جنت سے حافظ جنید شہید کا ماں کے نام خط

جنت سے حافظ جنید شہید کا ماں کے نام خط


پیغام رساں۔۔۔سلیم صدیقی پورنوی
میری پیاری امی جان !!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
امید ہے کہ تم خیریت سے ہوگی ، اللہ کرے ہمیشہ خیریت سے رہو
 عرض تحریر یہ ہے کہ ماں میں اپنے اصلی گھر یعنی جنت پہنچ گیا ہوں ، تم نئے کپڑوں میں دیکھنا چاہتی تھی نا! تو دیکھو بالکل نئے کپڑوں میں ملبوس ہوں ، تم نے کپڑے خریدنے کے لیے دہلی بھیجا تھا مگر قسمت مجھے جنت لے آئی ، اور میں یہاں بہت اچھے اچھے جوڑے خرید رہا ہوں ، ماں! میں یہاں بہت خوش ہوں ، یہاں بھیڑ کا ڈر نہیں رہتا ، نہ یہاں بھید بھاؤ ہے، یہاں جنت کے باغوں میں ٹہل رہا ہوں ، میوے کھا رہا ہوں ۔ اور ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا تھا شہدا کے ساتھ عید کی خوشیاں بھی منا رہا ہوں، میرے ساتھ محسن شیخ سے لے کر منہاج انصاری تک سب دائمی عیش کی زندگی گذار رہے ہیں۔ مگر !!! ماں! مجھے تمہاری بہت یاد آرہی ہے ۔ زخمی بھائی بھی یاد آرہے ہیں ۔ بھیڑ نے ہمیں مارنے کے لیے چاقو سے زخمی کیا تھا، مگر دیکھو نا! ماں سب کچھ الٹا ہوگیا میں تو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا ، ماں !! مگر افسوس ہے تو اس بات کا ہے آج تم نئے کپڑے نہیں پہنوگی ، عید کی سوئیاں نہیں کھاؤگی ، آج پہلی عیدوں کی طرح چہرے پر خوشی بھی نہیں ہوگی ، آج تم عورتوں کو دیکھ کر بہت مغموم بھی ہوگی ، کیوں کہ میں جو نظروں سے غائب ہوں ، آج تمہارے ہاتھ کی سوئیاں کون کھائے گا ؟ آج نئے کپڑے پہن کر کون تمہارے سامنے آکر دل خوش کرے گا ؟ آج گھر میں شرارت کون کرے گا؟ تم نے نئے کپڑے لینے اس لیے بھیجا تھا تاکہ میں نئے کپڑوں میں خوبصورت سا دولہا لگوں ، مگر کیا کروں ؟ یہ حسرت رہ ہی جائے گی ۔ تم مجھے نئے کپڑوں میں دولہا سا نہیں دیکھ سکوگی ہاں ۔ گھبرانے کی بات نہیں ۔ میری شادی جنتی حوروں سے کردی گئی ہے، جب تم دیکھو گی بہت خوش ہوگی ، شادی میں پہلو خان بھی آۓ تھے اور اخلاق بھی ۔ خیر چھوڑو نا ماں ! دنیا کی زندگی ہی کتنے دن کی ہے۔ تم بھی ایک دن میرے پاس آؤگی ، پھر ہم سب ساتھ میں رہیں گے اچھا اک شکوہ سن ہی لو !!!! ماں ! تم بالکل جھوٹ کہتی تھی “ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں ” جب مجھے بھیڑ مار رہی تھی تو لوگ بچانے کے بجائے کھڑے ہو کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے کہ چاقو کہاں کہاں مارا جارہا ہے ، مدد کے لیے آواز دی مگر کوئی نہیں آیا اور تو اور یہ خاموش تماشائی میری ویڈیو بھی بنا رہے تھے ، کیا کوئی بھائی اپنے بھائی کو مرتا دیکھ کر خاموش رہتا ہے اور ویڈیو بناتا ہے ؟ ماں خدا کے واسطے یہ جھوٹ اب کسی سے مت بولنا کہ سرکار ہماری مددگار ہے ، تم تو دیکھ ہی رہی ہو مودی جی نے ایک لفظ تک نہیں بولا ، ہاں یہ افواہ بھی مت پھیلانا کہ ملی و سیاسی قائدین ہمارے محافظ ہیں تم کو تو سب معلوم ہے ، بعض قائدین اعتکاف میں بیٹھے ہیں ، اور بعض افطار پارٹی میں مشغول ہیں ، اور بعض تو سیلفی کے چکر میں سیاسی گلیاروں کے چکر کاٹ رہے ہیں ، اسی کو وہ عین کار ثواب بھی سمجھتے ہیں اسی لیے تو اخباروں کی زینت بنتے ہیں ، مگر کسی کو بھی نہ ہماری فکر ہے اور نہ تمہاری ۔ کیا میں انسان نہیں تھا ؟ یا تم انسان کی ماں نہیں ہو ؟ کیا میرے سینے میں قرآن کریم نہیں تھا پھر قائدین ہماری خبر گیری کرنے کیوں نہیں آئے ؟ اچھا چھوڑو جو ہوا سو ہوا ، ہاں مگر ! ایک بات تم سچی کہتی تھی خدا کے سوا کوئی کسی کا نہیں ہوتا ، آج بھی دیکھو نا ! اللہ کی رحمت کے سائے تلے مظلومین کے ساتھ بیٹھ کر آرام کررہے ہیں ۔ ہمیں کوئی پاکستانی کہ کر بھگا بھی نہیں رہا ہے، اور نا ہی کوئی ترچھی نظروں سے گھور رہا ہے ہاں !! پہلو خان کو ان کی بوڑھی ماں بہت یاد آرہی ہے اس لیے وہ تھوڑا مغموم ہے ، اور تھوڑی سی پزمردگی اخلاق چچا کے چہروں پر بھی ہے ، کیوں کہ ان کو ان کی بیوا یاد آرہی ہے ، اولاد کی یاد بھی آرہی ہے شاید ، سیف اللہ تو اپنے باپ سےبہت زیادہ ناراض ہے ، تمہیں معلوم ہے؟؟ کون ہے سیف اللہ ؟ وہی جسے سرکاری کتوں نے نوچ نوچ کر کھالیا تھا اور بعد میں اسے انکاؤنٹر کا نام دے دیا تھا ۔ وہی سیف اللہ اپنے باپ سے ناراض ہے ، پتا ہے کیوں ناراض ہے ؟ باپ نے پیسے کھاکر اپنے مظلوم سیف اللہ دہشت گرد کہ کر لوگوں کی نظر میں اس کو مظلوم کے بجائے ظالم بنادیا ہے ۔ ماں۔ لوگ بھی کتنے عجیب ہیں نا ! میرے مسئلے میں بھی دو حصوں میں بٹ گئے ہیں، کچھ لوگ تمہارے دکھ درد میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو کچھ لوگ ان پر فتوی بازی کررہے ہیں ،اسی لیے کالی پٹی باندھ کر نماز ادا کرنے کو نظام قدرت سے بغاوت سمجھتے ہیں۔ مگر سنا ہے کہ شہلا راشد اور شاعر عمران پڑتاب گڈھی تیری حمایت میں آج کالی پٹی باندھیں گے ، اور کچھ بھی لوگ فتوے کی پرواہ کیے بغیر ۔ اللہ ان سب کو جزائے خیر دے آمین ثم آمین کیا ان سب سے مجھے انصاف مل جائے گا ؟ کیا اس سے تیرے چہرے کی خوشی لوٹ آئے گی ؟ مجھے معلوم ہے انصاف نہیں ملنے والا ہے ، اور نہ ہی تیرے چہرے کی خوشی لوٹ کر آنے والی ہے ۔ کیوں کہ تو جس جنید کو کپڑے خریدنے بھیجا تھا وہ کبھی کپڑے خرید کر تیرے سامنے نہیں آئے گا ، کیوں کہ ہمارے ، ہمارے نہیں صرف تمہارے قائدین کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے آخری بات۔۔۔ تم میری جدائی میں ہرگز ہرگز مت رونا کیوں کہ رویا میت پر جاتا ہے اور میں زندہ ہوں ، ہاں اپنی مقبول دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھنا ، اور قرآنی آیات پڑھ کر بخشتے رہنا تمہارا لخت مگر۔۔ حافظ جنید شہید مقیم حال ۔ جنت الفردوس. 




 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں