یار کو ہم نے جا بجا دیکھا

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

دید اپنے کی تھی اسے خواہش
آپ کو ہر طرح بنا دیکھا

صورتِ گُل میں کھل کھلا کے ہنسا
شکل بلبل میں چہچہا دیکھا

شمع ہو کر کے اور پروانہ
آپ کو آپ میں جلا دیکھا

کر کے دعویٰ کہیں انالحق کا
بر سرِ دار وہ کھنچا دیکھا

تھا وہ برتر شما و ما سے نیاز
پھر وہی اب شما و ما دیکھا

کہیں ہے بادشاہ تخت نشیں
کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا

کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا

کہیں وہ در لباسِ معشوقاں
بر سرِ ناز اور ادا دیکھا

کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریاں و دل جلا دیکھا

(نیاز بریلوی*)

ایک اعلان اپنے پیارے احباب کے نام

ایک اعلان اپنے پیارے احباب کے نام

مجھے امید کہ آپ احباب خیرو عافیت ہے ہوں گے ۔۔۔۔مختصراعرض یہ کہ اگر آپ جناب میں سے کوئی بھی اپنا مضمون ،ویڈیوز اور آڈیوز وغیرہ ارسال کرنا چاہتے ہیں تو بالکل ہم آپ کیلئے پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔آپ ہمارے ای میل پر ضرور ارسال کریں لیکن یاد رہے کہ آپ کی ایک تصویر بھی متصل مضمون ہو اور یہ میری سعات مندی ہوگی کہ آپ کی کاوش کو ہم دوسروں تک پہونچائیں۔

منجانب ایڈمن عقیل ندوی 

آج اس خوبصورت اشعار کے ساتھ حاضر ہوں

آج اس خوبصورت اشعار کے ساتھ حاضر ہوں


 اگر ہو سکے تو کرو خود میں کشش پیدا

ہر کسی کو حسرت سے دیکھا نہیں کرتے

ہر شخص نہیں ہوتا ہر شخص کے قابل

ہر شخص کو اپنے لیے پرکھا نہیں کرتے


عبید الرحمان عقیل ندوی
 

سہارا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
★سہارا ★

بے چینیوں کی منزل بے تابیوں کی راہیں
کیا ڈھونڈتا ہے اے دل آرام کے سہارے
حیرت سے دیکھتا ہوں مجروح عشرتوں کو
اک صبح ہورہی ہے اک شام کے سہارے

 

یقینا ً آج سے میری ہر صبح  ایک شام کے سہارے شروع ہوتی ہے جب سے میرے ہر سہارے ٹوٹے لیکن صرف اسی کی ذات ہے جس کے سہارے جیئے جارہا ہوں ورنہ کیا مجال کے بکھرے ہوئے موتی کو چنتا اور ٹوٹے خواب کی تعبیر ڈھونڈتا ۔


عبید الرّحمان عقیل ندوی 
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں