گھنگرو

گھنگرو                                           
آوازوں کے ہجوم میں برسوں سے تنہا چلتی وہ ایک گونگی عورت تھی جو راستوں میں بھٹکتی ضرور تھی پر منزل کی نشان دہی کرتی دور بجنے والی گھنٹیوں کی آواز سے غافل نہ تھی۔وہ جذبوں کو لفظوں کے موتیوں میں پروتی ،تجربات ِزندگی کے لمس کی خوشبو بکھیرتی ایک عام سی عورت تھی ۔۔۔جس کےصبح وشام ایک ہی محور کے گرد طواف کرتے گزرتے تھے۔سوچ کی نغمگی اور خیال کی لَے اُس کے وجود کی تہوں میں چھپے اسرار تھے جن کی دریافت اُس کی روح کا بوجھ بن گئی۔وہ اُس کا اظہار چاہنے لگی۔یہ چاہ اور چاہے جانے کی خواہش بھی انسان کی عجیب کمزوری ہے جو گلاب کی پتی کی طرح محسوس تو ہوتی ہے لیکن کانٹے جیسی چبھن بن کر روح میں پیوست ہو جاتی ہے۔اپنے رنگ اور خوشبو کی پہچان کی  چاہ گھر کی چاردیواری میں قطعی بےوقعت اور مہمل ٹھہرتی ہے کہ وہاں ذہن سے زیادہ جسم کی کارکردگی کی قیمت لگتی ہے۔خواہش اظہار نے گھر سے باہر جھانکنے پر مجبور کیا تو پتہ چلا کہ گھر سے باہر قدم رکھنے والی عورت کے لیے دُنیا صرف "بازار"ہے، ہر طرف تماش بین ہی تماش بین۔جہاں عورت کو اونچا مقام دینے کے دھوکے میں بالاخانے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔۔۔اُسے بھکاری جان کر ہوس اور بھوک کی خیرات دی جاتی ہے۔جہاں عقل سوتی اور راتیں جاگتی ہیں اور دن کی روشنی میں وجود کا ایکسرے کرتی تماش بینوں کی ٹٹولتی نظریں عورت کا صرف ایک ہی روپ دیکھتی ہیں۔عورت چاہتے ہوئے بھی انہیں دھتکار نہیں سکتی کہ جسے اپنے آپ کی سمجھ نہ ہو وہ کسی دوسرے کو کیسے جان سکتا ہے۔
عورت سب محسوس کرتی ہےکسی بارونق پلیٹ فارم پر یا سڑک پر اجنبی چہروں کے درمیان ہی نہیں بلکہ رشتوں کے مضبوط حصاروں کے درمیان رہ کر بھیاپنے اوپر  بہت کچھ سہتی ہے ۔خود سے وابستہ لوگوں کی خاطر چُپ رہنا اُس کی مجبوری ہے تو ہمیشہننگے پاؤں  تنہا چلنا اس کی قسمت اور آبلہ پائی اُس کا ظرف۔جانے کیوں دُنیا کے اس بازار میں آنے والی ہرعورت کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔ اپنے گھر کی چار دیواری سے باہر نظر آنے والی ہرعورت محض " جنس" ہے۔۔۔ قابلِ فروخت کا لیبل جس پر دور سے دکھائی دیتا ہے،قریب آنے پر عمر، رنگ، نسل ، زمان ومکان کے مطابق اُس کے کردارکا تعین کیا جاتا ہے۔اپنی 'حیثیت"کے مطابق بولی لگائی  جاتی ہے،اپنا مرتبہ جتلایا جاتا ہے۔قیمت زیادہ دکھنے پر بھاؤ تاؤ ہوتا ہےتو کبھی بےعزت بھی کیا جاتا ہے۔دُنیا کی اس ڈھلوان گزرگاہ میں جذبوں سے لے کر رویوں تک ہر چیز برائے فروخت ہے۔سامان فروش جگہ جگہ صدائیں لگاتے ہیں اور سب بکتا ہے۔کیاعزت کیسی غیرت سے نظریں چراتے ہوئے بناوٹ کا غازہ لگا کر ضرورت کے گھنگرو انسان کو بےسمت نچائے جاتے ہیں۔
بجا کہ اپنے آپ کو نگاہ کے ہر زاویے سے منوانا عورت کی فطری خواہش ہے۔ لیکن ہرعورت کا اپنا زاویہ نگاہ ہے۔۔۔اُس کا ذاتی حق ہے کہ وہ کون سا رُخ دُنیا کے سامنے پیش کرے۔ اپنی کس صلاحیت کی قیمت لگائے یہ خالص اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس میں دخل اندازی کا اختیار  اس کے اپنوں کو ہے اور نہ ہی پرایوں کو۔
عورت چاہے گھر کے کسی خاموش کونے میں پڑی ہو یا کسی چیختے چلاتے بازار میں چلتی ہو اپنے آپ پر یقین کے لیے اس کے پاس اپنے خوابوں کا ساتھ دنیا کے ہر ساتھ سے بڑھ کر ہے۔یہ خواب ہی ہیں جو نہ صرف عورت اور مرد کے رویوں کا فرق نمایاں کرتے ہیں بلکہ خوابوں کی بُنت ہرعورت کے کردار کی وضاحت بھی کرتی ہے۔رشتوں اور تعلقات کے مکمل لباس کے ساتھ عورت خواہ کتنا ہی مضبوط ہونے کا دعویٰ کرے اپنے پرائے کا تضاد اُسے اندر سے بہت کمزور اور خوفزدہ کر دیتا ہے۔ستم یہ کہ جب یہی تماش بین گھر میں داخل ہوتے ہیں تو اُن کی غیرت عورت کا صرف ایک مقام جانتی ہے۔۔۔اُس نامکمل وجود کو سجدے کرتی ہےجس کی آواز اس کے اپنے کانوں سے باہر سنائی نہ دے۔مرد چاہتے ہوئے بھی عورت کےبارے میں اپنے مخصوص انداز فکر سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ عزت واحترام اورعقیدت ومحبت کے جذبات بھی عورت کے افعال وکردار پر شکوک وشبہات کے پردے ڈالے رہتے ہیں۔مرد کی اس دُنیا میں عورت کو کہیں بھی پناہ نہیں ۔ نہ صرف باہر بلکہ اس کے اپنے وجود میں بھی بےیقینی کچھ اس طور پنجے گاڑتی ہے کہ دُنیا فتح کر کے بھی اسکندرِاعظم نہیں بن پاتی اوردلوں کو مسخر کر کے بھی اِس کے دل کی دُنیا ان چھوئی رہتی ہے۔یہی قرار وبےقراری حاصلِ زندگی ہے کہ قدم روکتا ہے تو چلتے رہنے پر اُکساتا بھی ہے۔
جس طرح اپنے  وجود،اپنے ناز و ادا کی قیمت لگاتی عورت خواہ کتنی ہی دلکش کیوں نہ دکھائی دے۔ دیکھنے والے اُس کی اصل کبھی نہیں بھلا پاتے۔اسی طرح لفظوں کی دُنیا میں اپنا آپ تلاش کرتی عام  عورت بھی خود نمائی اورخود ستائی کی ماری سمجھی جاتی ہے۔کبھی اس کی تحریر کو "بیہیوئیر کنڑاسٹ " کا نام دیا جاتا ہے,کبھی نقالی تو کبھی مایوسی اور ڈپریشن کی ماری عورت کی بچگانہ سوچ ۔ ہر ایک کا تجزیہ اپنے عقلی معیار کے مطابق درست ہو سکتا ہے اورہمیں کسی کی سوچ بدلنے کا حق ہے اور نہ ہی اختیار۔اصل بات جانے بغیر کسی قسم کا غصہ اور جلد بازی ہمیں بہت سی غلط فہمیوں اور دوسروں کے متعلق بدظنی کا شکار بھی کر سکتا ہے۔زندگی کا ایک بنیادی اصول اگرسیکھ لیا جائے تو ہر اُلجھن ہر پریشانی سے کسی حد تک نجات مل سکتی ہے۔۔" جیو اورجینے دو"کا فلسفہ زندگی کے ہر موڑ پر بہت سی گرہیں کھولتا جاتا ہے۔ہمیں نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ کسی کے بارے میں بھی کبھی کوئی حتمی رائے یا تجزیہ دینے کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔ جیسے دوسروں کے رویے اور کردار
 سے ہر گھڑی ہمیں نیا سبق ملتا ہے اسی طرح اپنی ذات کے اسرار بھی  زندگی کے ہر نئے روز ہم پر عیاں ہوتے ہیں۔
حرفِ آخر
عورت کی پہچان صرف ایک مرد کی آنکھ ہی کر سکتی ہے اور عورت کے مرد کے ہاتھوں استحصال ہونے کی بنیاد ایک عورت ہی رکھتی ہے۔مرد صرف ایک کٹھ پُتلی ہے کبھی بےلگام نفس کے ہاتھوں تو کبھی بےخبر لمحوں کے تعاقب میں ناچتا چلا جاتا ہے

پیشکش نا زیہ فرحـــــــــــــــــــــــــــت

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا


ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا "
 نورین تبسم

جذبات واحساسات انسانی زندگی کی پہلی علامت ہیں۔جسمانی طورپرجیسے ہی وجود کا احساس سانس لیتا ہےاسی لمحے سوچ کے در بھی وا ہو جاتے ہیں۔ شکمِ مادرمیں دھڑکن کے ساتھ ساتھ خیال کی رو بھی پروان چڑھتی ہے۔۔۔ شعور کی آمد سے بہت پہلے لاشعور کی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔۔۔جو ایک ماہرعکس ساز کی طرح معمولی جزئیات بھی محفوظ کرتی ہیں۔۔۔ضروری غیرضروری کی شعوری چھان پھٹک سے ماورا۔۔۔ انسانی ذہن بڑی چابکدستی سے۔۔۔اندھیری کوٹھڑی میں رہتے ہوئے۔۔۔ روشنی کا ہر منظر ایک محدود وقت میں من وعن جذب کرتا چلا جاتا ہے۔ تاوقت کہ روشنی کی پہلی کرن اُس کے شعور پر دستک دیتی ہے۔اگرچہ اس وقت محض دوسروں کا شعوراسے پہچان جاتا ہے لیکن ابھی چند برس اوراس نے اپنا شعوری ڈیٹا مکمل کرنا ہوتا ہے۔
تین سال کی عمر سے۔۔۔ جب بچے کی لفظ سے شناسائی شروع ہوتی ہے۔۔۔ وہ بڑی تیزی سے لاشعور سے شعوری علم کی سیڑھیاں طے کرتا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعد میں آنے والے حالات اور تعلیم وتربیت کے پیشِ نظر لاشعوری اور شعوری ڈیٹا میں رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے۔
سائنس کی جدید تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پہلے تین سال کی عمر تک بچے کے ذہن کی خالی سلیٹ پر جو نقش ٹھہر جائے وہ ساری زندگی وہیں رہتا ہے۔ بعض ممالک میں تو زمانہ حمل ملا کرنومولود کی عمرکا تعین کیا جاتا ہے۔
دُنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد بچہ اپنی شعوری حسیات کے ساتھ دُنیا کے رنگ تلاشتا ہے۔۔۔لوگوں سے سیکھتا ہے۔۔۔اُن کے رویوں پراپنا ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ شیرخوار ہوتا ہے تو بڑوں کے رحم وکرم پر ہوتا ہے۔۔۔جو کہتے ہیں مان لیتا ہے۔جو دیتے ہیں لے لیتا ہے۔تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اُس کے فیصلے حتمی نہیں مانے جاتے۔۔۔ہر قدم پرزندگی برتنا سکھایا جاتا ہے۔۔۔آسمانِ دنیا پراُڑنا سیکھتا ہے۔اپنےطورپربھی وہ اس تجریدی تصویر کے رنگوں کو جانچتا ہے۔گزرتےپل بلوغت کے ساتھ بالغ نظری بھی عطا کرتے ہیں۔وہ اپنی سوچ اپنےعمل میں کسی حد تک خودمختار ہوجاتا ہے۔دین دنیا کی سمجھ آتی ہے تو اپنے کیے ہرعمل کا جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔
ہر انسان فوم کے ٹکڑے کی طرح ہے۔ایک عمرایسی ہوتی ہے کہ لاشعوری طور پر ہی سہی اپنے آپ کو ملنے والے اسباق جذب کرتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ رسنا شروع ہو جاتا ہے لیکن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی نہیں آتی ۔ یہی انسان ہونے کی نشانی بھی ہے۔ جو جذب کیا جاتا ہے وہ اپنا اپنا مقدر ہے لیکن اُسے کس شکل میں باہر نکالنا ہے یہ اصل امتحان ہے۔ مایوسی ،محرومی اور ناانصافی اکثر اسی طور باہر نکلتی ہے۔ فرد پر ظلم بسا اوقات معاشرے پر ظلم میں بدل جاتا ہے۔ انسان اپنے شعور سے کام لے کر ترقی کی منازل طے کرتا ہے تو کبھی یہی شعور اُس کے خلافِ عقل اور ننگِ انسانیت کاموں میں مددگار بنتا ہے اور اسے شیطان سے بڑھ کر شیطان بنا دیتا ہے۔
انسان کے آخری سانس تک کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ زندگی میں اُس کے لاشعور کا پلڑا بھاری رہا یا شعور نے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اعتدال ہر دو جگہ لازم ہے۔کامیابی کا پیمانہ یہی ہے کہ انسان شعوری طور پر اپنی جگہ حاضر ہو۔۔۔زندگی اوراس کی ذمہ داریاں بحسن وخوبی سرانجام دے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے لاشعور کے مندر میں بجنے والی گھٹیوں کی آواز سے بھی غافل نہ ہو جونہ صرف آگےبڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔۔۔راہ نمائی کرتی ہیں بلکہ وقت گزرنے کے احساس سے بھی آگاہ کرتی چلی جاتی ہیں۔
لاشعور انسان کے باطن کا علم ہے تو شعور گردوپیش کے حالات وواقعات کا۔ گردشِ زمانہ اور مسائل اپنے دام میں الجھا کراپنی ذات سے بےپروا کر دیتے ہیں۔ عمر کے بڑھتے سائے میں وقت مٹھی میں دبی ریت کی طرح سرکتا ہے۔ جسمانی قوا کمزورپڑ جاتے ہیں ۔۔۔ وہیں لاشعور پہلے سے زیادہ طاقتور اور توانا ہونے لگتا ہے۔ یہ بات عین حق ہے کہ انسانی زندگی کا سفر ایک دائرے کا سفر ہی تو ہے۔ جہاں سے آغاز ہوا آخر وہیں انجام بھی ہونا ہے۔
ڈھلتی عمر میں لاشعور کی گرفت مثبت منفی دونوں اثرات رکھتی ہے۔ ڈھلتی عمر کے مثبت پہلو سے نہ صرف فرد بلکہ اُس کے آس پاس اور معاشرے پر بھی ایک خوشگوار اثر پڑتا ہے۔
ہم میں سے زیادہ تر اس کے منفی پہلو کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں۔ ستم یہ کہ زیادہ تر وہ بھی جو ساری زندگی اپنےزورِبازو پر بھروسہ کر کے دُنیا فتح کرتے چلے گئے اور آخر میں جب اپنے اندر کی دنیا میں جھانکا تو ناقدری کی باس میں لپٹی مایوسی نے بیڑیاں ڈال کر قید کردیا۔ تنہائی کا آسیب زندگی کے بچے کچے رنگوں کو ملا کر اتنا بدرنگ کر دیتا ہے کہ گھر کا سب سے قیمتی نقش کباڑ خانے میں رکھنے کے قابل بھی نہیں لگتا۔
بڑھتی عمر کے منفی اثرات ہم اکثر اپنے آس پاس دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ عورت سے زیادہ مرد پر اس جنریشن گیپ کا اثر پڑتا ہےبلکہ یوں کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا کہ عورت ہمیشہ کی طرح اس رنگ کو بھی بڑی مہارت سے چھپا لیتی ہے"کباڑخانے"میں رتی برابر جگہ ملنے کو بھی صبروشکر سے قبول کر کے۔۔۔خانہ خدا کی مثل ۔۔۔سرکش روحوں کو طواف پر مجبور کر دیتی ہے۔ دوسری طرف مرد ساری عمر اپنی محنت مشقت سے بنائے ہوئے شیش محل سے باہر نکلنے پرآمادہ نہیں ہوتا۔۔۔ راجہ اندر کی طرح ہر وقت سجے سجائے دربار دیکھنے کا متمنی ۔۔۔ جہاں اس کے وزراء ومشیران جی حضوری کے قیام میں کھڑے ہوں۔۔۔ رعایا اس کے ہر فرمان کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے۔
!آخری بات
ایک لمبے سفر کے بعد جب کوئی اپنے ٹھکانے پر پہنچتا ہے تو کسی پُرسکون جگہ بیٹھ کر وہ پیچھے رہ جانے والے راستوں ۔۔۔خطرناک گھاٹیوں اور مسحورکن نظاروں کے بارے میں سوچتا ضرور ہے۔یادوں کی البم ہویا تصویر کہانی وہ ہر منظر کو دُہراتا ہے۔کبھی خوش ہوتا ہے کبھی غمگین۔یہی حال زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ذمہ داریاں کم اور زندگی کی رفتار سست پڑنے لگتی ہے یا پھر"نئی مشینری" کے سامنے اس کی وقعت کم پڑ جاتی ہے تو انسان کے پاس اپنے ساتھ گزارنے  کے لیے وقت مل ہی جاتا ہے۔کبھی وقت کم ہوتا ہے اور زندگی بہت زیادہ۔۔۔ بہت مصروف اورکبھی زندگی بہت محدود۔۔۔بہت مختصر رہ جاتی ہے اور وقت کاٹے نہیں کٹتا۔ نیند کی دیوی جو چڑھتے سورج کی بچاری ہوتی ہے زندگی کی ڈھلتی شام میں آنکھیں چومنے سے انکار کر دیتی ہے۔ کبھی اس بےمہر وقت کو توبہ کا غسل دے کر پاک کرنے کی سعی کی جاتی ہے تو کبھی مایوسی اور تنہائی کے آسیب ہر ساتھ کا اعتبار ختم کر دیتے ہیں۔ جو بھی ہے زیادہ تر وقت تیزی سی گرتی جسمانی مشینری کو سنبھالتے گزر جاتا ہے۔
زندگی کے سفر کا پرسکون انداز میں اختتام کرنے کے لیے سب سے اہم بات جذباتی،جسمانی اوراس سے بڑھ کر مالی لحاظ سے کسی رشتے،کسی تعلق کے حوالے سے دوسرے انسان کا محتاج نہ ہونا ہے۔کسی ساتھ کی ضرورت کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس ساتھ میں اپنی مرضی یا اختیار کی چاہ رکھنے والے اکثر دنیا سے بےنیل ومرام ہی جاتے ہیں ـ


ترتیب شیخ نازیہ فرحت



ابن آدم کو بنت حوا کا پیغام

ابن آدم کو بنت حوا کا پیغام
نور سعدیہ شیخ 
آدم نے جب سے خاکی زمین پر قدم رکھا ہے تب سے حوا اس کے ساتھ مل کر اس کی زندگی میں رنگ بھر رہی ہے ۔ کیا یہ عجیب نہیں کہ پھر بھی مرد عورت کو ٹیرھی پسلی کے نام سے منسوب کیئے ہوئے ہے ۔ ۔ اپنی نفسانی خواہشات میں مبتلا ہوتے عورت کو اپنا کھلونا بنا لیتا ہے ۔ عورت کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلاتے اپنی مردانگی کی شان بناتا ہے ۔ یہ مرادانہ معاشرے میں اک روایت چلی آ رہی ہے عورت کو ہر دور میں مرد نے اپنی خواہشات کی صلیب پر چڑھایا ہے ۔

کرچیاں کون سمیٹے گا شکستہ دل کی
اس سے بہتر ہے کہ چپ چاپ بکھر جاؤں میں

تاریخ گواہ ہے کہ اکثر مرد اپنی کجی کو چھپانے کی غرض سے عورت کو استعمال کرتا ہے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آدم کی غلطی کا ذمہ دار حوا کو ٹھہراتے اس کا خمیازہ عورت کو بھگتنا ہے ۔اس روایت کو نبھاتے نبھاتے عورت تھک چکی ہے ! کہاں تک اس روایت کی چکی میں پسے ؟ کہاں تک اس کا بوجھ اٹھائے ؟ نا اہل مرد کی کمزوری کو چھپاتے کب تک عورت ڈھال بنی رہے ؟ آخر ایسا کب تک چلے گا ؟ کوئی تو عورت ہو جو اپنی نسوانیت پر آنچ آئے بنا روایت کے جبر سے آزاد ہوجائے اور ایک کھلی سانس لے !یہ الفاظ جو میرا حوالہ ہیں ان میں تجربے کا احساس بھی شامل ہے اور مشاہدے کی رگ میں یہ احساس خون بن کے ڈور بھی رہا ہے ۔یہ بیان اس جرم کو گنوا رہا ہے جس کی وجہ قلم نے زخم کی حدت پائی ہے

گنو نہ زخم یہ دل کے ، اذیتیں پوچھو
جو ہوسکے تو حریفوں کی نیتیں پوچھو
ہوا کی سمت نہ دیکھو اسے تو آنا ہے
چراغِ آخرِ شب سے وصیتیں پوچھو

مرد ایک نفسیاتی درندہ ہے جس کو عورت کی نفسیات سے کھیلنا آتا ہے ۔ ٹی وی پر ایک پروگرام چل رہا تھا ، جو ایک جعلی پیر صاحب کے متعلق تھا جن کا نام ڈکار والے بابا تھے ۔ عورت کی نفسیات سے کھیلتے پیسے کمائے جارہے ہیں اور جب سرعام کی ٹیم نے چھاپہ مارا تو جناب کہ دیا عورت کم عقل ہے ! جنس کی تفریق کا یہی کھیل ہمارے ارد گرد بھی روا رکھا ہے ! عورت کم عقل ہے ! عورت دقیانوس ہے ! عورت کھیلنے کی چیز ہے ! مرد کی نفسیات سمجھ آجائے تو کوئی عورت اس سے ہم کلام ہوتے ڈرے ۔ وہ ہر آدم کو فرشتے کی شکل میں سمجھتے اپنی سادہ لوحی سے اس کا شکار ہوجاتی ہے اور مرد سمجھتا ہے کہ اس نے عورت پر فتح پالی ہے !

سماج کے اداروں میں سب سے اہم ادارہ خاندان کا ہے ! خاندان کا سربراہ مرد کو بنا دیا گیا ہے ! افسوس ! اس نے عورت کو گراتے خود کو بھی گر ا دیا ہے ! سڑک ہو یا فٹ پاتھ یا کوئی گلی محلہ ! عورت کا ریٹ لگاتا ہے ، اس کا حساب گوشت کی مانند ٹٹول کے لگانے والا مرد اپنی آنکھ کی حیا کے بارے میں فخر سے بتا رہا ہوتا ہے تو کہیں عورت کو طوائف بناتے اس سے خاندان یعنی سماج کا سب سے اہم ادارہ چلانے والا بھی مرد ہی ہوتاہے ۔

شیشے کا جسم اوڑھ کے چلے ہم
اب گلہ ہے کہ پاش پاش ہم

اس مرد سے سوال کیا کیا جائے جب اس نے اپنی حیا بیچ دی ہے ، اپنی آبرو پر پتھر پھینکنے والا مرد خود بھی ایک کھوکھلی مشین ہوکے رہ گیا ہے ! مرد اور جنس بازاری ! یہ کھیل مرد ایسا چلاتا ہے کہ جب میں اس کے منہ سے ماں ، بہن ، بیٹی کا نام سنتی ہوں تو میری آنکھ شرم سے جھک جاتی ہے اور دل کانپ اٹھتا ہے ۔ میں سوچتی ہوں مرد کیوں نہ کانپا ؟ اس کو خوف آیا ؟ اگر اس کو خوف نہیں ہے تو کیا میں چور ہوں ؟ جی میں روایت کی امین ہوں ! میں حوا ہوں ! میں چور ہوں !

کہاں کہاں لٹے ہو یہ شمار مت کرنا
مگر کسی پہ تم اب اعتبار مت کرنا
میں لٹنے کے ہی ارادے سے جارہا ہوں مگر
سفر سفر مرا بھی انتظار مت کرنا

کہنے والے کہتے ہیں کہ حیا تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے اور حجاب بھی پہلا آنکھ میں ہوتا ہے دوسرا لباس پر جاتا ہے ! اگر عورت با حجاب بھی ہو تو محفوظ نہیں ہے کیونکہ سامنے دو آنکھیں ایکسرے کی مانند موازنہ کرنے سے باز نہیں آتی ہیں ! کتنے پردوں میں چھپے عورت یا اپنے دفاع کے لیے آزاد ہوجائے ؟ میرا خیال ہے عورت کو پردے میں چھپنے کے بجائے اپنے دفاع کے لیے نکلنا ہوگا کیونکہ مرد اس کا اب محافظ نہیں رہا ! اب اس کی روایت بھی من پسند ہے اور جدت بھی ! وہ اپنی طرز کا شہنشاہ ہے !


اس سب کو لکھنے کی وجہ مشاہدہ تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک تجربہ بھی ہے ! چند سال قبل کسی شاعر کی شاعری سے متاثر ہوتے میں نے اسے پیغام بھیجا ! میں شاعری سیکھنا چاہتی ہوں ! میں نے اس ہستی کو استاد جانا اور یہ نہیں سوچا کہ میں ایک عورت ہوں ! اس نے کہا کہ میں شاعری سیکھاؤں گا مگر ایک شرط ہے ! میں نے پوچھا کیا ؟ اس نے کہا کہ پہلے اپنے پاؤں کی تصویر بھیجو میں تم پر غزل لکھوں گا ! میں نے اس کو بتلادیا کہ حوا کی تکریم کیا ہے اور حوا کی بیٹی کیا ہے !


کیا میں نے صحیح کیا ؟ میرا پیغام حوا کی آنے والے نسلیں پڑھیں گی کہ عورت مجبور نہیں ہے کیونکہ وہ عورت ہے ! عورت حیا کا پیکر ہے ! وفا کا مظہر ہے ! تکریم کے لائق ہے مگر اس سے جب بھی اپنی خون آلود نگاہوں سے دیکھو گے تو وہ تمھیں پھاڑ کھائے گی کیونکہ آج کی عورت کمزور نہیں ہے ! آج کی عورت آدم سے طاقت میں بڑھ گئی ہے ! آج کی عورت نے خاندان کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے ! آج کی عورت کھلاڑی بھی ہے ڈاکٹر بھی مگر مرد کی طرح ناکام جعلی ڈکار والے بابے کی طرح دھوکے باز فراڈی نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ آج کی عورت ہے اور اس نے مردانگی کی چادر کو اوڑھ کے اپنی حفاظت شروع کردی ہے جبکہ مرد نسوانیت کی جیل میں قیدی ہوگیا ہے !



میں بنت حوّا ہوں
ایک عورت جو ٹھہری ہوں
خواب کی پلکوں سے جس کو
ابنِ آدم نے بہلایا ہے
خواہشوں کے جال میں پھنسایا ہے
جانے کیسے کیسے ستائی جاتی ہوں !
اوڑھ کر انا کی بے حس کھال
میرے شیشہِ جسم کو روندا گیا ہے
جبر کی بھٹی میں دہکایا گیاہے
آزمائیش کی چکی میں پسوایاگیا ہے
تار تار وجود کا لہو لہوہوا ہے
کانچ کی مانند بکھری ہیں روح کی کرچیاں
کیونکہ میں بنت حوّا ہوں
ایک عورت !
میں وفا کی علامت ہوں
میں مامتا کا قالب ہوں
میں نسوانیت کا پیکر ہوں
میرے دم سے جہاں میں اجیارا ہے
میرا وجود نے روایتوں کو سہارا ہے​


پیشکش شیخ نازیہ فرحت






ہم ہندوستان فتح کرلیں گے


ﮨﻢ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﮔﮯ . ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﯾﮩﯽ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧِ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﻓﺮﺽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﻮﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﺎﻥِ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﺲ ﻏﻔﻠﺖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﻮ ﺭﮦﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﻧﺎﭼﯿﺰ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻏﻔﻠﺖ ﺳﮯ ﺟﮕﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﻣﮕﺮ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧِ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻣﻄﺎ ﺑﻖ ﺑﻠﻐﻮﺍ ﻋﻨﯽ ﻭ ﻟﻮ ﺁ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ ‏( ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺑﺎﺏ ﺍﻟﻌﻠﻢ ‏) . ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﭘﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧِ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﮏ ﻭ ﺷﺒﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﺎ ﺭﮨﮯ۔ ١ : ﺣﻀﺮﺕ ﺛﻮﺑﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﮔﺮﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﮒ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ،ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮔﺮﻭﮦ ﻋﯿﺴٰﯽ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﺎ۔ 278/5 : ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ : 21362 ﺣﺪﯾﺚ ﺛﻮﺑﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﮧ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ 3175. : ﺍﻣﺎﻡ ﻧﺴﺎﺋﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﻤﺠﺘﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺠﮩﺎﺩ ﺑﺎﺏ ﻏﺰﻭﺓ ﺍﻟﮩﻨﺪ * ﺍﻣﺎﻡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ 6/72 ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﻮﻟﯿﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮﺍﻟﺰﺑﯿﺪﯼ * :7261. ﺍﻟﺸﺎﻣﯽ ﺷﯿﺦ ﻧﺎﺻﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﮰﺍﺳﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﺳﻨﻦ ﺍﻟﻨﺴﺎ ﺋﯽ 28/3 ﺑﺎﺏ ﻏﺰﻭﺓ ﺍﻟﮩﻨﺪ 4374 ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ٢ : ﻣﯿﺮﮮ ﺟﮕﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺪﮪ ﻭﮨﻨﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﺸﮑﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﻭﻧﮕﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﮩﻢ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﮧ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺍﮔﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ‏( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ‏) ﮨﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺟﺴﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ 369/2 : ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ : 8467 ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺳﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﻧﺴﺎﺋﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ 3173. : ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﻤﺠﺘﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺠﮩﺎﺩ ﺑﺎﺏ ﻏﺰﻭﺓ ﺍﻟﮩﻨﺪ * 4382 – 4383 ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ ﻟﻠﻨﺴﺎﺋﯽ 3 / 28 ﺑﺎﺏ ﻏﺰﻭﺓ ﺍﻟﮩﻨﺪ . ﺷﯿﺦ ﺍﺣﻤﺪ ﺷﺎﮐﺮ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻣﺎﻡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻧﺎ ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮﻣﯿﮟ ،ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺰﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﮭﺬ ﯾﺐ ﺍﻟﮑﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ . ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﺴﻘﻼﻧﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﮭﺬﯾﺐ ﺍﻟﺘﮩﺬﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ . ﺍﺩﮬﺮ ﺍﯾﮏ ﺣﺪﯾﺚ ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎ ﮨﻮﮞ ﮔﺎ ۔ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﻨﺪ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﮯ ۔ ﻣﮕﺮ ﻣﮩﻔﻮﻡ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﭘﺮ ﺷﺎﮨﺪ ﮨﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﻟﺸﮑﺮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻥ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺋﮯ ﮔﺎ ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﮍﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﻪ ‏( ﺍﺱ ﺟﮩﺎﺩ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ‏) ﺍﻥ ‏( ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ‏) ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭩﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻋﯿﺴٰﯽ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ : ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻏﺰﻭﮦ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺳﺐ ﻣﺎﻝ ﺑﯿﭻ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻓﺘﺢ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻣﻠﮏ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺎﻥ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﻋﯿﺴٰﯽ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺪﯾﺪ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﻭﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮨﻮﮞ : ﺭﺍﻭﯼ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧِ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ، ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ 1238-1236 ﻧﻌﯿﻢ ﺑﻦ ﺣﻤﺎﺩ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻔﺘﻦ ﻏﺰﻭﺓ ﺍﻟﮩﻨﺪ 410 409- ﺣﺪﯾﺚ ﺍﺳﺤٰﻖ ﺑﻦ ﺭﺍﮨﻮﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺳﺤٰﻖ ﺑﻦ ﺭﺍﮨﻮﯾﮧ * 537 : ﻗﺴﻢ ﺍﻭﻝ – ﺳﻮﻡ : 1/462 ﺣﺪﯾﺚ . ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﭽﮫ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﻥ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﺳﮯ ﺑﺎﺧﻮﺑﯽ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻟﺸﮑﺮ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻋﯿﺴٰﯽ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﮯ ﮔﺎ۔ ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍﮨﻤﻨﻮﺍﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺭﮨﺎﮨﮯ ۔ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﺍﯾﺸﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮯﯾﮩﻮﺩ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺤﮑﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻗﻮﺕ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﺑﺎﺅ ، ﺟﮩﺎﺩِ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯾﺎﮞ ﺍﺳﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﮐﮍﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻥ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﭘﮧ ﮨﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﻋﻤﻞ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺣﺎﺩﺙ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺟﻮﺵ ﻭﺟﺬﺑﮧ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﻟﮓ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ . ﯾﮩﻮﺩﻭﮨﻨﻮﺩ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺗﺪﺑﯿﺮﯾﮟ ﺍﭘﻨﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﻭَﻣَﻜَﺮُﻭﺍْ ﻭَﻣَﻜَﺮَ ﺍﻟﻠّﻪُ ﻭَﺍﻟﻠّﻪُ ﺧَﻴْﺮُ ﺍﻟْﻤَﺎﻛِﺮِﻳﻦ :54 ‏[ 3 ﺁﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ‏] ﺍﻥ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻣﻦ ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ ﺟﯿﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﻣﻦ ﮐﯽ ﺁﺷﺎﺀ ﺟﯿﺴﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ۔ ﺍﻣﻦ ﮐﯽ ﺁﺷﺎﺀ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﺎ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺩﺍﻧﺎ ﺩﺷﻤﻦ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻮﻣﻨﻮ ! ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮ ﮨﯽ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﯿﻨﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﻔﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻋﻘﻞ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺳﻨﺎ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ۔ :118 ‏[ 3 ﺁﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ‏] ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﻻﻝ ﻗﻌﻠﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺟﮭﻨﮉﮮ ﮔﺎﮌﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺩﯾﻮﺍﻧﮯﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧِ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮭﺒﯽ ﻏﻠﻂ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺧﻮﺍﮦ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺿﺮﻭﺭ ﻻﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﻻﻝ ﻗﻌﻠﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮧ ﭘﺮﭼﻢ ﻟﮩﺮﺍ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻭﻋﺪﮦ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻋﺎﺟﺰﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ۔ :134 ‏[ 6 ﺍﻻﻧﻌﺎﻡ ‏] ﻧﻌﻤﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﻦ ﮔﻮﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﻭﺍﻗﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﯿﺸﻦ ﮔﻮﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﮦ ﺍﺳﻤﻌﯿﻞ ﺷﮩﯿﺪ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺭﺑﻌﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻘﻞ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺷﻮﺭ ﺑﺮﭘﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ‏( ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺎﺩﺭﺍﻧﮧ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﯾﻨﮕﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﮔﺎ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﻭﺍﺭ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﯿﻠﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺭﺍﺕ ﭨﮉﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺘﺢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺩﮐﻦ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻏﯿﺒﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﻓﺘﺢ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮔﯽ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺪ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮨﻨﺪﻭﺍﻧﮧ ﺭﺳﻢ ﻭ ﺭﻭﺍﺝ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻧﺸﺎﺍﻟﻠﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﯾﮧ ﭘﯿﺸﻦ ﮔﻮﺋﯿﺎﮞ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺳﮯ ﻣﻄﺎﺑﻘﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﺑﮭﯽ ﮔﮩﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻭَﻣَﺎ ﻳَﻨﻄِﻖُ ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻬَﻮَﻯ ﺇِﻥْ ﻫُﻮَ ﺇِﻻَّ ﻭَﺣْﻲٌ ﻳُﻮﺣَﻰ :4-3 ‏[ 53 ﺍﻟﻨﺠﻢ ‏] ﺍﻥ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺮﯾﮟ..........

اسلام کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

اسلام کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
٭٭کورِنگ اسلام کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ٭٭
مصنف : ایڈورڈ سیڈ                                       تجزیہ : محمد خرم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا بھر میں جہاں بھی چلے جائیں اسلام دشمنی تیزی سے پھیلتی ہوئی محسوس ہوگی ۔ مغرب کی استعماری طاقتیں ہوں یا مذہبی جنون، ہر جگہ اسلام کو بدنام کرنے اور اس کا تشخص برباد کرنے کی بھر پور مذموم کوششیں جاری ہیں۔ میڈیا وار اس حوالے سے سب سے اہم کر دار ادا کررہی ہے ۔ عقل و دانش سے پیدل مغربی دنیا بنا سوچے سمجھے میڈیا کے دکھائے کو سچ مانتے ہوئے اندھی تقلید کے ذریعے اسلام سے مسلمانوں سے بد دل ہوتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ایڈورڈ سیڈ جن کی کتاب کو ایرانی زبان یں ترجمہ کرتے ہوئے ایڈورسعید بھی لکھا گیا ہے، نے قلم اٹھایا اور کورنگ اسلام یعنی اسلام کو ڈھانپنا اور اس کے حقائق کو چھپانا جیسی کتاب لکھ کر حقائق کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ کام اسلام فوبیا میں مبتلا مغرب کی سوچ کو للکارنے کے مترادف ہے اور اگر اسے حقائق کی بازیافت کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہے۔ ذیل میں اس کتاب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے جو دراصل کتاب کے مندرجات کی مختصر وضاحت ہی کی ایک کڑی ہے۔


کتاب کامعروضی مطالعہ کریں تو کورنگ اسلام Covering Islam کا زمرہ تاریخ و مذہب (اسلام) ہے۔مصنف کی وطنیت فلسطین ہے اور اس کی وجہ تصنیف اسلام فوبیا کے حوالے سے دفاعِ اسلام و حقیقی تاریخ نویسی ہے ۔کورنگ اسلام کو ۱۹۸۱ء میں ونٹیج بکس Vintage Books نے شایع کیا جبکہ اسکے صفحات کی تعداد ۲۰۰اور ابواب پانچ ہیں۔ موضوعی اعتبار سے یہ مصنف کی پہلی دو کتا بو ںOrientalism” “اورThe Question of Palestine”‘‘کے سلسلے کا ہی ایک تسلسل ہے ۔یہ سلسلہ اسلام کے بارے میں مغربی میڈیا کے غلط رویے اور اس کے تشخص کو تباہی سے ہمکنار کرنے کی مذموم کوشش کا رد عمل ہے۔ ایڈورڈ سیڈ ان حق شناس لوگوں میں شامل ہے جو کسی ذات، رنگ مذہب اور قومیت پر یقین رکھنے کے بجائے فلاحِ انسانیت اور حقوقِ انسانیت کے مقصد کے تحت زندگی گزارنا پسند کر تے ہیں اور بلا ضرورت کسی بھی مذہب کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنانے سے گریز کرنے کا درس دیتے ہیں۔ کورنگ اسلام کو لکھنے کی غر ض و غایت کے حوالے سے وکی پیڈیا کا یہ اقتباس ملا حظہ کیجیے:

Covering Islam deals with issues during and after the Iranian hostage crisis, and how the Western media has speculated on the realities of Islamic life. Said questions the objectivity of the media, and discusses ۱؂ the relations between knowledge, power and the Western media

اقتباس میں ایران کی یر غمالی سے فلسطین پر قبضے اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی میڈیا کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر کتاب کے سرورق پر غور کریں تو مصنف کے نام کے ساتھ یہ عبارت لکھی نظر آئے گی،جو کہ در اصل اس کا تعارف ہے :

۲؂ “Author of Culture and Imperialism”

ترجمہ: ثقافت اور سامراجیت کا لکھاری۔

اس کے بعد کتاب کے نام کے نیچے یہ عبارت درج ہے:

How the Media and the Experts Determine How we see the rest of the ۳؂ World

ترجمہ: میڈیااور ماہرین کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں(اور)بقایا دنیا کس طرح سے دیکھتی/سوچتی ہے ۔

اسی سرورق کے نیچے ایک ڈبے میں اس یہ عبارت درج ہے:

No one studying the relations between the West and the decolonizing. World can ignore Mr. Said’s work… ۴؂(The New Youk Times Book Review)

ترجمہ: کوئی بھی شخص مغرب اور آبادیاتی نظام کو نہیں دیکھ رہا۔۔۔مسٹر سیڈ کے تمام کام کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ (نیویارک بک ریویو)

درج بالا ریویو سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغرب بے ایڈورڈ کی تحقیق و تنقید کو منفی معنوں میں لیا ہے اور یقیناًاس کے کام سے نا خوش ہے۔

سیڈ نے کتاب کو پانچ ابواب کو بالترتیب ان موضوعات میں تقسیم کیا ہے:اسلام اور مغرب،وضاحتی کمیونیٹیاں، اسلام کی وضاحت کرتے سیاستدان،تقلید پسند اور متضاد علم ، علم اوراس کی وضاحت۔ذیل میں ان ابواب کا ملخص پیش کیا جا رہا ہے

باب اول:اسلام اور مغرب

اس باب میں اسلام اورمغربی عیسائیت کے روابط کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ ایڈورڈ کہتا ہے کہ موجودہ عہد یا دورِ جدید میں کہا جاسکتا ہے کہ مغرب نے اپنی سوچ کے ذریعے (سوچے سمجھے منصوبے کے تحت)اسلام پر مسلط ہونے کی کوشش کی ہے۔

“Modern Occidental reactions to Islam have been dominated by a radically simplified type of thinking.”

وہ مزیدلکھتاہے کہ نا صرف اسلام مغر ب (یہود و نصاریٰ )کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ ان کا اچھا مقابل بھی ہے۔

Islam represents not only an impressive competitor but also a challenge to Christianity itself.

قرونِ وسطیٰ میں، عیسائیوں نے اسلام کے بارے میں تعصب پال رکھا تھا اور وہ اسلام کوdemonic religionیعنی معا ذاللہ ارتداد پذیر برے مذہب ،کفر و بے حرمتی کے مذہب اور ابہام پر مشتمل پیچیدہ مذہب کے طور متعصبانہ نظروں سے دیکھتے تھے۔ اور اسلام کی موجودگی ان کی نظروں میں مد مقابل کے طور پر کھٹکتی تھی ۔ ان کا نظریہ تھا کہ اچھے کے لیے لازم ہے کہ وہ برے پر قابض ہو اور اسے ختم کرے۔ اسی حوالے سے انہوں نے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا جس میں انہوں نے اسلام کو برائی سمجھتے ہوئے ختم کرنے کی مذموم کوشش کی۔( یہ کوشش عیسائی پادریوں کی جانب سے بھی تھی جنہیں حق کے سامنے ہوتے ہوئے خوف محسوس ہوتا تھا اور ان کا وجود ڈولنے لگتا تھا )

During the Middle Ages, Christians viewed Islam as a “demonic religion of apostasy, blasphemy, and obscurity,” intensified by the presence of Islam as an active competitor with Christianity. In the Christian “good must prevail over evil,” Islam was seen as the evil that must be defeated during ۵؂ the Crusades.

ایڈورڈ مزید لکھتا ہے کہ اسلام کبھی بھی نہیں لگتا کہ مکمل طور پر مغرب کے قبضے میں رہا ہے۔ اس نے تیل کی قیمتوں کی جنگ میں فتح حاصل کی ہے اور مغرب کو دہشت گردی کے حوالے سے سہما دیا ہے۔

جس طرح سے اسلام کو(برے اندازمیں مسخ کرکے) پیش کیا جاتا ہے اس طرح اس کا مطالعہ مغربی لوگوں کے لیے کبھی بھی ممکن نہیں رہتاکہ وہ اسلام کے بارے میں جانیں۔ مغربی میڈیا زیادہ ہی آسانی سے اسلام کے تشخص کو مسخ کرکے پیش کرتا ہے اور مسلمان علما ء اپنی پر جوش تقریروں اور ولولہ انگیز باتوں سے (یہ جہاد کے بارے میں بات ہے۔قیاس)دوسروں کے دلوں میں کم دوستانہ رویہ پیدا کرتے ہیں ۔ امریکہ کا بھی مسلمانوں کے حوالے سے بہت کم تجربہ ہے۔ اس کے بر عکس یورپی لوگ جو کہ مسلمان ممالک پر حکومتیں قائم کر چکے ہیں (Have Colonized)اور ان کے اپنے ممالک میں مسلمانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے ان کا اندازہ نسبتاً بہتر ہے۔ امریکہ کا مسلمانوں کے بارے میں کم تجربہ اسے جہالت کی حد تک اسلام کو نا سمجھنے کی جانب لے کر گیا ہے۔ سیڈ لکھتا ہے کہ ثقافتی طور پرورلڈ واردوم سے قبل اسلام کے لیے امریکہ میں کوئی اچھا مقام نہیں رہا ۔

“Culturally there was no distinct place in America for Islam before World War II.”

سیڈ لکھتا ہے کہ ثقافتی طور پرورلڈ واردوم سے قبل اسلام کے لیے امریکہ میں کوئی اچھا مقام نہیں رہا اسلام اور عیسائی دنیا کے تعلق کی تاریخی اہم ہے یہ سمجھنے کے لیے کہ کس طرح سے خیالات کو میڈیا فریم کرتا ہے۔ تعلق سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مشرق کی دوسری تہذیبوں کے بر خلاف اسلام کبھی بھی مغرب کے تابع نہیں رہا۔ سیڈ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ جس طرح ۷۰کی دہائی میں تیل کی قیمتیں بڑھیں اس سے لگتا ہے کہ مسلمان دنیا پر قابض ہونا چاہتے ہیں اور اس سے مغربی دنیا ڈری سہمی لگتی ہے ۔ سرد جنگ کے اختتام پر ایران اور اسلام کو با ضا بطہ اور بالخصوص تیل کی حکمرانی اور دہشت گرد قرار دیا گیا کیوں کہ انہوں نے حزب اللہ کی حمایت کی تھی اور حزب اللہ نے خلیج اور عرب میں بیرونی(امریکن) تسلط کے خلاف کلمہ حق بلند کیا تھا ۔ سرد جنگ کے اختتام تک میڈیا کوریج اسی چیز پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ اسلام برا ہے۔اسلام سے متعلق ذراسی معلومات اور خبر کو بھی بہت اہمیت دی جاتی اور بڑھا چڑھا کے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس طرح سے وہ اسلام کے تشخص کو برباد کرتے ہیں، میڈیا کے فریم ورک کو سمجھنا ضروری ہے ۔ اس باب میں فریمنگ پر زور دیا گیا ہے اور سمجھنے کے حوالے سے بھی اصرار موجود ہے ۔ بالخصوص یہ سمجھنا کہ کس طرح سے میڈیا اس تصور کو لاگوکرتاہے کہ وہ تیل کے حوالے سے اسلام کا تصور خراب کرتاہے۔ اس سے پتہ لگے کا کہ ہمارا میڈیا کس حد تک ذمے دار اور قصور ورا ہے ۔

باب دوم:وضاحتی کمیونیٹیاں Communities of interpretation

ایڈورڈ کہتا ہے کہ مغربی دنیا میں اسلام کا تصور ایک ایسے مذہب اور قوم کا تصورہے جس کی نا تو کوئی تاریخ ہے ، نا کوئی انقلابی کام یا انقلاب ہے اور نا ہی اس کی کوئی شنا خت ہے ۔ مغربی صحافیوں کی ذہنیت کے مطابق مسلمان لوگوں کے خیالات اور افکار نہایت محدود ہیں اور دائروں میں بند ہیں۔ سیڈ کہتا ہے کہ مغربی میڈیا اسلام کا تصور دورِ جاہلیہ کے لوگوں کا پیش کرتا ہے اور ان کے پالیسی میکر امریکہ کے زندگی کے سٹائل کے خلاف ہے۔ اسی سبب امریکہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اسلام اور مسلمان دشمن رویہ پایاجاتاہے۔ ایک فلاسفر C. Wright Millsکے مطابق انسان اپنے تجربے سے بہت کچھ زیادہ جانتا ہے ۔ اس کا یہ علم بہت سے مختلف ذرایع سے حاصل ہوتاہے۔

“Human beings are aware of much more than they have personally experienced; and their own experience is always indirect.” ۶؂

بالکل اسی طرح اگر C. Wright Mills کے نظریے کو سامنے رکھیں تو امریکن لوگوں کا علم ان کے ذاتی تجربے سے بہت زیادہ ہے اور یہ در اصل اس بیمار دماغ کی پیداوار ہے جو امریکن میڈیا کی صورت میں اسلام دشمن رویے کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہوتاہے۔میڈیا بالواسطہ ان کی جانکاری کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اسلام دشمن رویہ پرورش پا رہا ہے ۔ میڈیا اسلام کی مسخ شدہ شکل پیش کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر سیڈ دو نمونے پیش کرتا ہے ۔ ان میں سے پہلا نمونہ Robert Tuckerکی صورت میں ہے جو “Oil: The Issue of American Intervention” جیسے مو ضوعات پر لکھ کر عوام کی رائے بدلتا ہے اور اسے اسلام کے خلاف بھڑکاتا ہے ۔ دوسرا نمونہMoynihanکی تحریر کا ہے جو “The United States in Opposition”جیسی تحریر کے ذریعے اسلام دشمن رویے کو ہوا دیتا ہے۔ وہ اپنے کالم میں مسلمان لوگوں کو امریکن پالیسی کے خلاف چلانے والا دکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ دوسرا یہ کہتا ہے کہ مغربی دنیا میں چونکہ جمہوریت نہیں ہے اس لیے وہ ان کی جمہوریت کے لیے خطرہ بنیں گے ۔بالفاظِ دیگر وہ امریکہ کے مفادات ( انٹرسٹInterest) کے خلاف ہو جائیں گے/ہیں۔ سیڈ ان دونوں اشخاص کی مثال دے کر بتاتا ہے کہ ان کی تحاریر امریکن عوام کو یہ مسلسل باور کراتی ہیں کہ مسلمان امریکہ کو تیل دینے کے بہت زیادہ خلاف ہیں اور اس سے امریکہ شہریوں کی اس آزادی کو خطرہ لا حق ہے کہ وہ با آسانی چل پھر سکیں یا اپنی گاڑیاں چلا سکیں۔مغربی دنیا کا میڈیا عوام کو براہِ راست سچ تک رسائی نہیں دیتا۔ تصاویر اور خیالات نا صرف حقائق سے نہیں نکلتے ہیں بلکہ در اصل سچ موجود ہی نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس نہیں ہوتا uncertainedنہیں ہوتا۔

“pictures and ideas do not merely spring from reality into our eyes and minds, truth is not directly available, we do not have an unrestrained

variety at our disposal.” ۷؂

ایڈورڈ کا خیال ہے کہ سچائی کے فقدان کی جڑیں میڈیا سے ہی نشو نما پاتی اور پھلتی پھولتی ہیں تا کہ کچھ خیالات کی تشہیر ( پروموٹ) کر سکیں او ر کچھ کو چھپا سکیں یا اپنے خیالات کو دوسروں تک پھیلاسکیں۔ اور یہ امریکہ کی فارن پالیسی کا ایک حصہ بھی ہے اور اسے بنانے بگاڑنے میں بھی اہم کر دار ادا کرتا ہے ۔ مغربی صحافی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ خبر کیا بنانی ہے، اس سے کیا نتائج لینے ہیں اور کس طرح سے عوامی سوچ کو بدلنا ہے۔ لوگوں تک اس کی رسائی کیسے ہوگی اور کیا نتائج لینے ہیں۔ سیڈ کہتا ہے کہ مغرب میں اسی حوالے سے برے اور منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔حالانکہ اسلامی زندگی نا تو محض تحریروں تک محدود ہے نا ہی شخصیات تک اورنا ہی سادہ تعمیرات تک لیکن ان ہی حوالوں سے بار بار اسلام کانام استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک نا قابلِ یقین ذریعہ معلومات ہے۔

“So much of Islamic life is neither bound by texts nor confined to personalities or neat structures as to make the overused word “Islam” an unreliable index of what we try to apprehend.” ۸؂

سیڈ کی مغربی میڈیا کے حوالے سے یہ بھی بحث کرتا ہے کہ امریکی میڈیا فرانسیسی اور برطانوی میڈیا سے مختلف ہے کیونکہ یہ ایک superpowerہے اور اگرچہ امریکہ کا خیال نہیں کہ یہ ان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتاہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایسا ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق مسلمان تیل کی قیمتوں کو بڑھا کر امریکہ کو تباہی سے ہمکنار کرنے کی سازشیں کررہے ہیں۔سیڈ Charlotte Ryan’sکی اس خیال سے متفق ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اسلام کے بارے میں لکھے گئے آرٹیکلز کو خصوصی طور پر بنایا جاتا یا Frameکیا جاتا ہے تا کہ مغربی دنیا کو اپنے مذموم مقاصد حاصل ہو سکیں۔اس طرح سے مسلمانوں کا تصور ایسے گروپ کی شکل میں دیا جاتا ہے جو عقل و دانش سے پیدل اور محدود سوچ کے حامل ہیں۔ اس طرح سے امریکہ کو اپنے برائے نام اور خود سے دکھائے جانے والے دشمنوں کے مقابل قوم کو یکجا کرنے کا موقع بھی ملتا ہے اور قومیت Nationalismپروان چڑھتی ہے۔

سیڈ کہتا ہے اس اندا ز میں مغربی میڈیا ایک تیر سے دو شکار کرتا ہے۔ ایک طرف و ہ سیاسی طرفداری کے ساتھ معلومات مہیا کرتا ہے جس سے قومی اتحاد کو فروغ ملتا ہے جبکہ دوسری جانب اسلام کی غلط تفہیم ہوتی ہے ۔ Time for Kids,نامی رسالے کی مثال لے لیجیے اس میں ہر کہانی امریکہ اور اس کی اقدار کی شان و شوکت سے متعلق ہی ہوتی ہے ۔ اس میں امریکیوں کو شاندار، عقل مند اورصاف ستھرا دکھایا جاتاہے جبکہ افغانی فوجی کی تصویر کو غلیظ اور جنگلی بنا کر دکھایا جاتاہے ۔

باب سوم: اسلام کی وضاحت کرتے سیاستدان: تقلید پسند اور متضاد علم

جب مغرب اسلام کا ذکر میڈیا میں کرتا ہے تو یہ انہی مقاصد کے تحت ہوتا ہے جس کا وہ پہلے سے تعین کرچکے ہوتے ہیں(مغربی دانشوراور صحافی)۔ جب میڈیا کسی مضمون کو دائرہ کار میں لانا اور بتانا چاہتا ہے تو اس کے ماہرین کی غیر موجودگی کی وجہ سے جھوٹ گھڑتا ہے اور اس کی راہ کم علمی جیسی بنیادی چیز حائل نہیں ہوتی کیوں کہ وہ اپنی تمام تر کم علمی اور کج فہمی کے باوجود جو چاہتا ہے کہتا اور لکھتا چلا جاتا ہے۔ وہ مسلم تاریخ، معاشرت اور سیاسی سمجھ بوجھ نا ہوتے ہوئے بھی اسلام کے بارے میں خوب زہر فشانی کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ایڈورڈ لکھتا ہے :

“the media hides more than it reveals” when covering issues in the Middle East.

یعنی میڈیا نے کچھ دکھانا ہوتا ہے اس سے زیادہ چھپانا ہوتا ہے۔ایسا وہ بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے دانستہ طور پر کرتا ہے ۔

ایسا ہی معاملہ “Princess Episode” کا ہے جو کہ برطانوی ڈائریکٹرBritish director Anthony Thomas نے بنائی ہے۔ اس میں سعودی عرب کے لوگوں اور اسلام دونوں کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔(ایسی ہی ایک اور فلم لارنس آف تھلیویا بھی ہے)۔ اس میں اسلام کے حوالے سے افواہیں پھیلانے کی کوشش بھی کی گئی ہے جس کا حتمی نتیجہ لوگوں کو اسلام سے دور کرنا اور اس کا منفی کردار پیش کرنا ہے۔ اس فلم کے بارے میں ایک جگہ لکھا گیا ہے :

The film generalized and portrayed a bad picture of Saudi Arabia in particular.

اس فلم کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور ساتھ میں سیاسی و معاشرتی تناظر کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی سازش بھی کی گئی تھی ۔ اب جب کہ لوگوں نے جو کچھ دیکھا وہ چونکہ اس کی پس منظر سے نا صرف نا واقف تھے بلکہ حقائق کو جانتے ہیں نہیں تھے (اسلامی معاشرت اور سیاست کے حوالے سے)تو وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلم درست یا غلط ہے۔(ایسی صورت میں یقیناًوہ اسی پر یقین کریں گے جو کہ وہ دیکھ رہے ہوں )۔فلم نے اس سلسلے میں جو کچھ کیا وہ اس خیال کی آبیاری کے سوا اور کیا کچھ ہو سکتا تھا کہ مسلمان متشدد اور بنیاد پرست ہیں اور بہت حد تک جاہل بھی۔اسی طرح کی ایک اور فلم “Jihad in America,” بھی مسلمانوں کے خلاف ہی فلمائی گئی تھی (اس کے بعد zero dark thirtyبھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے)۔اس کا واحد مقصد امریکن لوگوں کو یہ باور کرانا تھا کہ امریکہ مسلمانوں کے لیے میدان جنگ تھا تاکہ وہ اس میں خوف و ہراس پھیلا سکیں ۔

“America was the battleground for Muslims plotting terror and horrifying warfare against us in our midst.”

اس سے انہیں” ہم اور تم” کے نظریات ملے یعنی دو مختلف جہتوں ، دو مختلف خیالات، افکار اور سمتوں کا تعین ہوا۔ کیا اس طرح کی خبروں اور تشہیر سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام در اصل کیا ہے ؟اس باب میں اس بات کا ذکر ہے کہ فریمنگ کی کس طرح جاتی ہے ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح محض دو فلموں نے لوگوں کوسوچ اور افکار کے حوالے سے تقسیم کیا خیالات کیا ۔ مزید یہ بھی کہ کس طرح سعودی عرب کی تحقیر کرکے اسے اسلام کا نمائندہ ظاہر کیا گیا۔

’’Time For Kids ‘‘کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح قاری کو لکھاری کے خیالات سے غیر محسوس انداز میں ہم آہنگ کیا جاتا ہے ۔ “A Look at Islam” کے آرٹیکل میں بڑا مقصد یہ رہا کہ دہشت گردی مذہب میں پنپتی ہے اگرچہ یہ ایک امن پسند مذہب ہی ہو ۔ اس آرٹیکل کا آغاز دہشت گردی کی گفتگو سے ہوتا ہے اور پھر یہ مذہب سے ہوتا ہوا دوبارہ سے دہشت گردی کی جانب چلا جاتاہے۔اسلام کے بارے میں کوئی اچھی رائے کیوں قائم کرے گا جبکہ اسے یہی تربیت دی جارہی ہوگی کہ یہ کنٹرول سے باہر ہے، اوراس کے تمام ماننے والوں کے عقائد ایک جیسے ہیں، سیاسیات اور معاشی نا انصافی سب کچھ ایک ہی ہے۔ Time for Kids بچوں کو مسلسل یہی سبق دے رہا ہے کہ ہم اور ہیں اور مسلمانوں کی ثقافت کچھ اور۔مسلمان اور ان کی اقدار دونوں برائی ہیں جب کہ امریکی اور ان کی اقدار سب سے بہترین ہیں۔

باب چہارم: اسلام کی وضاحت کرتے سیاستدان: تقلید پسند اور متضاد علم

سیڈ سوال کرتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک کلچر کے لوگ دوسرے کلچر سے نا واقفیت کے باوجود اس پر مکمل رائے قائم کر لیں ؟اس کے جواب میں وہ کہتا ہے کہ یہ مغرب کا وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ دوسرے کلچر کے لوگوں کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں ۔ بیکن کہتا

ہے کہ :

“Human knowledge is only what human beings have made. External reality, then, is no more the modifications of the human mind.”

انسانی علم محض وہی ہے جو اس نے بنا لیا ہے ۔ حتمی سچائی تو یہی ہے کہ انسانی دماغ کی مزید تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔(یعنی انسان نے بہت سوچ سمجھ کے بعد بہت سے علوم بنائے ہیں اور ان میں اب مزید تبدیلیاں واقع نہیں ہورہیں۔)

تاہم مغربی لوگوں کے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں معروضی علم وجود میں نہیں آرہا ۔یورپی دوسرے کلچرز کو تجارت، فتح یا حادثے کی صورت میں رونما ہونے والی کلچر کی صورت میں دیکھتے اور بیان کرتے ہیں۔Interestکی جڑیں ضرورت سے جڑی ہوتی ہیں اور ضرورت سامراجیت کو بھوک، خوف اور دلچسپی و تجسس کے تحت اکٹھا رہنے پر اکساتی ہے۔ امریکیوں نے برطانویوں سے جو کچھ سیکھا ہے یا لیا ہے وہ اسی کی بنیاد پر ہمارے کلچر کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔قدیم کلچرز کا تعلق ہمیشہ کمرشل، سامراجی کالونیوں اور فوجوں کی بڑھوتری سے رہا ہے۔جب تک ایک کلچر کو دوسرے کلچر کے قریب ترین رہنے کا موقع میسر نہیں آتا، یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کی تفہم کی جائے ۔ اسلام کی تفہیم کے حوالے سے مغرب میں کچھ بھی ’’آزاد ‘‘نہیں ہے بلکہ یہ کسی نا کسی ایجنڈے کے تحت ہے۔

امریکہ اور یورپ دونوں کی خبروں میں اسلام تضحیک کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔مغرب میں اسلام کے پڑھے لکھے فہیم جو کہ میڈیا، گورنمنٹ اور زمینی اہمیت کے جانکار لوگ ہیں سبھی کے سب اس نظریے کے حامی ہیں کہ اسلام مغرب کا دشمن ہے جس کے نتیجے میں اسلام کے حوالے سے منفی خیالات پروان چڑھ رہے ہیں۔اسی حوالے سے پرنسٹن میں چار سیمینار منعقد ہوئے جو کہ امریکہ کے فنڈڈ تھے ۔ ا ن میں بار بار اسی بات پر زور دیا جاتا رہا کہ اسلام ایکMake-believeدنیا میں رہتے ہیں جہاں پر خاندان آزاد نہیں ۔ مزید یہ کہ تمام لیڈرز نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں اور معاشرہ بھی ابھی پختہ نہیں ہے۔ ان سیمیناروں میں اسلام کے تشخص کو خراب کرنے کی پوری کوشش کی گئی اور مقررین کے خطابات سے لگتا تھا جیسے مغرب میں اسلام کے حوالے سے ایمر جنسی نا فذ ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوررنگ اسلام جیسی کتاب پر امریکہ میں تنقید کی گئی اور اسے آڑھے ہاتھوں لیا گیا ۔

ایڈورڈ کہتا ہے کہ اسلام میں تین قسم کے متضاد علوم ہیں اور تین ہی طاقتیں ہیں۔ ایک نوجوان علماء کا گروپ ہے جو کہ سیاسی طور پر شفافیت اور ایمانداری کے قائل ہیں ۔ دوسری قسم بزرگ علماء کی ہے جو کہ متشدد قسم کے خیالات کے پابند لوگوں کے خلاف ہیں۔تیسرا لکھاری ، مفکرین اور مصلح لوگوں کا گروہے جنہیں اسلام کا ماہر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ جنگ اور سامراجیت کے مخالف ہیں۔یہ ملائیت کے خلاف ہیں، مفکرین اور اساتذہ ہیں۔ایڈورڈ کہتا ہے کہ تینوں قسم کے لوگوں کا مکمل علم اور ادراک ہی انسان کو اس قابل بنا سکتا ہے کہ وہ کوئی رائے قائم کر سکے۔ ورنہ وہ ہر خبر اور بات پر محض سرِ تسلیم خم کرنے والوں میں سے ہوجاتے ہیں۔ اپنی بات کومنطقی انجام تک پہنچا کر ختم کرتے ہوئے سیڈ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ علم کوکسی خاص قوم، نسل یا مذہب کا زاویے سے سمجھنے کے بجائے سیاسی اور انسانی دونوں حوالوں سے سمجھا اورحاصل کرنا ضروری ہے ۔

جب کوئی بچہ Time for Kidsکا رسالہ اٹھاتا ہے تو وہ اس لکھاری پر انحصار کرتا ہے جو کہ اسے باہر کی دنیا سے ملاقات کروانے میں پل کا کردار ادا کرتا ہے کہ وہ اسے حقائق تک پہنچائے گا یا رسائی کو ممکن بنائے گا۔ یہ لکھاری بچوں کے حوالے سے ماہر ہوتے ہیں اور جو کہ ان کی سوچ اور خیالات کو اپنی مضموم مقاصد کے تحت ڈھال لیتے ہیںیا مسلسل ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لکھاریوں کا اسلام دشمنی اور ملک کے معاشی ، معاشرتی و سیاسی اداروں سے گہرا تعلق ہے جو کہ دراصل ملک کو چلارہے ہیں۔امریکی میں اقدار اور علم کو سمجھنے کے لیے اکیڈمیز، کانگریس، میڈیا ،یونیورسٹیوں اور وزارتِ خارجہ کے دفاتر سے مدد لی جاتی ہے ۔ شہری ہونے کے ناطے ان اداروں پر بھروسہ کیا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہیں گے اور بتائیں گے اس میں اغلاط کے امکانات بہت کم اور سچائی بہت زیادہ ہوگی ۔ تاہم اسلام کے حوالے سے جہاں ان کے مفادات ہوتے ہیں وہ عملی اور تجرباتی ، دونوں سطحوں پر بھرپور محاز قائم کرتے ہیں۔ اب اس ساری صورتِ حال میں چونکہ Time for Kidsرسالہ امریکہ کے اداروں کے چندے پر چلتا ہے اس لیے وہ شروع ہی سے بچوں کے ذہن میں اسلام کو خطرنا ک اور بربریت کے شاہکار کی تصویر نقش کرتا ہے۔ بعد میں ایسے تصورات کو امریکی سپاہیوں اور افغانی سپاہیوں کی صورت میں اور بھی اجاگر کیا جاتا ہے ۔ یعنی امریکی

سپاہی دنیا کے بہترین اور حق پرست انسان جبکہ افغانی سپاہی یا مجاہد بد ترین لوگ ۔

When a journal views Islam as a commodity and not as a culture, the images corresponding to Islam will distort the child’s objective knowledge. That child will then consume the contaminated interpretation as a projection of reality.

ترجمہ: جب کسی رسالے میں اسلام کو ایک کلچر کے بجائے ایک بھیڑ چال کے طور پر دکھایا جاتا ہے تو بچہ حقیقی علم تک پہنچنے سے قاصر رہا ہے ۔ پھر یہی بچہ متعصب ہوئے بنا سوچ نہیں پاتا اور نا ہی حقائق کا علم حاصل کرپانے میں کامیاب ہو پاتا ہے ۔

American children are the future of this country, and if their initial exposure to Islam is from the government, corporations or universities, who have connections with one another, the information they are receiving is pure commodity. This leaves the future leaders of the “great” nation targets of consumer globalization

ترجمہ: اگرچہ امریکی بچے اس ملک کا سرمایہ ہیں ۔اگر ابتدا ء ہی میں انہیں ان کے معزز اداروں جیسی یونیورسٹیوں، میڈیااور گورنمنٹ کی جانب سے اسلام کو اس طرح منفی انداز میں پیش کیا جائے گا تواس سے اس بڑی قوم کی بنیادی جڑیں مضبوط نہیں ہو پاتی اور وہ گلوبلائزیشن کے دور میں مادی فوائد کا بندہ ہو کر رہ جاتا ہے ۔

باب پنجم :علم اوراس کی وضاحت

سیڈ کے مطابق علم کا تعلق تاریخ سے ہوتا ہے اور یہ انسانی معاشرے میں نتائج نکالنے اور کوئی فیصلہ کرنے کا نام ہے ۔ حتیٰ کہ اگرچہ تاریخ حقائق کی بازیافت کا نام ہے ، حقائق اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کہ ان سے کیا نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔جب کہ کسی چیز کی سمجھ بوجھinterpretationکا تعلق کسی دوسری چیز کی سمجھ بوجھ سے براہ راست ہوتا ہے ۔ اسے اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی تحریر اصل نہیں ہوتی ۔ در حقیقت اس کی کوئی نا کوئی توجیہہ یا شبیہہ انسانی دماغ میں ضرور موجود ہوتی ہے جو اسے سمجھنے میں مدد دیتی ہے ۔ سیڈ کے مطابق interpretationچار چیزوں سے تعلق رکھتی ہے یا ان پر منحصر ہوتی ہے : interpreterسمجھانے والا کون ہے ؟وہ کس سے مخاطب ہے ؟سمجھانے میں اس کا کیا مقصد مضمر ہے ؟ اور کس تاریخی واقعے کے ساتھ اس کے ادراک interpretationکی کوشش کی جارہی ہے ۔ تمام قسم کی interpretation کا تعلق دماغی سرگرمی ، اسے بنانے اور بگاڑنے سے ہوتاہے ۔ عبارت کی interpretation کا تعلق ہمارے کلچر سے ہے اور اس کو اس وقت تک ہر گز نہیں سمجھا جاتا جب تک کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا چاہیے۔

جب کسی چیز کی interpretation کی جاتی ہے تو اس میں محسوسات، عادات، وابستگی ہر چیز کے تعلق کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے ۔ کوئی بھی شخص جب interpretation کرتا ہے تو کلچر کی اقدار جس میں بعض چیزوں کی اجازت اور بعض سے منع کیا گیا ہوتا ہے ، کے تحت کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی بھی چیز کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق ہی دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ایسے میں اس کے وہ خیالات جو اس کے کلچر کے اقدار کے زیرِ اثر ہوتے ہیں اگر interpretation ہونے والی چیز یا بات سے متصادم ہوتے ہیں تو وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے یا اس کی نفی کرتا ہے جب کہ اگر اس کی اقدار کے مطابق ہوں تو ان کی تائید کرتا ہے ۔سیڈ کہتا ہے کہ جہاں طلب یا دلچسپی نا ہو وہاں ممکن ہی نہیں کہ interpretation، علم یا سمجھنے کی طاقت موجود ہو۔ سیڈ اس حوالے سے ہنس جارج گڈمیرHans-Georg Gadamer کا حوالہ دیتا ہے :

“A person trying to understand a text is prepared for it to tell him something.”

ترجمہ: ایک شخص جو کسی تحریر کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے در اصل وہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتا ہے ۔ یا ۔ وہ چیز بھی اسے ادراک دیتی ہے ۔

سیڈ اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ ہمارامعاشروں، مذاہب اور کلچرز کے حوالے سے جو علم ہے وہ اشخا ص کے ذاتی علم اور دوسرے بہت سے بالواسطہ نتائج کے مجموعے سے نکلتا ہے۔جو کچھ علم کو اچھا یا برا بناتا ہے وہ معاشروں کی ضروریات سے مشروط ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز کاخا لص تجزیہ نہیں ہوتا کیوں کہ اس کی بنیاد گزشتہ تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ یہ تجربات و مشاہدات جو تعلیم اسے مہیا کی گئی ہوتی ہے اس سے ، اس کے تعلیمی اداروں، گورنمنٹ اور میڈیا سے ملتی ہے۔ اس لیے کسی اجنبی کلچر کے بارے میں جونظریات اور خیالات لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں وہ اپنی مرضی سے ہی پہنچا ئے جاتے ہیں ۔ ایسی صورتِ حال میں اس کلچر سے متعلق چیزیں غلط انداز میں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں جس کی ایک بڑی مثا ل اسلام یا مسلمانوں کا کلچر ہے ۔

سیڈ کے مطابق آج کے دور میں اسلام کو مغرب نے تیل کی سیاست اور اس کے بحران ، بنیاد پرستی، دہشت گردی ، میڈیا میں مذاق بنانے اور خوامخواہ اس کی غلط توجیہات پیش کرنے کے لیے پسند کیا ہوا ہے ۔ جب کبھی اسلام کے بارے میں معلومات پیش کی جاتی ہیں تو اس کو بہت ساری پہلے بیان کی گئی باتوں کے ساتھ ملا کر پیش کیا جاتا ہے ۔

سیڈ کی کتاب کے حوالے سے نیٹ پر موجود ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سیڈ کے بتائے گئے حقائق کو درست مان لیا جائے تو انداز ہ ہوگا کہ مغرب اپنے بچوں کو اسلام کے حوالے سے کیا تعلیمات دے رہا ہے اور کس طرح اسلام کے تشخص کو برباد کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔

If Said is correct in stating that all views are connected and based upon other interpretations, the children reading Time for Kids, will create a foundation of Islam based on the American projection of their culture and country in the future. Whether or not a particular reader comes across the “other side” to the Islamic culture, his or her interpretation will still have connection to the message presented in Time for Kids.

بچوں کے حوالے سے Charlotte Ryan’s نے بھی اپنے آرٹیکل “Prime Time Activism”میں سیڈ کی بات کا اعادہ کرتے ہوئے یہ لکھا ہے :

Time for Kids is presenting a frame of cultural resonances: cultural stereotypes are used to reinforce general social goals.

ایڈورڈ سیڈ کی کتاب کے حوالے سے Islam and Edward Said: An Overviewعنوان کے تحت آرٹیکل میں

ڈھاکہ یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ غلام غوث القادری اور بنگلہ دیش یونیورسٹی کے انگلش یونیورسٹی کے حبیب اللہ نے ایک مقالہ پڑھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

ایڈ ورڈ کی کتاب کا بہت سی ادبی اصطلاحات کے ساتھ ساتھ (ادب کے مطالعے کے ساتھ ساتھ )مو ضو عی مطالعہ بھی کیا گیا تاکہ یہ دیکھا اور جانچا جا سکے کہ ایڈورڈ نے جو کچھ مغرب کے بارے میں کہا ہے آیا وہ درست ہے یا نہیں ؟اس میں یہ بھی جانچنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس کی یہ کتاب مغربی عفریت (ان کے میڈیا، سیاستدانوں اور دانشوروں کی سوچ اور اسلام کو بدنام کرنے کی با قاعدہ سازش )کے خلاف اسلام کے دفاع کی کوشش ہے ۔ ایڈورڈ کی اس کوشش کی بنیاد اس کے سکالر ہونے ، ذہانت اور مصمم ارادے کی ترجمان ہے۔ یہ بین الاقوامی سیاسی صورتِ حال کی تفہیم بھی کرتی ہے اور اس کے اسلام سے تعلق کو بھی وا ضح کرتی ہے۔ سیڈ کی یہ کاوش اسلام کے بارے میں غورو فکر کرنے والوں کی آنکھیں روشن کرے گی ۔ سیڈ نے اپنے آپ کو امریکہ اور مغرب میں ایک تجزیہ کاراور حقیقت نگار کے طور پر پیش کیا ہے اور مغرب کی ابہام پرستی اور جھوٹ کی کھل کر نفی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

وکی پیڈیا پر ایڈورڈ کی کتاب کا ملخص اس طرح پیش کیا گیا ہے:

ایڈورڈ سیڈ کہتا ہے کہ علم طاقت ہے اور وہ لو گ سب سے زیادہ طاقتور ہیں جو مغرب کے میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کی پسند نا پسند کو سمجھنے اور بدل دینے کی پوری طاقت رکھتے ہیں۔ عقل ایک شخص کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ سوچے ، سمجھے، سوال کرے اور اپنی اچھائی برائی کو جان پائے۔ اسلام کے مطابق یہ اس کا شعور ہی ہے جو اسے اشرف المخلوقات بناتا ہے۔ انسان فطری طورپر ایک آزاد خیال اور شعور والا ہے لیکن مغربی میڈیا چاہتا ہے کہ وہ عقل و شعور چھوڑ کر صر ف و صرف اسی کی بات مانے۔ کسی خیال کو بنا کسی سوال یا سوچ وچار کے مان لینا در اصل کم عقلی اور بے شعوری ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایک شخص کو یہ اختیار دے دینا کہ دوسرا ہی اس کے لیے سوچے اور اس کے لیے فیصلہ کرے۔ وہ میڈیا کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ اس قابل ہے کہ معلومات کو کنٹرول اورفلٹر کر سکے، لوگوں کو جو دکھانا چاہتا ہے وہ دکھا سکے اور جو چھپانا چاہتا ہے وہ چھپا سکے۔معلومات کے اس دور میں، سیڈ کہتا ہے کہ یہ میڈیا ہی ہے جو معلومات کو فلٹر کرتاہے ۔اس حوالے سے اس کا کہنا ہے کہ مغرب نے معیار مقرر کر لیا ہے کہ اسلام کے بارے میں کیا بتائے اور کیا نہ بتائے ۔اسلام کو مغرب ظالم دکھاتا ہے (خواتین کا حجاب میں ہونا مغرب کے لیے ظلم کی علامت ہے

جب کہ ان کی Nuns، Mothersجو حجاب اوڑھتی ہیں وہ فخر کی علامت ہے ) سنگسار(زنا کی صورت میں سنگسار ان کے ہاں ظلم ہے جب کہ امریکہ میں دنیا بھر سے زیادہ زنا ہوتے ہیں اور دیگر بہت سے ممالک میں منشیات کی سزا موت ہے اس پر امریکہ کبھی گفتگو نہیں کرتا )کتابیں جلانا (ان کے خیال میں مسلمان علم دشمن ہیں اور کتابیں جلاتے ہیں جبکہ ان کے آباؤ اجداد نے جو دنیا بھر میں لائبریریاں جلائیں وہ قابلِ فخر ہے مزیدیہ کہ وہ یہ فرضی کہانی سناتے ہیں کہ مسلمان علم دشمن ہیں حالانکہ ایسا نہیں)بہت سے معاملات میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں (شراب کا استعمال اور جوا منع ہے ۔جس سے مغرب کو بہت تکلیف ہے)یہ متشدد ہیں(الجزائر، لبنان اور سوڈان کی مثالیں)جاہل ہیں(پاکستان، سعودی عرب اور سوڈان کی مثالیں)دنیا بھر میں ان کی وجہ سے جھگڑے ہیں(فلسطین ،کشمیر اورانڈونیشیا)بہت خطرناک ہیں (ایران اور ترکی)۔

and Said claims that the media has determined very selectively what Westerners should and should not know about Islam and the Muslim world. Islam is portrayed as oppressive (women in Hijab); outmoded (hanging, beheading and stoning to death); anti-intellectualist (book burning); restrictive (bans on post- and extramarital affairs, alcohol and gambling); extremist (focusing on Algeria, Lebanon and of course Egypt); backward (Pakistan, Saudi Arabia and the Sudan); the cause of worldwide conflict (Palestine, Kashmir and Indonesia); and dangerous (Turkey and Iran).

سیڈ کہتا ہے کہ مغربی میڈیا نہیں چاہتا کہ کسی بھی طرح لوگ اسلام کے بارے میں یہ جانیں کہ مرد اور عورتیں برابر ہیں، اسلام برائی اور جرم سے روکتا ہے اور اس کے خلاف بھی ہے، اسلام ٹھوس تشخص کا مذہب ہے اوراخلاقیات کے ضابطے کا پابند ہے، اسلام معاشرتی طور پر بھائی چارے اور برابری کے تصور پر قائم ہے اور یہ بھی کہ اسلام ایک روحانی اور عملی مذہب ہے ۔سیڈ دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام کے متعلق بے ہودہ اور بے معنی جھوٹی باتیں زور و شور سے آزادی، مقصدیت، جمہوریت اور ترقی کے نام پر پھیلائی جارہی ہیں ۔
 

محاوروں کا پوسٹ مارٹم

محاوروں کا پوسٹ مارٹم

ہماری قومی زبان اُردُو بہت ہی پیاری زبان ہے۔ یہ اپنے اندر مختلف زبانوں کے الفاظ محاورے، حکایتیں اور نصیحتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہم اپنی زندگی میں مختلف مواقع پر مختلف محاوروں کا استعمال کرتے ہیں جن سے درست صورت حال فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ذیل میں چند محاوروں کا برجستہ استعمال اور ان کا پس منظر پیش خدمت ہے۔

’’میں کمبل کو چھوڑوں کمبل مجھے نہ چھوڑے‘‘ یا ’’یہ شخص تو بالکل کمبل ہوگیا۔‘‘

اس محاورے کو اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی شخص زبردستی آپ کا وقت ضائع کرے اور پیچھا نہ چھوڑے۔ تب کہتے ہیں کہ یہ شخص توبالکل کمبل ہوگیا۔ اس محاورے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا ’’وہ دیکھو دریا میں کمبل بہ رہا ہے، میں ابھی اسے نکال کر لاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ جب وہ اس کمبل کو پکڑنے میں کامیاب ہوگیا تو دیکھا کہ وہ کمبل نہیں ریچھ ہے۔ اب ریچھ نے اس شخص کو پکڑ لیا۔

جب دریا کے کنارے کھڑے دوست نے آواز دی ’’کمبل کو چھوڑو۔ تم دریا سے باہر نکل آئو۔‘‘

اس دوست نے جواب دیا ’’میں تو کمبل کو چھوڑ دوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔‘‘

’’گربہ کشتن روزِاوّل‘‘

یہ محاورہ ہے تو فارسی زبان کا، لیکن اُردُو زبان بولنے والے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دو دوستوں کی شادی ایک ہی وقت میں ہوئی۔ کچھ عرصے بعد ایک دوست دوسرے کے گھر آیا۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کے حالات معلوم کیے۔ مہمان دوست نے کہا ’’میری تو بہت اچھی گزر رہی ہے۔ میری بیوی ہر بات مانتی اور میرا خیال رکھتی ہے، میں بہت خوش ہوں۔‘‘

دوسرے دوست کے حالات برعکس تھے۔ میزبان نے مہمان دوست سے اس کی خوشحال زندگی کا راز معلوم کیا تو مہمان دوست نے بتایا ’’شادی کے بعد پہلے ہی دن میرے کمرے میں ایک بلی گھس آئی۔ میں نے غصے میں تلوار نکالی اور بلی کو ہلاک کردیا۔ میری بیوی نے جو بلی کی ہلاکت دیکھی تو خوفزدہ ہوگئی کہ یہ شخص بہت تیز مزاج کا ہے۔ اسی دن سے وہ میری ہر بات مانتی ہے۔‘‘

میزبان دوست نے کہا ’’یہ تو کوئی مشکل کام نہیں، ایسا تو میں بھی کر سکتا ہوں۔‘‘

یہ تمام گفتگو میزبان دوست کی بیوی چھپ کر سن رہی تھی۔ جب رات کو اس کے شوہر نے وہی عمل دہرایا یعنی خود ہی کمرے میں بلی چھوڑی اور غصہ دکھا کر اسے ہلاک کردیا تاکہ بیوی پر رعب پڑسکے ۔لیکن یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ بیوی بالکل متاثر نہیں ہوئی، بلکہ شوہر سے کہنے لگی ’’گربہ کشتن روزِاوّل۔‘‘ یعنی بلی مارنی تھی تو پہلے ہی روز مارتے، اب میں تمھیں جان چکی ہوں۔ اس بلی کی ہلاکت اور تمھارے غصے کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘‘

’’کولہو کا بیل‘‘

یہ محاورہ ایسے شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس میں سمجھ بوجھ کی کمی ہو یا قوت فیصلہ نہ ہو اور وہ دن رات کام میں بھی لگا رہے۔ آج کا دور، مشینی دور ہے۔ ہر کام مشینوں کے ذریعے ہوجاتا ہے۔ مشینی دور سے پہلے دیہات میں زیادہ تر کام جانوروں سے لیا جاتا تھا۔ کھیت میں ہل چلانے، کنویں سے پانی نکالنے، تیار فصل کو منڈی تک پہنچانے اور چاول کو دھان سے علحٰدہ کرنے کے لیے بھی بیل سے کام لیا جاتا تھا۔ غرض بہت سے کاموں میں بیل کی مدد اور طاقت سے انسان فائدہ اٹھاتے تھے۔ اسی طرح بیجوں سے تیل نکالنے کا کام بھی بیل ہی انجام دیتے۔ جس جگہ تیل نکالا جاتا اُسے کولہو کہتے ہیں۔ یہ لکڑی کی چکی کی طرح ہوتا ہے۔

اس میں بیج بھرنے کے بعد ایک موٹی سی گول چکنی لکڑی کے ساتھ بیل باندھ کر چکر لگوائے جاتے ہیں۔ بیل کی مدد سے اس کا درمیانی حصہ گھومنے لگتا ہے جس کی وجہ سے بیج پس جاتے اور ان سے نکلنے والا تیل ایک نالی سے گزرتا ہوا برتن میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ بیل کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے تاکہ گول گھومنے کی وجہ سے اسے چکر نہ آئیں۔ بیل صبح سے شام تک اس کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے اور یہی اس کا کام ہے۔ بیل اپنی دانست میں میلوں کا سفر طے کرتا اور اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی محدود جگہ پر چکر لگا رہا ہے۔

’’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘‘

بلی ہر شہر، ہر گلی اور محلے میں ملتی ہے۔ اسے کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ بلی کسی بھی گھر میں موقع پا کر سامنے رکھی شے کھا لیتی ہے، لہٰذا لوگ بلی کی پسندیدہ چیزیں اس کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں۔

آج کے دور میں لوگوں کو ریفریجریٹر کی سہولت میسر ہے لیکن پہلے لوگ اشیائے خورونوش کی حفاظت کے لیے باورچی خانہ کی چھت کے درمیان ایک ڈوری، رسی یا زنجیر کی مدد سے جالی دار ٹوکری نما برتن باندھ دیا کرتے جسے چھینکا کہتے تھے۔

جو سامان بھی بلی یا بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہو، اسے ’’چھینکے‘‘ پر رکھ دیا جاتا۔ یہ چھینکا باورچی خانے کے بیچوں بیچ یعنی چاردیواری کے وسط میں ہوتا، لہٰذا بلی اس تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ البتہ بلی کے علم میں ہوتا کہ اس کی پسندیدہ شے چھینکے میں موجود ہے اورکوئی صورت نہیں کہ وہ اس تک پہنچ سکے۔ ایسے میں اگر اتفاق سے چھینکا خودبخود ٹوٹ جائے اور کھانے پینے کا سامان خودبخود بلی کے سامنے آگر ے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ چھینکا بلی کی قسمت یا نصیب سے ٹوٹا ہے یعنی ’’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔‘‘

’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور

کھانے کے اور‘‘

زمین پر بسنے والے جانوروں میں سب سے بڑا جانور ہاتھی ہے۔ جسامت کے لحاظ سے بھاری بھر کم، طاقت کے لحاظ سے بھرپور، سونڈ کے لحاظ سے الگ اور پھر بڑے سفید دانت۔ یہ دانت ہاتھی کی خوب صورتی بڑھانے کے علاوہ ہاتھی کے کسی کام نہیں آتے۔ البتہ منہ کے اندر والے دانت غذا چبانے کے کام آتے ہیں۔ یعنی منہ کے اندر والے دانت کھانے کے اور باہر والے دانت دکھانے کے۔ جب کوئی شخص اندر سے کچھ اور ہو اور ظاہر کچھ اور کرے تو ایسی صورت میں یہ محاورہ بولا جاتا ہے۔

’’بندر کا انصاف‘‘ یا ’’بندربانٹ‘‘

یہ محاورہ ایک چھوٹ سی کہانی کی وجہ سے مشہور ہے۔ بچوں کے لیے لکھی گئی اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن ایک بلی کو کسی جگہ روٹی پڑی ملی۔ اسی وقت دوسری بلی نے اسے اٹھا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ ایک کہتی ’’میں نے اسے پہلے دیکھا ہے۔‘‘ دوسری کہتی ’’میں نے اسے پہلے اٹھایا ہے۔‘‘ ابھی ان دونوں بلیوں میں لڑائی جاری تھی کہ وہاں سے ایک بندر کا گزر ہوا۔ بلیوں کو آپس میں روٹی کے لیے لڑتے دیکھ کر بندر سارا ماجرا سمجھ گیا۔ پھر بھی نزدیک آ کر بلیوں سے پوچھا کہ وہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ بلیوں نے ساری صورت حال بندر کو بتا دی اور فیصلہ بندر پر چھور دیا۔

بندر نے کہا ’’روٹی دونوں بلیوں کو آدھی آدھی ملے گی۔‘‘بلیاں اس فیصلے پر راضی ہوگئیں۔ بندر نے روٹی کے دوٹکڑے کیے، لیکن جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا اور دوسرا ذرا چھوٹا توڑا۔ پھر ترازو میں تول کر بلیوں سے کہا ’’یہ ٹکڑے تو برابر نہیں، لہٰذا بڑے ٹکڑے میں سے میں تھوڑی سی کھا لیتا ہوں تاکہ دونوں ٹکڑے برابر ہو جائیں اور تم دونوں میں برابر تقسیم ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر بندر نے بڑے ٹکڑے کو کھانا شروع کردیا اور کچھ زیادہ ہی کھا گیا۔

پھر دونوں ٹکڑوں کو ناپ تول کر دیکھا اور کہا ’’اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہوگیا، لہٰذا اسے کھا کر پہلا ٹکڑا برابر کرنا ہوگا۔‘‘ لہٰذا بندر نے دوسرا ٹکڑا اٹھا کر اسے کھانا شروع کردیا اور پھر زیادہ کھا گیا۔

پھر دونوں ٹکڑوں کو تول کر اندازہ کیا اور بولا ’’اب وہ ٹکڑا بڑا ہوگیا ہے، لہٰذا پھر اس کو کھا کر برابر کرنا پڑے گا۔‘‘ یوں بندر ٹکڑے برابر کرنے کے بہانے پوری روٹی کھا گیا اور دونوں بلیاں بندر کی شکل ہی دیکھتی رہ گئیں۔

بلیاں اگر آپس میں نہ لڑتیں تو بندر فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ یہ تھا ’’بندر کا انصاف‘‘ یا ’’بندر بانٹ۔‘‘

جب کوئی شخص فیصلہ یا انصاف کرنے کے دوران اپنے فائدے کا خیال رکھے یا زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس موقع پر کہتے ہیں کہ ’’یہ ہے بندر کا انصاف!‘‘

صنفِ نازک

صنفِ نازک  
قرآن مجید  کے بغور مطالعے کے بعد شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا تھا:  ’’اگر میں مسلمان نہ ہوتا اور قرآن مجید کو خدا کا کلام نہ سمجھتا تواس کے پڑھنے کے بعد یہ کہتا کہ یہ کسی عظیم عورت کی تصنیف ہے کیونکہ اس میں جس قدر عورتوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے دنیا کے کسی مذہب میں نہیںکی گئی ۔‘‘

اسلام سے قبل مختلف معاشروں میں عورت کو مختلف نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ سمجھی جاتی تھی۔ یونان میں اسے شیطان خیال کیا جاتا تھا۔ جبکہ رومانے اسے گھر کے اثاثے سے زیادہ حیثیت نہ دی ۔ نصرانیوں کے نزدیک یہ باغِ انسانیت کا کانٹا سمجھی جاتی تھی ۔ یہودیوں نے اسے لعنتِ ابدی کا مستحق گردانا۔ جبکہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کا نقطۂ نظر تمام مذاہب اور معاشروں سے مکمل طور پر جداگانہ ہے۔ اسلام میں عورت مرد کے ساتھ شریک کار ہے۔ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی ابتدا میں خدا وند کریم فرماتا ہے۔

’’اے لوگو ! ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں ‘‘ یہ آ یت  طبۂ نکاح میں تلاوت کی جاتی ہے اور اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیق نفسِ واحد سے ہے۔یعنی دونوں کی اصل ایک ہے ، پھر رتبے میں فرق کیوں ؟ رتبے کے فرق کو مکمل طور پر سمجھانے کے لیے سورۃ حجرات کی 13 ھویں آیت میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے  ’’اے لوگو ! ہم نے تمھیں تخلیق کیا ایک مرد اور ایک عورت سے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو ۔ بے شک اللّٰہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ بلند کردار ہو۔‘‘

اس طرح اب بڑائی کا معیار بھی مقرر ہوگیا ۔ یعنی بڑائی صرف اور صرف کردار پر منحصر ہے لہٰذا اگر کوئی مرد صاحب کردار ہے تو وہ بلند مقام رکھتا ہے اور اگر ایک عورت زیادہ بلند کردار ہے تو پھر وہ عورت مردوں سے زیادہ بلند مقام رکھتی ہے ۔  صحیح بخاری شریف میں حضرت عمرؓ کا یہ قول نقل ہے ’’مکہ میں ہم لوگ عورتوں کو بالکل ہیچ سمجھتے تھے۔ مدینہ میں نسبتاً ان کی قدر تھی لیکن جب اسلام آیا اور اللہ نے ان کے بارے میں آیات نازل فرمائیں تو ہم کو ان کی قدر و منزلت معلوم ہوئی ‘‘ حضرت عمرؓ کے اس قول سے واضح ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں عورت کا مقام کیا تھا ۔

اسلام نے کہیں بھی عورت کو کمتری کا طوق نہیں پہنایا بلکہ مساوات کا تصور اس قدر واضح کر دیا کہ قرآن میں جب بھی امت رسولﷺکو مخاطب کیا تو دونوں (مرد و عورت ) کو حکم دیا ’’اے لوگو‘‘اے لوگو !جو ایمان لائے ‘‘ کے القابات استعمال کیے گئے ۔ قرآن میں کہیں بھی ’’یعنی اے مرد نہیں کہاگیا‘‘۔ اگر کہیں تفصیلی ہدایات مقصود ہوئیں یا پسندیدہ لوگوں کی نشاندہی فرمائی گئی تو جہاں مسلمین کہا تو اس کے ساتھ مسلمات بھی کہا گیا اس طرح مومنین کے ساتھ مومنات، صادقین کے ساتھ صادقات، صابرین کے ساتھ صابرات اور صالحین کے ساتھ صالحات آیا ہے ۔

جنگِ خندق میں حضرت اسماء بنتِ ابوبکر ، حضرت اُم ابان ؓ، حضرت خولہ ؓ، حضرت ہند ہ ؓ اور حضرت جویرؓیہ کا بے جگری سے لڑنا تاریخ کا زرّیں باب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشاعت دین، تبلیغ اور دوسرے اُمور مثلاً تجارت وغیرہ میں بھی خواتین کا کردار نہایت جامع ہے ۔ حضر ت علیؓ کی مشیر تجارت ایک خاتون شفا ء بنتِ عبداللّٰہ تھیں ۔ حضرت علی کی ہمشیر اُم ہانی ؓ نے فتح مکہ کے موقع پر ایک مشرک کو پناہ دی جسے آنحضرتﷺ نے منظور فرمایا۔

اس سے جہاں مسلمان خواتین کی سماجی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے وہاں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ آنحضرت نے خود عورت کے سیاسی تدبر پر مہر ثبت کر دی۔ الغرض اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے عورت کو قدرومنزلت عطا کی ہے۔ یقینا ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کی عورت اپنے مقام اور مرتبے کو نہ صرف سمجھے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرے اور اپنی صلاحیتوں سے ثابت کرے کہ وہ اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے ایک بہترین اور باعزت رول نبھا سکتی ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی تجارت میں مہارت اور حضرت عائشہؓ کی تعلیم و تربیت میں خدمات آج بھی عورتوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

دنیا کے ۱۳ احمقانہ قانون

دنیا کے 13 احمقانہ قانون 
فلورنس  کا شمار اٹلی کے مشہور شہروں میں ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ مغربی نشاۃثانیہ (Renaissance) نے اسی نگر میں جنم لیا۔ شہر میں کئی تاریخی عمارات اور سیکڑوں چرچ واقع ہیں۔ ہر سال وہاں بلامبالغہ لاکھوں سیاح آثار قدیمہ دیکھنے آتے ہیں۔ تاہم بہت سے سیاح شہر کے ایک انوکھے قانون کی وجہ سے اپنی خاصی بھاری رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ قانون یہ ہے کہ آپ فلورنس کے کسی چرچ کی سیڑھیوں یا صحن میں بیٹھ کر کھا پی نہیں سکتے۔ اگر چرچ انتظامیہ یا بلدیہ شہر کے کسی ملازم نے کھاتے پیتے پکڑ لیا، تو آپ کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ تاہم دیگر عوامی مقامات پر کھانا پینا ممنوع نہیں۔

یہ صرف فلورنس سے مخصوص نہیں، دنیا کے کئی شہروں میں عجیب و غریب قوانین رائج ہیں اور ان میں سے اکثر احمقانہ پن کے زمرے میں آتے ہیں۔ چونکہ بیشتر سیاح ان سے ناواقف ہوتے ہیں، لہٰذا خلاف ورزی کرنے کے باعث اپنی قیمتی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ذیل میں کچھ ایسے انوکھے قوانین دیے جا رہے ہیں۔

1۔ سنگاپور میں چیونگم نہ کھائو ورنہ…
دنیا کی اکلوتی خودمختار شہری ریاست میں حکومت صفائی ستھرائی پہ خاص توجہ دیتی ہے۔ وہاں اس ضمن میں اتنی سختی ہے کہ شہری سڑکوں، اسٹیشنوں، ریلوں اور دیگر عوامی مقامات پر چیونگم نہیں کھا سکتے۔ اگر کوئی من چلا سڑک پر جگالی کرتا پکڑا جائے، تو اس پر بھاری جرمانہ عائد ہوتا ہے۔ سنگاپور میں سگریٹ نوشی کا قانون بھی بڑا سخت ہے۔ شہری صرف گھروں یا مخصوص عوامی جگہوں پہ ہی سگریٹ پی سکتے ہیں۔ ورنہ آپ نے ریستوران، سڑک یا پارک میں سگریٹ جیسے ہی سلگایا، پولیس آپ کو دبوچ لے گی۔ سو اس شہر میں چیونگم کھاتے اور سگریٹ پیتے ہوئے احتیاط کیجیے۔

2۔ خبردار! کبوتروں کو دانہ مت ڈالیے…
وینس تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے اٹلی کا دل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وینس جانے والے سیاح ہوشیار رہیں، وہاں کبوتروں کو دانہ ڈالنا غیر قانونی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ دانہ ڈالنے سے کبوتروں کی آبادی بڑھتی ہے۔ وہ پھر شہرمیں مختلف بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ مشہور امریکی شہر سان فرانسسکو میں بھی کبوتروں کو دانہ ڈالنا ممنوع ہے۔ وجہ یہی کہ ان پرندوں کی زیادہ آبادی امراض پھیلا دیتی ہے۔ وہاں تو شہریوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ دانہ ڈالنے والوں کی خبر پولیس کو دیں۔

3۔ واشنگٹن میں بدنما گھوڑے کی سواری
امریکی ریاست واشنگٹن کے بعض شہروں کی مقامی حکومتوں نے عجب قوانین بنا رکھے ہیں۔ مثلاً بریمرٹن (Bremerton) شہر کی حدود میں جو شہری اپنا کوڑا کسی دوسرے کے کوڑے دان میں پھینکے، تو اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اور شہر ولبر (Wilbur) کا قانون تو خاصا مضحکہ خیز ہے۔ وہاں کوئی شہری بدنما گھوڑے پر سواری نہیں کر سکتا… ورنہ جیل اس کا ٹھکانہ بن سکتا ہے۔

4۔ کپڑے ٹنگانے ہیں… لائسنس لیں
نیویارک دنیا کے گنے چنے کاسموپولٹین، نفیس اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جدید شہروں میں شامل ہے۔ شاید آپ کا خیال ہو کہ اس امریکی شہر میں الٹے پلٹے قوانین نہیں ملیں گے۔ مگر یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ اگر آپ نیویارک کے باسی ہیں، تو آپ کو بالکونی یا صحن میں تاروں پہ کپڑے لٹکانے کے لیے لائسنس لینا ہو گا۔ کپڑے بغیر لائسنس لٹکائے جائیں، تو مقامی حکومت جرمانہ لگانے میں دیر نہیں لگاتی۔ ایک اور عجیب قانون یہ ہے کہ شہر میں کوئی شہری مذاق مذاق میں گیند اپنے ساتھی کے سر پہ نہیں مار سکتا۔ ورنہ اس اقدام پر بھی جرمانہ لگتا ہے۔

5۔ جرمن شاہراہوں پہ پٹرول نہ ختم ہونے دیں۔
گاڑی باقاعدگی سے چلانے والے جانتے ہیں کہ بعض اوقات سنسان اور ویران جگہوں پر اچانک پٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ تب کسی سے لفٹ لے کر یا پیدل ہی چل کر پٹرول پمپ پہنچنا پڑتا ہے۔لیکن جرمن شاہراہوں(آٹوبان) پر پٹرول ختم ہونا جرمانے کو دعوت دینا ہے۔  جرمن شاہراہیں بہت طویل ہوتی ہیں اور ان پر سوائے ایمرجنسی کے کسی کو رکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یوں ڈرائیوروں کو موقع ملتا ہے کہ پوری رفتار سے گاڑیاں چلا سکیں۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ اچانک پٹرول ختم ہونا ایمرجنسی ہی تو ہے۔ مگر جرمن قانون اسے ایمرجنسی نہیں ڈرائیور کی غلطی سمجھتا ہے کہ اس نے سفر شروع کرنے سے قبل پٹرول کی ٹینکی پر نظر کیوں نہ ڈالی؟

6۔ کتوں کا مذاق نہ اڑائیے
بعض ممالک اور علاقوں میں جانوروں کے حقوق کا ازحد خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن امریکی ریاست اوکلوہاما سب پر بازی لے گئی۔ وہاں یہ قانون موجود ہے کہ اگر کسی انسان نے کتوں یا بلیوں کا منہ چڑایا، انھیں دیکھ کر نازیبا حرکات کیں، تو پولیس اسے گرفتار کر سکتی ہے۔ سو کبھی اوکلوہاما جائیے، تو کتے بلیوں کے ساتھ مہذب انداز میں پیش آئیے۔

7۔ اوئے! چوک میں کیوں بیٹھے ہو؟
سینٹ مارک اسکوائر وینس کا مشہور چوک ہے۔ وہاں کئی سڑکیں آ کر ملتی ہیں۔ رفتہ رفتہ سیکڑوں سیاح اس اسکوائرمیں ڈیرہ جمانے لگے۔ وہ پستے یا میوے کھاتے اردگرد کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے۔ لیکن جب اسکوائر میں سیاحوں کی کثرت ہو گئی، تو وہاں ٹریفک جام ہونے لگا۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ چوک میں سیاحوں کی ’’پکنک‘‘ پر پابندی لگا دی گئی۔ اب اگر وہاں کوئی بیٹھے، تو بلدیہ کے ملازم نرمی سے اسے بتاتے ہیں ’’یہاں بیٹھنا منع ہے۔‘‘ اگر کوئی تب بھی نہ مانے تو پھر چلو تھانے!

8۔ جاپان میں وکس انہیلر نہ لے جائیں
ایشیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک جاپان میں میڈیکل اسٹور والے قانوناً الرجی اور امراض تنفس سے متعلق ادویہ ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت نہیں کر سکتے۔ اسی لیے وہاں عام آدمی میڈیکل اسٹور سے وکس انہیلر نہیں خرید سکتا بلکہ اس دوا کو ڈاکٹری نسخے کے بغیر جاپان لانا بھی ممنوع ہے۔ مزیدبرآں ایسی ادویہ بھی کھلے عام نہیں لائی جا سکتیں جن میں کوڈین (Codeine) موجود ہو۔

9 ۔ ہوائی اڈے کی تصویر… ارے نہیں!
قازقستان وسطی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے جہاں قازق مسلمانوں کے علاوہ روسی بھی بڑی تعداد میں بستے ہیں۔ اس ملک میں ہوائی اڈے پر کوئی تصویر کھینچتا جرم ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر پولیس ملزم کو گرفتار بھی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سبھی ممالک کے مانند فوجی اور سرکاری تنصیبات کی تصاویر کھینچنے پر بھی ممانعت ہے۔

10۔ جمیکا کا غیر معروف قانون
دنیا کے کئی علاقوں میں میری جوانا (Marijuana) اگائی جاتی ہے۔ یہ ایک نشہ آور بوٹی ہے جو انگریزی میں کنابیس (Cannabis) بھی کہلاتی ہے۔ اردو میں اس کے کئی نام ہیں مثلاً بھنگ، گانجا، حشیش وغیرہ۔ کئی سیاح اور عام لوگ نہیں جانتے کہ جمیکا میں قانونی طور پر میری جوانا کی بوٹی اُگانا جرم ہے۔ اگر کوئی اُس کی کاشت کرتا پکڑا جائے، تو اس کو کم ازکم دس سال تک جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے۔ سو ویسٹ انڈینز کے اہم جزیرے جمیکا کی سیاحت پر جائیں، تو میری جوانا سے دور رہیں۔

11۔ بریتھلائزر رکھنا مت بھولیے
مغربی ممالک میں خمر کا چلن عام ہے۔ لیکن وہاں بھی جو ڈرائیور یہ بدبخت مشروب پینے لگے‘ اسے ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ فرانس میں تو یہ قانون ہے کہ ہر ڈرائیور کے پاس دستی بریتھلائزر ہونا چاہیے۔ یہ آلہ انسانی خون میں الکوحل کی مقدار ناپتا ہے۔ جو ڈرائیور اس دستی (پورٹیبل) آلے کے بغیر پایا جائے، اسے 11یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔ فرانس آنے والے سیاح بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔

12۔ مہذب روّیہ اپنائو
مغربی تہذیب و ثقافت کے پروردہ مرد و زن کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ ان میں شرم و حیا بہت کم ملتی ہے۔ اسی لیے وہ عوامی مقامات پر بھی بے حیائی کا مظاہرہ کرتے نہیں جھجکتے۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی اپنے پیروکاروں کو ہمیشہ تلقین فرمائی کہ پاکیزہ و پاک صاف زندگی بسر کرو۔ تاہم مغربیوں کو متحدہ عرب امارت میں بڑی احتیاط برتنا پڑتی ہے۔ وہاں مرد و زن کا ہاتھ تھام کر چلنا بھی جرم ہے، کچھ اور گھٹیا قدم اٹھانا تو دور کی بات ہے۔

جو کوئی امارات میں نازیبا حرکت کرے، قید خانہ ہی اس کا ٹھکانا بنتا ہے۔
تاہم بعض مغربی ممالک میں بھی بے حیائی کے مظاہروں پر پابندی ہے۔ مثلاً یونان میں کسی عوامی مقام پر اپنی پتلون اتارنا جرم ہے۔ خلاف ورزی پر آپ پربھاری جرمانہ لگ جائے گا۔ اسی طرح ہسپانوی دارالحکومت بارسلونا میں مرد و زن صرف ساحل سمندر پر ہی لباس تیراکی پہن سکتے ہیں۔ اگر اس پوچ لباس میں گلیوں و سڑکوں پر گھوما پھر ا جائے، تو اپنا بٹوا ہلکا کرنے کو تیار رہیے۔

13۔ ریزگاری اپنے پاس ہی رکھو
ہمارے پاس جب بہت سے سکے جمع ہو جائیں، تو ان سے جان چھڑانے کا آسان طریقہ یہ نظر آتا ہے کہ انھیں کسی دکان دار کے حوالے کر دیا جائے۔ مگر کینیڈا میں ایسی حرکت نہ کیجیے گا ورنہ آپ کو خفت اٹھانی پڑے گی۔ دراصل کینیڈا کے کرنسی ایکٹ کی رو سے دکان داروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ ریزگاری لینے سے انکار کر دیں۔ مثلاً اگر آپ ایک سینٹ کے پندرہ بیس سکے دیں، تو وہ انھیں قانوناً لینے سے انکار کر سکتے ہیں۔

بے اعتمادی کا زہر

بے اعتمادی کا زہر  

اجتماعی  زندگی میں باہمی اعتماد اور جذبۂ خیر خواہی آبِ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ بالادستی قائم کرنے کی لامحدود خواہش بگاڑ کی عجب عجب صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اِن دنوں بے اعتمادی کے ایک ہولناک عذاب سے گزر رہا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کے باوجود شدید ترین ذہنی اور اخلاقی افلاس کا شکار ہے۔

پاکستان جب معرض وجود میں آیا تھا ٗ تو ہم پوری اُمتِ مسلمہ کو ایک عظیم طاقت بنانے اور عالمی قیادت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے اور اسلام کی عدل و مساوات اور حریتِ فکر پر مبنی تعلیمات کی برکات سے پوری دنیا کو فیض یاب کرنے کا عزم رکھتے تھے ٗ لیکن ہماری سیاسی ٗ علمی اور سماجی قیادتیں بلند نصب العین کے لیے کام کرنے کے بجائے علاقائی ٗ گروہی اور ذاتی مفادات کی جنگ میں اُلجھ کے رہ گئیں اور تعلیم و تربیت کا وہ نظام قائم نہ کر سکیں جو اچھے انسان ٗ خودنگر شہری اور بلند نگاہ تہذیب و تمدن کے امام تیار کرتا ہے۔

ہم جوں جوں اسلام کے عالمگیر تصورات اور بلند پایہ علمی اور اخلاقی اقدار سے دور ہوتے گئے ٗ ہمارے اندر لسانی ٗ علاقائی‘نسلی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں نے ڈیرے ڈال دیے اور ہمارا ملی شیرازہ بکھرتا چلا گیا۔ آج ہمارے ملک میں جمہوریت رائج ہے ٗ انتخابات بھی ہوتے رہتے ہیں ٗ مگر اصل حکمرانی زور آوروں کی چلی آ رہی ہے۔ دانش بھی ایک طاقت ہے ٗ مگر دانش وروں کا ایک راہ گم کردہ گروہ اِسے اپنی عظمت قائم کرنے اور بانیانِ پاکستان کی ذات اور شخصیت میں طرح طرح کے کیڑے نکالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ دولت اِن دنوں غالباً بہت بڑی طاقت شمار ہوتی ہے جو بڑی بڑی شخصیتوں کے علاوہ اداروں کو بھی خرید لیتی ہے۔

اِسی طرح بندوق بھی ایک زمانے سے فیصلہ کن طاقت کی حیثیت سے جانی پہچانی جا رہی ہے ٗ لیکن آج کی دنیا میں الیکٹرانک میڈیا نے اپنی بالادستی بڑی حد تک قائم کر لی ہے جس کے سامنے حکومتیں بھی بعض اوقات سرنگوں دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان میں فوج کا اثرونفوذ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے ٗ کیونکہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہماری سلامتی کے لیے بہت بڑاخطرہ بنا رہا ہے۔ اُس نے فوجی طاقت سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور وہ پاکستان کو اپنا تابع مہمل بنانے کے لیے طرح طرح کی سازشیں کرتا آیا ہے۔

اپنی خود مختاری کے تحفظ کی خاطر ہماری سیاسی قیادتوں کو امریکہ سے معاہدے کرنا پڑے جن سے ہماری فوجی طاقت میں اضافہ ہوا۔بدقسمتی سے جنرل ایوب خاں ٗ جنرل یحییٰ خاں ٗ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف سیاسی حکومتوں کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے اور یوں سیاست دانوں اور فوجی قیادتوں کے مابین بداعتمادی پرورش پاتی رہی ٗ تاہم جنرل اشفاق پرویزکیانی جنہوں نے چھ سال فوج کی سپہ سالاری کی ٗ اُنہوں نے اعتماد کے رشتے جوڑنے کی مخلصانہ کوشش کی ٗ مگر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے سیاسی جماعتوں کے علاوہ میڈیا ٗ عدلیہ اور سوسائٹی کے خلاف انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے جو آپریشن کیے ٗ اُن کے مہلک نتائج زندگی کے ہر شعبے میں شدت سے آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور بداعتمادی کا زہر اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔

فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور مالاکنڈ ڈویژن کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں ریاست کی رِٹ ازسرِنو بحال کی ہے جبکہ بلوچستان کی تعلیمی ٗ سماجی اور اقتصادی ترقی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے اِس صوبے کو قومی دھارے میں لانے کے لیے بڑی کاوشیں کی ہیں۔ اِس کے باوجود سول اور فوجی اداروں میں اعتماد کی کمی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے حکومت کے اہم ارکان اور فوج کے درمیان تناؤ اورنڈر صحافی جناب حامد میر پر قاتلانہ حملے کے فوراً بعد میڈیا اور ملٹری میں جو آویزش زور پکڑتی جا رہی ہے ٗ وہ اِسی بد اعتمادی کا شاخسانہ ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ حامد میر اﷲ تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہو رہے ہیں ٗ مگر اُن کے حملہ آور اپنے اِس مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ فوجی اداروں کے حوالے سے میڈیا تقسیم ہو گیا ہے اور فوج اور حکومت کے درمیان فاصلے ایک بار پھر منظرعام پر آ گئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید کا یہ بیان اِس تقسیم کو ایک فکری لب و لہجہ فراہم کرتا ہے کہ ہم غلیل کے بجائے دلیل کے ساتھ ہیں۔ یہ بھی ایک عجب اتفاق ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم نواز شریف‘ جناب حامد میر کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچے ٗ تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز میں چند گھنٹے گزارے اور قومی سلامتی میں اِس ادارے کے کلیدی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ قومی حلقے اِس نازک صورتِ حال پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں اور جیو چینل پر چلنے والی اِن خبروں سے اُن کو شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے جن میں آئی ایس آئی کے ڈی جی کو حملے کا ذمے دار قرار دیا جاتا رہا۔

اپنے ہی ملک میں اپنی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی پر مسلسل چاند ماری اِس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹیز اپنے فرائض ادا کرنے میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی ہیں جبکہ وزارتِ دفاع آئی ایس آئی پر الزامات کی بارش کے دوران مہر بلب رہی۔ اِس ہیجان انگیز صورتِ حال نے آئی ایس آئی کو پیمرا کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا جس سے طاقت ور میڈیا اور فوج کے درمیان کھلی جنگ شروع ہو جانے کا امکان پیدا ہو چلاہے کیونکہ میڈیا کے اندر مادرپدر آزاد ہونے کا رجحان جڑیں پکڑتا جا رہا ہے جس کی حکمت کے ساتھ روک تھام ازبس ضروری ہے۔ دنیا کے سبھی مہذب ممالک میں آزادیٔ صحافت کا تصور ایک بامعنی احساسِ ذمے داری سے وابستہ ہے اور قومی مفاد کے حوالے سے داخلی طور پر ایک خود احتسابی نظام ہر جگہ کام کر رہا ہے۔

بلاشبہ ہر تنظیم اور ادارے میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے اور اِسے اپنے اپنے ضابطۂ اخلاق کا پابند رہنا چاہیے ٗ مگر دہشت گردی کے عفریت کو شکست دینے کے لیے ہمیں اپنے سیکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑا ہونا اور حکومت کو اُن کا دفاع کرنا ہو گا۔ آج وقت کا اہم ترین تقاضا یہی ہے کہ مختلف اداروں کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط کیے جائیں ٗ پیمرا کو مستحکم بنیادیں فراہم کی جائیں اور میڈیا کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اِسی طرح سول اور عسکری تعلقات کے واضح خدوخال متعین کرنے میںتاخیر کوئی بھی گُل کھِلا سکتی ہے۔ تمام ادارے اپنے اپنے وقار کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پوری دیانت داری سے آئین کی بالادستی کو اوّلین اہمیت دیں۔

آج کے ترقی یافتہ عہد میں فوج عوام کی حمایت اور اعتماد کے بغیر اپنی آئینی ذمے داریاں صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتی ٗ اِس لیے اِس کا میڈیا میں امیج بہت اچھا نظر آنا چاہیے۔ سیاسی اور فوجی قیادت کے مابین ایک پائیدار ادارتی نظام بے حد ضروری ہے جس کے ذریعے حقیقی ہم آہنگی فروغ پا سکے اور بالادستی قائم کرنے کا فتور پوری طرح زائل ہو جائے۔ اسی یک جہتی اور ہم آہنگی سے پاکستان شاہراۂ ترقی پر گامزن ہو سکے گا اور اپنی تخلیق کے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔ شاندار مواقع اس کا گھر درست ہونے کے منتظر ہیں۔

 

نبی کریمﷺ معذوروں کیلئے رحمت

معذوروں کے لیے رحمت   
ایک بارنبی کریمﷺ مدینہ منورہ کی گلی میں کچھ صحابہؓ کے ساتھ کسی کام سے تشریف لے جارہے تھے۔ اچانک ایک خاتون نے آپﷺ کا راستہ روک لیا۔ وہ عورت پاگل تھی۔ وہ آپﷺ سے گویا ہوئی ’’رسولِ خداﷺ! مجھے تنہائی میں آپ سے کچھ کہنا ہے۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا: ’’اے عورت! تم جس مرضی راہ پر مجھے لے چلو، میں تمھاری بات ضرور سنوں گا۔‘‘ چناںچہ وہ عورت نبی کریمﷺ کو کچھ دور لے گئی اور باتیں کرتی رہی۔ صحابہ کرامؓ وہیں استادہ رہے۔ تھوڑی دیر بعد حضور اکرمﷺ واپس تشریف لائے اور صحابہؓ کے ساتھ اپنی منزل کی سمت روانہ ہو گئے۔ یہ واقعہ صحیح مسلم میں حضرت انسؓ بن مالک سے روایت کردہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔

قدیم معاشروں کی حالت
اس واقعہ کو معمولی مت سمجھیے۔ یہ ایک عظیم الشان سچائی سامنے لاتا ہے۔ یہ واقعہ سوا چودہ سو سال قبل وجود میں آیا جب دنیا بھر میں ذہنی و جسمانی طور پر معذور انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا تھا۔ انسانی معاشروں میں ان کے حقوق کا نام و نشان نہ تھا۔ زمانہ قدیم میں بعض یورپی معاشروں میں یہ رواج تھا کہ کوئی معذور بچہ جنم لیتا، تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تاکہ وہ ان پر بوجھ نہ بنے۔ ذہنی و جسمانی معذوروں سے کئی توہمات وابستہ تھے۔

مثلاً یہ سمجھا جاتا کہ معذوروں پر بھوت پریت اور چڑیلیں قابض ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ یونانی شہروں میں اسپارٹا اور ایتھنز میں قوانین تشکیل دینے والے مدبروں لائکرگس (820قبل مسیح۔ 730ق م) اور سولن (638 ق م۔ 558 ق م) نے حکومتوں کو اجازت دے ڈالی کہ معذوروں کو قتل کر ڈالیں… کیونکہ معذور نہ توکام کے قابل تھے اور نہ جنگ لڑ سکتے تھے۔

قدیم یونانی فلسفیوں کو تو چھوڑیے، افلاطون جیسے بظاہر بیدار مغز اور انسان دوست فلسفی کا کہنا تھا کہ ذہنی و جسمانی طور پر معذور مرد و زن معاشرے پر بوجھ ہیں چناںچہ جمہوریہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مغرب میں نشاۃٔثانیہ اور احیائے علوم کے بعد بھی طویل عرصہ تک معذوروں کو اچھوت سمجھا جاتا رہا۔ مشہور برطانوی فلسفی ہربرٹ اسپنسر (1903-1820ئ) نے اپنی حکومت پر زور دیا کہ وہ معذوروں کا خیال کرنے پر رقم خرچ نہ کرے کیونکہ وہ کوئی کام نہیں کر سکتے۔ زمانۂ ماقبل اسلام عرب جزیرہ نما کی حالت بھی مختلف نہ تھی۔ عرب لوگ معذور کے ساتھ کھانا نہ کھاتے اور اسے لوگوں سے کٹ کر تنہائی، مایوسی اور بے چارگی کی زندگی گزارنا پڑتی۔

رحمت للعالمینﷺ کا ظہور
غرض سوا چودہ سو سال پہلے کہیں معذور واجب القتل تھے، تو کہیں انھیں غلام قرار دیا جاتا۔ایسے میں صحرائے عرب میں اسلام کا نور نمودار ہوا۔ تب رحمت للعالمینﷺ ذہنی و جسمانی طور پر معذور مرد و زن کے لیے اُمید و خوشی کا پیام لیے دنیا میں تشریف لائے۔ آپﷺ نے بہ حکمِ خداوندی معذوروں کے حقوق کی داغ بیل ڈالی اور انھیں معاشرے میں ایک منفرد مقام عطا فرمایا۔

اب درج بالا واقعہ ہی کو لیجیے، جس سے عیاں ہے کہ نبی کریمﷺ نیم پاگل انسانوں کے ساتھ صبروتحمل، رحم اور نرمی و محبت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ وہ فاتر العقل عورت اپنی راہ چلتے کسی اور عرب سردار کا راستہ روکتی، تو شاید وہ اسے خوب مار پڑواتا یا کچھ نہ کچھ ظلم ضرور کرتا۔ لیکن حضور اکرمﷺ نہ صرف رک گئے بلکہ خاتون کے ساتھ علیحدگی میں اس کا بات بھی سنی جو یقینا اوٹ پٹانگ سی ہو گی۔ نبی کریمﷺ کا یہ ناقابل فراموش واقعہ اس امر کی قانونی دلیل ہے کہ ایک مسلم حکمران کا فرض ہے، وہ معاشرتی، معاشی اور نفسیاتی طور پر ذہنی و جسمانی معذوروں کی دیکھ بھال کرے اور ان کی ضرورت پوری کرتا رہے۔ ان ضروریات کی تین بنیادی اقسام یہ ہیں:

اول: باقاعدگی سے طبی معائنہ اور ادویہ دینا، دوم: مناسب تعلیم و تربیت، سوم: کچھ لوگوں کو ان کی دیکھ بھال کا ذمے دار بنانا۔

سنتِ نبویﷺ کی پیروی
آج مغربی ممالک کے علاوہ بیشتر ترقی پذیر ملکوں میں بھی معذوروں یا ’’خصوصی افراد‘‘ (Special) مرد و زن اور بچوں کو کئی حقوق حاصل ہیں۔ تازہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں چھے کروڑ سے زائد ذہنی و جسمانی طور پر معذور انسان بستے ہیں۔ ان میں سے چار کروڑ ترقی یافتہ ملکوں میں آباد ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سنت نبویﷺ کی پیروی کرتے ہوئے سب سے پہلے مسلم حکمرانوں نے ہی معذور آبادی کے لیے حقوق متعین کیے اور انھیں معاشرے میں رائج کیا۔

خلفائے راشدین معاشرہ اور ریاست مستحکم کرنے کی طرف متوجہ رہے، اسی لیے وہ معذور باشندوں پر کماحقہ توجہ نہیں دے سکے۔ تاہم حکومت میں ٹھہرائو آگیا، تو مسلم حکمران ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس سلسلے میں چھٹے اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک (دورِ حکومت: 705ء تا 715ئ) کو اولیت حاصل ہے۔ طبری اور ابنِ کثیر اپنی تاریخ اسلامی میں رقم طراز ہیں کہ 707ء (88ہجری) میں خلیفہ ولید نے بیماروں اور معذوروں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی مراکز (بیمارستان) قائم کیے۔ آپ ہی پہلے خلیفہ ہیں جنھوں نے معذوروں کو وظیفے دینے شروع کیے۔ مدعا یہ تھا کہ انھیں اپنے اخراجات کی خاطر بھیک نہ مانگنی پڑے، کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔ مزید برآں خلیفہ ولید نے دارالحکومت دمشق میں موجود معذوروں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے سرکاری خرچ پر ملازم متعین کیے۔

یوں تاریخ انسانی میں پہلی بار خلیفہ ولید بن عبدالمالک کی حکومت میں سرکاری خرچ پر معذور اور بیمار افراد سہولیات و مراعات سے مستفید ہونے لگے۔ یوں روزمرہ کام کاج میں پیش آنے والی تکالیف سے انھیں چھٹکارا مل گیا۔ معذوروں کے ساتھ یہ خصوصی سلوک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہی کیا گیا۔ خلیفہ راشد پنجم سمجھے جانے والے آٹھویں اموی حکمران حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے اپنے دور حکومت میں معذوروں کی دیکھ بھال کو مزید وسعت دے ڈالی۔

ربِ کریم کی یاددہانی
ایک بار نبی کریمﷺ کی دعوت پر سردارانِ مکہ… عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل، امیہ بن خلف، ولید بن مغیرہ وغیرہ آپﷺ سے ملنے آئے۔ نبی کریمﷺ کی ازحد تمنا تھی کہ یہ سردار اسلام لے آئیں۔ یوں سرزمین عرب میں خونریزی کے بغیر اسلام کا نور پھیلنے کی راہ ہموار ہو جاتی۔ آپﷺ سرداروں میں تبلیغ اسلام فرما رہے تھے کہ اسی دوران حضرت عبداللہؓ بن ام مکتوم وہاں تشریف لے آئے۔ حضرت عبداللہؓ پیدائشی نابینا تھے۔ وہ آپﷺ سے قرآن پاک حفظ کرنے کے سلسلے میں مدد چاہتے تھے۔

حضور اکرمﷺ کو صحابی کی مداخلت بارِ خاطر گزری۔ آپﷺ نے حضرت عبداللہؓ کو ذرا خفگی سے دیکھا اور پھر سردارانِ مکہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ لیکن جیسے ہی سردار رخصت ہوئے، نبی کریمﷺ کو غش آ گیا اور آپ کا سر تیزی سے گھومنے لگا۔ دراصل یہ وحی نازل ہونے کی علامت تھی۔ تب سورہ عبس کی ابتدائی سولہ آیات نازل ہوئیں۔
یہ آیات حضرت عبداللہؓ بن ام مکتوم کے واقعے سے متعلق تھیں۔ ان کے ذریعے رب کائنات نے اپنے پیارے نبیﷺ کو دو یاددہانیاں کرائیں۔ اوّل یہ کہ آپﷺ کے پاس کوئی غیر اہم انسان بھی کچھ سیکھنے و جاننے کے لیے آئے، تو اس سے منہ نہ موڑئیے۔ اور دوسری یہ کہ معذور افراد پر خصوصی توجہ دیجیے۔

چناںچہ اس واقعے کے بعد نبی کریمﷺ اپنے نابینا صحابی پر خاص شفقت و توجہ فرمانے لگے۔ آپﷺ حضرت عبداللہؓ کی ضروریات کا خیال فرماتے۔ حتیٰ کہ آپﷺ نے اپنی عدم موجودگی میں کئی بار انھیں مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔ یہ اس امر کی شہادت ہے کہ نبی کریمﷺ کے نزدیک حضرت عبداللہؓ بن ام مکتوم کا نابیناپن فرائض ادا کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتا تھا۔

معذوروں کے ساتھ رسول اللہﷺ کا حسن سلوک تمام مسلمانوں کے سامنے چراغ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ نبی کریمﷺ کو احساس تھا کہ ذہنی و جسمانی لحاظ سے معذور مرد و زن عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ مگر آپﷺ سمجھتے تھے کہ معمول کی زندگی گزارنے میں معذوری حائل نہیں ہوتی۔ بلکہ آپﷺ معذوروں پر خاص مہربانی فرماتے تاکہ ان کی اندرونی خوبصورتی اور مستور خوبیاں عیاں ہو سکیں۔

لہٰذا بہ حیثیت مسلمان ہمیں بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ خود معذوری کوئی مجبوری یا رکاوٹ نہیں۔ گو یہ ضرور ہے کہ ذہنی و جسمانی معذوری انسان کی زندگی کٹھن بنا ڈالتی ہے۔ مگر اسی بنیادی وجہ کے باعث معاشرے یا حکومت کا فرض ہے کہ وہ معذوروں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں سیرت رسولﷺ ہمارے لیے چراغ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

معذور کو معافی
تاریخ ابن کثیر میں مرقوم ہے کہ غزوہ احد (شوال 3ہجری)کے موقع پر نبی کریمﷺ صحابہ کرامؓ کی معیت میں میدان جنگ کی سمت تشریف لے جارہے تھے۔ راستے میں اسلامی لشکر کی ایک نابینا منافق سے مڈبھیڑ ہوئی۔ منافق نے ہاتھ میں ریت اٹھائی اور چلا کر کہنے لگا ’’لات و منات کی قسم! اگر محمدﷺ مجھے دکھائی دیتے، تو میں یہ مٹی (نعوذباللہ) ان کے منہ پر دے مارتا۔‘‘

اس وقت اعصاب کھِچے ہوئے تھے۔ عنقریب کفارمکہ سے جنگ ہونے والی تھی۔ سو بعض صحابہؓ نابینا کی بات سے قدرتاً اشتعال میں آ گئے۔ قریب تھا کہ وہ معذور کو قتل کر ڈالتے، نبی کریمﷺ نے انھیں روک دیا۔ آپﷺ نے اس نابینا کو معاف فرما دیا کیونکہ اس نے آپﷺ کی ذات پر حملہ کیاتھا… ویسے بھی وہ اسلامی لشکر کے لیے بے ضرر تھا۔
اس واقعے سے عیاں ہے کہ ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے، غیر مسلم معذوروں سے کوئی تعرض نہ کریں۔ ہاں! وہ کسی بھی طرح جنگ میں حصہ لیں، تو واجب القتل قرار پائیں گے۔

ایک مثالی معاشرہ
مدینہ منورہ میں نبی کریمﷺ کی سعیٔ مبارک سے وجود میں آنے والا اسلامی معاشرہ کئی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ تمام مسلمان مل جل کر خصوصی افراد کی دیکھ بھال کرتے اور ان کا دکھ درد بٹاتے تھے۔ اس ضمن میں ان کے سامنے حضور اکرمﷺ کا رول ماڈل جو موجودتھا۔ آپﷺ نے ایک نابینا صحابیؓ (حضرت ابن ابی مکتوم) کو نہ صرف موذن بلکہ اپنا نائب بھی مقررفرمایا ۔ اسی طرح حضرت عمرؓ بن جموع کے اصرار پر غزوہ اُحد میں انھیں لڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی حالانکہ وہ لنگڑے تھے۔ جنگ میں حضرت عمرؓ بن جموع شہید ہو گئے۔ جب نبی کریمﷺ نے ان کی نعش دیکھی تو فرمایا ’’وہ عمربن جموع کو جنت میں دونوں ٹانگوں پر چلتا دیکھ رہے ہیں۔‘‘

معذوروں کی دلجوئی
حضور اکرمﷺ اکثر بیماروں خصوصاً معذوروں کی عیادت کرنے تشریف لے جاتے تھے۔ آپ انھیں تسلی تشفی دیتے، ان کا حوصلہ بلند کرتے اور دلجوئی فرماتے۔ دراصل کئی معذور اپنی حالت زار کے باعث تنہائی، پژمردگی، ڈپریشن کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً ان کی دلجوئی کرنے سے انھیں خصوصاً روحانی و نفسیاتی سہارا دیا جائے۔ اس ضمن میں پھر نبی کریمﷺ کی عظیم الشان زندگی ہماری راہ نما ئی کرتی ہے۔

بخاری و مسلم میں یہ روایت آئی ہے۔ انصار مدینہ میں شامل حضرت عتبانؓ بن مالک نابینا تھے۔ آپؓ مضافات مدینہ میں آباد ایک بستی میں رہتے تھے۔ ایک بار حضرت عتبانؓ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی خدمت میں یہ درخواست دی ’’یا رسول اللہ! آپ کسی وقت میرے غریب خانے پر تشریف لا کر نماز ادا کیجیے۔ یوں میرے گھر میں ایک بابرکت مقام وجود میں آ جائے گا۔‘‘

نبی کریمﷺ نے تشریف لانے کا وعدہ فرمایا اورمحبت سے کہا ’’اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو میں ضرور آئوں گا۔‘‘ حضرت عتبانؓ بیان کرتے ہیں ایک دن صبح سویرے رسول خداﷺ یارِ غار حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ ان کے گھر تشریف لائے۔ آپﷺ نے پھر حضرت عتبانؓ کے تجویز کردہ مقام پر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور یوں ان کی سب سے بڑی تمنا پوری کر دی۔ یہ مثالی واقعہ عیاں کرتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی کوشش ہوتی تھی کہ معذوروں کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے۔

مضحکہ نہ اُڑایئے
آج بھی کئی معاشروں میں معذوروں کو تضحیک و مضحکہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ معذور افراد جو پہلے ہی دکھوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کا مذاق اڑایا جائے، تو وہ مزید ڈپریشن و تنہائی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کا مضحکہ مت اڑائو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! ایک دوسرے کا تمسخر نہ اُڑاو۔ ہو سکتا ہے کہ جن سے مذاق کیا جارہا ہے وہ کرنے والوں سے بہتر ہوں۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کو بدنام کرو اور نہ ہی القاب (دے کر) بے عزت کرو۔ کیونکہ ایمان لانے کے لیے برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں، وہ ظالم ہیں۔ (11-49) اسی طرح حدیث نبویﷺ ہے: ’’اس پر خدا کی لعنت جو کسی اندھے کو جان بوجھ کر بھٹکا دے۔‘‘

غرض قرآن و سنت میں ان مسلم مرد وزن کی سخت پکڑ ہوئی ہے جو پیدائشی نقائص کی آڑ لیتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کو چھیڑتے اور طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ حالانکہ معذور تونہ صرف قابل رحم بلکہ ہمدردی کے قابل ہوتے ہیں، انھیں تفریح کی شے بنانا ظلم و گناہ ہے۔

تنہائی کا خاتمہ
زمانہ ماقبل اسلام عرب میں یہ رواج تھا کہ لوگ معذوروں کو الگ تھلگ رکھتے۔ ان کے ساتھ کھانا نہ کھاتے اور انھیں شادی بھی نہ کرنے دیتے۔ اس غلط روش کا خاتمہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیات نازل فرمائیں جن کا مفہوم کچھ یوں ہے: ’’اندھے، لنگڑے اور بیمار پر کوئی گناہ نہیں، اگر وہ اپنے یا دوسروں کے گھروں میں کھانا کھا لیں۔ یہ کھانا چاہے مل کر کھائو یا الگ الگ! اور جب گھروں میں داخل ہو، توسلام کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے بابرکت تحفہ ہے۔‘‘ (24-64) ان آیات کے ذریعے مسلمانوں پر عیاں کیا گیا کہ بیمار، اندھے، لنگڑے وغیرہ کی معیت میں کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں… یہ بھی ہم جیسے انسان ہیں اور ہماری طرح تمام حقوق رکھتے ہیں۔ چناںچہ معذوروں اور بیماروں کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ ختم ہوا۔

انھیںبے سہارا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اسلامی تعلیمات نے سب کو بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو متقی و پرہیز گار ہو۔ یہ بات درج ذیل حدیث بخوبی عیاں کرتی ہے: ’’خدا تمھارے ظاہر کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی دولت کو! بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ (مسلم) غرض جب دنیا میں دین اسلام کا ظہور ہوا، تو وہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ذہنی و جسمانی لحاظ سے معذوروں کے لیے بھی رحمت، ہمدردی اور دلجوئی کا پیغام لے کر آیا۔

اس زمانے کی روایت کے برعکس اسلام نے معذوروں کو شادی کرنے کی بھی اجازت دی کہ وہ دل، جذبات اور احساسات رکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمات اور ان کی روح کبھی کبھی دھندلا بھی جاتی ہے۔ آئیے اس موقع پہ دینی تعلیمات کو تازہ کرتے ہیں اور اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے آس پاس خاندان میں یا دفتر میں جہاں بھی کوئی جسمانی معذور پائیں گے، اس کے لیے ہمدر دی اور خدمت کے جذبات کو ماند نہ پڑنے دیں گے کیونکہ یہی رب کا منشا اور پسند ہے۔ ان دکھی لوگوں کا خیال رکھیے اور جنت میں اپنا قصر تعمیر کر لیجیے۔

محاوروں کا پوسٹ مارٹم

 محاوروں کا پوسٹ مارٹم 
ہماری قومی زبان اُردُو بہت ہی پیاری زبان ہے۔ یہ اپنے اندر مختلف زبانوں کے الفاظ محاورے، حکایتیں اور نصیحتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہم اپنی زندگی میں مختلف مواقع پر مختلف محاوروں کا استعمال کرتے ہیں جن سے درست صورت حال فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ذیل میں چند محاوروں کا برجستہ استعمال اور ان کا پس منظر پیش خدمت ہے۔


’’میں کمبل کو چھوڑوں کمبل مجھے نہ چھوڑے‘‘ یا ’’یہ شخص تو بالکل کمبل ہوگیا۔‘‘

اس محاورے کو اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی شخص زبردستی آپ کا وقت ضائع کرے اور پیچھا نہ چھوڑے۔ تب کہتے ہیں کہ یہ شخص توبالکل کمبل ہوگیا۔ اس محاورے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا ’’وہ دیکھو دریا میں کمبل بہ رہا ہے، میں ابھی اسے نکال کر لاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ جب وہ اس کمبل کو پکڑنے میں کامیاب ہوگیا تو دیکھا کہ وہ کمبل نہیں ریچھ ہے۔ اب ریچھ نے اس شخص کو پکڑ لیا۔

جب دریا کے کنارے کھڑے دوست نے آواز دی ’’کمبل کو چھوڑو۔ تم دریا سے باہر نکل آئو۔‘‘

اس دوست نے جواب دیا ’’میں تو کمبل کو چھوڑ دوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔‘‘

’’گربہ کشتن روزِاوّل‘‘

یہ محاورہ ہے تو فارسی زبان کا، لیکن اُردُو زبان بولنے والے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دو دوستوں کی شادی ایک ہی وقت میں ہوئی۔ کچھ عرصے بعد ایک دوست دوسرے کے گھر آیا۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کے حالات معلوم کیے۔ مہمان دوست نے کہا ’’میری تو بہت اچھی گزر رہی ہے۔ میری بیوی ہر بات مانتی اور میرا خیال رکھتی ہے، میں بہت خوش ہوں۔‘‘

دوسرے دوست کے حالات برعکس تھے۔ میزبان نے مہمان دوست سے اس کی خوشحال زندگی کا راز معلوم کیا تو مہمان دوست نے بتایا ’’شادی کے بعد پہلے ہی دن میرے کمرے میں ایک بلی گھس آئی۔ میں نے غصے میں تلوار نکالی اور بلی کو ہلاک کردیا۔ میری بیوی نے جو بلی کی ہلاکت دیکھی تو خوفزدہ ہوگئی کہ یہ شخص بہت تیز مزاج کا ہے۔ اسی دن سے وہ میری ہر بات مانتی ہے۔‘‘

میزبان دوست نے کہا ’’یہ تو کوئی مشکل کام نہیں، ایسا تو میں بھی کر سکتا ہوں۔‘‘

یہ تمام گفتگو میزبان دوست کی بیوی چھپ کر سن رہی تھی۔ جب رات کو اس کے شوہر نے وہی عمل دہرایا یعنی خود ہی کمرے میں بلی چھوڑی اور غصہ دکھا کر اسے ہلاک کردیا تاکہ بیوی پر رعب پڑسکے ۔لیکن یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ بیوی بالکل متاثر نہیں ہوئی، بلکہ شوہر سے کہنے لگی ’’گربہ کشتن روزِاوّل۔‘‘ یعنی بلی مارنی تھی تو پہلے ہی روز مارتے، اب میں تمھیں جان چکی ہوں۔ اس بلی کی ہلاکت اور تمھارے غصے کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘‘

’’کولہو کا بیل‘‘

یہ محاورہ ایسے شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس میں سمجھ بوجھ کی کمی ہو یا قوت فیصلہ نہ ہو اور وہ دن رات کام میں بھی لگا رہے۔ آج کا دور، مشینی دور ہے۔ ہر کام مشینوں کے ذریعے ہوجاتا ہے۔ مشینی دور سے پہلے دیہات میں زیادہ تر کام جانوروں سے لیا جاتا تھا۔ کھیت میں ہل چلانے، کنویں سے پانی نکالنے، تیار فصل کو منڈی تک پہنچانے اور چاول کو دھان سے علحٰدہ کرنے کے لیے بھی بیل سے کام لیا جاتا تھا۔ غرض بہت سے کاموں میں بیل کی مدد اور طاقت سے انسان فائدہ اٹھاتے تھے۔ اسی طرح بیجوں سے تیل نکالنے کا کام بھی بیل ہی انجام دیتے۔ جس جگہ تیل نکالا جاتا اُسے کولہو کہتے ہیں۔ یہ لکڑی کی چکی کی طرح ہوتا ہے۔

اس میں بیج بھرنے کے بعد ایک موٹی سی گول چکنی لکڑی کے ساتھ بیل باندھ کر چکر لگوائے جاتے ہیں۔ بیل کی مدد سے اس کا درمیانی حصہ گھومنے لگتا ہے جس کی وجہ سے بیج پس جاتے اور ان سے نکلنے والا تیل ایک نالی سے گزرتا ہوا برتن میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ بیل کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے تاکہ گول گھومنے کی وجہ سے اسے چکر نہ آئیں۔ بیل صبح سے شام تک اس کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے اور یہی اس کا کام ہے۔ بیل اپنی دانست میں میلوں کا سفر طے کرتا اور اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی محدود جگہ پر چکر لگا رہا ہے۔

’’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘‘

بلی ہر شہر، ہر گلی اور محلے میں ملتی ہے۔ اسے کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ بلی کسی بھی گھر میں موقع پا کر سامنے رکھی شے کھا لیتی ہے، لہٰذا لوگ بلی کی پسندیدہ چیزیں اس کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں۔

آج کے دور میں لوگوں کو ریفریجریٹر کی سہولت میسر ہے لیکن پہلے لوگ اشیائے خورونوش کی حفاظت کے لیے باورچی خانہ کی چھت کے درمیان ایک ڈوری، رسی یا زنجیر کی مدد سے جالی دار ٹوکری نما برتن باندھ دیا کرتے جسے چھینکا کہتے تھے۔

جو سامان بھی بلی یا بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہو، اسے ’’چھینکے‘‘ پر رکھ دیا جاتا۔ یہ چھینکا باورچی خانے کے بیچوں بیچ یعنی چاردیواری کے وسط میں ہوتا، لہٰذا بلی اس تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ البتہ بلی کے علم میں ہوتا کہ اس کی پسندیدہ شے چھینکے میں موجود ہے اورکوئی صورت نہیں کہ وہ اس تک پہنچ سکے۔ ایسے میں اگر اتفاق سے چھینکا خودبخود ٹوٹ جائے اور کھانے پینے کا سامان خودبخود بلی کے سامنے آگر ے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ چھینکا بلی کی قسمت یا نصیب سے ٹوٹا ہے یعنی ’’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔‘‘

’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور

کھانے کے اور‘‘

زمین پر بسنے والے جانوروں میں سب سے بڑا جانور ہاتھی ہے۔ جسامت کے لحاظ سے بھاری بھر کم، طاقت کے لحاظ سے بھرپور، سونڈ کے لحاظ سے الگ اور پھر بڑے سفید دانت۔ یہ دانت ہاتھی کی خوب صورتی بڑھانے کے علاوہ ہاتھی کے کسی کام نہیں آتے۔ البتہ منہ کے اندر والے دانت غذا چبانے کے کام آتے ہیں۔ یعنی منہ کے اندر والے دانت کھانے کے اور باہر والے دانت دکھانے کے۔ جب کوئی شخص اندر سے کچھ اور ہو اور ظاہر کچھ اور کرے تو ایسی صورت میں یہ محاورہ بولا جاتا ہے۔

’’بندر کا انصاف‘‘ یا ’’بندربانٹ‘‘

یہ محاورہ ایک چھوٹ سی کہانی کی وجہ سے مشہور ہے۔ بچوں کے لیے لکھی گئی اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن ایک بلی کو کسی جگہ روٹی پڑی ملی۔ اسی وقت دوسری بلی نے اسے اٹھا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ ایک کہتی ’’میں نے اسے پہلے دیکھا ہے۔‘‘ دوسری کہتی ’’میں نے اسے پہلے اٹھایا ہے۔‘‘ ابھی ان دونوں بلیوں میں لڑائی جاری تھی کہ وہاں سے ایک بندر کا گزر ہوا۔ بلیوں کو آپس میں روٹی کے لیے لڑتے دیکھ کر بندر سارا ماجرا سمجھ گیا۔ پھر بھی نزدیک آ کر بلیوں سے پوچھا کہ وہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ بلیوں نے ساری صورت حال بندر کو بتا دی اور فیصلہ بندر پر چھور دیا۔

بندر نے کہا ’’روٹی دونوں بلیوں کو آدھی آدھی ملے گی۔‘‘بلیاں اس فیصلے پر راضی ہوگئیں۔ بندر نے روٹی کے دوٹکڑے کیے، لیکن جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا اور دوسرا ذرا چھوٹا توڑا۔ پھر ترازو میں تول کر بلیوں سے کہا ’’یہ ٹکڑے تو برابر نہیں، لہٰذا بڑے ٹکڑے میں سے میں تھوڑی سی کھا لیتا ہوں تاکہ دونوں ٹکڑے برابر ہو جائیں اور تم دونوں میں برابر تقسیم ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر بندر نے بڑے ٹکڑے کو کھانا شروع کردیا اور کچھ زیادہ ہی کھا گیا۔

پھر دونوں ٹکڑوں کو ناپ تول کر دیکھا اور کہا ’’اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہوگیا، لہٰذا اسے کھا کر پہلا ٹکڑا برابر کرنا ہوگا۔‘‘ لہٰذا بندر نے دوسرا ٹکڑا اٹھا کر اسے کھانا شروع کردیا اور پھر زیادہ کھا گیا۔

پھر دونوں ٹکڑوں کو تول کر اندازہ کیا اور بولا ’’اب وہ ٹکڑا بڑا ہوگیا ہے، لہٰذا پھر اس کو کھا کر برابر کرنا پڑے گا۔‘‘ یوں بندر ٹکڑے برابر کرنے کے بہانے پوری روٹی کھا گیا اور دونوں بلیاں بندر کی شکل ہی دیکھتی رہ گئیں۔

بلیاں اگر آپس میں نہ لڑتیں تو بندر فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ یہ تھا ’’بندر کا انصاف‘‘ یا ’’بندر بانٹ۔‘‘

جب کوئی شخص فیصلہ یا انصاف کرنے کے دوران اپنے فائدے کا خیال رکھے یا زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس موقع پر کہتے ہیں کہ ’’یہ ہے بندر کا انصاف!‘‘
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں