جامع مسجد ڈومریا


یہ وہ جامع مسجد ہے جس کی بنیاد سن 1900ء سے قبل رکھی گئی تھی  اور ڈومریا کے اطراف کے  تمام لوگ اس گاؤں کی مسجد میں  نماز جمعہ  ادا کرنے آتے  تھے۔
  لیکن اب یہ مسجد جس شکل میں آپ کے سامنے موجود ہے یہ   اس گاؤں کے لوگوں کیلئے جدجہد کی بے مثال ثبوت ہے خصوصاً وہ لوگ جنہوں نےاپنے مال و  جان کی  قربانی دی ہے چناچہ  جوان .............کیا ..... بزرگ .............کیا .......... خواتین..........کیا......... حتیٰ کہ ننھےّ منےّ بچوں  نے بھی دل جمعی کے ساتھ حصہ لیا اس کے  باوجود اگر ہم مختصراً نام لیں تو اس میں ہمارے بڑے اکابرین بھی ہیں جن میں سے  چند کا نام نامی  اسم گرامی  ذکر کرتا چلوں ۔
1 استاذ الاساتذہ حضرت  جناب مولانا زین العابدین صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ۔
2  حضرت جناب مولانا مجیب الرحمان ندوی صاحب امام خطیب مسجد ہٰذا۔
3  جناب مفتی نعیم الدین صاحب ندوی نائب امام و خطیب مسجد ہٰذا۔
4  جناب مولانا عباس عالم قاسمی صاحب حفظھم اللہ تعالی ہیں نائب امام و خطیب مسجد ہٰذا ۔
5 الحاج جناب ڈیلر محی الدین صاحب علیہ الرحمہ ۔
6 الحاج جناب ماسٹر ابو طلحہ صاحب ۔
7 الحاج جناب ماسٹر نور محمد صاحب مرحوم ۔
8 الحاج حضرت جناب حافظ غیاث الدین صاحب امام و خطیب عیدین ڈومریا ۔
9 حضرت جناب مولانا ساجد صاحب ندوی ۔
10 حضرت جناب سابق ممبر محمد اسلم صاحب ۔ 
11 جناب وسیم الدین صاحب ۔
12 جناب ندیم صاحب ۔
13 جناب مقبول صاحب ۔
 اور ان کے علا وہ خیر محلہ کے بڑے بزرگان و دانشوران کا اعلیٰ طبقہ ہے جو محنت اور  لگن  کے ساتھ اس کام کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں مگن ہیں  ۔
 بس اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہر مسلمان و مسلمات  کے دل میں شعار اسلام کو زندہ و تابندہ کرنے کا شوق و جزبہ عطا کرے ۔
 اور مریں تو ایمان پر زندہ رہیں تو اسلام پر......................................

 آمین ثم آمین ................

آپ کی دعاؤں  کا طالب .........

  عبید الرحمان عقیل ندوی 
  


 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں