کبھی لب پہ آکے مچل گئی کبھی حد سے بات گزر گئی

کبھی لب پہ آ کے مچل گئی کبھی حد سے بات گزر گئی
میں نہ کہہ سکا وہ نہ سن سکے یونہیساری رات گزر گئ
ملا دوستوں کا ہجوم بھی ۔۔۔۔ ملی عیش کی بھی فضا مگر
وہ گھڑی تھی حاصلِ زندگی جو تمہارے ساتھ گزر گئی
چُھپا چاند تارے بھی سو گئےبجھے حسرتوں کے چراغ بھی
ترے انتظار میں بے وفا ۔۔ مری یہ بھی رات گزر گئی
وہ جو شامِ وعدہ نہ آ سکے تو لباسِ اشک میں آنکھ سے
مری آرزو ۔۔۔ مریحسرتوں کی حسیںبرات گزر گئی
مجھے دردؔ ۔۔ نیند نہ آ سکی ۔۔ مجھے دردؔ ۔۔ چین نہ مل سکا
مرے خواب میں بھی نہ آئے وہ اسیدُھن میں رات گزر گئ

تہذیب کا جن تحریر سلیم احمد



تہذیب کا جن

سلیم احمد
مترجم: نعمان نقوی
جس طرح پرانے زمانے کے بعض لوگوں پر جن آتے تھے اسی طرح ہمارے زمانے کے اکثر لوگوں پر الفاظ آتے ہیں۔ بالکل جنوں ہی کی طرح وہ ہمارے سروں پر مسلط ہو جاتے ہیں اور ان کے اثر میں ہم نہ جانے کیا کچھ کہتے رہتے ہیں جس کی ہمیں کچھ خبر نہیں ہوتی۔ تہذیب کا لفظ بھی اسی قسم کا ایک جن ہے جو ہمارے سروں پر مسلط ہوگیا ہے۔ اس لفظ کے پہلے معمول سر سید تھے۔ پھر جوں جوں علی گڑھ کی تعلیم اور ریل کی پٹریاں دور دور پھیلتی گئیں، یہ لفظ بھی عام ہوتا گیا۔ اب تو یہ عالم ہے کہ جسے دیکھیے آنکھیں لال کیئے جھوم جھوم کر "تہذیب تہذیب" کہتا نظر آتا ہے۔تہذیب نہ کہے گا تو ثقافت کہے گا۔ ثقافت نہ کہے گا تو کلچر کہے گا۔ میرے لیے تو یہ سب آسیبوں کے نام ہیں۔ کون کیا ہے، میری تو سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک بات البتہ مجھے معلوم ہے، جب کوئی لفظ ہمارے ذہنوں پر اس طرح سوار ہو جائےکہ ہم اس کے معنی کو سمجھے بغیر جا و بےجا طور پر اسے استعمال کرنے لگیں تو وہ لفظ نہیں رہتا نفسیاتی علامت بن جاتا ہے۔ تہذیب اور اسی قسم کے دوسرے تمام الفاظ ہماری اس نفسیات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ان الفاظ اور ان کے متعلقات کے بارے میں ہمارے اندر کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ ایک گڑبڑ تو اسی سے ظاہر ہے کہ تہذیب یا ثقافت یا کلچر کا دورہ سب سے زیادہ انھی لوگوں کو پڑتا ہے، جو کسی نہ کسی طرح اپنی روایت سے کٹ گئے ہیں۔ دور کیوں جایئے، ان لوگوں کے لباس، زبان اور رہن سہن پر ایک نظر ڈال لیجئے جواس قسم کی بحثوں میں  بحثیت طبقہ پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی پرورش مغربی انداز میں ہوئی اور اپنی اصلی زندگی میں اپنی تہذیب سے الگ ہو کر مغربی رنگ میں رنگ گئے ہیں۔ اس کا مطلب کہیں یہ تو نہیں ہے کہ اپنی تہذیب، ثقافت، کلچر کا اتنا چرچا کرنا بھی خود مغربیت ہی کا نتیجہ ہے؟ خیر وجہ بہرحال کچھ ہو، یہ جن ہمارے سروں پر سوار ہو گیا ہے، تو آیئے اس سے کچھ بات چیت کرنے کی کوشش کریں۔
جنوں سے بات چیت کرنے سے پہلے کچھ وظیفہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہماری آیت الکرسی۔ اس وقت رینے گینوں کا یہ خیال ہےکہ تہذیب کا لفظ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر میں دو اور لفظوں کے ساتھ پھیلنا شروع ہوا۔ ان میں ایک لفظ "ترقی" تھا دوسرا "مادیت"۔ باپ، بیٹا، روح القدس کی تثلیت کی طرح تہذیب، ترقی اور مادیت کی تثلیت بھی تین میں ایک اور ایک میں تین کے فارمولے پر قائم تھی۔ مغرب میں اس تثلیت کے معنی یہ تھے کہ تہذیب اگر کوئی ہے تو وہ مغربی تہذیب ہے جواب تک کی انسانی ترقی کا حاصل ہے اور دوسری تہذیبوں سے اس بنا پر مختلف ہے کہ خالص سائنس کی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔ یہی وہ تہذیب تھی جسے پھیلانے کے لیے اہلِ مغرب بندوقیں اور توپیں  لے کر ساری دنیا میں دوڑ پڑے۔ چنا نچہ برصغیرمیں سر سید اور ان کے معاصرین، تہذیب کا لفظ مغربی تہذیب ہی کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اقبال کے یہاں بھی اس لفظ کے یہی معنی ہیں:

نہ ابلئہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہذیب کا کمال، شرافت کا ہے زوال

سر سید اور اقبال میں فرق یہ ہے کہ سر سید اہل مغرب کےاس دعوے کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ مغربی تہذیب ہی اصل تہذیب ہے۔ اس لیے سر سید کو برصغیر  کی قومیں غیر مہذب نظر آنے لگتی ہیں، اور وہ انہیں بالخصوص مسلمانوں کو مغربی بنانے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ سر سید کے نزدیک مغربی ہونا مہذ ب اور ترقی یافتہ ہونے کی علامات ہے اس حد تک کہ انھیں انگریزوں کے کتے بھی ہندوؤں اور مسلمانوں سے بہتر معلوم ہوتے ہیں۔ رہی مادیت تو سر سید اس کے ابتدائی سبق "عقلیت" کو قبول کر لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر اقبال مغرب کے ردِعمل  کی دوسری منزل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یعنی وہ مغربی تہذیب کے مقابلے پر اسلامی تہذیب کو اس دعوے کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ مغربی تہذیب در اصل خود مسلمانوں کے اثر سے پیدا ہوئی ہے۔ مغرب کی سائینس، جو ان کی ترقی کا سبب ہے، خود مسلمانوں ہی کی ایجاد تھی، اور اگر وہ "خرافات" اور "روایات" میں مبتلا ہو کر  سو نہ جاتے تو مغرب کی طرح خود ترقی کی اس منزل پر پہنچ جاتے۔ مادیت کو البتہ اقبال شدت کے ساتھ رد کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔مادیت کو بھی اور عقلیت پرستی کو بھی۔ مگر اقبال پر تھیوسوفی کا جو اثر پڑا ہے اس کا ذرا گہرا مطالعہ ہمیں بتا سکتا ہے کہ اقبال کا یہ ردِعمل مغربیت ہی کی ایک شکل ہے۔ سر سید نے مسلمانوں کو مغربی بنانے کی جو مہم شروع کی تھی، اقبال اس کی اگلی منزل ہیں۔ اقبال پر نتشے اور برگساں کا جو اثر ہے ہمیں اسے بھی اسی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو میرا یہ خیال خلافِ واقعہ معلوم ہو، کیوں کہ اقبال شدت سے مغرب کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیےکہ مغرب کا ردِ عمل بھی مغربیت کی ہی ایک شکل ہے۔ مثلاََ قوم پرستی کی تحریک مغربی استعمار کے خلاف تحریک آزادی بنتی ہے مگر قوم پرستی خود مغربیت ہی کا ایک شاخسانہ ہے۔ اقبال کی مغربیت یہ ہے کہ وہ مغرب کی سائینس کو قبول کرلیتے ہیں جس کی بنیاد مادیت ہے۔ البتہ وہ اسلامی اخلاق قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ بہت زیادہ گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو اخلاق، وجدان اور جزبے پر اتنا زور جو اقبال کے ہاں نظر آتا ہے، وہ بھی خالص مغربی تصورات کا نتیجہ ہے۔ بہ ظاہر یہ متضاد بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ نئی مشرقیت (یااسلامیت) جو ہمیں اقبال اور ان کے ساتھ دوسرے بہت سے لوگوں میں ملتی ہے، خود مغربیت ہی کی ایک قسم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قوم پرستی کی تحریک کی طرح، مغرب کے تمام اثرات اپنی روح کو برقرار رکھتے ہوئے مظاہر میں مغرب کی ضد پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح مغرب کی ظاہراً مخالفت بھی مغربیت سے پیدا ہوتی ہے۔ ہم برصغیر میں پچھلے سو برس میں پیدا ہونے والے سیاسی، اخلاقی اور تہذیبی اثرات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آجائے گی کہ مغرب کے خلاف یہ تمام ردِ عمل مغربی اثرات کا پیدا کیا ہوا تھا۔ اقبال مغربیت کی جس دوسری منزل کی نشان دہی کرتے ہیں، وہاں پہنچ کر تہذیب کا جن مشرقی زبان بولنے لگتا ہے، یعنی مغربی روح مشرقی پیکر میں حلول کر جاتی ہے اور وہ چیز جو اپنی اصل کے اعتبار سے قطعی"بیرونی" اور "اجنبی" تھی، ہمارے اندر سرایت کر کےیہ دھوکا دینے لگتی ہے کہ وہ ہماری اپنی ہے۔ اقبال کی نواسلامیت اور نو مشرقیت مغرب کے اسی عمل تناسخ سے  پیدا ہوئی ہے۔ 
اقبال کی زندگی ہی میں مغربیت کا اثر اپنی تیسری منزل میں داخل ہوجاتا ہے۔ ترقی پسند تحریک اسی منزل پر پیدا ہوتی ہے۔ اب تہذیب، ترقی اور مادیت سر سید کی عقلیت اور اقبال کی وجدانیت سے گزر کر اپنے سیدھے سادے روپ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ تحریک اس بات کی علامت ہے کہ اب مغرب کا اثر ہمارے اندر گہرا اثر کر گیا ہے کہ ہم اپنی مکمل نفی کرنے کے باوجود اس دھوکے میں مبتلا رہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو "ترقی" دے رہے ہیں۔ یہ تحریک اپنی روح کے اعتبار سےخالص مغربی ہونے کے باوجود ہمیں یہ فریب دیتی ہے کہ ہم اپنی روایت سے نیا رشتہ جوڑ رہے ہیں اور اپنے ماضی کے بہترین عناصر کے امین ہیں۔ سر سید کے یہاں تہذیب  اور ترقی کے معنی مغربی معاشرت اور مغربی تعلیم کے تھے۔ اقبال کے یہاں تہذیب و ترقی کے معنی اسلامی اخلاق کو برقرار رکھتےھوئےسائنس کو قبول کر لینا ہے۔ ترقی پسندوں کے یہاں تہذیب وترقی کے معنی اپنے تمدن کے سب سے رسمی اور ظاہری حصے کو قائم رکھتے ہوئے مادیت کو مان لینا ہے۔ مغربی اثر کی ان تینوں منزلوں کو نظر میں رکھا جائے تو سر سید کے رد و قبول کی وہ تمام صورتیں جو شبلی، اکبر، اقبال اور ترقی پسندوں کے یہاں ملتی ہیں۔ ان کے معنی روشن ہونے لگتے ہیں، اور پتہ چلتا ہے کہ مغرب کی روح کس طرح چولے بدل بدل کر ہمیں دھوکا دیتی رہی ہے کہ ہم ترقی کی منزلوں میں مغرب کا ساتھ دینے کے باوجود مشرقیت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ 
آنندا کمار سوامی  نے لکھا ہے کہ مغربی تہذیب نے ہر اس تہذیب کو جو اس سے مختلف تھی اور صدیوں سے اپنے نام پر قائم تھی، اپنے زہریلے اثر سے اسی طرح ہلاک کردیا ہے جس طرح قابیل نے ہابیل کو ہلاک کیا تھا۔ لیکن وہ قابیل ہی کی طرح اس خون ناحق کو چھپانا بھی چاہتی ہے، اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہےکہ مقتول کی ممی بنا کر اسے تماشاگاہوں میں چلتا پھرتا دکھایا جائے تاکہ کسی کو یہ احساس ہی نہ ہونے پائے کہ وہ قتل ہو چکا ہے۔ چنا نچہ جوں جوں مغربی اثر ہماری تہذیبی روح کو فنا کر رہا ہے اور مغربیت ہمارے اوپر مسلط ہوتی جارہی ہے۔ ہم نیشنل سینٹروں اور کلچرل تماشوں میں اپنی تہذیبوں کے خارجی مظاہر کی کٹھ پتلیاں نچاتے نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنی جس تہذیب کو اپنی زندگی میں رد کر چکے ہیں اسے کھیل تماشا اور نمائش کے طور پر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنی تہذیب سے محبت نہیں، اس سے ایک ایسا سفاکانہ مزاق ہے جو ہماری قاتلانہ زہنیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ چنا نچہ تہذیب، ثقافت اور کلچر کا شور بڑھتا جاتا ہے کہ ہم اپنی تہذیب، ثقافت اور کلچر سےاتنے  ہی دور جاچکے ہیں۔۔۔۔۔لیجیے ہماری ایک آیت الکرسی سے تہذیب کے جن نے اتنی باتیں بتادیں، اب آگے کا وظیفہ پھر کبھی۔  
[۱] سلیم احمد بیسویں صدی کے دیگر نصف حصہ کے سرکرده تنقید نگار اور شاعر تھے۔  وه خود نہایت جید تنقیدی اسلوب و فکر کے مالک تھے، اور بیسویں صدی میں اردو کے اہمترین جدت پسند تنقید نگار، محمد حسن عسکری، کے منفرد شاعرانہ اور تنقیدی طرزِ فکر کے وارث تھے، جنہوں نے اردو ادبیات میں کلیدی مابعدِنوَآدادیاتی سوالات اُٹھائے۔

یوم وفات کے موقع پر خصوصی مضمون تحریر عارف عزیز بھوپال


یومِ وفات کے موقع پر خصوصی مضمون ..............عارف عزیز(بھوپال)

* حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (علی میاںؒ ) کا شمار دنیا کی بلند پایہ علمی شخصیتوں میں ہوتا ہے، وہ بیک وقت مفکر، مدبر، مصلح، قائد، زمانہ شناس ، ادیب اور نباضِ وقت ، خطیب تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں فہم وفراست اور حکمت وبصیرت کے بڑے حصہ سے نوازا تھا۔ اس لئے دور حاضر کے تقاضے اور نفسیات کے مطابق وہ دین وشریعت پیش کرنے کا کام اپنے قلم اور زبان سے لیا کرتے تھے، دنیا کے جس گوشے میں جاتے وہاں دل کی گہرائیوں سے اسلام کا پیغام لوگوں کو سناتے،

خاص طور سے عالم عرب اور اسلامی ملکوں میں لوگوں کو یاد دلاتے کہ تمہارے گھر سے دیئے گئے پیغام کی بدولت ہندوستان میں ہمارے آباء واجداد اسلام لائے اور آج ہم جب اسلام لانے کی قیمت ادا کررہے ہیں تو تم محوِ خواب ہو، حضرت نے عرب ممالک میں پاکستان کے اس پروپیگنڈہ کا بھی رد کیا کہ ہندوستان میں اب مسلمان نہیں رہ گئے، جو تھے وہ پہلے پاکستان منتقل ہوگئے یا بعد میں مار دیئے گئے۔ انہوں نے ہندوستان کی اسلامی تاریخ سے اپنی تحریر وتقریر کے ذریعہ عربوں کو اس خوبی سے متعارف کرایا کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا یہ کام نہیں کرسکا۔ وہ ہمارے عہد کے واحد ہندوستانی تھے جو عربوں کو ان کی زبان اور ان کے لہجہ میں بغیر کسی مرعوبیت کے مخاطب کرتے تھے اور ایسی فصیح عربی بولتے و لکھتے تھے کہ اہل عرب بھی اس کے سحر میں کھو جاتے، اس میں تنقید واحتساب کی دعوت کے ساتھ طاقت و توانائی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھاتے، ان کے دکھ درد میں شریک رہتے، ان کے غم پر آنسو بہاتے اور بارگاہ الٰہی میں دعائیں بھی کرتے، عرب قومیت کا گمراہ کن نعرہ ہو یا فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ اس کے خلاف زبان وقلم سے جہاد چھیڑ کر حضرت نے واضح الفاظ میں عربوں کو متنبہ فرمایا کہ’’ اسلامی صلاحیت اور دینی حمیت کا مطلوبہ معیار پورا کئے بغیر وہ قیادت کے مستحق نہیں ہوسکتے، عربوں کو جو بھی عزت نصیب ہوئی وہ اسلام اور محمد عربی ﷺ کا فیض ہے ، یہ مایا اگر عربوں سے چھن جائے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا‘‘ اسی طرح فلسطین کے مسئلہ کو انہوں نے عربوں کا نہیں اپنا مسئلہ سمجھا، اس پر تقاریر کیں اور کتاب لکھی، مسئلہ فلسطین کے اسباب وعوامل بیان کئے اور حل کیلئے راہ دکھائی، بارہا اپنی تحریر وتقریر میں فرمایا کہ عربوں کے اس زوال وپستی کی بنیادی وجہ ان کے یقین کی کمزوری، شک وشبہ کا نفوذ اور احساسِ کمتری ہے۔ کویت اور سعودی عرب کی یہ تقریریں ’’عالم عربی کے المیہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں، جن میں نہایت بے باکی اور دلسوزی کے ساتھ عربوں کی اخلاقی کمزوری، دینی قدروں کی زبوں حالی، فکری انارکی، ابن الوقتی اور جھوٹے معیار کے آگے سپر اندازی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے پاکستان پر اسلامی تہذیب کے تحفظ اور صحیح عقیدہ کی ضرورت واضح کی اور وہاں کے حکمرانوں کو اسلامی حکومت کے آداب و اطوار سمجھائے۔
حضرت مولانا علی میاں کی شخصیت نہ صرف دانائی ودور اندیشی سے عبارت تھی بلکہ حق پرستی وجرأت کا بھی اعلیٰ مظہر تھی، انہوں نے حق گوئی سے گریز کرکے تلخ حقائق کے اظہار پر مصلحت اندیشی کا غلاف کبھی نہیں چڑھایا بلکہ باطل کے خلاف کھل کر آواز بلند کی افغانستان تشریف لے گئے تو مغربی ثقافت کی ’’برکات‘‘ اور مستشرقین کے افکار ونظریات سے دامن بچانے کی ضرورت واضح کی، ایران گئے تو شیعہ و سنیوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا مشورہ دیا۔ہندوستان میں بھی شیعہ و سنیوں کے مسلکی اختلافات کو امت کے رستے ہوئے ناسور سے تعبیر کیا اور اس کے تدارک میں پیش پیش وفکر مند رہے۔
حضرت نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے جو خطبے دیئے، ان میں مسلمانان ہند کے لئے جہاں پرسنل لا کو ناگزیر بتایا، وہیں اسے مسلمانوں کی عزت وآبرو کیلئے اہم قرار دیا اور اس کی حفاظت کو اسلامی تہذیب وتشخص کے تحفظ سے تعبیر فرمایا۔ حضرت کے خطبات وتقاریر مختلف عنوانات کے تحت کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں، جن میں سے ایک اہم مجموعہ ’’پاجا سراغ زندگی‘‘ ہے ان تقریروں میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلباء کو وہ یہ پیام دیتے ہیں کہ ’’شاخِ ملت انہی کے دم سے ہری ہوسکتی ہے‘‘۔ امریکہ کے سفر پر گئے تو وہاں کی یونیورسٹیوں اور مجلسوں میں جو تقاریریں کیں ’’مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں‘‘ اور ’’نئی دنیا‘‘ کے نام سے وہ منظر عام پر آگئی ہیں، ان تقاریروں میں حضرت نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ ’’امریکہ میں مشینوں کی بہار تو دیکھی، لیکن آدمیت اور روح کا زوال پایا‘‘۔ وہاں کے مسلمانوں کو تعلق باللہ، اپنے کام میں اخلاص اور انابت کی روح پیدا کرنے پر زور دیا، یہی پیغام وہ ہر جگہ ہر ملک اور ہر شہر میں دیتے رہے، جو نیا نہیں تھا لیکن کچھ ایسے ایمانی ولولے، قلبی درد اور داعیانہ انداز میں اس کا اعادہ کرتے کہ سننے والوں کے قلوب گرما جاتے، اسی طرح یوروپ، برطانیہ، سوئزرلینڈ اور اسپین کی یونیورسٹیوں اور علمی مجلسوں میں تخاطب کے دوران یہ پیام دیا کہ ’’وہاں کے مسلمان مغربی تہذیب و تمدن کے گرویدہ نہ ہوں کیونکہ اس کا ظاہر روشن اور باطن تاریک ہے، مسلمان اس سرزمین پر اسلام کے داعی بن کر رہیں، اسلام کی ابدیت پر مکمل اعتماد رکھیں اور مشرق ومغرب کے درمیان نئی نہر سوئز تعمیر کرنے کے لئے کام کریں۔‘‘
حضرت نے ملی مسائل کے حل کے لئے بھی جو بن پڑا اس سے دریغ نہیں کیا ’’دینی تعلیمی کونسل‘‘ ہو، ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ یا ’’پیام انسانیت‘‘ کا پلیٹ فارم سب کا استعمال مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے کیا، بالخصوص ’’پیام انسانیت‘‘ کے ذریعہ جہاں برادران وطن کو ایک مہذب انسان اور ذمہ دار شہری بننے، اپنے اندر وسعت نظر اور وسعت قلبی پیدا کرنے کا درس دیا، وہیں مسلمانوں کوتلقین کی کہ وہ ہندوستان کو اپنا ملک سمجھیں، اس کی رنگا رنگ تہذیب کے ماننے والوں کے ساتھ شرافت وانسانیت کا سلوک کریں، مل جل کر رہیں، ہندو اور مسلمانوں کو ایک ہی کشتی کا سوار تصور کرکے باہم معاملہ کریں، اس تحریک کا مسلمانوں کو اچھا پھل یہ ملا کہ اکثریت کے حلقوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہوئی اور گرم فضا کو معتدل بنانے میں مدد ملی، حضرت نے ہندوستان کی خوابیدہ ملت کو جگانے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ شہر شہر ، قریہ قریہ اپنی تقریروں کے وسیلہ سے یہ بتایا کہ دنیا پر خودغرضی اور بداخلاقی کا مانسون چھایا ہوا ہے، اسے چادروں سے نہیں روکا جاسکتا لیکن انسانیت کا درد محسوس کرکے اور اپنے ملک کو نمونہ کا ملک بناکر اس صورت حال پر ضرو ر قابو پایا جاسکتا ، ان تقریروں کے مجموعے ’’پیام انسانیت‘‘ ’’تحفہ انسانیت‘‘ اور ’’تحفہ دکن‘‘ کے نام سے طبع ہوئے اور انسانیت کا یہ پیغام زندگی کے آخری مرحلہ تک وہ لوگوں تک پہونچاتے رہے۔
حضرت سرگرم سیاست سے دور رہے لیکن وطن کی محبت اس کی بھلائی اور ترقی کی فکر نے انہیں ہمیشہ بے چین رکھا، ’’پیام انسانیت‘‘ تحریک بھی گویا ایک نسخہ کیمیا تھی جس کے ذریعہ وہ قوم اور ملت کو مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا درس دیتے تھے۔ اس کی بنیاد اگرچہ ایک تقریر کے ذریعہ ۱۹۵۴ء میں رکھی گئی لیکن عملی طو ر پر اس تحریک کا آغاز ۱۹۷۴ء سے ہوا اور زندگی کے آخری مرحلہ تک حضرت کا اس سے والہانہ لگاؤ جاری رہا۔ ملت اس تحریک کی معنویت کو سمجھے اور اس کے پیغام پر توجہ دے تو آج بھی تعصب وتنگ نظری کی دیواریں منہدم ہوسکتی ہیں اور بحیثیت انسان مسلمانوں کے لئے دوسروں کا درد وتکلیف سمجھنا آسان ہوجائے گا، اس موضوع پر حضرت مولانا علی میاں نے جو تقریریں فرمائیں ’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘ کہ مصداق نہایت موثر ہیں، ان تقاریر میں ان کے دل کا درد اور فکر کی روشنی جلوہ گر نظر آتی ہے۔
حضرت کا عوام سے خطاب ہو یا طلباء سے گفتگو، اہل علم سے درد دل کہہ رہے ہوں یا حاکم وامراء کو نصیحت فرما رہے ہوں سب کو وعظ ونصائح کے بجائے آئینہ دکھانے پر وہ یقین رکھتے تھے اور سننے والے اس آئینہ میں اپنی صورت وسیرت کی کمزوریوں ، اپنے دل ودماغ کی کوتاہیوں کا مشاہدہ کرتے جاتے تھے، اس بالواسطہ ترسیل سے حضرت نے وہ کام لیا جو زورِ خطابت اور جوش بیان سے نہیں ہوسکتا تھا، اسی طریقہ نے عوام الناس سے اہل علم تک سب کو متاثر کرکے ان کا گرویدہ بنادیا تھا۔ ان تقریروں کو پڑھنے سے ایک منضبط تحریر کی خوبی نظر آتی ہے، جو دماغ سے زیادہ دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، قرآنی آیات واحادیث کی روشنی میں بزرگوں کی سیرت وسوانح کے حوالہ سے حضرت جو فرماتے وہ سامع کے دل میں اترجاتا اور زبانِ حال سے وہ پکار اٹھتا ؂
دیکھنا تقریر کی لذت جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

اک تازہ حکایت ہے




اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے
اک شخص کو دیکھا تھا
تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا
اپنوں کی طرح ہم نے
اک شخص کو سمجھا تھا
پھو لوں کی طرح ہم نے
کچھ تم سے ملتا تھا
باتوں میں ،شباہت میں
ہاں تم سا ہی لگتا تھا
شوخی میں شرارت میں
دکھتا بھی تمہی سا تھا
دستور محبت میں
وہ شخص ، ہمیں اک دن
غیروں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا
پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھہ نہ آیا وہ
ہم نے تو بہت ڈھونڈا
تم کس لیے چونکے ہو
کب ذکر تمھارا ہے؟
کب تم سے تقاضا ہے؟
کب تم سے شکایت ہے؟
اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے



عورت ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے




 عورت ایثارومحبت کا لازوال شاہکار ہے

عورت ماں بھی ہے، بیوی بھی، بہن اور بیٹی بھی ہے۔ اپنے ہر کردار میں اس کے جذبات و احساسات ایسے ایسے انوکھے رنگ دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔

کہتے ہیں عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے، یہ سب الزام نسوانی احترام اور فطرت کے بنائے ہوئے قوانین کی نفی کرتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے۔ وہ عہدوفا کی سچی اور کردار کی بےداغ ہوتی ہے۔ لیکن کیا آج معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہے۔


مرد عورت کو کمزور سمجھتا ہے اور پھر ہر دور میں ناپاک خواہشات کے حامل لوگ عورت سے زیادتی کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صیحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی۔ اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا مسلمانوں نے اسے ملحوظ خاطر نہ رکھا، کہیں تو انہوں نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قید کر دیا اور پردے کو اس قدر سخت کر دیا کہ اس کے لئے سانس تک لینا مشکل ہو گیا اور کہیں اتنی چھوٹ دے دی کہ اس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس کھو دیا اور گھر کی چاردیواری پھلانگ کر شرافت و عزت کی تمام سرحدیں پار کر گئی۔



اسلام نے عورت کو جو رتبہ دیا دوسری قوموں نے اس سے متاثر ہو کر اس کی تقلید میں آزادی نسواں کے نام پر اس قدر آگے بڑھیں کہ عورت ہر میدان میں مرد کی ہمسر بن گئی۔ دوسری طرف مغربی معاشرے کے رنگ ڈھنگ کو اکثر مسلمانوں نے ترقی کی علامت سمجھ لیا، جس سے مسلم معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا، ایک وہ جس میں عورت مجبوری و بے بسی کی تصویر ہے اور دوسرا حصہ وہ جس میں عورت مکمل خود مختار ہے۔ یوں اسلام کا حقیقی نظریہ نظروں سے اوجھل ہو گیا جو متوازن اور قابل عمل ہے۔



کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے معاشرے کی عورت اتنی مجبور اور بے بس کیوں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ آج عورت کی عزت کیوں محفوظ نہیں رہی، علاج کے نام پر مسیحا، انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر ، حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بے آبرو کے دیتے ہیں۔ آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چاردیواری تک عورت کی عزت کہیں بھی محفوظ نہیں رہی۔ خدا جانے مرد کی انفرادی غیرت سو گئی یا اجتماعی غیرت موت کے گھاٹ اتر گئی۔



آخر اس معاشرے کے مرد کا ذہن اتنا چھوٹا کیوں ہے کہ وہ عورت کو اتنا حقیر سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ نچلے طبقے کا عورت سے رویہ دیکھ کر شرم سے نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے آج بھی بہت سے خاندان بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلواتے کہ اس نے پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے، سینا پرونا، کھانا پکانا اور جھاڑو دینا سیکھ جائے تاکہ دوسرے گھر میں جا کر کچھ فائدہ ہو۔ ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سینا پرونا اور کھانا پکانا گو کہ زندگی کے لئے لازمی سہی مگر زندگی کو بناتی سنوارتی تو تعلیم ہے۔ تعلیم ہی انسان کو انسان کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ تعلیم ہی انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ بیٹیاں اس لئے بھی ماں، باپ کو بوجھ لگتی ہیں کہ ان کو کچھ دینا پڑتا ہے، یہ والدین کا سہارا نہیں بن سکتی، اسی خوش فہمی میں والدین بیٹوں کو سر چڑھا لیتے ہیں کہ یہ ان کے بڑھاپے کا سہارہ بنیں گے لیکن اکثر لڑکے بعد میں والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں۔



ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے عورت کو اس کا صیحیح مقام دے دیا ہے لیکن یہ ہم سب کی بہت بڑی بھول ہے۔ عورت باپ کے گھر میں ہو تو شادی تک پابندیوں میں گھری رہتی ہے اور شادی کے بعد سسرال والوں کی پابندیاں جھیلنی پڑتی ہیں، جہیز کم ملنے یا نہ ملنے پر ان کی جلی کٹی باتوں پر ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کبھی سسرال والوں کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو اس کا شوہر طاقت استعمال کر کے اسے مارپیٹ سکتا ہے اور طلاق جیسا گھناؤنا لفظ سنا کر اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ عورت کیا کیا باتیں اور کون کون سے ظلم برداشت نہیں کرتی، اس کے باوجود وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے گھر کو بناتی سنوارتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے لیکن بدلے میں اسے کیا ملتا ہے ذلت اور رسوائی کا تمغہ۔



عورت کے چار فورس ہیں۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی، ان چاروں رشتوں میں وہ پیار و محبت کی سچی تصویر ہے۔ عورت محبت کی دیوی ہے، کیونکہ اس کا ضمیر محبت سے اٹھا ہے۔ وہ جب محبت کرتی ہے تو ٹوٹ کر کرتی ہے اور اس میں کسی کو ذرہ برابر بھی شریک نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کے سامنے تن جائے تو ٹوٹ سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ عورت زمین پر رینگنے والا کیڑا نہیں، عورت احساسات سے عاری نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔

عورت کیا ہے

  


  عورت کیا ہے؟

    (شبنم رومانی)

    عورت کیا ہے؟ زلفِ صنوبر! ------- کب تک زلف نہ جھولا جھولے گی ساون کی جھڑیوں میں؟
    عورت کیا ہے؟ بوئے گل تر! ------- کب تک قید رہے گی بوئے گل نازک پنکھڑیوں میں؟
    عورت کیا ہے؟ ساز کی دھڑکن! ---- کب تک دھڑکن بند رہے گی ساز کی سیمیں تاروں میں؟
    عورت کیا ہے؟پیار کی جوگن!----- کب تک پیار کی جوگن یوں رُسوا ہوگی بازاروں میں؟
    عورت کیا ہے؟ مے کیا پیالہ! ------ کب تک اس کی تلخی کو تفریحاََ چکھا جائے گا؟
    عورت کیا ہے؟ دیپ اُجالا! ------ کب تک آخر اس کو تاریکی میں رکھا جائے گا؟
    عورت کیا ہے؟ دامن گلچیں! ---- کب تک گل چیں کے دامن کی سوئی آگ نہ جاگے گی؟
    عورت کیا ہے؟ تن پرچھائیں! ---- کب تک یہ پرچھائیں تن کے پیچھے پیچھے بھاگے گی؟
    عورت کیا ہے؟ نیند کی داعی! --- کب تک نیند بھری آنکھوں میں‌ آنسو مرچیں جھونکیں گے؟
    عورت کیا ہے؟سندر راہی! ------ کب تک رہزن اس راہی کے دل میں‌ خنجر بھونکیں گے؟
    عورت کیا ہے؟جنسِ محبت! ----- کب تک جنسِ محبت کو یوں گاہک دیکھیں بھالیں گے؟
    عورت کیا ہے؟ روپ کی دولت! --- کب تک روپ کے ڈاکو اس دولت پر ڈاکے ڈالیں گے؟
    عورت کیا ہے؟رُت البیلی! ----- لیکن اس البیلی رُت کے من کا اُجالا کوئی نہیں!
    عورت کیا ہے؟ایک پہیلی! ---- لیکن یہ رنگین پہیلی بوجھنے والا کوئی نہیں!
    عورت کیا ہے؟ اک کم عقلی! ----- لیکن اب کم عقلی اور دانش میں ٹھنتی جاتی ہے!
    عورت کیا ہے؟ ایک کمزوری! ------ لیکن اب یہ کمزوری اک طاقت بنتی جاتی ہے!
    عورت کے دل کو پہچانو! --------- شبنم! جیسے دل میں انگاروں کی دنیا سوتی ہے!
    عورت کو مجبور نہ جانو! ------- ہر مجبوری کی اے یارو! آئینہ اک حد ہوتی ہے!​
    
 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں