت حاملہ ہوگئی، لوگوں نے زانی کا پتہ پوچھا تو ناچاروناچار عورت کو بتانا پڑا، زانی پکڑا گیا اور اسے سزا ملی، کسی دوست نے اس سے پوچھا کہ نفس کی شرارت سے اگر تو نے زنا کر ہی لیا تو "عزل "سے کام لے لیتا تا کہ عورت کو علوق ہی نہ ہو اور تو بچ جاتا! کہنے لگا کہ عزل کیسے کرتا؟ عزل تو مکروہ ہے- ٹھیک یہی حال ہمارے بعض علما کا ہے، الٹی سیدھی رسیدیں چھپا کر چندہ کرتے ہیں، فرضی مدارس کے عنوان سے مال کی فراہمی ہوتی ہے، دین کے نام پر اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں، اساتذہ کی ضروریات کا خیال بالکل نہیں رکھتے مگر جب ان سے کہا جاے کہ مدرسہ بورڈ سے منسلک ہو جائیے! تو بے تکلف کہتے ہیں کہ بورڈ کی تنخواہ مکروہ ہے- ایں چہ بوالعجبی ست؟

*لہذا مدارس والے بھی تنخواہ کا معیار بلند کریں*

کوئی مانے یا نہ مانے، وقت بہت کچھ بدل چکا، مادیت ہر جگہ اپنے پاؤں پسار چکی ہے، گرانی در گرانی سے حالات دگرگوں ہیں - وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس اور مساجد والے بھی اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہوں کا معیار بلند ترین کریں - پچھلے دور میں اخراجات کم تھے،اس لیے چل جاتا تھا، اب بڑھ گئے ہیں، ہر استاذ اور امام اپنے بچوں کو عصری علوم دلانا چاہتے ہیں، عصری علوم کی گرانی کون نہیں جانتا، داخلے کی فیس اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ ہوش اڑ جائیں، پھر کتابوں کی خرید، ان کے ماسوا دیگر اخراجات- سالانہ حساب لگائیے تو ابتدائی جماعتوں میں ہی ایک بچے پر ساٹھ ہزار خرچ ہو جاتے ہیں، اگر علما و ائمہ کی تنخواہیں وہی چھ ہزار ہوں اور ساٹھ ہزار بچے کی پڑھائی میں چلے گئے تو گھر کے دیگر اخراجات کی سبیل کیا ہوگی؟ اس پہلو پر کون غور کرے گا؟ لہذا مدارس اور مساجد پر لازم ہے کہ اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہیں بڑھائیں، الحمدللہ ہمارے دیوبند میں تنخواہیں معقول ہیں، دارالعلوم دیوبند سمیت تقریباً تمام ہی بڑے ادارے اپنے اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، مگر بیشتر ملک کے دیگر مدارس میں تنخواہ کے تئیں پرانی روایتیں اب بھی برقرار ہیں، وہاں اب بھی وہی چار، پانچ اور چھ ہزار کو بیس ہزار کا مساوی سمجھا جاتا ہے اور برکت برکت کی رٹ لگا کر اساتذہ کی دل شکنی کی جاتی ہے، کام خوب لیتے ہیں اور تنخواہ وہی گئی گزری اور پژمردہ- آج کے ماحول میں تنخواہ کی شروعات پندرہ ہزار سے ہونی چاہیے، پھر درجہ بدرجہ مزید اور مزیدتر - اس سے نیچے کی تنخواہ کو تنخواہ کہنا علم دین کی توہین ہے- مشہور محدث سفیان ثوری فرماتے ہیں: اگر علما کے پاس دولت نہ ہو تو دنیا دار لوگ علما کو رومال بنالیتے ہیں، جسے استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے-

*مدارس کا نظام اللہ چلاتا ہے*

جو شے زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ زیادہ بڑھتی ہے، تنخواہیں بڑھائیں گے تو مدرسے کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تنخواہ کس بنیاد پر بڑھائی جاے، ادارے کا سالانہ بجٹ اس کی اجازت نہیں دیتا، ان کی فکر کا قبلہ درست نہیں ہے- قوم دینے کو تیار ہے، آپ تنخواہیں بڑھائیے،پھر دیکھیے: خوش دل اساتذہ اپنی خدمات کس طرح پیش کرتے ہیں! دارالعلوم کے رابطۂ مدارس اجلاس میں بار بار اس موضوع کو اساتذۂ دارالعلوم نے اٹھایا، مگر اس موضوع پر سنجیدہ نظر شاید ڈالنا نہیں چاہتے- اللہ جانے کیوں؟

آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے


آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے(قرارداد)

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
جی ہاں صاحبِ صدر! آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے کہ اسکے پاس مشامِ تیز بھی ہے، گفتارِ دلبرانہ بھی اور کردارِ قاہرانہ بھی۔۔۔۔، کیونکہ میرا اور اقبال کا ایمان یہی کہتا ہے کہ’’کم کوش ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی‘‘ اور وہ لوگ جن کو آہِ سحر بھی نصیب ہو، اور سوزِ جگر بھی، وہ زندگی کے میدان میں کبھی نہیں ہارتے۔ مانا کہ مصائب کڑے ہیں ،مانا کہ اسباب تھوڑے ہیں۔ مانا کہ آج دھرتی ماں مقروض ٹھہری۔ ارے مانا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک یہاں چھا گئے۔ ارے ما نا کہ ترقی کی رفتار کم ہے ۔ ارے ما نا کہ یہاں بھوک بھی ہے اور افلاس بھی۔ ارے مانا کہ یہاں بم بھی پھٹتے ہیں ۔ ارے مانا کہ شمشیر و سناں آخر ہو گئی اور طاؤس و رباب اوّل ٹھہرے ۔ ارے سب مانا۔ لیکن میرے غازی علم دین نے ایسے ہی حالات میں جنم لیا تھا۔ میرا جناح پونجا پھولوں کی سیج سے نہیں اگا تھا۔ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘ کا نعرہ لگانے والے آسائشوں کے پالے ہوئے نہیں تھے۔
صاحبِ صدر!
گوہر اور جوہر حالات کی بھٹی میں جل کر کند ن ہوئے ۔ارے نسل تو اس وقت بھی عیاش تھی، قوم تو اس وقت بھی کمزور تھی، بھوک اور افلاس تو تب بھی تھی، لوگ تو تب بھی مرتے تھے۔ لیکن اقبال کے شاہین نے ،اس مشکل کی گھڑی میں گھروں میں روٹیاں نہیں بانٹیں ،بلکہ ایک فکری انقلاب بر پا کیا ،کہ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس ذوقِ یقیں کا، جو پیدا ہو جائے تو غلامی کی زنجیریں کٹ جا یا کرتی ہیں۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس سوچ کا جوآدمی کو ہزار سجدوں سے نجات بخشتی ہے۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس تصور کا، جو نوجواں کو اتنا عظیم کرتی ہے کہ منزل خود انہیں پکار ا کرتی ہے۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس جذبے کا ،کہ جہاں صلہءِ شہید ، تب و تابِ جا ودانہ ہوا کرتا ہے۔ اقبال کا شاہین تو نام ہے اس اڑان کا، جہاں عشق کی ایک جست سبھی قصے تمام کرتی ہے۔ اقبال کا شاہین۔۔۔جو خاکی تو ہے ’’خاک سے پیوند نہیں رکھتا‘‘۔ جو ’’زہر ہلاہل کو قند نہیں کہتا‘‘ اور جو رہے ۔۔۔۔آتشِ نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش ‘‘ اور۔۔۔’’ جہاں ہے جس کے لئے وہ نہیں جہاں کے لئے‘‘ اور اقبال کا شاہین تو نام ہے اس قوت کا کہ:
دونیم جس کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ جس کی ہیبت سے رائی
ارے
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد الٰہی
اور
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
جنابِ صدر!
مرد حالات کے تھپیڑوں سے ڈر کر چوڑیاں نہیں پہن لیتے ۔ بھوک کے ڈر سے مردار نہیں کھاتے کہ’’شاہین کاجہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور۔۔۔۔سر چھپانے کے ڈر سے اپنا منہ مٹی میں نہیں ٹھو نستے ۔کہ ’’شاہیں کے لئے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی‘‘دوسروں کے سر سے کلاہ نہیں اتارتے کہ’’شاہین حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں ہو تا‘‘۔ارے اقبال کا شاہین تو وہ ہے جو جھپٹنے اور پلٹنے کا گُر جانتا ہو، جو جینے کیلئے مرنے کا ہنر جانتا ہو۔
اور آج میرے دیس کا ہر نوجوان اتنا بلند حوصلہ ہے کہ دشمن کی ہر گولی کا جواب ایک غوری سے دے سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نوجوان اور نگزیب حفی کی صورت اہلیانِ یورپ کی 210ملین روپے کی انعامی رقم واپس کر سکتا ہے ۔ برطانیہ کی سکونت کو ٹھوکر مار سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نو جوان ’’ڈھولا کے ڈھول‘‘ سے پلٹ کر سہارا فاؤنڈیشن کی بنیاد یں رکھ سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نوجوان اتنا ’’مال و مال‘‘ ہو گیا ہے ،کہ صغریٰ شفیع ہسپتا ل کی بنیادیں اپنے لہو سے سینچ سکتا ہے۔آج میرے دیس کا نوجوان گیند بلے کو چھوڑ کر سسکتی ،بلکتی انسانیت کیلئے کوئی شوکت خانم بنا نے کی سعی رکھتا ہے اور آج میرے دیس کا نوجوان دنیا کی سب سے زیادہ ایمبو لینسوں پر مشتمل ٹرسٹ اپنے ہی خون پسینے کی کمائی سے چلا سکتا ہے۔ ارے مانا! کہ ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر شہید ہونے والے پرانے ہو گئے۔ ارے مانا کہ غداروں کو مارنے کے لئے اپنے ہی طیارے زمین میں گھسا نے والے پرانے ہو گئے۔ارے سب مانا ۔۔۔۔۔۔مگر ربّ احد کی قسم:آج بھی میرے دیس کا ہرنوجوان اپنے وطن کی ناموس کے لئے اپنے لہوکی آخری بوند تک بہا سکتا ہے۔ ارے ہم سب کچھ سہی۔ ۔۔لوٹے بھی سہی، لٹیرے بھی سہی ، لیکن’’کتابِ مقدس‘‘ کی قسم جب آج بھی کوئی ہماری غیرت کو للکارتا ہے تو ایک ہی رات میں 9چوکیاں فتح ہو جایا کرتی ہیں۔ آج بھی کوئی ایک پر تھوی بنا تا ہے تو دو غوری میدان میں آتے ہیں۔ کوئی ایک دھماکہ کر تا ہے تو جواب پانچ سے ملتا ہے۔ارے ہم آج بھی زندہ ہیں، کیونکہ ہماری سوچ زندہ ہے اور جس کی سوچ زندہ ہو، وہی اقبال کاشاہین ہے ،اور آج میرے دیس کا ہر نوجوان اقبال کا شاہین ہے۔اور میرا ایمان کہتا ہے، کہ
ہمارا قافلہ جب عزم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑ نے دے
مجھے یقین ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

رب کونین میرے دل کی دعائیں سن لے

رب کونین میرے دل کی دعائیں سن لے










رمضان : نیکیوں کا موسم بہار

رمضان : نیکیوں کا موسم بہار

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الثانی کے گزرنے اور رجب المرجب کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان المبارک کی تیاری شروع فرماتے اوردعا کرتے ’’کہ اے اللہ رجب و شعبان میں برکت دے اوررمضان المبارک تک ہمیں پہونچا دے ( اللھم بارک لی فی رجب وشعبان و بلّغْنی رمضان ) اس کے ساتھ ر جب ہی سے روزانہ کے معمولات میں اضافہ ہوجاتا، شعبان آتا تو کثرت سے روزے رکھتے، اورایسی کثرت ہوتی کہ حضر ت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ گمان ہوتا کہ رمضان المبارک کے روزوں سے ملا دیں گے، اسی پس منظر میں یہ بھی فرمایا کرتے کہ شعبان میرا مہینہ ہے، یعنی روزے اللہ نے اس مہینہ میں فرض نہیں کئے لیکن مجھے وہ عمل پسند ہے جو اللہ کی طرف سے رمضان میں فرض ہے، شعبان کی پندرہ شب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے، اس رات میں خود اللہ رب العزت کی طرف سے رمضان کے آنے کے قبل ایسے انعامات اور فیوض و برکات کا اعلان ہوتا کہ بندے میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رمضان کی آمد آمد ہے ۔اس رات اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول سورج غروب ہونے کے بعد سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ منادی آواز لگاتا رہتا ہے کہ کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے میں بخش دوں، ہے کوئی رزق طلب کرنے والا جس پر رزق کے دروازے کھول دوں، پھر رمضان میں جو مغفرت کا اعلان عام ہوتا ہے اس سے قبل ہی بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر پندرہ شعبان کی شب میں گنہگاروں کی مغفرت کردی جاتی ہے، اتنی کثرت سے مغفرت ہی کی وجہ سے اسے لیلۃ البراءۃ کہا جاتا ہے۔
مفسرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اللہ نے اس رات میں قرآن کریم کے نزول کا فیصلہ کیا، جس کی تنفیذ شب قدر میں ہوئی؛ گویا جس طرح موسم بہار کی آمد سے قبل آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ باد بہاری چلنے والی ہے اور صبح کی سفیدی روشن دن کے آنے کی خبر دیتا ہے، اس طرح اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے آنے سے قبل ہی اس کے فیوض و برکات کے ایک حصہ کا آغاز شعبان سے کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیاریوں میں مشغول رہتے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے سامنے رمضان المبارک کی عظمت و اہمیت بیان فرماتے۔ پھر جب شعبان کے آخری ایام آتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استقبال رمضان پر تقریر فرماتے اور لوگوں کو خیر کے کاموں کی طرف ابھارتے۔
اس موقع سے آپ کی تقریر جو حضرت سلمان فارسیؓ کے حوالے سے احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگو !ایک باعظمت مہینہ آپہونچاہے یہ ماہ رمضان ہے۔ اس ماہ میں جو شخص کوئی نیک کام کریگا اس کا ثواب فرض کے برابراور فرض اداکریگا تو اس کا ثواب ستر فرض کے برابر ملے گا، جو روزہ دار کو افطار کرائے گا وہ جہنم سے خلاصی پائے گا ۔اوراسے روزہ دار کے بقدر ثواب ملے گا، جب کہ روز ہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔اوریہ ثواب محض ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرانے پر بھی ملے گا۔اور اگر کسی نے روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلا دیا تو حوضِ کوثر سے ایسی سیرابی ہوگی کہ جنت میں داخلے تک پیاس نہیں لگے گی اورجنت بھوک پیاس کی جگہ نہیں ہے ، فرمایا : اس ماہ کا پہلا حصہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا دوزخ سے آزادی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ میں اپنی خاص رحمت سے ایسا انتظام کرتے ہیں کہ شیطان بندوں کو گمراہ نہ کرسکے، اور برائی پر آمادہ کرنے سے باز آجائے اس لئے جنات اور سرکش شیاطین کو پابندِ سلاسل کردیا جاتاہے۔ جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے پورے ماہ کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور منادی خدا کی طرف سے آواز لگاتا ہے کہ خیر کے طالب آگے بڑھو اور شر کی طرف مائل لوگو رک جائو، باز آؤ، اتنے اہتمام کے باوجود اگر کوئی مسلمان اس ماہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور جنت کے حصول کے سامان نہیں کرتا تو بدبختی اور شقاوت کی انتہا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے لئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بدعا کہ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کروالے اس پر آمین کہا ہے، ایک حضرت جبرئیل کی بددعا، اور دوسرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آمین کہنا، ایسے لوگوں پر لعنت ہی لعنت کا کھلا اعلان ہے۔
یہ تمام انعامات اور فیوض و برکات اس ماہ میں نزول قرآن کی وجہ سے ہیں ، اس لیے اس ماہ مبارک کا حق یہ ہے کہ تلاوت قرآن کی کثرت کی جائے، تراویح میں قرآن سننے سنانے کا اہتمام کیاجائے، تہجد میں رات گذاری کی جائے اور ہرلمحہ کو قیمتی سمجھ کر ذکر، اذکار اور وظائف میں مشغول رہا جائے، روزہ کا ایسا اہتمام کیاجائے جو شریعت کو مطلوب ہے، اور جس سے تقوی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جو روزہ کا اصل مقصد ہے ، روزہ صرف کھانے پینے اور شہوانی خواہشات سے پرہیز تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ آنکھ، دل، دماغ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں، اور سبھی اعضا و جوارح کا روزہ رکھا جائے، آنکھ غلط چیزوں کو نہ دیکھے ، دل گناہوں کی طرف مائل نہ ہو، دماغ خدا کے احکام کے خلاف نہ سوچے، کان غلط نہ سنے، زبا ن غیبت، چغل خوری، جھوٹ، طعن و تشنع گالی گلوج سے محفوظ رہے، اور اعضا و جوارح خدا کی مرضیات پر لگ جائیں، ایسا روزہ دراصل روزہ ہے، بندہ جب ایسا روزہ رکھتا ہے تو اللہ خود اس کا ہوجاتا ہے، اور اللہ دلوں کے احوال جانتاہے، اس لیے اجر و ثواب کا ضابطہ ایک دس کا یہاں نہیں چلتا ، بلکہ جس نے اللہ کے لئے روزہ رکھا ہے ، اللہ ہی اس کا بدلہ دیں گے پھر چونکہ یہ غم گساری کا بھی مہینہ ہے اس لیے جہاں کہیں بھی رہے جس کام میں لگا ہوا ہے۔ اس میں اس کو ملحوظ رکھے، حسب استطاعت غربا کے خورد و نوش اور محتاجوں کی ضروریات کی کفالت کا بھی نظم کرے کہ یہ بھی روزہ کے مقاصد میں سے ایک ہے ہم لوگ جنہیں اللہ تعالی نے خورد و نوش کی سہولتیں دے رکھی ہیں اور بھوک پیاس کی تکلیف کا احساس پورے سال نہیں ہوتا، بلکہ شادی اور دیگر تقریبات میں کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کرتے ہیں، انہیں روزہ میں جب بھوک پیاس لگے تو ان کے اندریہ احساس جاگناچاہئے کہ سماج کے دبے کچلے لوگ جن کے گھر چولہا بڑی مشکل سے جلتا ہے۔ اور کئی بار فاقہ میں رات گذر جاتی ہے، کس قدر پریشانیاں محسوس کرتے ہوں گے، اس وجہ سے اکابر نے اس بات پر زور دیا کہ افطار اور کھانے میں تلافی مافات کی غرض سے اتنا نہ کھالے کہ روزہ رکھنے سے جو شہوانی قوت میں تھوڑی کمی آئی تھی وہ جاتی رہے اور سحری میں اس قدر نہ کھالے کہ دن بھر بھوک پیاس کا احساس ہی نہ ہو۔ اس ماہ میں مدارس کے اساتذہ اور اکابر علماء، ادارے تنظیموں اور مدارس کی فراہمی مالیات کے لئے کوشاں اور متفکر ہوتے ہیں۔ ان کا اکرام کیاجائے، اور محسوس کیا جائے کہ وہ امراء پر احسان کرتے ہیں کہ ان کی زکوۃ بروقت مناسب جگہ پہنچ جاتی ہے، اس لئے جھڑک کر اور بار بار انہیں دوڑا کر اپنے عمل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اس سے علماء کی بے وقعتی بھی ہوتی ہے اور ثواب بھی ضائع ہوتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ پورے ایمانی قوت سے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو وافر حصہ عطا فرمائے اور اسے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنادے ۔ آمین۔

دنیا کی حقیقت تحریر خدیجہ مغل - لفظ بولتے ہیں

 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

بذریعہ ای میل حاصل کریں