رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے


             رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے

رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
 اور اک چیز بڑی بیش بہا مانگی ہے
اور وہ چیز نہ دولت، نہ مکاں ہے، نہ محل
تاج مانگا ہے، نہ د ستار و قبا مانگی ہے
نہ تو قدموں کے تلے فرشِ گہر مانگا ہے
اور نہ سر پر کلہِ بالِ ہما مانگی ہے
نہ شریک سفر و زاد سفر مانگا ہے
نہ صدائے جرس و بانگِ درا مانگی ہے
نہ سکندر كی طرح فتح کا پرچم مانگا
اور نہ مانندِ خضر عمرِ بقا مانگی ہے
نہ کوئی عہدہ، نہ کرسی، نہ لقب مانگا ہے
نہ کسی خدمتِ قومی کی جزا مانگی ہے
نہ تو مہمانِ خصوصی کا شرف مانگا ہے
اور نہ محفل میں کہیں صدر کی جا مانگی ہے
مے کدہ مانگا، نہ ساقی، نہ گلستاں، نہ بہار

 ہمارا یوٹیوب چینل

جام و ساغر نہ مئے ہوشرُبا مانگی ہے
نہ تو منظر کوئی شاداب و حسیں مانگا ہے
نہ صحت بخش کوئی آب و ہوا مانگی ہے
محفلِ عیش نہ سامانِ طرب مانگا ہے
چاندنی رات نہ گھنگور گھٹا مانگی ہے
بانسری مانگی، نہ طاؤس، نہ بربط، نہ رباب
نہ کوئی مطربۂ شیریں نوا مانگی ہے
چین کی نیند، نہ آرام کا پہلو مانگا
بختِ بیدار، نہ تقدیرِ رسا مانگی ہے
نہ تو اشکوں کی فراوانی سے مانگی ہے نجات
اور نہ اپنے مرَض دل کی شفا مانگی ہے
نہ غزل کے لئے آہنگ نیا مانگا ہے
نہ ترنم کی نئی طرزِ ادا مانگی ہے
سن کے حیران ہوئے جاتے ہیں اربابِ چمن
آخرش! کون سی پاگل نے دعا مانگی ہے
آ! ترے کان میں کہہ دوں اے نسیم سحری!
سب سے پیاری مجھے کیا چیز ہے؟ کیا مانگی ہے
وہ سراپائے ستم، جس کا میں دیوانہ ہوں 
اس کی زلفوں کے لئے بوئے وفا مانگی ہے


            (  ڈاکٹر کلیم عاجزؔ  )





 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں


بذریعہ ای میل حاصل کریں