قاضی کا انصاف

قاضی کا انصاف
ایک روز یمن کے قاضی صاحب ننگے پاؤں اور بے قاعدہ لباس میں تیزی سے قدم اٹھاتے چلے جارہے تھے ۔ ایک دوست بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔

شین میم الف:
ایک روز یمن کے قاضی صاحب ننگے پاؤں اور بے قاعدہ لباس میں تیزی سے قدم اٹھاتے چلے جارہے تھے ۔ ایک دوست بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ اس نے دیکھا کہ قاضی محمدبن علی خزانچی ملک ظفر کے گھر کے سامنے جا کر رک گئے ۔ اور انہوں نے دروازے پر جا کر دستک دی ۔ خزانچی کے ملازم نے جا کر قاضی صاحب کی آمد کی اطلاع اپنے آقا کودی ۔ خزانچی بھاگا آیا اور قاضی کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر کہنے لگاکہ جناب مجھے حکم دیا ہوتا میں خود حاضر ہوجاتا۔قاضی صاحب نے جواب دیا کہ ایک شخص کے بچے میرے پاس آئے ہیں ۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ آپ ان کے باپ کو قید کر رکھا ہے ۔ بچے باپ کے بغیر بری حالت میں ہیں ۔
خزانچی نے جواب دیا کہ جناب وہ شخص تو سلطان منصور کے حکم سے قید ہے ۔ سلطان کی اجازت کے بغیر میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔ قاضی صاحب نے فوراََ سلطان منصور میں قاصد دوڑیا ۔ سلطان منصور نے اس شخص کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ۔ لیکن جب تک قیدی رہا ہو کر سامنے نہ آگیا قاضی صاحب وہیں کھڑے رہے اور اسے اپنے ساتھ لے کر اس کے گھر تک چھوڑ کر واپس آگئے ۔
سلطان منصور جب مدینہ پہنچے تو اس زمانے میں محمد بن عمران قاضی کے منصب پر فائزتھے ۔ قاضی صاحب کی عدالت میں ایک اونٹ والے نے آکر سلطان کے خلاف شکایت درج کروائی اور انصاف کا طلبگار ہوا ۔ قاضی صاحب نے سلطان کے نام عدالت میں حاضری کا حکم جاری کر دیا ۔
سلطان اپنے ہمراہیوں کو باہر چھوڑ کر خود عدالت میں پیش ہوئے ۔ قاضی صاحب تعظیم لانے کیلئے اپنی جگہ سے نہیں اٹھے اور بدستوراپنے فرائض ادا کرتے رہے ۔ مقدمے کی سماعت کے بعد قاضی صاحب نے سلطان کے خلاف فیصلہ دے دیا ۔ جب فیصلہ سنایا گیا تو سلطان خوشی سے اچھل پڑے اور قاضی صاحب سے کہا کہ میں آپ کے انصاف سے بہت خوش ہوا ۔ پھر سلطان نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ قاضی صاحب کو دس ہزار درہم انعام دیا جائے ۔ یہ تھے اس زمانے کے حکمران اور قاضی جو ایک دوسرے کا بے حد احترام کیا کرتے تھے ۔ مگر آج کل کے حکمران اور قاضی صاحبان نجانے کن کے اشاروں پر ایسے فیصلے کرتے ہیں۔




دنیا کی حقیقت تحریر خدیجہ مغل

دنیا کی حقیقت
مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ۔۔۔
خدیجہ مغل:
مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر آرہا ہے وہ بھاگا جب تھک گیا تو دیکھا کہ سامنے ایک گڑھا ہے اس نے چاہا کہ گڑھے میں چھلانگ لگا کر جان بچائے لیکن گڑھے میں ایک خوفناک سانپ نظر آیا اب آگے سانپ اور پیچھے شیرکا خوف اتنے میں ایک درخت کی شاخ نظر آئی وہ درخت پر چڑھ گیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ درخت کی جڑ کو کالا چوہا کاٹ رہا ہے وہ بہت خائف ہوا کہ تھوڑی دیر میں درخت کی جڑ کٹے گی پھر گر پڑوں گا پھر شیرکا لقمہ بننے میں دیر نہیں۔اتفاق سے اسے ایک شہد کا چھتہ نظر آیا۔وہ اس شہد شیریں کو پینے میں اتنا مشغول ہوا کہ نہ ڈر رہا سانپ کا اور نہ شیر کا۔اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی وہ نیچے گر پڑا۔شیر نے اسے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور وہ سانپ کی خوارک بن گیا۔
جنگل سے مراد یہ دنیا ،شیر سے مراد یہ موت ہے جو انسان کے پیچھے لگی رہتی ہے،گڑھا قبر ہے ،چوہا دن اور رات ہیں،درخت عمر ہے اور شہد دنیا ئے فانی سے غافل ہو کر دینے والی لذت ہے۔
انسان دنیا کی لذت میں اعمال بد اور موت وغیرہ بھول جاتا ہے اور پھر اچانک موت آجاتی ہے۔
اقولِ زریں!
مسلمان بھائی بھائی ہیں ایسی بات نہ کہو جس سے تمھارے بہن بھائی کو دکھ ہو۔اچھا انسان وہ ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے۔
نماز وہ راستہ ہے جو سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے۔
ماں باپ کی قدر کرو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنو۔
بچوں سے شفقت سے پیش آؤ۔یہ پھول کسی کسی آنگن میں کھلتے ہیں۔
تین چیزیں انسان کو برباد کر دیتی ہیں
حسد۔قرض۔غرور
علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی تہہ نہیں ۔
دل ایک ایسا آئینہ ہے ۔اگر بدی سے پاک ہو تو اس میں خدا بھی نظر آجاتا ہے۔
عزت دنیا مال سے ہے اور عزت آخرت اعمال سے ہے۔
تعجب ہے اس پر جو شیطان کو دشمن جانتا ہے پر اسکی اطاعت کرتا ہے۔
معاف کردینا سب سے اچھا انتقام ہے۔
ہمیں ہر اس چیز سے محبت کرنی چاہیے جو محبت کروانے کے لائق ہو
اور ہر اس چیز سے جفرت کرنی چاہیے جو نفرت کے قابل ہو۔لیکن اس صورت میں ممکن ہے جب ہمارے پاس دونوں کا فرق دیکھنے کے لیے عقل کی دولت ہو۔
پڑوسی کو ستانے والا جہنمی ہے گرچہ تمام رات عبادت کرے اور تمام دن روزہ رکھے۔
الله تعالیٰ سے اس طرح ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ۔ورنہ وہ تو تمھیں دیکھ ہی رہا ہے۔
نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور اسکی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔
دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے پہلے اپنی خامیاں تلاش کرو۔

رمضان اور 30اغلاط عامہ

رمضان۔۔۔ اور 30  اغلاطِ عامہ

‘‘اغلاط’’ خطِ نسخ اور سرخ رنگ میں دی گئی ہیں۔ اور ان کی ‘‘تصحیح’’ نستعلیق اور سبز رنگ میں۔ واضح رہے بعض غلطیاں فرض چھوڑنے یا حرام کا ارتکاب کرنے کی قبیل سے ہیں، اور بعض غلطیاں سنت کو ترک کرنے یا مکروہ کا ارتکاب کرلینے کی قبیل سے۔

1۔ چاند نظر آنے پر بعض لوگ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ یا شور اٹھاتے ہیں۔
سنت یہ ہے کہ رمضان یا کسی بھی مہینے کا چاند دیکھے تو اللہ کی تکبیر کرے اور کہے: اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام ربی وربك الله (ترمذی)
2۔  رمضان کے اعزاز میں، رمضان شروع ہونے سے پہلے ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا
نبیﷺ نے فرمایا: لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم (رواه البخاري) ‘‘تم میں سے کوئی  رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کا روزہ نہ رکھے، سوائے وہ شخص جو اپنے معمول کے تحت یہ روزہ رکھنے والا ہو، ہاں وہ یہ روزہ رکھ لے’’۔
3۔  رات سے یا کم از کم طلوعِ فجر سے پہلے فرض روزہ کی نیت نہ کررکھنا۔
نبیﷺ نے فرمایا: من لم يبيت النية من الليل فلا صيام له (أخرجه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه) ‘‘جس نے رات سے نیت نہیں کررکھی اسکا کوئی روزہ نہیں’’۔
4۔  روزے کی نیت بولنے کی صورت میں کرنا (جیسے بعض لوگ بول کرکہتے ہیں وبصوم غدٍ)
اسکی کوئی اصل نہیں، اور یہ دین میں نیا کام ہے۔ آپؐ نے فرمایا: إنما الأعمال بالنيات
5۔  افطار کے وقت بعض لوگ اذان ہوجانے کے بعد بھی اپنی دعاء جاری رکھتے ہیں، یہاں تک کہ مؤذن اذان ختم کرلینے کے قریب ہوتا ہے۔
سورج کے غروب ہوتے ہی افطار میں عجلت کرنا سنت کی روح ہے۔ مصطفیﷺ نے فرمایا: لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر رواه البخاري ‘‘لوگ خیر پر رہیں گے جب تک کہ افطار میں عجلت کرتے رہیں’’۔
 6۔  بعض لوگ افطار کے وقت اس دعاء کو اپنا معمول بناتے ہیں: اللہم تقبل منی إنک أنت السمیع العلیم۔ یا کسی اور دعاء کو اس موقع کیلئے اپنا معمول بنانا۔
افطار کے وقت معمول اُسی دعاء کو بنایا جائے گا جو اِس موقع کیلئے نبیﷺ سے مروی ہے۔  مثلاً آپؐ سے مروی یہ کلمات: ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله رواه أبو داود والدار قطني والبيهقي ، وقال الألباني حديث حسن ‘‘پیاس گئی، رگوں کو تراوت ملی، اور ان شاء اللہ اجر پکا’’۔
7۔  اکثر لوگ (خاص طور پر گھروں میں روزہ کھولنے والے) مغرب کی نماز باجماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو دسترخوان پر کھانا چن لیتے ہیں اور پھر حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ ‘پہلے کھانا پھر نماز’!
دسترخوان کو بوقت افطار اتنا بھاری نہ کرنا چاہئے۔ نماز باجماعت کو پانا فرض ہے: فرمانِ الٰہی ہے: واركعوا مع الراكعين ‘‘جھکنے والوں کے ساتھ جھکو’’۔ نیز مصطفیﷺ کا فرمان ہے: من سمع النداء فلم يجب فلا صلاة له إلا من عذر رواه الترمذي وابن حبان، وقال الألباني: حديث صحيح ‘‘جس نے اذان سنی اور اس پر لبیک نہ کہا اس کی کوئی نماز نہیں سوائے یہ کہ عذر ہو’’۔
8۔  بعض لوگ سحری نہیں کرتے اور رات کے کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
نبیﷺ نے فرمایا: تسحروا فإن في السحور بركة رواه البخاري ومسلم والترمذي ‘‘سحری کیا کرو؛ یقیناً سحری کے اندر ایک برکت ہے’’۔ امام نوویؒ کہتے ہیں: سحری کے مستحب ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔
9۔  بعض لوگ اذانِ فجر سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے ہی سحری کھا کر فارغ ہوجاتے ہیں!
سحری کو موخر کرکے کھانا سنت ہے۔ جس کا تخمیہ یہ ہے کہ اذان فجر کو پچاس آیتوں جتنا وقت باقی ہو تو سحری کھائی جائے۔
10۔  سحری میں کھجور کے استعمال کو ترک رکھنا۔
نبیﷺ فرماتے ہیں: نعم سحور المؤمن : التمر رواه أبو داود وابن حبان والبيهقي، وقال الألباني حديث صحيح ‘‘کھجور مومن کی سحری کیلئے کیا ہی اچھی ہے’’!
11۔  افطار یا سحری میں خوب پیٹ بھر لینا۔ بعض لوگ تو کھا کھا کر بے حال ہوجاتے ہیں۔
مسلمان کے لائق یہی ہے کہ بھوک رکھ کر کھانا کھائے۔ نبیﷺ نے فرمایا:  ما ملأ آدمي وعاءً شراً من بطنه بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه .... رواه ابن حبان ‘‘پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں جسے آدمی لبالب بھر لیتا ہو۔ ابن آدم کیلئے اتنے لقمے بڑے ہیں جو اس کو کمر کو سیدھا رکھیں’’۔
12۔  بعض لوگ اذانِ فجر شروع ہوجانے کے بعد بھی کھاتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض تو اذان ختم ہوجانے کے بعد بھی کھاتے چلے جاتے ہیں۔
آدمی کو چاہئے کہ اپنا دین اور اپنا روزہ خطرے میں نہ ڈالے۔ فرمان الٰہی ہے: وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود ‘‘کھاؤ پیو تاوقتیکہ فجر کی پو پھٹ جائے’’
13۔  رمضان میں رات کے وقت لیٹ جاگتے رہنا۔ صبح فجر میں سست ہونا، یا فجر کی نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانا۔ بعض لوگ تھوڑی بہت سحری زہرمار کرکے پھر سوجاتے ہیں اور سوج چڑھے نمازِ فجر پڑھتے ہیں!
رمضان کی راتوں کا قیام، اور ذکر اور دعاء ومناجات ترک کر بیٹھنا ایک بے حد بڑی محرومی ہے۔ سحر کے وقت عبادت میں چستی آنا اس بات پر منحصر ہے کہ رات کا اول حصہ آرام کرلیا گیا ہو۔ بعض اہل علم نے ایسے شخص کے حق میں رات کو لیٹ جاگتے رہنا حرام تک کہا ہے جس کی نماز فجر باجماعت اس لیٹ جاگنے کے باعث متاثر ہوجاتی ہو۔
14۔  بعض روزہ دار جو ویسے گالی گلوچ سے پرہیز بھی کرلیتے ہیں، کسی کے گالی دینے پر البتہ اُسی لہجے میں جواب دینا شروع ہوجاتے ہیں۔
نبیﷺ کا فرمان ہے: وإذا كان صوم يوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد فليقل : إني امرؤ صائم رواه البخاري ومسلم وابن ماجه والنسائي وابن ماجه وأحمد و ابن حبان ‘‘جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو، اُسے چاہئے جھگڑا اور شورشرابہ نہ کرے۔ کوئی دوسرا بھی اُس کے ساتھ گالی گلوچ کرے تو کہے: بھئی میں روزے سے ہوں’’۔
15۔  بہت سے روزہ دار صرف کھانے پینے کا روزہ رکھتے ہیں۔ زبان کو لغو، جھوٹ اور بہتان سے بچانا ان کے لیے روزہ کا حصہ نہیں! اسی طرح لغو اور بیہودہ چیزوں کا سننا اور ٹی وی، کمپیوٹر یا موبائل پر دیکھنا موقوف نہیں ہوتا!
روزہ ہر قسم کے فضولیات سے بچنے کا نام ہے اور اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی یاد میں گزارنے سے عبارت ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه رواه البخاري ‘‘جس شخص نے قولِ زُور نہیں چھوڑا اور اس پر عمل کرنے سے نہیں رکا، تو اللہ کو حاجت نہیں ہے کہ ایسا شخص بس اپنا کھانا پینا ہی چھوڑ کر رہے’’۔
16۔  بہت سے روزہ دار رمضان میں بھی بخیل کے بخیل رہتے ہیں۔ حاجتمندوں کا ہجوم دیکھنے کے باوجود  ‘‘روزہ’’ ان سے انفاق کروانے میں ناکام رہتا ہے۔
رمضان میں گرہ کھولنا اور لٹانا خاص طور پر مرغوب ہے۔ اعمال کا بدلہ  رمضان میں کئی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔  نبیﷺ رمضان میں خاص طور پر صدقات اور انفاق کا اہتمام فرماتے۔ ابن عباسؓ کا قول ہے: كان رسول الله  أجود الناس وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل، وكان يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن ‘‘رسول اللہﷺ سب سے بڑھ کر انفاق کرنے والے تھے اور سب سے بڑھ کر وہ رمضان میں انفاق کرتے جب جبریل سے ملاقات کرتے، اور جو کہ آپؐ کو ہر رات ملتا اور آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتا’’۔
17۔  بعض لوگ کسی کو رمضان میں دن کے وقت مسواک کرتا دیکھیں تو اس پر نکیر کرتے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ یہ روزہ کے حق میں نقصان دہ ہے!
مسواک کا سنت ہونا عام ہے  اور ہر وقت کیلئے ہے۔  نبیﷺ کا فرمان ہے : لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كلصلاة رواه مالك في الموطأ والبخاري ومسلم وأبو داودوالترمذي ‘‘مجھے اپنی امت پر مشقت کردینے کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کریں’’۔
18۔  ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ سے ہونے کے باوجود گناہ کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔ فلمیں ، سینما، اور گلیوں میں چھیڑچھاڑ اور خواتین کی طرف جھانکنا سب جاری رہتا ہے!
امام ابن رجب فرماتے ہیں: جو شخص اپنا روزہ ضائع کرلے، اس کا روزہ اس کو اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے روک ہی نہ سکے،  امکان ہے کہ اس کا روزہ قبول ہی نہ ہو اور اس کے منہ پر دے مارا جائے’’۔
19۔  بعض لوگ رمضان میں تراویح باجماعت کا اہتمام نہیں کرتے، رمضان میں بھی اپنے روزمرہ معمولات اُسی طرح جاری رکھتے ہیں۔
رمضان کی راتوں کا بہترین مصرف نماز میں قرآن کی طویل طویل قراءت کرنا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: من قام رمضانإيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه رواه مالكفي الموطأ والبخاري ومسلموأبو داود والترمذي والنسائي ‘‘جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کوقیام کرے، اس کے سب گزرے گنا ہ معاف کردیے جاتے ہیں’’۔
20۔  بعض لوگ امام کے نماز ختم کرنے سے پہلے تراویح ختم کرکے نکل جاتے ہیں (خاص طور پر وتر کے وقت لوگ امام کو نماز پڑھاتا چھوڑ کر نکل جاتے ہیں)
سنت یہ ہے کہ اگر آدمی امام کے ساتھ اُس وقت تک نماز پڑھتا رہے جب تک امام نماز پڑھا رہا ہے تو اس کیلئے پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے: من قام معإمامه حتىينصرف كُتب له قيام ليلة رواه الترمذيوابن خزيمة وابن حبان ‘‘جو شخص اپنے امام کے ساتھ اُس وقت تک  قیام کرے جب تک امام نماز ختم نہ کرلے، اُس کیلئے (پوری) رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے’’۔
21۔  بعض عورتیں تراویح کیلئے مساجد میں زیب وآرائش اور پرفیوم لگا کر جاتی  ہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: أيما امرأة أصابت بخوراًفلا تشهد معنا العشاء الآخرة رواه مسلم وأبو داودوالنسائي وأحمدوالبيهقي ‘‘جو عورت خوشبو لگائے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے نہ آئے’’۔
22۔  بہت سے ائمہ رکعتوں کی تعداد پور کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ نماز میں طمانیت مفقود۔ نہ رکوع پورا اور نہ سجود۔ نہ دعاء اور نہ خشوع، اور اس کا نام قیامِ رمضان!
نبیﷺ نے فرمایا: أسوأ الناس سرقة الذييسرق من صلاته، قالوا : يا رسول الله كيفيسرقها ؟ قاللا يتمركوعها ولا سجودها‘‘چوروں میں سب سے برا  وہ  آدمی ہے  جو اپنی نماز کی چوری کرے۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ وہ کیسے نماز کی چوری کرتا ہے؟ فرمایا: اس کا رکوع اور سجود پورا نہیں کرتا’’۔
23۔  بعض ائمہ قنوت کو بہت زیادہ طویل کردیتے ہیں۔
نماز اور قنوت میں اقتصاد (میانہ روی) رکھنا چاہئے۔ نیز سنت میں وارد ہونے والی دعاؤں پر اکتفا کرنا چاہئے۔ نبیﷺ نے فرمایا: إذا صلى أحدكم للناسفليخفف فإن فيهمالضعيف والسقيم والكبير رواهالبخاري ومسلم وأبو داود وأحمد وابن حبان
‘‘جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو اُسے چاہئے کہ ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور بیمار بھی اور بڑی عمر کے لوگ بھی’’۔
24۔  بعض ائمہ دعائے قنوت میں نہایت تکلف کرتے ہیں۔ بڑی بڑی مسجع عبارتیں لے کر آتے ہیں، اور خوب تصنع سے کام لیتے ہیں۔
سادگی کے ساتھ مسنون دعاؤں پر اکتفاء کرنا بہتر ہے۔
25۔  بعض لوگ دعائے قنوت میں آواز بہت اونچی کرلیتے ہیں۔
دعاء میں آواز دھیمی رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ادعوا ربكم تضرعاً وخفية إنه لا يحب المعتدين ‘‘پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے۔ بے شک وہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا’’۔
26۔ بعض لوگ دعائے قنوت کے دوران، یا امام کے پیچھے ہوں تو اس کی دعاء پر آمین کہنے کے دوران مسلسل آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے: ما بال أقوام يرفعونأبصارهم إلى السماء في صلاتهم فاشتد قوله فيذلك حتى قاللينتهين عنذلك أو لتخطفنأبصارهم رواه النسائي، وقال الألباني حديث صحيح‘‘کچھ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں’’۔ نبیﷺ نے اس پر اس حد تک شدید بات فرمائی کہ: ‘‘یہ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں’’۔
27۔  بعض نمازی دعائے قنوت کے اختتام پر دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرتے ہیں
یہ چیز سنت سے ثابت نہیں۔ امام بیہقیؒ کہتے ہیں: ‘‘دعاء سے فراغت کے وقت چہرے پر ہاتھ پھیرنا میرے نزدیک سلف کے کسی ایک شخص سے بھی ثابت نہیں’’۔
نوٹ: دعاء کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنے کو خلافِ سنت کہنے کے متعلق یہ مصنف کی رائے ہے جو دراصل حنابلہ کے علماء کی ایک جماعت کی رائے ہے۔ دیگر فقہی گروہ اس کی اجازت دیتے ہوں تو اس پر عمل میں کوئی مضائقہ نہیں (مترجم)۔
28۔  بعض نمازی لیلۃ القدر کی دعاء میں  لفظ ‘‘عفو’’ کے بعد ‘‘کریم’’ کا اضافہ کرتے ہیں۔
دعاء کے الفاظ سنت سے یہی ملتے ہیں ‘‘اللہم إنک عفوٌ تحب العفوَ فاعف عنی’’۔ اس میں کسی لفظ کا (مستقل) اضافہ درست نہیں۔
29۔  اعتکاف ضائع کرلینا۔ اس کو اہمیت نہ دینا۔
اعتکاف رمضان کے آخری عشرے میں کیا جانے والا ایک بہترین عمل ہے۔ اس کی جتنی حفاظت ہوسکے کرنی چاہئے۔ كان رسول الله  يعتكف العشر الأواخر منرمضان رواه البخاري ومسلموأبو داود وقال الألبانيحديث صحيح ‘‘رسول اللہﷺ رمضان کی آخری د س راتیں اعتکاف کیا کرتے تھے’’۔
30۔  فطرانہ کو اس کے وقت سے موخر کر بیٹھنا
صدقۃ الفطر عید کے روز نماز سے پہلے پہلے نکال دینا ضروری ہے۔ اس سے ایک یا دو دن پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔

میں خیال ہوں کسی اور کا

یہ غزل سن کر میں نے حسبِ دستور نیٹ پر اسے تلاش کیا اور ایک حیرت بلکہ صدمہ ہوا کہ کہیں بھی یہ غزل مکمل موجود نہیں۔ تمام سائٹوں پر زیادہ سے زیادہ چھ اشعار ہی ہیں۔ لہٰذا یہ غزل جس قدر مجھے مل سکی، یعنی آٹھ شعر، میں حاضر کیے دے رہا ہوں۔ نیز مہدی حسن کی خوبصورت آواز میں بھی اس غزل کو سننے اور دیکھنے کا سامان بہم کیے دیتا ہوں۔ گو آواز استاد مہدی حسن خان صاحب کی ہے لیکن کمپوزیشن استاد رئیس خان ہی کی ہے۔

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ مرا عکس ہے پس ِ آئینہ کوئی اور ہے

میں کسی کے دست ِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرف ِ دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے، مجھے جانتا کوئی اور ہے

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتہ نہ تھا
تری داستاں کوئی اور تھی، مرا واقعہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا، پہ مری سزا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

مری روشنی ترے خدّ و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تُو قریب آ تجھے دیکھ لوں تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے

جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
(سلیم کوثر)

 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں