رمضان : نیکیوں کا موسم بہار

رمضان : نیکیوں کا موسم بہار

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الثانی کے گزرنے اور رجب المرجب کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان المبارک کی تیاری شروع فرماتے اوردعا کرتے ’’کہ اے اللہ رجب و شعبان میں برکت دے اوررمضان المبارک تک ہمیں پہونچا دے ( اللھم بارک لی فی رجب وشعبان و بلّغْنی رمضان ) اس کے ساتھ ر جب ہی سے روزانہ کے معمولات میں اضافہ ہوجاتا، شعبان آتا تو کثرت سے روزے رکھتے، اورایسی کثرت ہوتی کہ حضر ت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ گمان ہوتا کہ رمضان المبارک کے روزوں سے ملا دیں گے، اسی پس منظر میں یہ بھی فرمایا کرتے کہ شعبان میرا مہینہ ہے، یعنی روزے اللہ نے اس مہینہ میں فرض نہیں کئے لیکن مجھے وہ عمل پسند ہے جو اللہ کی طرف سے رمضان میں فرض ہے، شعبان کی پندرہ شب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے، اس رات میں خود اللہ رب العزت کی طرف سے رمضان کے آنے کے قبل ایسے انعامات اور فیوض و برکات کا اعلان ہوتا کہ بندے میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رمضان کی آمد آمد ہے ۔اس رات اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول سورج غروب ہونے کے بعد سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ منادی آواز لگاتا رہتا ہے کہ کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے میں بخش دوں، ہے کوئی رزق طلب کرنے والا جس پر رزق کے دروازے کھول دوں، پھر رمضان میں جو مغفرت کا اعلان عام ہوتا ہے اس سے قبل ہی بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر پندرہ شعبان کی شب میں گنہگاروں کی مغفرت کردی جاتی ہے، اتنی کثرت سے مغفرت ہی کی وجہ سے اسے لیلۃ البراءۃ کہا جاتا ہے۔
مفسرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اللہ نے اس رات میں قرآن کریم کے نزول کا فیصلہ کیا، جس کی تنفیذ شب قدر میں ہوئی؛ گویا جس طرح موسم بہار کی آمد سے قبل آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ باد بہاری چلنے والی ہے اور صبح کی سفیدی روشن دن کے آنے کی خبر دیتا ہے، اس طرح اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے آنے سے قبل ہی اس کے فیوض و برکات کے ایک حصہ کا آغاز شعبان سے کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیاریوں میں مشغول رہتے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے سامنے رمضان المبارک کی عظمت و اہمیت بیان فرماتے۔ پھر جب شعبان کے آخری ایام آتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استقبال رمضان پر تقریر فرماتے اور لوگوں کو خیر کے کاموں کی طرف ابھارتے۔
اس موقع سے آپ کی تقریر جو حضرت سلمان فارسیؓ کے حوالے سے احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگو !ایک باعظمت مہینہ آپہونچاہے یہ ماہ رمضان ہے۔ اس ماہ میں جو شخص کوئی نیک کام کریگا اس کا ثواب فرض کے برابراور فرض اداکریگا تو اس کا ثواب ستر فرض کے برابر ملے گا، جو روزہ دار کو افطار کرائے گا وہ جہنم سے خلاصی پائے گا ۔اوراسے روزہ دار کے بقدر ثواب ملے گا، جب کہ روز ہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔اوریہ ثواب محض ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرانے پر بھی ملے گا۔اور اگر کسی نے روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلا دیا تو حوضِ کوثر سے ایسی سیرابی ہوگی کہ جنت میں داخلے تک پیاس نہیں لگے گی اورجنت بھوک پیاس کی جگہ نہیں ہے ، فرمایا : اس ماہ کا پہلا حصہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا دوزخ سے آزادی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ میں اپنی خاص رحمت سے ایسا انتظام کرتے ہیں کہ شیطان بندوں کو گمراہ نہ کرسکے، اور برائی پر آمادہ کرنے سے باز آجائے اس لئے جنات اور سرکش شیاطین کو پابندِ سلاسل کردیا جاتاہے۔ جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے پورے ماہ کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور منادی خدا کی طرف سے آواز لگاتا ہے کہ خیر کے طالب آگے بڑھو اور شر کی طرف مائل لوگو رک جائو، باز آؤ، اتنے اہتمام کے باوجود اگر کوئی مسلمان اس ماہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور جنت کے حصول کے سامان نہیں کرتا تو بدبختی اور شقاوت کی انتہا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے لئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بدعا کہ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کروالے اس پر آمین کہا ہے، ایک حضرت جبرئیل کی بددعا، اور دوسرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آمین کہنا، ایسے لوگوں پر لعنت ہی لعنت کا کھلا اعلان ہے۔
یہ تمام انعامات اور فیوض و برکات اس ماہ میں نزول قرآن کی وجہ سے ہیں ، اس لیے اس ماہ مبارک کا حق یہ ہے کہ تلاوت قرآن کی کثرت کی جائے، تراویح میں قرآن سننے سنانے کا اہتمام کیاجائے، تہجد میں رات گذاری کی جائے اور ہرلمحہ کو قیمتی سمجھ کر ذکر، اذکار اور وظائف میں مشغول رہا جائے، روزہ کا ایسا اہتمام کیاجائے جو شریعت کو مطلوب ہے، اور جس سے تقوی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جو روزہ کا اصل مقصد ہے ، روزہ صرف کھانے پینے اور شہوانی خواہشات سے پرہیز تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ آنکھ، دل، دماغ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں، اور سبھی اعضا و جوارح کا روزہ رکھا جائے، آنکھ غلط چیزوں کو نہ دیکھے ، دل گناہوں کی طرف مائل نہ ہو، دماغ خدا کے احکام کے خلاف نہ سوچے، کان غلط نہ سنے، زبا ن غیبت، چغل خوری، جھوٹ، طعن و تشنع گالی گلوج سے محفوظ رہے، اور اعضا و جوارح خدا کی مرضیات پر لگ جائیں، ایسا روزہ دراصل روزہ ہے، بندہ جب ایسا روزہ رکھتا ہے تو اللہ خود اس کا ہوجاتا ہے، اور اللہ دلوں کے احوال جانتاہے، اس لیے اجر و ثواب کا ضابطہ ایک دس کا یہاں نہیں چلتا ، بلکہ جس نے اللہ کے لئے روزہ رکھا ہے ، اللہ ہی اس کا بدلہ دیں گے پھر چونکہ یہ غم گساری کا بھی مہینہ ہے اس لیے جہاں کہیں بھی رہے جس کام میں لگا ہوا ہے۔ اس میں اس کو ملحوظ رکھے، حسب استطاعت غربا کے خورد و نوش اور محتاجوں کی ضروریات کی کفالت کا بھی نظم کرے کہ یہ بھی روزہ کے مقاصد میں سے ایک ہے ہم لوگ جنہیں اللہ تعالی نے خورد و نوش کی سہولتیں دے رکھی ہیں اور بھوک پیاس کی تکلیف کا احساس پورے سال نہیں ہوتا، بلکہ شادی اور دیگر تقریبات میں کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کرتے ہیں، انہیں روزہ میں جب بھوک پیاس لگے تو ان کے اندریہ احساس جاگناچاہئے کہ سماج کے دبے کچلے لوگ جن کے گھر چولہا بڑی مشکل سے جلتا ہے۔ اور کئی بار فاقہ میں رات گذر جاتی ہے، کس قدر پریشانیاں محسوس کرتے ہوں گے، اس وجہ سے اکابر نے اس بات پر زور دیا کہ افطار اور کھانے میں تلافی مافات کی غرض سے اتنا نہ کھالے کہ روزہ رکھنے سے جو شہوانی قوت میں تھوڑی کمی آئی تھی وہ جاتی رہے اور سحری میں اس قدر نہ کھالے کہ دن بھر بھوک پیاس کا احساس ہی نہ ہو۔ اس ماہ میں مدارس کے اساتذہ اور اکابر علماء، ادارے تنظیموں اور مدارس کی فراہمی مالیات کے لئے کوشاں اور متفکر ہوتے ہیں۔ ان کا اکرام کیاجائے، اور محسوس کیا جائے کہ وہ امراء پر احسان کرتے ہیں کہ ان کی زکوۃ بروقت مناسب جگہ پہنچ جاتی ہے، اس لئے جھڑک کر اور بار بار انہیں دوڑا کر اپنے عمل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اس سے علماء کی بے وقعتی بھی ہوتی ہے اور ثواب بھی ضائع ہوتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ پورے ایمانی قوت سے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو وافر حصہ عطا فرمائے اور اسے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنادے ۔ آمین۔

 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں