خون میں ڈوبا عید کا چاند

خون میں ڈوبا عید کا چاند 




خبر درخبر(419)

شمس تبریزقاسمی
(کالم نگار ملت ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں)
stqasmi@gmail.com

عید الفطر کا چاند مسرت وشادمانی کا پیغام لیکر طلوع ہوتاہے ،ہر ایک کو خوشیوں کا سامان فراہم کرتاہے لیکن سال رواں عید الفطر کا چاند ایسے ماحول میں طلوع ہورہاہے جب پورا عالم اسلام خون میں ڈوبا ہواہے ،پوری ملت اسلامیہ نازک ترین دورسے گزررہی ہے ،دنیا کے ہر خطے میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہاہے ،رمضان جیسے مقدس اوربا برکت مہینہ میں بھی دنیا بھر میں مسلمانوں کے خون سے ہولیاں کھیلی گئی ہیں ، مظالم کا لامتتاہی سلسلہ دیکھتے ہوے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہاہے کہ آج کے کالم میں عید سعید کی مبارکباد پیش کی جائے یا رمضان کے آغاز سے لیکر اب تک مسلمانوں کے ساتھ ہوئے مظالم کی داستان سپرد قرطاس کی جائے ۔
گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار ملک ہندوستان میں رمضان کے آغاز میں ہی مسلمانوں نے سب سے درناک خبر سنی ،میرٹھ کی ایک خاتون کے ساتھ چلتی ٹرین میں ریپ کیا گیا اور پھر دھمکی دیکر متاثرہ کا بیان تبدیل کرکے ملزم کو قانون کی گرفت سے آزاد کردیاگیا،رمضان کے پہلے عشرہ میں بھوپال میں ایک مسجد پر وشو ہند پریشد کے لوگوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی ،دفاع کرنے کی پاداش میں پانچ سونوجوانوں کو حراست میں لے لیاگیا،انہی دنوں میں دہلی میں واقع سونیا وہار کی زیر تعمیر مسجد کو شرپسندوں نے شہید کردیا اور وہاں پہلے مندر ہونے کا دعوی کیا ،دھمکی دیکر مسلمانوں سے وہ گاؤں بھی خالی کرالیاگیا،رمضان کے اخیر عشرہ کی شروعات ہوتے ہی پانی پت کی ایک مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے بزرگ کا قتل کردیاگیا ،اتر پردیش کے مؤضلع میں مسجد سے باہر نکل رہے ایک شخص پر فائرنگ کرکے شہید کردیاگیا ۔اس کے بعد کل گذشتہ ایک اور اندوہناک خبر آئی جسے سن کر زمیں تلے سے پاؤں کھسک گئی ہے ، دہلی میں تروایح سناکر اور عید کی خریداری کرکے میوات جارہے حافظ محمد جنید اور ان کے بھائیوں پر ایی وی ایم ٹرین میں ہندوشدت پسندوں نے قاتلانہ حملہ کردیا،ایک کی شہادت ہوگئی اور تین شدید زخمی ہیں۔
پڑوسی ملک پاکستان میں بھی رمضان کے اخیر عشرہ میں دہشت گردانہ واقعہ پیش آیا ،پارہ چنار اور کوئٹہ کی سرزمین دہشت گردانہ حملوں سے سرخ ہوگئی، 70 افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے ،اسی شب میں مکہ مکرمہ سے ایک اورافسوسناک خبر موصول ہوئی جس سے پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی، جہاں کچھ دہشت گرد عناصر حرم شریف پر حملہ کی ناپاک منصوبہ بند ی کررہے تھے لیکن خفیہ ایجنسیوں کو پہلے ہی پتہ چل گیا اور پولس آپریشن کے ذریعہ یہ حملہ ناکام بنادیا گیا ۔
امریکہ میں سترہ سالہ مسلم لڑکی نربا حسنین کو ایک 22 سالہ امریکن عیسائی نے قتل کردیا ،پولس میں جب واقعہ کی رپوٹ درج کرائی گئی تو باپ کو جواب دیا گیا کہ یہ کوئی مجرمانہ واقعہ نہیں ہے ،ایک ہجوم نے قتل کیا ہے اس کیلئے اس کی تفتیش نہیں کی جائے گی جبکہ والدین کا دعوی ہے کہ محض مسلمان ہونے کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے اور اسی لئے امریکی پولس ملزم کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کررہی ہے ، الجزیرہ کی رپوٹ بھی یہ بتلاتی ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں وہاں اسلام فوبیا میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اور سینکڑوں مسلمان عیسائی شد ت پسندوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے ہیں۔ اسی رمضان المبارک میں برطانیہ کی ایک مسجد سے نماز تراویح پڑھ کرلوٹ رہے مسلمانوں کو ایک عیسائی نے اپنی کار سے روند دیا ،عینی شاہدین نے قاتل کو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرہ لگاتے ہوئے بھی سنا ،لیکن دنیا نے اسلام کی امن پسند ی پر مبنی تعلیم کا یہ منظر بھی دیکھاکہ اس جنونی قاتل کو مشتعل بھیڑسے اسی مسجد کے امام نے بچایا جس کے نمازیوں کا مذہبی عصبیت کی بنیاد پر اس نے بہیمانہ قتل کیاتھا۔
افغانستان ،عراق اور شام میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا،جس میں دسیوں بے گناہ مسلمان مارے گئے ،اسی ماہ میں داعش نے موصل کی تاریخی جامع النوری مسجد بھی شہید کردی جہاں سے خودساختہ خلیفہ ابوبکر بغدادی نے 2013 میں اپنی خلافت کا اعلان کیاتھا،بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ مسجد کا انہدام امریکی حملے کی وجہ سے ہوا ہے ۔ایسے لوگوں کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ داعش امریکی کردار کا ہی ایک حصہ ہے ۔مذکورہ ممالک سے ترکی اور یورپ کی جانب کا ہجرت کا سلسلہ بھی بڑی تعداد میں جاری رہااور رمضان میں بھی بشار الاسد کے مظالم سے تنگ آکر سینکڑوں خاندان نے اپنا ملک چھوڑ کر غیرکی جانب ہجرت کی۔ان تمام باتوں کے ساتھ خلیجی ممالک کے آپسی تنازع نے بھی پوری ملت اسلامیہ کو ڈسٹرب کیا ،ترکی کے صدر طیب اردگان کی زبان میں عرب ممالک کی آپسی لڑائی کی وجہ سے ماہ مبارک کی برکتیں ماند پڑگئیں ۔
خلاصہ یہ کہ رمضان کا مہینہ قتل وغارت کا مہینہ ثابت ہوا ،خوف وتشدد کا غلبہ رہا،دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کیا گیا ،ان سب کے ساتھ ماہ مبارک اور اس کی عبادتوں کی تئیں مسلمانوں کا شوق وجذبہ برقراررہا،ملی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے افطار پارٹی کا بھی خوب اہتمام کیا گیا ،آر ایس ایس نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اب شوال کے چاند نظر آنے والاہے ،کچھ تنظیموں کی جانب سے عید ملن تقریب کی تیاری جاری ہے ،ابھی سے دعوت نامے تقسیم کئے جارہے ہیں ۔
عرب ریاستوں ،مشرقی ممالک اور یورپ میں عید کا چاند نظر آگیاہے ،ہندوستانی ریاست کیرلا اور بھٹکل میں بھی اتوار کو عید منائی جارہی ہے ،ہندوستان میں سوموار کو عید منائے جائے گی لیکن عید کا جو چاند طلوع ہوگا وہ خون میں ڈوبا ہوگا ،غم اور حزن وملال کے درمیان یہ چانددیکھنے کا موقع ملے گا ، بہت سے گھڑوں میں ماتم کا ماحول ہوگا ،تصور کرنا مشکل ہورہاہے کہ شہید جنید کے اہل خانہ کیسے عید منائیں گے جنہیں عیدکی خوشی میں بیٹے کی لاش ملی ۔
عید ۔عید ہے ، اللہ تعالی کی جانب سے روزہ کاعظیم انعام ہے ،شریعت کی جانب سے عطا کردہ فطری خوشی ہے،ہزاروں مصائب کے درمیان رہ کر بھی ہمیں خوشی ہوگی ،عالم اسلام سمیت ملت ٹائمز کے تمام قارئین ،دوست واحباب اور سبھی متعلقین کو عید سعید کی مبارکبادپیش کرتے ہیں لیکن اس خوشی کے ساتھ ہم ان کے غموں میں بھی برابر کے شریک ہیں جن کا گھڑ اجڑ گیا ہے ، جن کی مسرتیں ماتم میں تبد یل ہوگئی ہیں۔ ان شرپسندوں کی ہدایت کیلئے بھی بارگاہ ایزد ی میں دعا گو ہیں جو عید کی خوشیوں کا قتل کرنے اور مسلمانوں کے درمیان صف ماتم بچھانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔


ملت ٹائمز نیوز لنک

جنت سے حافظ جنید شہید کا ماں کے نام خط

جنت سے حافظ جنید شہید کا ماں کے نام خط


پیغام رساں۔۔۔سلیم صدیقی پورنوی
میری پیاری امی جان !!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
امید ہے کہ تم خیریت سے ہوگی ، اللہ کرے ہمیشہ خیریت سے رہو
 عرض تحریر یہ ہے کہ ماں میں اپنے اصلی گھر یعنی جنت پہنچ گیا ہوں ، تم نئے کپڑوں میں دیکھنا چاہتی تھی نا! تو دیکھو بالکل نئے کپڑوں میں ملبوس ہوں ، تم نے کپڑے خریدنے کے لیے دہلی بھیجا تھا مگر قسمت مجھے جنت لے آئی ، اور میں یہاں بہت اچھے اچھے جوڑے خرید رہا ہوں ، ماں! میں یہاں بہت خوش ہوں ، یہاں بھیڑ کا ڈر نہیں رہتا ، نہ یہاں بھید بھاؤ ہے، یہاں جنت کے باغوں میں ٹہل رہا ہوں ، میوے کھا رہا ہوں ۔ اور ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا تھا شہدا کے ساتھ عید کی خوشیاں بھی منا رہا ہوں، میرے ساتھ محسن شیخ سے لے کر منہاج انصاری تک سب دائمی عیش کی زندگی گذار رہے ہیں۔ مگر !!! ماں! مجھے تمہاری بہت یاد آرہی ہے ۔ زخمی بھائی بھی یاد آرہے ہیں ۔ بھیڑ نے ہمیں مارنے کے لیے چاقو سے زخمی کیا تھا، مگر دیکھو نا! ماں سب کچھ الٹا ہوگیا میں تو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا ، ماں !! مگر افسوس ہے تو اس بات کا ہے آج تم نئے کپڑے نہیں پہنوگی ، عید کی سوئیاں نہیں کھاؤگی ، آج پہلی عیدوں کی طرح چہرے پر خوشی بھی نہیں ہوگی ، آج تم عورتوں کو دیکھ کر بہت مغموم بھی ہوگی ، کیوں کہ میں جو نظروں سے غائب ہوں ، آج تمہارے ہاتھ کی سوئیاں کون کھائے گا ؟ آج نئے کپڑے پہن کر کون تمہارے سامنے آکر دل خوش کرے گا ؟ آج گھر میں شرارت کون کرے گا؟ تم نے نئے کپڑے لینے اس لیے بھیجا تھا تاکہ میں نئے کپڑوں میں خوبصورت سا دولہا لگوں ، مگر کیا کروں ؟ یہ حسرت رہ ہی جائے گی ۔ تم مجھے نئے کپڑوں میں دولہا سا نہیں دیکھ سکوگی ہاں ۔ گھبرانے کی بات نہیں ۔ میری شادی جنتی حوروں سے کردی گئی ہے، جب تم دیکھو گی بہت خوش ہوگی ، شادی میں پہلو خان بھی آۓ تھے اور اخلاق بھی ۔ خیر چھوڑو نا ماں ! دنیا کی زندگی ہی کتنے دن کی ہے۔ تم بھی ایک دن میرے پاس آؤگی ، پھر ہم سب ساتھ میں رہیں گے اچھا اک شکوہ سن ہی لو !!!! ماں ! تم بالکل جھوٹ کہتی تھی “ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں ” جب مجھے بھیڑ مار رہی تھی تو لوگ بچانے کے بجائے کھڑے ہو کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے کہ چاقو کہاں کہاں مارا جارہا ہے ، مدد کے لیے آواز دی مگر کوئی نہیں آیا اور تو اور یہ خاموش تماشائی میری ویڈیو بھی بنا رہے تھے ، کیا کوئی بھائی اپنے بھائی کو مرتا دیکھ کر خاموش رہتا ہے اور ویڈیو بناتا ہے ؟ ماں خدا کے واسطے یہ جھوٹ اب کسی سے مت بولنا کہ سرکار ہماری مددگار ہے ، تم تو دیکھ ہی رہی ہو مودی جی نے ایک لفظ تک نہیں بولا ، ہاں یہ افواہ بھی مت پھیلانا کہ ملی و سیاسی قائدین ہمارے محافظ ہیں تم کو تو سب معلوم ہے ، بعض قائدین اعتکاف میں بیٹھے ہیں ، اور بعض افطار پارٹی میں مشغول ہیں ، اور بعض تو سیلفی کے چکر میں سیاسی گلیاروں کے چکر کاٹ رہے ہیں ، اسی کو وہ عین کار ثواب بھی سمجھتے ہیں اسی لیے تو اخباروں کی زینت بنتے ہیں ، مگر کسی کو بھی نہ ہماری فکر ہے اور نہ تمہاری ۔ کیا میں انسان نہیں تھا ؟ یا تم انسان کی ماں نہیں ہو ؟ کیا میرے سینے میں قرآن کریم نہیں تھا پھر قائدین ہماری خبر گیری کرنے کیوں نہیں آئے ؟ اچھا چھوڑو جو ہوا سو ہوا ، ہاں مگر ! ایک بات تم سچی کہتی تھی خدا کے سوا کوئی کسی کا نہیں ہوتا ، آج بھی دیکھو نا ! اللہ کی رحمت کے سائے تلے مظلومین کے ساتھ بیٹھ کر آرام کررہے ہیں ۔ ہمیں کوئی پاکستانی کہ کر بھگا بھی نہیں رہا ہے، اور نا ہی کوئی ترچھی نظروں سے گھور رہا ہے ہاں !! پہلو خان کو ان کی بوڑھی ماں بہت یاد آرہی ہے اس لیے وہ تھوڑا مغموم ہے ، اور تھوڑی سی پزمردگی اخلاق چچا کے چہروں پر بھی ہے ، کیوں کہ ان کو ان کی بیوا یاد آرہی ہے ، اولاد کی یاد بھی آرہی ہے شاید ، سیف اللہ تو اپنے باپ سےبہت زیادہ ناراض ہے ، تمہیں معلوم ہے؟؟ کون ہے سیف اللہ ؟ وہی جسے سرکاری کتوں نے نوچ نوچ کر کھالیا تھا اور بعد میں اسے انکاؤنٹر کا نام دے دیا تھا ۔ وہی سیف اللہ اپنے باپ سے ناراض ہے ، پتا ہے کیوں ناراض ہے ؟ باپ نے پیسے کھاکر اپنے مظلوم سیف اللہ دہشت گرد کہ کر لوگوں کی نظر میں اس کو مظلوم کے بجائے ظالم بنادیا ہے ۔ ماں۔ لوگ بھی کتنے عجیب ہیں نا ! میرے مسئلے میں بھی دو حصوں میں بٹ گئے ہیں، کچھ لوگ تمہارے دکھ درد میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو کچھ لوگ ان پر فتوی بازی کررہے ہیں ،اسی لیے کالی پٹی باندھ کر نماز ادا کرنے کو نظام قدرت سے بغاوت سمجھتے ہیں۔ مگر سنا ہے کہ شہلا راشد اور شاعر عمران پڑتاب گڈھی تیری حمایت میں آج کالی پٹی باندھیں گے ، اور کچھ بھی لوگ فتوے کی پرواہ کیے بغیر ۔ اللہ ان سب کو جزائے خیر دے آمین ثم آمین کیا ان سب سے مجھے انصاف مل جائے گا ؟ کیا اس سے تیرے چہرے کی خوشی لوٹ آئے گی ؟ مجھے معلوم ہے انصاف نہیں ملنے والا ہے ، اور نہ ہی تیرے چہرے کی خوشی لوٹ کر آنے والی ہے ۔ کیوں کہ تو جس جنید کو کپڑے خریدنے بھیجا تھا وہ کبھی کپڑے خرید کر تیرے سامنے نہیں آئے گا ، کیوں کہ ہمارے ، ہمارے نہیں صرف تمہارے قائدین کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے آخری بات۔۔۔ تم میری جدائی میں ہرگز ہرگز مت رونا کیوں کہ رویا میت پر جاتا ہے اور میں زندہ ہوں ، ہاں اپنی مقبول دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھنا ، اور قرآنی آیات پڑھ کر بخشتے رہنا تمہارا لخت مگر۔۔ حافظ جنید شہید مقیم حال ۔ جنت الفردوس. 




 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں