سیرت النبیﷺ صلح کی بات چیت

سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم ۔

صلح کی بات چیت

پہلے ابن ابی الحُقَیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بات چیت کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ! اور جب یہ جواب ملا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اس شرط پر صلح کرلی کہ قلعے میں جو فوج ہے اس کی جان بخشی کر دی جائے گی اور ان کے بال بچے انہیں کے پاس رہیں گے ( یعنی انہیں لونڈی اور غلام نہیں بنایا جائے گا ) بلکہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر خیبر کی سر زمین سے نکل جائیں گے اور اپنے اموال ، باغات ، زمینیں ، سونے ، چاندی ، گھوڑے ، زرہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں گے ، صرف اتنا کپڑا لے جائیں گے جتنا ایک انسان کی پشت اٹھا سکے ( لیکن سنن ابو داؤد میں یہ صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر معاہدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے یہود کو اجازت ہوگی کہ خیبر سے جلاوطن ہوتے ہوئے اپنی سواریوں پر جتنا مال لاد سکیں لے جائیں ( دیکھیے ابوداؤد باب ما جاء فی حکم ارض خیبر 2/76) ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور اگر تم لوگوں نے مجھ سے کچھ چھپایا تو پھر اللہ اور اس کے رسول بریٔ الذمہ ہوں گے " ۔ یہود نے یہ شرط منظور کر لی اور مصالحت ہو گئی ( زاد المعاد 2/136) اس مصالحت کے بعد تینوں قلعے مسلمانوں کے حوالے کر دیے گئے اور اس طرح خیبر کی فتح مکمل ہو گئی ۔

ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کی بد عہدی اور ان کا قتل

اس معاہدے کے علی الرغم ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں نے بہت سا مال غائب کر دیا ۔ ایک کھال غائب کردی جس میں حُیَی بن اّخطَب کے زیورات تھے ۔ اسے حُیَی بن اّخطَب مدینہ سے بنو نضیر کی جلا وطنی کے وقت اپنے ہمراہ لایا تھا ۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کنانہ بن ابی الحقیق لایا گیا ۔ اس کے پاس بنو نضیر کا خزانہ تھا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے خزانے کی جگہ کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر بتایا کہ میں کنانہ کو روزانہ اس ویرانے کا چکر لگاتے ہوئے دیکھتا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنانہ سے فرمایا : " یہ بتاؤ کہ اگر یہ خزانہ ہم نے تمہارے پاس سے بر آمد کرلیا تو پھر تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے ناں ؟ " اس نے کہا ، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویرانہ کھودنے کا حکم دیا اور اس سے کچھ خزانہ برآمد ہوا ۔ پھر باقی ماندہ خزانہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے پھر ادائیگی سے انکار کر دیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا اور فرمایا : اسے سزا دو ، یہاں تک کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کا سب ہمیں حاصل ہو جائے ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر چقماق کی ٹھوکریں ماریں یہاں تک کہ اس کی جان پر بن آئی ۔ پھر اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا ۔ اور انہوں نے محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے اس کی گردن مار دی ( محمود رضی اللہ عنہ سایہ حاصل کرنے کے لیے قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے کہ اس شخص نے ان پر چکی کا پاٹ گرا کر انہیں قتل کر دیا تھا ۔)
ابنِ قیّم کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کرا دیا تھا اور ان دونوں کے خلاف مال چھپانے کی گواہی کنانہ کے چچیرے بھائی نے دی تھی ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُیَی بن اَخطب کی صاحبزادی حضرت صفیہ کو قیدیوں میں شامل کرلیا ۔ وہ کنانہ بن ابی الحقیق کی بیوی تھیں اور ابھی دلہن تھیں ۔ ان کی حال ہی میں رخصتی ہوئی تھی ۔



اموالِ غنیمت کی تقسیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خیبر سے جلاوطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اور معاہدہ میں یہی طے بھی ہوا تھا ۔ مگر یہود نے کہا : " اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں اسی سر زمیں میں رہنے دیجیئے ۔ ہم ا سکی دیکھ ریکھ کریں گے ۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے زیادہ اس کی معلومات ہیں "۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے پاس اتنے غلام نہ تھے جو اس زمین کی دیکھ ریکھ اور جوتنے بونے کا کام کرسکتے اور نہ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی فرصت تھی کہ یہ کام سر انجام دے سکتے ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اس شرط پر یہود کے حوالے کر دی کہ ساری کھیتی اور تمام پھلوں کی پیداوار کا آدھا یہود کو دیا جائے گا اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی ہوگی اس پر برقرار رکھیں گے ( اور جب چاہیں گے جلاوطن کر دیں گے ) اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگایا کرتے تھے ۔
خیبر کی تقسیم ا س طرح کی گئی کہ اسے 36 حصوں میں بانٹ دیا گیا ۔ ہر حصہ ایک سو حصوں کا جامع تھا ۔ اس طرح کل تین ہزار چھ سو(3600) حصے ہوئے ۔ اس میں سے نصف یعنی اٹھارہ سو حصے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے تھے ۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صرف ایک ہی حصہ تھا ۔ باقی یعنی اٹھارہ سو حصوں پر مشتمل دوسرا نصف ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات و حوادث کے لیے الگ کر لیا تھا ۔ اٹھارہ سو حصوں پر خیبر کی تقسیم اس لیے کی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل حدیبیہ کے لیے ایک عطیہ تھا ، جو موجود تھے ان کے لیے بھی اور جو موجود نہ تھے ان کے لیے بھی ، اور اہل حدیبیہ کی تعداد چودہ سو تھی ۔ جو خیبر آتے ہوئے اپنے ساتھ دو سو گھوڑے لائے تھے ۔ چونکہ سوار کے علاوہ خود گھوڑے کو بھی حصہ ملتا ہے اور گھوڑے کا حصہ ڈبل یعنی دو فوجیوں کے برابر ہوتا ہے اس لیے خیبر کو اٹھارہ سو حصوں پر تقسیم کیا گیا تو دو سو شہسواروں کو تین تین حصے کے حساب سے چھ سو ملے تھے اور بارہ سو پیدل فوج کو ایک ایک حصے کے حساب سے بارہ سو حصے ملے ( زاد المعاد 2/137، 136 مع توضیح ) ۔
خیبر کے اموال غنیمت کی کثرت کا اندازہ صحیح بخاری میں مروی ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : " ہم لوگ آسودہ نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے خیبر فتح کیا " ۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا ، اب ہمیں پیٹ بھر کر کھجور ملے گی (صحیح البخاری 3/609)۔ نیز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کر دیے جو انصار نے امداد کے طور پر انہیں دے رکھے تھے کیونکہ اب ان کے لیے خیبر میں مال اور کھجور کے درخت ہو چکے تھے ( زاد المعاد 2/148 صحیح مسلم 2/96)۔

مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیح محبت ہے

مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیحِ محبت ہے
جو آئے تیسرا دانا یہ تسبیح ٹوٹ جاتی ہے

مقرر وقت ہوتا ہے محبت کی نمازوں کا
ادا جن کی نکل جائے قضا بھی چھوٹ جاتی ہے

محبت کی نمازوں میں امامت ایک کو سونپو
اسے تکنے، اُسے تکنے سے نیت ٹوٹ جاتی ہے

محبت دل کا سجدہ ہے جو ہے توحید پر قائم
نظر کے شرک والوں سے محبت روٹھ جاتی ہے

رونق جہاں مراسلہ نگار وسعت اللہ خان صاحب بی بی سی اردو کے جرنلزم ہیں

    رونق ِجہاں پاکستان


وسعت اللہ خان************************************

اب تو میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان نہ ہوتا تو کرہِ ارض پر سوائے خالی پن ، بوریت ، اور اداسی کے بھلا کیا ہوتا۔تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔۔۔۔۔کہاں ملے گا ’جہاں ہے اور جیسا ہے ‘ کی بنیاد پر ایسا ملک جہاں کامیڈی، ٹریجڈی اور ٹریجڈی کامیڈی ہوجاتی ہو ۔اقلیت عقلیت پر غالب ہو۔یہاں طرح طرح کی انفرادی و اجتماعی کشش کا سامان کب وافر نہ تھا ۔مہمان نواز ایسے کہ بھلے کوئی سر پے بم پھوڑ کے بھی چلاجائے تب بھی پاسِ میزبانی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔قوتِ برداشت ایسی کہ کوئی طاقتور دائیں گال پر تھپڑ ماردے تو بایاں بھی بڑھا دیتے ہیں۔ فراست ایسی کہ بیالیس برس پہلے اکثریت اقلیت سے جان چھڑا کر بھاگ لی۔

مروت ایسی کہ کوئی کمزور حق مانگ لے تو اس کی قبر پر ’حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا‘ لکھوا دیتے ہیں۔ انا ایسی کہ گھر کے جھگڑوں کا تصفیہ کروانے کے لیے دساور سے مقدس ثالث منگوائے جاتے ہیں اور دماغ ایسے کہ امامت ِ عالمِ اسلامی کا وارث کسی اور کو نہیں گردانتے۔

فراغ دلی ایسی کہ ایک ہی کھوپڑی میں روشن خیالی اور عقل چوس کہنہ نظریات ساتھ ساتھ سوتے ہیں ۔آزادی اس قدر کہ ٹیکس، محصول ، واجبات ، بل ، قرضہ ، تنخواہ اور بنیادی حقوق دیں نہ دیں ۔چاہے تو صفائی کریں دل چاہے تو صفایا کردیں۔چاہیں تو دوہرے راستے کو ون وے کردیں نہ چاہیں تو ون وے بھی بند کردیں۔چاہیں تو ٹائر گاڑی میں لگائیں یا پھر چوک میں جلائیں۔ڈگری امتحان دے کر لیں یا امتحان لینے والے کی ڈگری نکلوا دیں۔

فیصلہ جرگے سے کرائیں کہ سرکاری و نجی شرعی عدالت سے کہ اینگلوسیکسن کورٹ سے کہ خصوصی ٹریبونل سے ۔جیسی آپ کی گنجائش ، قسمت اور اوقات۔۔۔۔پھر بھی منصفوں کی آدھی توانائی فیصلے سنانے میں اور باقی آدھی ان پر عمل کرانے کی کوشش میں صرف ہوجاتی ہے۔نوبت بہ ایں جا رسید کہ ان دنوں منصف طلبِ انصاف کے لئے سوئٹزر لینڈ اور عوام برطانوی نظامِ انصاف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

شاید یہ واحد ملک ہے جہاں حکمرانوں کو ہر ہفتے کہنا پڑتا ہے کہ وہ عدلیہ کا دل سے احترام کرتے ہیں۔جہاں ماتحت فوجی قیادت کو ہر تیسرے مہینے حکومت کی بالادستی کی قسم کھانا پڑتی ہے۔جہاں فول پروف سیکورٹی کا مطلب ہے کہ ہر فول اپنی سیکورٹی کا خود ذمہ دار ہے۔جہاں واردات کے بعد سیکورٹی بڑھا دی جاتی ہے۔جہاں پہلے سے ریڈ الرٹ سیکورٹی دستوں کو دوبارہ الرٹ ہونے کا حکم جاری ہوتا رہتاہے۔

اگرچہ یونیسکو نے پاکستان کو رسمی طور پر عالمی ورثہ قرار نہیں دیا مگر عملاً یہ عالمی ورثہ ہی تو ہے۔جس مفرور کو کہیں پناہ نہ ملے پاکستان اس کے لئے جہاں پناہ ہے۔رہی بات عالمی برادری کی تو کچھ ممالک صرف سفارتی صاحب سلامت رکھنا پسند کرتے ہیں۔کچھ کو محض تجارتی تعلقات کے نام پر اپنی اشیا و مشاورت بیچنے سے دلچسپی ہے۔کچھ اسے پاکستان لمیٹڈ کمپنی کے طور سے دیکھتے ہیں اور نہ صرف اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں بلکہ مارکیٹ میں لانے کے بجائے آپس میں ہی شئیرز خریدتے بیچتے رہتے ہیں۔

اس کمپنی کے چھیاسٹھ برس کے سٹاکس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم یہ ہوگا کہ انچاس فیصد شئیرز مقامی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں۔باقی اکیاون فیصد میں سے چالیس فیصد اینگلو سعودی امریکن کنسورشیم کی ملکیت ہیں اور گیارہ فیصد شیرز چین ، ایران اور عالمی مالیاتی اداروں نے خرید رکھے ہیں۔منافع کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہونی چاہئیے ۔ چونکہ ایسا نہیں ہے اس لئے منافع میں خسارے کا جھگڑا شکلیں بدل بدل کر کراچی تا چترال سامنے آتا رہتا ہے۔بظاہر ہر شیئر ہولڈر اسے نقصان کی سرمایہ کاری کہتا ہے ۔تب بھی اپنے شیئرز کسی اور پارٹی کو بیچنے پر آمادہ نہیں۔حالانکہ عوام نے کئی دفعہ بولی میں شرکت کی کوشش بھی کی ہے۔۔۔۔۔۔

جناح صاحب مغفور نے فرمایا تھا کام کام اور صرف کام ۔یہی تو ہو رہا ہے ۔کام لگایا جا رہا ہے ، کام اتارا جا رہا ہے ، کام تمام کیا جا رہا ہے۔

اردوغان کی جیت پر مغربی میڈیا کی بوکھلاہٹ (تحریر اسامہ طیب ندوی)



 اردوغان کی جیت پر مغربی میڈیا کی بوکھلاہٹ
تحریر: اسامہ طیب ندوی

ترک عوام نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے جس طرح ریفرینڈم میں صدارتی جمہوریت کے لئے ہاں کردی ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے، صدر رجب طیب اردگان کی یہ جیت نہ صرف ترکی کے لئے بلکہ عالم اسلام کے لئے بھی خوش آئند ثابت ہوگی، لیکن جس وقت ترک عوام سڑکوں پر نکل کر اس جیت کا جشن منارہی تھی اس وقت مغربی میڈیا بغض و عداوت اور تنگ نظری کی حدیں پار کررہا تھا، اردغان کی اس جیت کی رپورٹنگ مغربی میڈیا نے اس طرح کی گویا ترکی میں اب جمہوریت کا خاتمہ ہوگیا ہو، اور وہاں آمریت قائم ہوگئی ہو، ملاحظہ کیجیے چند مشہور نیوز ایجنسیز اور اخباروں کی شہ سرخیاں:
Erdogan: Turkey's pugnacious president
BBC
17_04_2017

Erdogan wins vote for expanded power.
BBC
17.04.2017

Is Turkey on the road to autocracy ?
The Guardian
17.04.2017

The three largest cities__Istanbul, Ankara , and Izmir voted against the changes.
The Guardian
17.04.2017

Erdogan wins for expanded power.
Erdogan's disputed referendum win.
Erdogan wins narrow referendum victory.
Reuters
17.04.2017

Erdogan's referendum victory will make Turkey prey for the country's many enemies.
The independent
17.04.2017

اور ایک امریکی اخبار نے تنگ نظری اور بغض کی حدوں کو پار کرتے ہوئے لکھا:
RIP Turkey. 1921-2017
Recep Tayyip Erdogan didn't just win his constitutionl referendum ,he permanently closed a chapter of his country's modern history.
Foreign policy Washington
17.04.2017

ان سب خبروں کو پڑھنے کے بعد صاف طور پر یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو جمہوریت کا ڈھنڈوارا پوری دنیا میں پیٹتے رہتے ہیں انہیں ترک عوام کا یہ جمہوری فیصلہ پسند نہیں ہے, انہیں ترکی میں وہی جمہوریت چاہیے جو مصر میں سیسی کو خاک و خون میں لت پت لاشوں کے ساتھ مغرب نے عنایت کی ہے.
اسی طرح اردغان کو ایسا مہیب اور ڈکٹیٹر بنا کر پیش کررہے ہیں گویا واقعی وہ ڈکٹیٹر ہوں اور عوام پر یہ فیصلہ انہوں نے زبردستی نافذ کردیا ہو.
رجب طیب اردوغان کی اس مخالفت کی جہاں کئی وجوہات ہوسکتی ہیں وہاں مجھے دو بنیادی وجہ ایسی نظر آتی ہیں جو یورپ اور امریکہ سے ہضم نہیں ہورہی ہیں.
پہلی وجہ ہے رجب طیب اردگان کی پالیسیوں کی وجہ سے ترکی کا معاشی اور اقتصادی میدان میں خود کفیل ہونا، ترکی نے ورلڈ بینک کے سارے قرض ادا کرکے ورلڈ بینک کو دعوت دی ہے کہ اب ورلڈ بینک ترکی سے قرض لے سکتا ہے. اسی طرح اقتصادی ترقی میں ترکی نے یورپین یونین اور OECD ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس میں امریکہ،  انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، بیلجیم، اسرائیل اور کناڈا جیسے ممالک شامل ہیں، ترکی کی اقتصادی ترقی 2.9 فیصد ہے جبکہ یورپین یونین کی اقتصادی ترقی 1.5اور OECD ممالک کی 1.9 فیصد ہے.
اور دوسری وجہ ہے ترکی کا ذرائع ابلاغ(میڈیا)  کے میدان میں خود مختار ہونا، ترکی کی اپنی نیوز ایجنسیز ہیں، وہ بی بی سی اور سی این این کی طرح ریوٹرز (Reuters)سے نیوز نہیں خریدتا.
اسی لئے یورپ اردغان کو آمر بول کر عالمی برادری میں اکیلا کرنے کی ناکام کوششیں کرتا رہتا ہے، لیکن اردغان کی حکیمانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں ان کی تدبیریں الٹی پڑجاتی ہیں.
اللہ ترکی کے اس مجدد کو سلامت رکھے.

سنا بہت تھا لیکن ایک شخص کو دیکھا ہے

سنا بہت تھا مگر ایک شخص کو دیکھا ہے
پہلی قسط
آج جو میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ عالی شان بنگلہ ،اونچی عمارت ، گاڑیوں کی ڈھیر،زمین و جائیداد کی ریل پیل ،سبز ہرے باغات  جس میں رنگ برنگے پھول ،پھولوں پر چہچہاتے پرندے  اور یہ دلکش منظر جہاں آنے والے اجنبی کی بھی طبیعت لگ جائے چنانچہ ایک دن میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ نعمتیں اسے ہی کیوں اور کسی کو کیوں نہیں؟
تو دل میں ایک تڑپ ہوئی چلو چل کے دیکھتے ہیں
کہیں بات سمجھ آجائے چنانچہ ایک دن کی بات ہے جب مجھے سفر پہ جانا تھا لیکن کسی وجہ سے نہ جاسکا اور اتفاقاً اس شخص کے پاس سے گزر ہوا جس کے متعلق ہمیشہ سوچ میں پڑا رہتا لیکن زہے قسمت کے انہوں نے ایک ہلکی سی آواز دی اور مجھے اپنے پاس بلا بیٹھایا اور فرمایا کہ بیٹا تم میرا ایک کام کرسکتے ہو ؟
تو پھر کیا تھا بس میں نے بھی ہاں بھردی ! اور انہوں نے اپنے ساتھ لے لیا سفر بھی شروع ہوگیا یہاں تک کہ ہم دونوں کی عمر کا فاصلہ بھی طویل تھا لیکن چند ہی لمحات نے ایک دوسرے کو ہم عمر اور ہم خیال بنادیا یہاں تک فاصلہ چھٹتے رہے دوریا دور ہوتی رہیں اور میں نے  اپنا سوال پوچھ ہی لیا وہی کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ نعمتیں وراثت میں دی ہیں یا پھر خود کی مشقتوں اور محنتوں کا ثمرہ ہے؟
جب اس شخص نے یہ سوال سنا تو جیسے لگا کہ زمین اسکے پیروں سے کھسک گئی اور آنکھوں سے آنسوں چھلک اٹھے، آواز لڑکھڑائی اور دبی دبی سسکیاں بھری آواز میں بولے بیٹا تم نے یہ کیا پوچھ لیا ہے؟

(دوسری قسط اگلے شمارہ میں )
 

 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں