سبحان من رزقه هذا الصوت - تلاوة رائعة من سورة مريم

نشيد رائع ــ قصة منع الأذان . . في دولة الخلافة

أروع نشيد إسلامي في العالم

نشيد/أغنية : "محمد نبينا" مجموعة بنات ينشدن بصوت عذب جميل جداً

امینہ سلطانی کی آواز میں خوبصورت یا بنی سلام علیک

نوشیزہ کی خوبصورت آواز میں


حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کا خطاب مکہ مکرمہ میں

اس نوجوان نے تو کمال کردیا...قاضی مطیع اللہ سعیدی مدظلہ العالیہ

حضرت مولانا ولی رحمانی حفظہ اللہ کا خطاب

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

یا رسول اللہ

سلام اس پر کے جس نے بے کسوں دستگیری کی

عید گاہ ڈومریا رانی گنج

                              ﷺ 
  1. سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
  2. سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
  3. سلام اس پرکہ اسرار محبت جس نے سکھلائے
  4. سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
  5. سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
  6. سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
  7. سلام اس پر کہ دشمن کو حیات جاوداں دے دی
  8. سلام اس پر، ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی
  9. سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں
  10. سلام اس پر، ہوا مجروح جو بازار طائف میں
  11. سلام اس پر، وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے
  12. سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے
  13. سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
  14. سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا
  15. سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا
  16. سلام اس پر، جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا
  17. سلام اس پر، جو امت کے لئے راتوں کو روتا تھا
  18. سلام اس پر، جو فرش خاک پر جاڑے میں سوتا تھا
  19. سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے
  20. سلام اس پر کہ جس کی ذات فخر آدمیت ہے
  21. سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی
  22. سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی
  23. سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہ دی
  24. سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
  25. سلام اس پر، شکستیں جس نے دیں باطل کی فوجوں کو
  26. سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
  27. سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا
  28. سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا
  29. سلام اس پر کہ جس کا نام لیکر اس کے شیدائی
  30. الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت، اوج دارائی
  31. سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
  32. بڑھادیتے ہیں ٹکڑا، سرفروشی کے فسانے میں
  33. سلام اس ذات پر، جس کے پریشاں حال دیوانے
  34. سناسکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے
  35. درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی
  36. درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی
  37. درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں
  38. درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں
  39. درود اس پر، جسے شمع شبستان ازل کہئے
  40. درود اس ذات پر، فخرِ بنی آدم جسے کہئے​



(مولانا ماہر القادری)​





ندا فاضلی

1938-2016ممبئی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل، مقبول عام شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار اور نثر نگار، اپنی غزل ’
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو
جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا
کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں
چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا
یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں
زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا
چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے
خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا 


یہ میکدہ سبھی کا ہے


یہ میکدہ سبھی کا ہے ۔۔۔۔۔!

   کالم نگار............................عبیدالرحمان عقیل ندوی

 مکرمی......!
        مفلسی......غربت.......تنگدستی.......اورفاقہ کشی جب کسی انسان کی دہلیز پر دستک دیتی ہے تو حالات کی زنجیر میں بندھا ہوا انسان کبھی حیوانیت کو گلے لگاتا ہے تو کبھی بارگاہ ِایزدی میں گنہگار بن جاتا ہے ۔ چنانچہ ایسے حالات ہمارے ملک ہندوستان میں زیادہ نہیں کہا جائے تو کچھ کم بھی نہیں ہیں ۔ جس کی تازہ مثالیں آئے دن اخبارات کی شہہ سرخیوں بنی رہتی ہیں لیکن اس کا ذمہ دار کسے ٹہرائیں ......؟ تو خیال آتا ہے کہ کہیں وہ خود تو نہیں جن کے سرپر غربت و مفلسی کی مصیبت آن پڑتی ہے مگر ایسا نہیں بلکہ ان تمام وجوہات کی زمہ دار خود حکومت وقت ہے اور اس مرض کا علاج ان کے پاس موجود ہے کیونکہ یہاں کی صدارت ....وزارت.....اور حکومت صرف اس لئے بنتی اور بنائی جاتی ہیں کہ وہ اپنا کالا دھن سویزرلینڈ میں جمع کراسکے ...... عربوں کی مارشٹیز میں سیروسیاحت کرسکیں ...... چلیں تو قالین پر ..... سوئیں تو صرف ایئر کنڈیشن روم میں...... اڑیں فضاؤں میں ...... پئیں صرف ونرل واٹر ........ لیکن افسوس صد افسوس کہ وہ حکومت و اقتدار کے نشے میں اس قدر مدہوش ہیں کہ غربت سے بد حال لوگوں پر ان کی نظر ہی نہیں پڑتی ہے ۔
            اس وقت ہندوستان کےشہروں.....گلیوں
..........کوچوں.....شاہراہوںاور پلیٹ فارموں پر آپ کو ایسے افراد مل جائیں گے جن کے پاس کھانے کو روٹی کا ٹکڑا نہیں ......پیاس بجھانے کو پانی کا قطرہ نہیں.....تن ڈھکنے کو کپڑا نہیں ......سر چھپانے کو جھونپڑا نہیں ہے یہ حال ہے یہاں کی غربت سے لاچار قوم کا ۔
   " غریبِ شہر ترستا ہے ایک نوالے کو
     امیر ِشہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں "
       حد تو یہ کہ ایک طرف حکومت کی عیاشیاں ہیں تو دوسرے جانب فاقہ کش مزدوروں کی بدحالیاں ہیں۔
ایسے نازک حالات میں اس ملک سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ تمام سیاسی تنظیمیں اپنے ہی چراغ سے اپنا آشیانہ جلا دینا چاہتے ہیں ۔ 
             ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“   ع
          اتنا ہی نہیں بلکہ تو مسلم میں ہندو .....میں ہندو تو مسلم کی نعرہ بازیوں سے پوری آزاد جمہوریت کی بخیا ادھیڑ دینا چاہتے ہیں اور دوسرے جانب سوشل میڈیاز پر شعلہ بیانیوں کے ذریعہ جمہوریت کے آئین کو تار تار کردینا چاہتے ہیں۔
" کب تک اہل ِستم عشق ستم کرتے رہیں گے "
          خدا را اس سے پہلے کہ کہ بھوگ ....افلاس اس ملک کو کھاجائے .....لہجے بے آواز ہوجائیں .....سر سنگیت سب بے کار ہوجائے ......خدا را اس باپ کا سہارا بن جائیے جس کے بیٹے نے مفلسی کی وجہ سے خود کشی کی .....اس خاتون کے آنسوں پوچھ ڈالیئے جس کی جوان بیٹی غربت سے مجبور باپ کے گھر سے جہیز نہ لاسکی اور اسکے سسرال والوں نے اسے نظر آتش کردیا ......خدا را ان معصوم بچوں کے سر پر دست شفقت رکھیئے جس کا باپ ناحق ظلم  کا نشانہ بنایا گیا ۔
          آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے اندر غربت و مفلسی کو دور کیا جاتا اور آپس کے مذہبی اختلافات کو بالائے تاق رکھ کر امن و امان پھیلایا جاتا اور جمہوریت کے تمام مذہبی قوانین و روایات پر عمل کرنے کی مکمل  آزادی دی جاتی اور میرا ہندوستان ہے یا تیرا ہندوستان کی نعرہ بازیوں کو بند کیا جاتا اور یہ ذمہ داری یہاں کے ہر انسان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ ہندوستان نہ میرا ہے نہ تیرا ہے بلکہ ہم سبھی  کا ہے۔





یہ میکدہ سبھی کا ہے قدم قدم   بہم  چلیں 

ہمارے ساتھ تم چلو تمہارے ساتھ ہم  چلیں
نہ ہم سے دور تم چلو  نہ تم سے دور ہم چلیں
یہ دوستی کا وقت ہے ملا کے سب قدم چلیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
                         عبیدالرحمان عقیل ندویؔ





التجا

التجا

عامر عثمانی
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفل غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دو
یہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیں
یہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیں
رستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیں
اوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں
لیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دو
جو آگ دبی ہے سینے میں ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دو
جاری ہیں وطن کی راہوں میں ہر سمت لہو کے فوارے
دکھ درد کی چوٹیں کھا کھا کر لرزاں ہیں دلوں کے گہوارے
انگشت بہ لب ہیں شمس و قمر حیران و پریشاں ہیں تارے
ہیں باد سحر کے جھونکے بھی طوفان مسلسل کے دھارے
اب فرصت ناؤ نوش کہاں اب یاد نہ آؤ رہنے دو
طوفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناؤ رہنے دو
مانا کہ محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھی
یہ امن و سکوں سے دور فضا پیغام سکوں بھی لائی تھی
وہ دور بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھی
خوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھی
لیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
جس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ ہٹاؤ رہنے دو
اب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کریں
اب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سوتوں کو ہشیار کریں
دنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کریں
جو قوم و وطن کے قدموں پر قربانی دیں ایثار کریں
روداد محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دو
جادو نہ جگاؤ رہنے دو فتنے نہ اٹھاؤ رہنے دو
میں زہر حقیقت کی تلخی خوابوں میں چھپاؤں گا کب تک
غربت کے دہکتے شعلوں سے دامن کو بچاؤں گا کب تک
آشوب جہاں کی دیوی سے یوں آنکھ چراؤں گا کب تک
جس فرض کو پورا کرنا ہے وہ فرض بھلاؤں گا کب تک
اب تاب نہیں نظارے کی جلوے نہ دکھاؤ رہنے دو
خورشید محبت کے رخ سے پردے نہ اٹھاؤ رہنے دو
ممکن ہے زمانہ رخ بدلے یہ دور ہلاکت مٹ جائے
یہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ عہد ضلالت مٹ جائے
دولت کے فریبی بندوں کا یہ کبر اور نخوت مٹ جائے
برباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائے
اس وقت بہ نام عہد وفا میں خود بھی تمہیں یاد آؤں گا

 منہ موڑ کے ساری دنیا سے الفت کا سبق دہراؤں گا

خواب جو بکھر گئے عامر عثمانی

خواب جو بکھر گئے

عامر عثمانی


۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ ؁ء کو پونا کے مشاعرے میں یہ نظم پڑھنے کے دس منٹ بعد مولانا اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔


جنہیں سحر نگل گئی، وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی، شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہے
برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ہے
وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھ گئی
میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ہے
گھرا ہوا ہے ابر ماہتاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی، وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
جو رک سکے تو روک دو یہ سیل رنگ و نور کا
مری نظر کو چاہئے وہی چراغ دور کا
کھٹک رہی ہے ہر کرن نظر میں خار کی طرح
چھپا دیا ہے تابشوں نے آئنہ شعور کا
نگاہ شوق جل اٹھی حجاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ دھوپ زرد زرد سی یہ چاندنی دھواں دھواں
یہ طلعتیں بجھی بجھی، یہ داغ داغ کہکشاں
یہ سرخ سرخ پھول ہیں کہ زخم ہیں بہار کے
یہ اوس کی پھوار ہیں، کہ رو رہا ہے آسماں
دل و نظر کے موتیوں کی آب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ تلخ تلخ راحتیں، جراحتیں لیے ہوئے
یہ خونچکاں لطافتیں کثافتیں لیے ہوئے
یہ تار تار پیرہن عروسۂ بہار کا
یہ خندہ زن صداقتیں قیامتیں لیے ہوئے
زمین کی تہوں میں آفتاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
جو مرحلوں میں ساتھ تھے وہ منزلوں پہ چھٹ گئے
جو رات میں لٹے نہ تھے وہ دوپہر میں لٹ گئے
مگن تھا میں کہ پیار کے بہت سے گیت گاؤں گا
زبان گنگ ہو گئی، گلے میں گیت گھٹ گئے
کٹی ہوئی ہیں انگلیاں رباب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ کتنے پھول ٹوٹ کر بکھر گئے یہ کیا ہوا
یہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ہوا
بڑھی جو تیز روشنی چمک اٹھی روش روش
مگر لہو کے داغ بھی ابھر گئے یہ کیا ہوا
انہیں چھپاؤں کس طرح نقاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
خوشا وہ دور بے خودی کہ جستجوئے یار تھی
جو درد میں سرور تھا تو بے کلی قرار تھی
کسی نے زہر غم دیا تو مسکرا کے پی گئے
تڑپ میں بھی سکوں نہ تھا، خلش بھی سازگار تھی
حیات شوق کا وہی سراب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
خلوص بے شعور کی وہ زود اعتباریاں
وہ شوق سادہ لوح کی حسین خامکاریاں
نئی سحر کے خال و خد، نگاہ میں بسے ہوئے
خیال ہی خیال میں، وہ حاشیہ نگاریاں
جو دے گیا فریب وہ، شباب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
وہ لعل و لب کے تذکرے، وہ زلف و رخ کے زمزمے
وہ کاروبار آرزو وہ ولولے، وہ ہمہمے
دل و نظر کی جان تھا وہ دور جو گزر گیا
نہ اب کسی سے دل لگے نہ اب کہیں نظر جمے
سمند وقت جا چکا رکاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
نہ عشق با ادب رہا، نہ حسن میں حیا رہی
ہوس کی دھوم دھام ہے، نگر نگر، گلی گلی
قدم قدم کھلے ہوئے ہیں مکر و فن کے مدرسے
مگر یہ میری سادگی تو دیکھیے کہ آج بھی
وفا کی درس گاہوں کا نصاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
بہت دنوں میں راستہ حریم ناز کا ملا
مگر حریم ناز تک پہنچ گئے تو کیا ملا
مرے سفر کے ساتھیو! تمہیں سے پوچھتا ہوں میں
بتاؤ کیا صنم ملے، بتاؤ کیا خدا ملا
جواب چاہئے مجھے جواب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں

کہیں عشق سجدے میں گر گیا

کہیں عشق سجدے سے پھر گیا
 کہیں عشق درس وفا بنا
 کہیں عشق حسن وفا بنا
کہیں عشق نے سانپ سے ڈسوا دیا
کہیں عشق نے نماز کو قضا کیا
کہیں عشق سیف خدا بنا
کہیں عشق شیر خدا بنا
کہیں عشق طور پر دیدار ہے
کہیں عشق ذبح کو تیار ہے
کہیں عشق نے بہکا دیا
کہیں عشق نے شاہ مصر بنادیا
کہیں عشق آنکھوں کا نور ہے
کہیں عشق کوہ طور ہے
کہیں عشق تو ہی تو ہے
کہیں عشق اللہ ہو ہے 
  •  خوبصورت غزل ..........................................شاعر ڈاکٹر احمد فراز
  • السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

  • امید  ہے کہ سب احباب عمدہ رائے سے نوازیں گے ۔

    1. سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں
    2. سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں
    3. تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    4. سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
    5. سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں
    6. سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
    7. سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
    8. سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
    9. تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
    10. سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
    11. یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
    12. سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
    13. ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
    14. سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
    15. سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں
    16. سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
    17. سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
    18. سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
    19. سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
    20. سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
    21. سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
    22. سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں
    23. مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
    24. سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
    25. کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
    26. سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
    27. سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں
    28. سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
    29. جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
    30. بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
    31. سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
    32.   وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
    33. کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
    34. بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا
    35. سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ہیں
    36. سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
    37. مکیں‌ ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
    38. کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے
    39. کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں
    40. رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
    41. چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    42. کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
    43. اگر وہ خواب ہے تعبیر کرکے دیکھتے ہیں
    44. اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
    45. فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

    •  ===========================

مسلمانو سنو....!

بسم اللہ الرّ حمٰن الرّ حیم
⚽⚽⚽⚽⚽⚽
ایک سبق آموز حکایت
ایک گاؤں والا..... شہر میں کچھ لوگوں کو فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا،اسکو حیرت ہوئی  کہ اتنے سارے لوگ مل کر ایک فٹبال کو کیوں لاتوں سے ماررہے ہیں؟
اس نے ایک بزرگ سے پوچھا ......؟ چاچا اس گیند کی کیا غلطی ہے جو سارے مل کر اسے لاتوں سے مار رہے ہیں؟
چاچانے جواب دیا .......!.......کہ اسکی سب سے بڑی غلطی یہ ہیکہ یہ اندر سے خالی ہے اگر یہ اندر سے خالی نہ ہوتو کسی کی مجال نہیں ہوتی اسے لات مارنے کی۔
آج ہم تمام مسلمانوں کا یہی حال ہے!
ایمان بس ہماری زبان پر ہے اور اندر سے خالی ہیں اور آپس میں اتحادواتفاق  تو بالکل بھی نہیں ہے۔
 
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں