رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے


             رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے

رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
 اور اک چیز بڑی بیش بہا مانگی ہے
اور وہ چیز نہ دولت، نہ مکاں ہے، نہ محل
تاج مانگا ہے، نہ د ستار و قبا مانگی ہے
نہ تو قدموں کے تلے فرشِ گہر مانگا ہے
اور نہ سر پر کلہِ بالِ ہما مانگی ہے
نہ شریک سفر و زاد سفر مانگا ہے
نہ صدائے جرس و بانگِ درا مانگی ہے
نہ سکندر كی طرح فتح کا پرچم مانگا
اور نہ مانندِ خضر عمرِ بقا مانگی ہے
نہ کوئی عہدہ، نہ کرسی، نہ لقب مانگا ہے
نہ کسی خدمتِ قومی کی جزا مانگی ہے
نہ تو مہمانِ خصوصی کا شرف مانگا ہے
اور نہ محفل میں کہیں صدر کی جا مانگی ہے
مے کدہ مانگا، نہ ساقی، نہ گلستاں، نہ بہار

 ہمارا یوٹیوب چینل

جام و ساغر نہ مئے ہوشرُبا مانگی ہے
نہ تو منظر کوئی شاداب و حسیں مانگا ہے
نہ صحت بخش کوئی آب و ہوا مانگی ہے
محفلِ عیش نہ سامانِ طرب مانگا ہے
چاندنی رات نہ گھنگور گھٹا مانگی ہے
بانسری مانگی، نہ طاؤس، نہ بربط، نہ رباب
نہ کوئی مطربۂ شیریں نوا مانگی ہے
چین کی نیند، نہ آرام کا پہلو مانگا
بختِ بیدار، نہ تقدیرِ رسا مانگی ہے
نہ تو اشکوں کی فراوانی سے مانگی ہے نجات
اور نہ اپنے مرَض دل کی شفا مانگی ہے
نہ غزل کے لئے آہنگ نیا مانگا ہے
نہ ترنم کی نئی طرزِ ادا مانگی ہے
سن کے حیران ہوئے جاتے ہیں اربابِ چمن
آخرش! کون سی پاگل نے دعا مانگی ہے
آ! ترے کان میں کہہ دوں اے نسیم سحری!
سب سے پیاری مجھے کیا چیز ہے؟ کیا مانگی ہے
وہ سراپائے ستم، جس کا میں دیوانہ ہوں 
اس کی زلفوں کے لئے بوئے وفا مانگی ہے


            (  ڈاکٹر کلیم عاجزؔ  )





ہماری ویب سائٹ کی پیشکش

یہ پیشکش ہماری ویب سائٹ کی جانب سے ہے





یہ نگر نہیں خوابوں کا نگر ہے

دنیا خواب کے اندر خواب ہے۔ کون جانے خوابوں کا نگر حقیقت ہو یا حقیقت کا نگر خواب۔ خواجہ میر درد کا شعر ہے،
وائے ناکامی، وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا۔
شمال کی چاہ میں شمال کے نگر کا بار بار سفر کرنے والے مسافر کے پاس اس کا کل اثاثہ خواب ہی تو ہوتے ہیں جن کی تعبیر کا پیچھا کرتے وہ پھر سے ایک نئے سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہے۔ تعبیر کی جستجو میں مزید خواب ہی آتے رہے، کسی خواب میں جنگل سے پیاسا نکل کر دریا کنارے پہنچ کر کھڑے رہنا، پھر بنا پانی پیے پتھروں سے بھرے میدان میں، جو وادی سالتورو کے راستے میں آتا ہے، پہنچ جانا۔
خواب در خواب سفر ہوتا رہا، آنکھ کھلی تو دنیا نے فنکاری کا طوق گلے میں ڈال دیا۔ یہ طوق اس قدر بھاری ہوتا ہے کہ ایک طرف اس کو اٹھائے رکھنے میں اور دوسری طرف اپنی خامیاں چھپانے میں انسان ساری توانائیاں صرف کر دیتا ہے۔ الفاظ کو برتنے کا سلیقہ سیکھتے سیکھتے میں خود کہیں اور ہی کھو گیا۔ وہ جو بے ساختہ پن والا انسان تھا گم ہو گیا۔ اب بھی خوابوں کی تعبیر کا کوئی نام و نشان ہے نہ ہی اس راہ میں کوئی مِیل کا پتھر دکھائی پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر سفر ہی خوابوں کے نگر کا ہو تو؟
شمال میں بسا ضلع ہنزہ نگر خوابوں کا نگر ہے۔ ہنزہ اور نگر ماضی میں دو الگ ریاستیں رہیں، اور ان دونوں کو بیچ میں بہتا دریائے ہنزہ الگ کرتا تھا۔ دریا دونوں ریاستوں کی سرحد ہوا کرتی تھی۔ نگر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ پہلے بروشال کے نام سے مشہور تھا، جس کا دارالحکومت ڈونگس تھا۔ یہاں کا بادشاہ تھم کہلاتا تھا، اور یہ آج کے نگر اور ہنزہ پر مشتمل تھا۔
نگر — فوٹو سید مہدی بخاری
نگر — فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
چونکہ ڈونگس کے چاروں اطراف برفانی گلیشئیرز تھے جن کے بڑھنے سے وہاں کا نظامِ آبپاشی سخت متاثر ہوا تو لوگ ہوپر میں آکر آباد ہوئے۔ اس کے بعد راجہ میور خان کے بیٹوں مغلوٹ اور گرکس نے بروشال کو نگر اور ہنزہ میں تقسیم کیا۔ نگر اور ہنزہ چھوٹی ریاستں تھیں، اور یہ اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ چین سے آنے والے تجارتی قافلوں کو لوٹ کر حاصل کرتی تھیں۔
انگریز یہاں سے روس تک تجارت کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ ریاستیں ایسا کرنے سے روک رہی تھیں، اس لیے 1891 میں کرنل ڈیورنڈ کی سربراہی میں نگر پر حملے کا فیصلہ کیا گیا، اور نگر کی طرف چڑھائی شروع کی گئی۔ نگر کا دفاعی قلعہ نلت کے مقام پر واقع تھا۔ انگریزوں نے چھ مہینوں تک نلت قلعہ کا محاصرہ کیے رکھا۔ آخر کار ایک غدار کی مدد سے انگریز فوج قلعے کی اوپر والی چوٹی پر پہنچ گئی، اور قلعے پر حملہ کیا اور یوں نگر کی ہزاروں سال پر محیط آزادی ختم ہوگئی۔
انگریزوں سے نکل کر ریاست کا انتظام کشمیر کے مہاراجہ کے سپرد ہو گیا مگر مرکز سے دوری کی بنا پر مقامی لوگ اپنی من مانی ہی کرتے رہے۔ ریاست نگر کا دارالحکومت ڈونگس، نگر خاص میں واقع تھا جہاں بادشاہ کا محل اور دربار ابھی تک موجود ہے۔ یہ دارالحکومت مغلوٹ شاہی خاندان کے آخری بادشاہ میر شوکت علی خان تک قائم رہا۔
نگر کو برف پوش پہاڑوں کی سرزمین کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ راکاپوشی، نگر کی وادی غلمت میں واقع ہے جبکہ دران پِیک نگر کی وادی مِناپن میں سینہ تانے کھڑی ہے۔ ہوپر تو نگر کے ماتھے کا جھومر ہے، جہاں سے ایک راستہ پاکستان کی بلند ترین جھیل رش لیک کو نکلتا ہے تو وہیں پر ہوپر گلیشیئر، گولڈن پِیک، برپو گلیشیئر، بولتر گلیشیئر، اور میار گلیشیئر ظہور پذیر ہیں۔
گولڈن پیک یا اسپانٹک پیک — فوٹو سید مہدی بخاری
گولڈن پیک یا اسپانٹک پیک — فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
راکاپوشی — فوٹو سید مہدی بخاری
راکاپوشی — فوٹو سید مہدی بخاری
نگر کا حسن پہلی بار مجھ پر حادثاتی طور پر آشکار ہوا۔ میں قراقرم ہائی وے پر سفر کرتا ہنزہ جا رہا تھا۔ مناپن کے قریب لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے راستہ بند تھا، اور گاڑیوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ میرے جیپ ڈرائیور نے گاڑی مناپن گاؤں کے اندر ڈال لی۔ اس دن میں نگر کی وادیوں سے ہوتا ایک پرخطر کچے تنگ راستے پر سفر کرتا اور نیچے قراقرم ہائی وے کو دیکھتا رہا کہ جہاں دونوں اطراف لینڈ سلائیڈ اور اس کی وجہ سے رکی ہوئی گاڑیوں کی قطاریں تھیں۔
دو گھنٹوں کی مسافت کے بعد میں پھر سے دریائے ہنزہ پر بنا پل عبور کر کے قراقرم ہائی وے پر موجود تھا، اور گاڑی ہنزہ کی طرف بھاگ رہی تھی۔ اس دن نگر کی اندرونی بستیوں کو قریب سے دیکھا۔ خوش باش لوگ تھے، کھیلتے بچے تھے، کام کرتی عورتیں تھیں، کھیتوں میں چرتے مویشی تھے اور دور کہیں عقب میں گولڈن پِیک مسلسل منظر میں موجود تھی۔ خالص دیہی زندگی کا نام نگر ہے، یہ احساس اسی دن ہوا۔
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
نگر خاص — فوٹو سید مہدی بخاری
نگر خاص — فوٹو سید مہدی بخاری
ہنزہ سے نکلیں تو گنیش گاؤں کے بعد دریا پر بنا پل پار کرتے ہی دائیں جانب ایک سڑک ہوپر کی طرف مڑ جاتی ہے۔ ہوپر سے پہلے نگر خاص آتا ہے جو کبھی ریاست نگر کا صدر مقام ہوا کرتا تھا۔ سارا علاقہ خوبانی، چیری اور سیب کے درختوں سے بھرا پڑا ہے۔ کھیتوں میں کرکٹ کھیلتے بچے ہاتھ ہلا کر مسافر کا استقبال کرتے ہیں۔
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
محنت کشوں کی آبادی نگر خاص، چھوٹی چھوٹی دکانوں اور گھروں پر مشتمل ہے۔ نگر خاص کے بازار سے ایک راستہ شمال کے آخری گاؤں ہیسپر کو نکل جاتا ہے اور دوسرا ہوپر کی طرف، جو کہ برفپوش پہاڑوں، رش جھیل اور کئی گلیشیئرز کی سرزمین ہے۔ ہوپر پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ اس سے آگے انسانی آبادی کا کوئی وجود نہیں، محض برف ہی برف ہے اور ان سے سر ٹکراتی بے چین ہَوا کہ جس نے برفوں کو اپنے زور سے کاٹ کر ان میں لہریں بنا دی ہیں۔
ہیسپر کی طرف جائیں تو راستے میں پتھروں سے بنے قدیم طرز کے مکانات نظر آتے ہیں جن کے آنگنوں میں مویشی اور بچے ساتھ ساتھ کھیلتے اور پلتے ہیں۔ ایسے گھروں کو دیکھ کر نہ جانے کیوں دل چاہنے لگتا ہے کہ ان کے اندر ایک شب کسی کا مہمان رہوں۔ آبادی سے تھوڑا آگے نکلیں تو دودھ کی آبشار بلندی سے گرتی دکھائی دیتی ہے۔ یقین نہیں تو جا کر دیکھ لیں۔ لوگ ایسے مہمان نواز اور خوش اخلاق کہ مسافر کو اپنے گھر کے دروازے سے خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے۔ کوئی خشک خوبانیاں پیش کرتا ہے تو کوئی اخروٹ۔
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
میں شمال کے آخری گاؤں ہیسپر جا رہا تھا۔ یہ خزاں کا موسم تھا۔ تیز ہواؤں سے درختوں کے خزاں رسیده پتے اڑتے پھرتے تھے۔ ایک گھر کے باہر بچے کھیل رہے تھے، اور میں ان کی فوٹوگرافی میں مگن تھا۔ اس گھر کے آنگن میں ناشپاتی کا گھنا درخت لگا ہوا تھا، جو ناشپاتیوں سے بھرا پڑا تھا۔ گھر کا دروازه کھلا ہوا تھا اور میں اس کے چھوٹے چھوٹے مکینوں کی تصویریں لیتا اور ان سے باتیں کرنے میں مشغول تھا۔
بچوں کو ہنسانے کی خاطر اور ان سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے لیے میں کہتا کہ بچو گھر کے آنگن میں لگے درخت سے ناشپاتیاں تو توڑ کر لاؤ۔ مجھے قطعی خبر نہ تھی کہ میری آواز گھر کے اندر بھی کوئی سنتا ہے۔ کچھ دیر میں دروازے کی اوٹ سے سرخ آنچل سے نقاب بریده نیلی آنکھیں برآمد ہوئیں. مہندی لگے ہاتھوں سے چہرے کا نقاب بناتے ہوئے مجھے اشاره ہوا۔ میں قریب گیا تو دوسرے ہاتھ سے ناشپاتی سے بھری لکڑی کی چھال کی ٹوکری میری جانب بڑھا دی گئی۔
ہیسپر جاتے ہوئے — فوٹو سید مہدی بخاری
ہیسپر جاتے ہوئے — فوٹو سید مہدی بخاری
ہیسپر — فوٹو سید مہدی بخاری
ہیسپر — فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
میں نے وصول کر کے شکریہ ادا کیا تو نیلی آنکھیں پھیل گئیں، غالباً نقاب کے اندر ہنسی تھی۔ نیلی آنکھوں والی میرے سر کی طرف مہندی رچے ہاتھوں سے اشاره کر کے بولی، " پتہ"۔ میرے بالوں میں ایک زرد پتہ نجانے کب کا اٹکا ہوا تھا۔ بالوں کو ہاتھ سے جھٹک کر پتہ گرانے تک دروازے کی اوٹ خالی ہو چکی تھی، اور میرے ہاتھ میں ناشپاتیوں سے بھری ٹوکری تھی جن کا ذائقہ شہد جیسا تھا۔ گاڑی کے قریب آ کر ڈرائیور کو ناشپاتی دی تو وہ اونچے اونچے قہقہے لگانے لگا۔ اب جب کبھی یاد آئے تو مجھے سارے منظر میں ڈرائیور کا قہقہہ سب سے اونچا یوں سنائی دیتا ہے جیسے مجید امجد کا یہ شعر
گونجتا رہ گیا خلاؤں میں
وقت کا ایک قہقہہ، تنہا
ہیسپر کے آتے آتے شام ڈھلنے لگی تھی۔ یہ گاؤں مجھے دنیا سے کٹا ہوا لگا۔ ایک عجیب طرح کا سکون اس بستی میں ٹھہرا تھا، سو وہیں شب بسری کا انتظام کر لیا۔ قراقرم کے دامن میں ایک سرد رات میں جب ہیسپر کے گھروں کی مدھم روشنیاں وادی میں جھلملاتی ہیں اور اوپر آسمان پر ستارے ٹمٹاتے ہیں، ان لمحوں میں معلوم نہیں ہو پاتا کہ ستارے کہاں کہاں بکھرے ہیں۔ بیچ میں کھڑا میں کبھی وحشی پہاڑوں کے خوف سے، تو کبھی سردی کی لہر سے کانپتا تھا۔
ہوپر سے التر کی چوٹی پر شام کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
ہوپر سے التر کی چوٹی پر شام کا منظر — فوٹو سید مہدی بخاری
ہنزہ سے نگر کا منظر: گولڈن پیک، گلگندر، اور چھوٹوکان پیک — فوٹو سید مہدی بخاری
ہنزہ سے نگر کا منظر: گولڈن پیک، گلگندر، اور چھوٹوکان پیک — فوٹو سید مہدی بخاری
اس رات میں نے ایک تارہ دیکھا جو آسمان سے بھڑکتا ہوا تیزی سے زمین کی طرف آیا۔ جوں جوں وہ نزدیک آتا جا رہا تھا اس کی چمک دمک بڑھ رہی تھی۔ پھیلتے پھیلتے وہ ایک بڑا سا روشن گولا بن گیا۔ ایک لمحہ کے لیے مجھے لگا کہ یہ مجھ پر اور وادی پر گر پڑے گا۔ دل میں ڈر بڑھا تو خدا یاد آ گیا۔ ایک دم روشنی کا گولا بجھا اور پتہ نہیں کہاں غائب ہو گیا۔ اس کے بعد دیر تک دھڑکن نارمل نہیں ہو سکی تھی۔ وہ جلتے ستارے کی رات بعد میں خواب میں بھی ایک دو بار آئی اور مجھے ہمیشہ ڈر کر اٹھنا پڑا، پھر بھی ہوش و حواس میں کئی بار دل کیا کہ پروردگار مجھے ایک بار پھر سے ایسا دہشت زدہ منظر دکھا دے۔ پہاڑوں میں، تنہائی میں، خاموشی میں، موت کی دہشت کی جو لذت ہوتی ہے، وہ بھی کمال ہوتی ہے۔ دور دراز کی وادیوں میں محبتیں ہی نہیں دہشتیں اور وحشتیں بھی بھری ہوتی ہیں۔
ہیسپر اور نگر خاص کے درمیان — فوٹو سید مہدی بخاری
ہیسپر اور نگر خاص کے درمیان — فوٹو سید مہدی بخاری
نگر خاص — فوٹو سید مہدی بخاری
نگر خاص — فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
اگلی صبح آسمان سے شفاف اتری۔ اس دن میرا ارادہ نگر کو چھوڑ کر قراقرم کے سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ بنی عطا آباد جھیل کو پار کر کے گوجال کے گاؤں حسینی جانے کا تھا۔ کھڑکی سے باہر دیکھتے جھیل کی جانب سفر ہوتا رہا۔ دھوپ جب پیلے، سرخ، نارنجی پتّوں پر پڑتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی مصور نے کینوس پر جا بجا رنگ بکھیر دیے ہوں۔ ان رنگ برنگے درختوں کے نیچے سے گزرتے بچوں، بزرگوں، عورتوں کے چہروں پر پڑتی ہلکی دھوپ جو شاخوں سے چھن کر آتی ہے، دیکھتے رہنا بھی ایک مشغلہ ہے۔
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری
نگر کی وادیوں سے نکلا تو قراقرم ہائی وے پر سفر کرتا جھیل تک پہنچا۔ جھیل کے کناروں پر رش تھا۔ ہر کسی کو پار جانے کی جلدی تھی۔ اردگرد کالے سیاہ پہاڑ تھے اور ان کے بیچ تنگ درے میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دریا کا بہاؤ رک جانے سے بنی سبز پانیوں کی ایک گہری جھیل تھی جس کی اپنی الگ ہی ہیبت تھی۔
کشتی والے نے کشتی پر جیپ لوڈ کی تو سارا بوجھ دل پر پڑ گیا۔ قراقرم کے دہشت گرد سنگلاخ پہاڑوں کے تنگ سے درے میں بنی عطا آباد جھیل کا محل وقوع، لمبائی اور گہرائی جان کر ویسے ہی خوف آتا ہے۔ ایک عام سی کشتی میں تیس منٹ کا سفر پہلے ہی ڈرا رہا تھا کہ کشتی پر جیپ بھی لوڈ ہوگئی۔ لائف جیکٹ جو پہننے کو ملی وہ بس دل کی تسلی کے لیے تھی ورنہ جس معیار کی کشتی تھی اسی معیار کی جیکٹ تھی جو شاید تنکے کو بھی ڈوبنے سے نہ بچاتی ہو۔
عطاآباد جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
عطاآباد جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کشتی چلی تو دل سے کئی گمان گزر گئے۔ مجھے یاد پڑا کہ بیس سال پہلے میرے والد ہمیں لے کر جہلم کسی عزیز کے گھر گئے۔ وه رشتہ دار ہمیں دریائے جہلم کی سیر کروانے لے گئے۔ اس زمانے میں جہلم میں پانی بہتا تھا اور کشتیاں چلتی تھیں۔ کنارے پر کافی رونق رہتی۔ کشتی پر بیٹھنے لگے تو میری والدہ نے مجھے نہ بیٹھنے دیا۔ میں نے بیٹھنے کی ضد کی تو امی بولیں کہ جب تو بڑا ہو گا اور تیرا بھی اکلوتا بیٹا ہو گا تو میں دیکھوں گی کہ اس کو ایسی شکستہ کشتی پر کیسے بٹھاتا ہے۔ میں کنارے پر امی کے پاس روتا رہا اور باقی سب کشتی کی سیر کرتے رہے۔
تیس منٹ کا سفر سوچتے سوچتے گزر گیا۔ کشتی کنارے لگی تو ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے جھیل کا پانی آنکھوں سے بہنے لگا۔ پسو کونز کے بیک ڈراپ میں ملاح کا چہره دھندلا چکا تھا۔ حسینی کے گاؤں میں چلتے چلتے اسکول جاتے نیلی آنکھوں والے بچوں نے ہاتھ ہلا کر اشاره کیا تو جھیل، کشتی اور یادیں پیچھے ره گئیں۔ پہاڑوں پر سنہری دھوپ اترچکی تھی۔ موسم بدل چکا تھا۔ پانی کا سفر ختم ہو چکا تھا۔
سورج ستارہ — فوٹو سید مہدی بخاری
سورج ستارہ — فوٹو سید مہدی بخاری
ہوپر جاتے ہوئے — فوٹو سید مہدی بخاری
ہوپر جاتے ہوئے — فوٹو سید مہدی بخاری
ہوپر جاتے ہوئے — فوٹو سید مہدی بخاری
ہوپر جاتے ہوئے — فوٹو سید مہدی بخاری
نگر خاص میں چیری بلاسم — فوٹو سید مہدی بخاری
نگر خاص میں چیری بلاسم — فوٹو سید مہدی بخاری
آدھی رات کو جب سارے دن کے کاموں سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹتا ہوں تو بیتے لمحے، سفری یادیں، ہنستے روتے لوگ، گلگت بلتستان کی وادیاں، جیپوں کا شور، جنگل، نگر اور ہیسپر کے پرانے گھر یاد آنے لگتے ہیں۔ انسان فطرت کو اپنے اندر جذب کرتے کرتے کبھی زندگی کی اس اسٹیج پر پہنچ جاتا ہے کہ فطرت اسے اپنے اندر جذب کرنے لگتی ہے اور وه لمحہ بہ لمحہ، یاد بہ یاد، فنا ہوتا جاتا ہے۔ ایک نطفے سے پیدا ہو کر خاک میں مل کر نائیٹروجن بننے تک کا سارا سفر، تحلیل ہونے کا مرحلہ ہی تو ہے۔ خلیہ بہ خلیہ۔ فطرت کو اپنے اندر سمونے کی چاه میں مگن لوگوں کو اصل میں فطرت اپنے اندر سمو لیتی ہے۔

یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے سفرنامے کی سیریز میں چھٹا مضمون ہے۔ گذشتہ حصے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لکھاری پیشے کے اعتبار سے نیٹ ورک انجینیئر ہیں۔ فوٹوگرافی شوق ہے، سفر کرنا جنون ہے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کا فیس بک پیج یہاں وزٹ کریں۔

ارمانوں کا خون

ارمانوں کا خون 




        غبارِ خاطر؛از:ابو سعد چارولیہ

----------------------------------

آج صبح ہی سے گھر پر ایک خاص قسم کی ہلچل تھی،کوئی بھاگ رہا ہے ،کوئی دوڑ رہا ہے ،کوئی بازار میں سامان لینے جارہا ہے ـ ابّا آج صبح سویرے بغیر نہائے دھوئے کام پہ نکل گئے ، بڑی بہن کی پھرتی قابلِ دید تھی ، وہ امّی کے ساتھ مل کر ٹفن تیار کررہی تھی ،چھوٹی بہن ادھر سے ادھر کودتی جارہی تھی کہ بھیّا آج مدرسے کو جائیں گے، اتنے میں چھوٹے بھائی کی آواز آئی:  امّاں! میں بھیّا کے لیے ناشتہ اور ضروری چیزیں لے آتا ہوں ـ 
غرض یہ کہ گھر بھر میں عید کا سماں تھا اور ایک مابدولت تھے جو گال پُھلائے ،شکنیں چڑھائے ،زمانے بھر سے بیزار بیٹھے تھے ،دل میں تو بار بار آرہا تھا کہ آج تو جی کڑاکے کہہ ہی دیں: " مجھے مدرسہ وَدَرسہ نہیں جانا ،تم لوگ یہاں مزے کرتے ہو اور میں میلوں دور وہاں جھک ماری کرتا ہوں، بہت ہوگیا، اب کے میں کسی بھی حال میں مدرسہ نہیں جاؤں گا " دل ہی دل میں طرح طرح کے خیالات آتے اور جاتے رہے ،دماغ وسوسوں کا جال بُنتا اور پھر خود بہ خود ٹوٹ جاتا، قسمہا قسم کے ڈائیلاگز ذہن میں کُلبلاتے اور پھر بلّی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کا موقع آتا تو اپنی موت آپ مرجاتے ـ  اسی سوچ بچار میں کوچ کا وقت ہوگیا اوپرے دل کے ساتھ دولقمے مارے اور اٹھ گیا، بے چاری امّی پکارتی رہی کہ بیٹا! سفر ہے کچھ تو کھالو ؛مگر یہاں گھر چھوڑنے کے غم کے ساتھ غصہ اِس پر بھی تھا کہ ابّا نے صرف دوہزار روپے کیوں دیے ؛لہذا اس غصے کا اظہار ضروری تھا، ابّا یہ سارا ماجرا دیکھ کر سمجھ گئے کہ اصل درد کہاں ہے !بغیر کھائے چپ چاپ اٹھے اور بیڈ روم سے اپنا کرتا اٹھالائے اور جیب میں جتنے پیسے تھے ریزگاری سمیت (تین سو روپے)سب نکال کر دے دیے ؛یہاں تک کہ آخر میں ایک روپیہ کا سکّہ نکل آیا وہ بھی دے دیا، خدا جانے !ذہن پر کس قسم کا بھوت سوار تھا کہ کچھ سوچے بِنا وہ ایک روپیہ بھی لے لیا، کن اَکھیوں سے دیکھاکہ گھر کے سبھی افراد کو میری یہ حرکت نہایت ناگوار گذری؛ مگر کسی نے کچھ کہا نہیں تو میں نے بھی اس خیال کو ایسے ہی جھٹک دیا جیسےبے وقت آئی ہوئی  مکّھی اڑائی جاتی ہے
 خیر! ابا تو ایک لقمہ  بھی نہ کھاسکے تھے ،امّی نے بھی زبردستی دو لقمے ٹھونسے اور اٹھ گئیں، سب لوگ ہاتھ دھوکر مابدولت کو رخصت کرنے کے لیے تیار ہوگئے چھوٹے بھائی نے -- جسے پچھلے مہینے فیس نہ بھرنے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا تھا -- بیگ اٹھایا، امّی نے مسکراتے ہوئے ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا اور ماتھا چوم کر بَلائیں لیں، ابّو نے سر پر ہاتھ پھیرا، کچھ نصیحتیں کیں، جس کا آخری جملہ یہ تھا:"بیٹا! محنت سے پڑھنا، وقت ضائع مت کرنا ،ہم بڑی مشقّتوں سے تمہیں پڑھا رہے ہیں" نہ جانے اس جملے میں کیا کسَک تھی کہ بے اختیار آنکھیں اوپر اٹھ گئیں اور دل کانپ کر رہ گیا ،ابّو کا چہرہ گو سپاٹ اور ہر قسم کے تأثرات سے خالی تھا؛ تاہم آنکھوں میں چھپا درد جھلک رہا تھا ؛بلکہ چھلکنے کو تھا، ہونٹوں پہ زخمی تبسّم تھا اور آنکھوں میں درد کے سائے لہراہے تھے ، امّی تو ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی رودی تھی، قبل اس کے کہ مجھ سنگ دل کی آنکھیں اپنا کام کرتیں دھیمی آواز سے سلام کرکے تیزی سے زینے اترگیا ـ 
 آج پہلی مرتبہ چھوٹا بھائی خاموش تھا میں نے چھیڑا تو اسے بھی آج ہی اُبَلنا تھا ،کہنے لگا:  بس بھیّا! کیا بتائیں! آپ کے جانے کے بعد گھر کی کیا حالت ہوتی ہے! آپ کے جاتے ہی چھوٹی بہن پھوٹ پھوٹ کر رودیتی ہے، امّی بیڈ روم میں جاکر بستر پر اوندھے منہ گر جاتی ہیں،  بڑی بہن بالکنی میں کھڑے کپڑوں کے بجائے آنسو سُکھارہی ہوتی ہے، ،ابّو ان سب کو چھوڑ کر پتہ نہیں کیوں ہمیشہ باتھ روم میں چلے جاتے ہیں، تمہارے جانے کے بعد اکثر گھر میں آٹھ آٹھ دن تک صرف کھچڑی پکتی ہے جسے سب گھر والے اَچار یا چٹنی کے ساتھ ملاکر کھالیتے ہیں، سب سے برا حال گھر پر امّی کا ہوتا ہے ،بسااوقات تین تین دن تک کچھ کھاتی نہیں ہے، ایک چپ سی لگ جاتی ہے، پورا پورا ہفتہ گذر جاتا ہے اور ہم لوگ امّی کے منہ سے ایک جملہ سننے کو ترس جاتے ہیں ،رات کو چپکے چپکے میں دیکھتا ہوں، امّی کروٹیں بدلتی رہتی ہیں، 
تمہیں پتہ ہے ایک مرتبہ اچانک رات کو مری آنکھ کھلی ، کسی کے رونے کی آواز آرہی تھی ، دیکھا کہ امّی جان مصلّے پر بیٹھی دعا مانگ رہی ہیں، میں قریب ہی تھا ،ہچکیوں کے درمیان صرف اتنا سن پایا کہ اے اللہ!  میرا معاذ..... 
صبح جب میں نے ابّو کو قصہ سنایا تو ابّو کہنے لگے: بیٹا! تمہاری امّی تو بیسیوں مرتبہ رات کو اچانک اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہوا ؟ توروتی ہوئی بڑی بے بسی سے کہتی ہے: بس! یونہی اچانک خیال آگیا کہ میرے معصوم بچے نے کھایا بھی ہوگا یا نہیں!  اسے کوئی ستاتا تو نہ ہوگا! وہ اگر بیمار ہوگیا تو میرے لختِ جگر کو کون دیکھے گا" اسی قسم کے جملے کہہ کہہ کر خود بھی روتی اور مجھے بھی رلاتی ہے اور جس رات یہ قصہ پیش آتا ہے پھر وہ رات میری اور تمہاری امّی کی مصلّے پر گذر جاتی ہے "ـ 
چھوٹا بھائی اپنی رَو میں یہ سب سناتا جارہا تھا اور میں حیرت و تعجّب کے مارے بُت بنا اپنی جگہ کھڑا تھا چھوٹے بھائی نے کہا: بھیّا! جس دن ہم بہن بھائی رات کو کھاپی کر فارغ بیٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ تمہاری باتیں کرتے ہیں اور امّی کھل کر تمہارے بچپن کے قصے سناتی ہیں اور ہر مرتبہ ابّو اخیر میں اٹھتے ہوئے یہ کہتے ہیں: "تم لوگ دیکھنا ایک دن میرا بیٹا بہت بڑا عالم بنے گا" ـ
مجھ پر یکے بعد دیگرے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے جارہے تھے اور رفتہ رفتہ حیرت کی جگہ ندامت و شرمندگی لے رہی تھی ـ بلڈنگ کے نیچے کھڑے کھڑے ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ میرا جگری دوست خالد آدھمکا اور اپنے  بے تکلّفانہ انداز میں کہنے لگا: "بس کیا یار! اتنی جلدی چل دیے، ابھی تو آئے تھے " میں مسکرا کے ٹال گیا تو اسے کچھ یاد آگیا ،کہنے لگا:یار! آج صبح غضب ہوگیا ،تمہارے ابّو صبح سویرے حاجی جنید کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے اور حاجی چلّا چلّا کر کہہ رہا تھا کہ :"صبح صبح بھکاری قرض مانگنے آجاتا ہے، حیثیت نہیں ہے تو اپنے بیٹے کو نوکری پہ لگا ،کیوں حرام کا مدرسے میں ڈال رکھا ہے اور اس سے پہلے والے سال بھی تو بچے کے بہانے قرض لے گیا تھا وہ تو ابھی تک نہیں دیے ...اور پتہ نہیں حاجی کیا کیا بَکتا رہا ، اخیر میں کالر پکڑ کے اس نے ابّا کو ایک تھپّڑ مار دیا اور جیب سے دو ہزار کی نوٹ نکال کر یہ کہتے ہوئے منہ پر ماری کہ :لے بھکاری!  آئندہ ہفتے کسی بھی حال میں مجھے سب پیسے واپس چاہیے " ابّو نیچے گری ہوئی نوٹ اٹھاکر سر جھکائے آگے بڑھ گئے ،صبح کا وقت تھا ،سنّاٹا تھا ،یہ منظر میرے سوا کسی نے نہیں دیکھا ،مجھ سے برداشت نہ ہوسکا ،میں نے لپک کر پوچھا: چچا جان! آپ تو محلّے کے شریف اور عزّت دار آدمی ہیں، آخر اس کمینے حرامی بُڈّھے سے اتنا دَبنے کی کیا ضرورت ہے !یہ سب ذلّتیں کیوں برداشت کررہے ہیں! کیا ہم دوست لوگ مل کر اس بڈّھے کو ٹھکانے لگادے؟! ابّاجی کی آنکھ میں آنسو آگئے ،کہنے لگے: نہیں جی! اگر میں دو ہزار لے کر نہیں گیا تو میرا بیٹا مدرسے میں نہیں جاپائے گا اور میں اس کو پڑھا کر جنّت کمانا چاہتا ہوں دائمی جنّت کے لیے عارضی ذلّت برداشت کررہا ہوں "ـ
یہ قصہ سن کر میرا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں خون نہیں ،میری نظروں کے سامنے گھر سے نکلتے وقت پیسوں والا قصہ گھوم گیا ،میں اپنے آپ کی نظر میں ذلیل ہوگیا تھا ،چھوٹا بھائی مجھے دیکھ رہا تھا ؛مگر میں اس سے نظر ملانے کے قابل نہ تھا،مجھے زمین اپنے پیروں تلے کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی ،خالد تو یہ حادثہ سنا کر چلا گیا اور چھوٹا بھائی بیگ اٹھاکر چپ چاپ آگے کو چل دیا ،میں بوجھل قدموں کے ساتھ اس کے  پیچھے پیچھے ہولیا ـ 
مسجد کے قریب ہی ناظرے کے بوڑھے استاد مل گئے ،انہوں نے بڑی شفقت کے ساتھ سر پر ہاتھ پھیرا ،دعائیں دیں اور کہا کہ :"بیٹا! محنت سے پڑھنا ،بڑی مدت کے بعد اس بستی سے کوئی عالم بنے گا، تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، تم ہماری پونجی ہو ،اپنے آپ کو ضائع مت کردینا" میں انہیں کیا جواب دیتا کہ اب تک کی زندگی تو ضائع ہی کیے جارہا تھا ـ 
بستی سے نکلتے وقت اچانک کسی نے آواز دی ، رک جاؤ بیٹا! مڑ کر دیکھا تو بستی کے بوڑھے باباجی تھے ، بڑی مشکل سے چوراہے پہ بچھی چارپائی سے اٹھے ، لکڑی کے سہارے سہارے ٹیک لگاتے ہوئے آئے، قریب آکر محبت پاش نظروں سے دیکھا اور آبدیدہ ہوکرکہنے لگے:" تم مدرسہ جاتے ہو تو دل بڑا خوش ہوتا ہے ، بیٹا! ہم گنہگاروں کے لیے دعا کرنا ،اپنی زندگی میں تو کچھ نہ کرپائے اب تم جیسے بچوں کے سہارے جی رہے ہیں کہ جنت میں تم جاؤگے تو تمہارا دامن پکڑ کر پیچھے پیچھے ہولیں گے ،دیکھیو! اس دن اپنے گنہگار باباجی کو بھول مت جانا " بندہ سر جھکائے شرمندگی کے ساتھ ان کی گزارشات سنتا رہا اور اپنی حالت پر افسوس کرتا رہا  ـ
 اس کے بعد ہم آگے بڑھے، اسٹینشن پہنچے،ٹرین نکلنے کو تھی، میں جلدی سے لپک کر چڑھا ، بھائی نے باہر سے بیگ پھینکا اور ٹرین فرّاٹے بھرتی ہوئی تیزی سے دوڑنے لگی ، میں سامان وہیں دروازے پر چھوڑ کر کھڑا ہوگیا  محبوب وطن کی گلیاں نگاہوں کے سامنے سے گذر رہی تھیں ، کبھی ابّو جی کا غمزدہ چہرہ سامنے آجاتا ، کبھی روتی ہوئی امّی یاد آجاتی ، کبھی چھوٹی بہن کا سراپا نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا، کبھی چھوٹا بھائی ہاتھ لہراتا نظر آتا، کبھی شفقت فرماتے ہوئے مکتب کے استاد جی دکھائی دیتے اور کبھی بابا جی کی لجاجت بھری درخواست جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ،پھر پتہ نہیں اچانک مجھے کیا ہوا کہ میں دروازے پہ کھڑے کھڑے پھوٹ پھوٹ کر اتنا رویا کہ شاید وباید ہی کبھی زندگی میں اتنا رویا ہوں گا ـ یہ احساسِ زیاں کے آنسو تھے جو اب تک کی ضائع شدہ زندگی پر بہہ رہے تھے، یہ اپنوں کے ارمانوں کا خون تھا  جو آنسو کی شکل میں جاری تھا ـ

پیارے طالب علم بھائیو! بے شک مذکورہ بالا سطریں تخیلاتی ہیں ؛ لیکن اگر گھر سے نکلتے وقت عبرت کی آنکھیں کھلی رکھی جائیں ، اپنے گِرد و پیش پر نظر دوڑائی جائے تو یہ سارے مناظر کھلی آنکھوں دیکھے جاسکتے ہیں ، جب تم گھر سے نکلو تو ابّا کی زخمی مسکراہٹ کو غور سے دیکھا کرو، تمہیں ان میں کچھ اَن کہی کہانیاں نظر آئیں گی،کبھی غور کیا کہ امّی کے ہونٹ مسکراتے ہوئے کپکپا کیوں جاتے ہیں ! کبھی سوچا کہ بہن دروازے تک کیوں نہیں آتی ؛ اس لیے کہ کہیں اس کے آنسو دیکھ کر تمہارے حوصلے چھوٹ نہ جائے ،گھر کا ہر فرد لاکھ غموں کے باوجود خوشی خوشی تمہیں رخصت کرتا ہے ؛ صرف اس لیے کہ تمہاری ہمت نہ ٹوٹ جائے ؛ ورنہ کون بھائی بہن ہیں جو اپنے بھیّا کی جدائی پر نہ روئے !کون باپ ہے جو اپنے جگر کے ٹکڑے کی فرقت پر ہنس رہا ہو! اور دوستو! کونسی ماں ہے جو لب پر تبسّم سجائے اپنے پیارے بیٹے کی جدائی دیکھتی رہے بخدا!  بخدا!  بخدا! ان سب پر ہماری جدائی شاق ہے ،ابّو جی کو محلّے کے ذلیل آدمی سے گالیاں کھانے کا شوق نہیں چراتا ،وہ ہمارے لیے گالیاں سنتے ہیں، وہ صرف اور صرف ہمارے لیے پسینے میں ڈوب کر محنت کرتے ہیں ،مکتب کے استاد جی دوہزار کی تنخواہ پر برسوں سے ٹِکے ہوئے ہیں؛ صرف اس تمنّا میں کہ بستی کا کوئی بچہ میری نظروں کے سامنے عالم بن کر آجائے اور اس امانت کو سنبھال لیں ، باباجی سے پوری بستی ڈرتی ہے ؛ مگر وہ تمہارے سامنے صرف اس لیے جھکے ہوئے ہیں کہ ان کی جنّت کا سوال ہے !
دوستو! آؤ! گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ کسی کی جنّت کا سامان کرسکیں!  کیا ہمارے پاس ایک سجدہ بھی ایسا ہے جس میں خدا کے سوا کسی کا خیال نہ آیا ہو! جو ماں ہمارے لیے بیسیوں مرتبہ اٹھ کر روتی ہے کیا ہم نے پورے سال میں کبھی ایک مرتبہ بھی اس پیاری امّاں کے لیے ہاتھ اٹھائے! ہم کیسے سنگ دل بیٹے ہیں!  ماں کے نام پر تو ساری دنیا کا دل پگھل جاتا ہے مگر ہم اپنی خواہشوں میں ایسے مدہوش ہیں کہ ماں تک کی قربانیوں کا ہمیں احساس نہیں! کیا ایک موبائل کی اتنی وقعت ہے کہ اس کے پیچھے اتنے سارے لوگوں کی قربانیاں ضائع کردی جائیں! کیا ہماری بیہودہ گپ شپ اتنی قیمتی ہے کہ ہم کسی کے ارمانوں کا خون کردیں! کیا مدرسے کے عارضی دوستوں کی اتنی قدر ہے کہ ان کے لیے پڑھائی چھوڑ کر اپنوں کی تمناؤں کا جہاں اجاڑ کر رکھ دیں! 
کب تک بے مقصد زندگی جئیں گے ! کب تک مدرسے میں پڑے پڑے اپنی اور دوسروں کی زندگی ضائع کریں گے! 
 یاد رکھو دوستو! آج اگر ہم کسی کے ارمان کا خون کرتے ہیں تو کل کو ہمارے عزیز بھی ہمارے ارمانوں کا خون کریں گے، آج اگر ہم کسی کی قربانیاں رائیگاں کیے بیٹھے ہیں تو کل کو ہماری قربانیاں بھی رائیگاں جائیں گی!
پیارے بھائیو! اُس ابّو کا واسطہ جو  ہمارے لیے ذلّتیں جھیل گیا؛ اُس امّاں کا واسطہ جس کا کوئی پَل ہماری یاد کے بغیر نہیں گذرتا ؛مکتب کے اُس شفیق استاد کا واسطہ جن کی دعائیں ہمارے نام کے بغیر پوری نہیں ہوتیں اپنی زندگی پر غور کرو خدارا!وقتی لذّت کے لیے دائمی ذلّت کا سودا نہ کرو ـ 
دوستو! آؤ! آج میں اور آپ مل کر ارادہ کرتے ہیں کہ: اب کے مدرسے کی زندگی کچھ الگ زندگی ہوگی، اب کے شب و روز مقاصد کے ساتھ گذریں گے ،اب محفلوں میں اور لغویات میں وقت ضائع نہ ہوگا، اب کے اساتذہ کے احترام میں ذرّہ برابر کمی نہ ہوگی، اب کے ایسی محنت ہوگی کہ دوسروں کو ترس آجائے گا ،اِس مدرسے میں ہم اپنے اللہ کی محبت لینے کے لیے آئیں گے ،اب کے رات کو اٹھ کر روٹھے ہوئے پیارے اللہ سے معافی مانگیں گے، اب کے نافرمانی والی زندگی کے بجائے اطاعت والی زندگی گزاریں گے انشاء اللہ !کہو انشاء اللہ!!!

عیدگاہ ڈومریا 2017

عیدگاہ جسے ہم اور آپ دیکھ رہے ہیں یہ ۲۰۱۷ء رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ کے بعد عیدگاہ میں عیدالفطر کی نماز کیلئے جمع ہیں.







ہمارا You tube Channel آپ کی نظر کی جاتی ہیں. 





You tube Channel Lafz Bolte hain/لفظ بولتے ہیں




 

نوٹ


"لفظ بولتے ہیں " ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


ہمیں فالو کریں

گوگل پلس

فیس بک پیج لائک کریں

بذریعہ ای میل حاصل کریں